Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

بمبئی میں اعلیٰ حضرت کی علمی مجلس (قسط:اول)

بمبئی میں اعلیٰ حضرت کی علمی مجلس (قسط:اول)
عنوان: بمبئی میں اعلیٰ حضرت کی علمی مجلس (قسط:اول)
تحریر: ڈاکٹر غلام جابر شمس پورنوی
پیش کش: شاہین صبا نوری
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

بمبئی کبھی ایک جزیرہ نما ٹاپو تھا، جہاں جہاں جگہ تھی، ماہی گیروں اور مچھیروں کے جھونپڑے تھے، اصل آبادی چیمبور (صیمور)، تھانہ، کلیان، نالا سوپارہ تھی، بعد میں یہی جزائر نما بمبئی دنیا کے مشہور ترین شہروں میں شمار ہونے لگا، ہندوستان کی معاشی راجدھانی اور صوبہ مہاراشٹرا کا دارالخلافہ بنا، بمبئی با رونق، پرکشش، تجارتی، صنعتی، روزگاری اور غریب پرور شہر ہے، یہاں روشنی بھی ہے اور تاریکی بھی، نیکیاں بھی ہیں اور برائیاں بھی، یہ تو واردین و صادرین پر موقوف ہے کہ کون سی راہ اختیار کرتے ہیں، پہلے شہرِ سورت بابِ کعبہ کہلاتا تھا کہ وہاں بندرگاہ ہونے کی وجہ سے ہندوستانی حجاج کرام وہیں سے اس مبارک سفر کی شروعات کرتے تھے، بعد میں بمبئی کے ساحل پر یہ سہولت مہیا کی گئی، تب سے بمبئی بابِ کعبہ بنا اور حجاج کرام یہاں سے روانہ ہونے لگے۔

اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے پہلا حج 1292ھ میں ادا کیا تھا۔

والدِ ماجد خاتم المحققین حضرت شاہ نقی علی خان رحمۃ اللہ علیہ کی معیتِ مبارکہ میسر تھی، گمانِ غالب ہے، یہ سفر براہِ بمبئی ہوا ہوگا، جس کی تفصیل تک میری رسائی نہ ہو سکی۔ کچھ ضمنی واقعات ملتے بھی ہیں، تو انہیں سفرِ حج کے ضمن میں درج کیا جائے گا۔ اعلیٰ حضرت کی ولادت 1272ھ میں ہوئی۔ پندرہ برس کے ہوتے ہوتے آپ کی علمی شہرت اطرافِ ہند میں پھیل چکی تھی۔ بمبئی سے بھی ان کے پاس استفتے اور سوالات آنے لگے تھے اور علما و عوام بمبئی سے رابطے استوار ہو چکے تھے، دن گزرتے گئے۔ یہ رابطے مضبوط و مستحکم ہوتے گئے۔ فتاویٰ رضویہ کی مختلف جلدوں کے مطالعے سے ان رابطوں کا سراغ ملتا ہے، علما کے علاوہ، خواص، تاجرین و عمائدین اور دیندار رئیسانِ شہر سائلین و مستفتین میں نظر آتے ہیں۔

تاسیسِ ندوہ

1310ھ میں مدرسہ فیضِ عام کان پور کے سالانہ اجلاس میں علما کی ایک میٹنگ ہوئی۔ جس میں معاشرہ میں پھیلی برائیوں، خصوصاً اصلاحِ نصابِ تعلیم پر گفتگو ہوئی۔ علمائے کرام کی متفقہ رائے سے پہلے پہل اس تنظیم کا نام ”ندوۃ العلماء“ رکھا گیا جو بعد میں ندوۃ العلماء سے مشہور ہوا۔ کان پور والی میٹنگ میں اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز بھی شریک تھے اور اصلاحِ نصاب پر اپنا گراں قدر مقالہ بھی پیش کیا تھا، 1312ھ میں یہ اجلاس لکھنؤ، 1313ھ میں بریلی اور 1314ھ میں ندوہ کا اجلاس بمبئی میں منعقد ہوا۔

