| عنوان: | حضور غوثِ اعظم: فیوض و تعلیمات |
|---|---|
| تحریر: | خلیل احمد فیضانی |
| پیش کش: | سلطانی رضویہ |
جس طرح ظاہری نظام کو چلانے کے لیے وزیر خارجہ، وزیر داخلہ اور وزیراعظم وغیرہ ہوا کرتے ہیں، اسی طرح کا نظام ایک اور بھی ہے، جسے ہم باطنی نظام کے نام سے معنون کرتے ہیں۔ ظاہری نظام کی طرح اس عالم کے نظام کو چلانے کے لیے بھی من جانب اللہ بہت سارے برگزیدہ افراد مقرر و منتخب ہوتے ہیں جنہیں ہم اولیائے کرام کہتے ہیں اور پھر تعیین مراتب کے حساب سے ان میں بعض کو ابدال، بعض کو اوتاد، نقبا، نجبا، اقطاب اور بعض کو اغواث کہتے ہیں۔ اس نظام کے قطب الاقطاب ایک ہی ہوتے ہیں اور وہ سب سے پاورفل ہوتے ہیں۔
آج کی دنیا میں جو ہستی عالمِ ولایت میں سب سے زیادہ مرتبہ رکھتی ہے وہ ہمارے پیر و مرشد حضور غوث اعظم، شہنشاہ میراں رضی اللہ تعالی عنہ ہیں۔ آپ گروہ اولیاء کے سردار اور سرخیل ہیں۔ آپ کی وجہ سے اور آپ کے تصدق سے رب کریم نے کتنے ہی گم گشتگان راہ کو ہدایت کا نور عطا کیا اور کتنے ہی بے عمل افراد کو صالحیت کے لباس سے ملبوس کیا۔ بخارا، سمرقند، تہران، عراق، ایران، تاشقند، مصر و شام، بغداد و حجاز، برصغیر اور مشرق وسطی کے دیگر بہت سارے ممالک بلکہ in whole world جو آپ کے بعد اولیائے کرام ہوئے، وہ آپ ہی کے چشمہ صافی کے آب زلال سے سیراب ہوئے۔ رب کریم نے آپ کے صدقے چوروں کو ولایت، قزاقوں کو صلاحیت، فاسقوں کو استقامت اور کافروں کو ہدایت نصیب فرمائی۔ آپ کا ابرِ کرم تشنگانِ ولایت پر جم کر برسا۔ آپ کنواں نہیں تھے کہ لوگ آپ کے پاس آ کر قطار در قطار کھڑے رہتے، بلکہ آپ تو سحاب رحمت اور ابر بارندہ تھے کہ جس جگہ جس چیز کی ضرورت محسوس ہوئی، آپ فوراً وہاں تشریف لے گئے۔ آج جو ہم برصغیر یا دیگر ممالک میں اولیائے کرام کے مزارات کی ایک نورانی کہکشاں دیکھتے ہیں، ان میں سے اکثر آپ ہی کے پروردہ ہیں، چاہے بالواسطہ ہو یا بلا واسطہ ہو۔ آپ ہی کے طفیل رب کریم نے لوگوں کی ایک بھاری تعداد کو قعرِ ضلالت سے نکالا اور ہدایت کے کوکب نیر کی ضوفشاں کرنیں عطا کیں۔
آپ کی ولادت اور تحصیل علوم سے پہلے بغداد اور اسلامی دنیا کے حالات دگرگوں تھے، مسلسل حملوں اور جنگوں سے اسلامی علوم اور اسلامی ممالک کا تحفظ ایک مشکل امر بنتا جا رہا تھا، مگر جب آپ نے بغداد معلی میں نور علم کی اشاعت شروع کی تو مادیت کے مارے، روحانیت کی تڑپ میں قافلہ در قافلہ سوئے بغداد عازمِ سفر ہو گئے اور یہاں پہنچ کر اپنی روحانی اور علمی پیاس کو سیراب کیا۔ ہند و پاک میں تقریباً ۹۰ فیصد یا اس سے بھی زائد اولیائے کرام آپ ہی کے ابرِ کرم سے مستفیض ہوئے ہیں۔ حضور خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ جیسے بزرگ کہ جنہیں ولایت کا تاجدار کہا جاتا ہے، وہ بھی آپ کے نور سے مستنیر ہیں۔ غرض یہ کہ برصغیر پاک و ہند اور دیگر بلاد اسلامیہ کے خطوں سے لے کر چپے چپے تک اور اطراف حجاز سے لے کر ویسٹرن ورلڈ کے اکناف تک آپ کی ولایت کا ڈنکا بج رہا ہے۔ غرض کہ باطنی نظام کے آپ چیف ہیں اور سفید و سیاہ کے مالک ہیں۔
حضور غوث پاک رضی اللہ عنہ کے عالم کو محیط ہونے والے اس فیضان کا سبب خود آپ نے واضح طور پر علم دین کو قرار دیا ہے۔ فرماتے ہیں:
”درست العلم حتى صرت قطبا“ ترجمہ: میں نے اس قدر علم حاصل کیا کہ میں مقام قطبیت پر فائز ہو گیا۔
لاریب! یہ نور علم ہی کا صدقہ ہے کہ آپ رب کریم کی بارگاہ میں مقبول اور رب کی مخلوق کی نظر میں محبوب بن گئے، جس کا ظہور تام حینا فحینا ہوتا رہتا ہے۔ آپ نے علم دین کی اشاعت کے لیے کس قدر تعمیری اور علمی کارہائے نمایاں انجام دیے، اس کا ہلکا سا خاکہ مندرجہ ذیل سطور سے لگائیں:
محسن گرامی مفتی حق النبی سکندری صاحب قبلہ آپ کی تعلیم و تعلم و درس و تدریس کے حوالے سے رقم طراز ہیں کہ:
حضرت محبوب سبحانی غوثِ اعظم سیدنا عبد القادر جیلانی قدس سرہ النورانی کی تحصیل علم کی کل مدت ۳۳ برس ہے۔ اپنے مرشد و استاذ حضرت ابو سعید مخزومی کے وصال کے بعد باب الازج بغداد کا مدرسہ آپ نے سنبھالا اور اس کی از سر نو تعمیر کروائی۔ ایک عورت اپنے شوہر کو ساتھ لائی اور کہا کہ اس ذمے میں میرا حقِ مہر بیس دینار ہے۔ میں نے اپنے شوہر کو اس شرط پر وہ سب معاف کر دینے کا ارادہ کیا ہے کہ وہ آپ کے مدرسے کی تعمیر میں مزدوری کرے گا۔ آپ نے قبول کیا، اس شخص نے مزدوری کی اور ان کی اہلیہ نے تب حقِ مہر معاف کیا۔
نتیجہ: غوثِ اعظم درس و تدریس سے تعلق رکھتے تھے۔ مدرسے کی تعمیر و تعلیم پر خاص دھیان دیا۔ عوام الناس کی آپ سے محبت کہ مدرسے کی تعمیر میں سب نے حتى کہ خواتین نے بھی حصہ ڈالا۔
اپنے استاد و مرشد شیخ مخزومی کے وصال کے بعد آپ نے پرانے مدرسے کی توسیع کی اور اسے ترقی دلائی۔ ہم سب قادری اہل نسبت پر لازم ہے کہ علم و علماء کے ساتھ وہی تعلق رکھیں جو سیدنا غوثِ اعظم کو تھا۔
انتہی: اس لیے ہم محبان غوثِ پاک رضی اللہ عنہ پر لازم ہے کہ ہم اس ماہ ”غوثِ اعظم“ میں علم کے دیپ جلانے کی اپنی سی کوشش کریں، علم دین کی تحصیل میں جس قدر مصائب آئیں، اسے خندہ پیشانی سے قبول کرنے کا عزم بالجزم کریں، کیونکہ یہ بھی (علم دین کی راہ میں مشکلات برداشت کرنا) حضور غوث پاک کی پیاری اور عظیم سنت ہے، جسے ہم آج دنیا کی رنگینیوں میں گم ہو کر عیش کی نذر کر چکے ہیں۔ [سہ ماہی امجدیہ، اکتوبر تا ستمبر ۲۰۲۳، ص: ۶۶]