کان پور کی میٹنگ میں ہی کچھ ایسی باتیں سامنے آئیں، جن کی اصلاح و خلاصہ محتاط و متدین علما و مشائخ چاہتے تھے۔ لکھنؤ کے اجلاس میں وہ قابلِ اصلاح باتیں اور زیادہ روشن ہو کر اجاگر ہوئیں۔ تو اصلاحی کوششیں بھی تیز ہو گئیں اس اصلاحی فکر کے سرگروہ یوں تو تمام محتاط علما تھے، مگر نمائندگی و پیشوائی میں پیش پیش تاج الفحول حضرت شاہ محمد عبد القادر قادری برکاتی بدایونی، حافظ بخاری حضرت سید شاہ محمد عبد الصمد مودودی چشتی سہسوانی ثم پھپھوندوی اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی تھے، بریلی کے اجلاسِ ندوہ میں وہ قابلِ اصلاح باتیں اور شوخ رنگ میں سامنے آئی تھیں۔

تصدیقاتِ جلیلہ

نتیجہ یہ ہوا کہ تمام اقطارِ ہند کے علما، مشائخ، عمائدین اور دانشورانِ قوم و ملت جلسہِ ندوہ سے کھنچے کھنچے رہنے لگے اور اصلاح و مفاہمت کی رفتار بڑھ گئی، 1313ھ میں اعلیٰ حضرت سے اس کے متعلق دس سوالات ہوئے۔ ان سوالوں کے جوابات کا مجموعہ ”فتاوى القدوۃ لكشف دفین الندوہ“ کے نام سے 1313ھ ہی میں مطبع نادری سے شائع ہوا۔ جس پر تمام ہندوستان کے قریب پچاس اجلہ علما و مشائخ نے ندوہ کی بے دینیوں اور مداہنتوں کا اظہار کرتے ہوئے تائید و تصدیق کی۔ جن کا مقامی تعلق بمبئی، الہ آباد، دہلی، مراد آباد، رام پور، بدایوں، بریلی، پھپھوند اور مارہرہ مقدسہ سے ہے۔ علمائے بمبئی کے مصدقین کے نامِ نامی کے اندراج سے پہلے نامی و مشہور عالم اور مفتی و مناظر حضرت مفتی محمد عمر الدین قادری ہزاروی کی تصدیق ملاحظہ کریں، شیخ العلما حضرت مفتی محمد عمر الدین ہزاروی کی عبارت یہ ہے:

”بعد حمد و صلوٰۃ کے واضح ہو کہ ہندوستان میں حکومتِ اسلام نہ ہونے کے باعث طرح طرح کے فتنے حادث ہوتے رہتے ہیں، اولاً نجدیہ کا فتنہ ظاہر ہوا، پھر اس میں سے نیچریوں کی شاخ پھوٹی۔ اب سب سے بڑا فتنہ بنام ”ندوۃ العلما“ نیچریوں نے قائم کیا ہے اور اس میں چند کوتاہ اندیش سنیوں کو بھی شامل کر لیا ہے اور باعثِ زیادہ خرابی اور بد مذہبی کا یہ ہوا ہے کہ ان عیاروں نے تمام کارروائی ظاہراً ان سادہ لوحوں کو سونپ دی ہے، یہ ان مکاروں کے مکر سے بے خبر، ان کی چال بازی سے غافل، ان کے اقوالِ فاسدہ کو اپنی زبان و قلم سے شائع کر کے عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں، چنانچہ گواہ اس کی روداد مطبوعہ جلسہ لکھنؤ و کان پور ہیں، جس کے اقوالِ فاسدہ کا مشتے نمونہ از خروارے سائل نے سوال میں درج کیا ہے اور فقیر نے بھی ان خرافاتِ مردودہ کے علاوہ اور بہت سے ہذیاناتِ مطرودہ ان ہر دو روداد میں دیکھے ہیں۔

پس مجیبِ مصیب نے جو کچھ ان قائلین کے اقوالِ فاسدہ کی رو سے ان پر احکامِ شرع جاری کیے ہیں، وہ سب ان پر قطعاً وارد ہوتے ہیں۔ ان پر لازم و واجب ہے کہ ان اقوالِ فاسدہ سے تائب ہو کر جلد اہلِ سنت میں شامل ہوں، ورنہ ان کی وہ جانیں۔ اللہ عز وجل تو اپنے دین کی خود حفاظت فرمائے گا۔ ان سے کچھ نہیں ہونے کا۔ اگلے مبتدعین سے کیا ہوا، جو ان سے ہوگا۔“

اسمائے مصدقین

دیگر تائید و تصدیق کرنے والے علمائے کرام اور ان کے اپنے الفاظ یہ ہیں:

  1. أَجْوِبَةٌ مَّرْقُوْمَةُ الصَّدْرِ صحیح و درست است۔
    کتبہ: خادم الشرع القاضی اسماعیل الجلمائی عفا اللہ تعالیٰ عنہ و عن والدیہ وعن استاذیہ وعن جمیع المؤمنین آمین یا رب العالمین (مع مہر)
  2. اَلْمُجِيْبُ مُصِيْبٌ وَّلَهٗ ثَوَابٌ عَظِيْمٌ وَّمَنْ أَنْكَرَ فَقَدْ غَوٰى وَضَلَّ عَنِ الطَّرِيْقِ الْحَقِّ.
    کتبہ: احقر العباد حسن بن نور محمد عفی عنہما
  3. مَا أَجَابَ الْمُجِيْبُ فَهُوَ فِيْهِ مُصِيْبٌ وَّلَهٗ فِيْهِ أَجْرٌ نَّصِيْبٌ.
    کتبہ: سید مرتضیٰ بن سید محمد سلطان امام مسجد بالائی محلہ
  4. فَقَدْ أَصَابَ مَنْ أَجَابَ وَمَنْ أَنْكَرَ فَقَدْ خَسِرَ وَخَابَ لَا رَيْبَ فِيْ تَحْقِيْقِ الْمُحَقِّقِ وَتَدْقِيْقِ الْمُدَقِّقِ.
    حررہ: فقیر قادری مرید احمد حنفی عفی عنہ
  5. اَلْأَجْوِبَةُ كُلُّهَا صِحَاحٌ وَّالْعِلْمُ الْأَتَمُّ عِنْدَ خَالِقِ الْمَسَاءِ وَالصَّبَاحِ.
    العبد الفقیر محمد یٰسین عفا اللہ تعالیٰ عنہ
  6. هٰذِهِ الْجَوَابَاتُ كُلُّهَا حَقٌّ لَّا رَيْبَ فِيْهَا.
    حررہ الراجی الی رحمۃ المنان میر عبد الرحمن عفی عنہ
  7. جوابات سوالاتِ عشرہ مذکورہ سب صحیح اور مطابقِ اہلِ سنت و جماعت ہیں۔
    حررہ العبد المفتقر الی مولاہ محمد عبید اللہ جعل اللہ اخراہ خیر من اولاہ
  8. اَلْجَوَابُ صَحِيْحٌ مُّوَافِقٌ لِّأَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ.
    کتبہ: خادم الشرع قاضی شیخ محمد مرگھی عفی عنہ و عن جمیع المسلمین آمین قاضیِ شہر بمبئی
  9. صَحَّ الْجَوَابُ.
    نمقہ الفقیر عبد الغفور عفی عنہ
  10. اَلْجَوَابُ صَحِيْحٌ.
    حررہ المتوکل علی اللہ القوی محب النبی حفظہ اللہ عن شر کل غوی و غبی
  11. اَلْجَوَابُ ظَاهِرٌ لِّلصَّوَابِ وَاللهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ.
    رقمہ: احقر الآفاق محمد اسحاق عفی عنہ
  12. قَدْ حَقَّقَ الْمُحَقِّقُ فِيْمَا أَجَابَ وَهُوَ فِيْهِ مُصِيْبٌ وَّمُثَابٌ وَاجِبُ الِاعْتِقَادِ مَا أَثْبَتَ وَقَالَ وَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ.
    کتبہ: فقیر حقیر سراپا تقصیر گوشہ نشینِ کلبہِ نامرادی ادنی الادانی محمد عبد الہادی عفی عنہ

اب جو بمبئی کی باری آئی، یہ 1314ھ کا سال تھا، اس کی روداد سنیے! مدرسہ محمدیہ جامع مسجد بمبئی کے صدر مدرس حضرت مفتی محمد عمر الدین ہزاروی لکھتے ہیں:

”ندوہ والوں نے بمبئی میں بھی اس بد مذہبی کا جال پھیلانا چاہا، مگر بحمد اللہ ناکام رہے، چنانچہ اس کا قدرے نمونہ ایک اخبار روانہ کرتا ہوں، جس کے ص: 7 میں ذکر ہے۔“ [مکتوباتِ علما و کلامِ اہلِ صفاء طبع بریلی، 1314ھ، ص: 82]

یہی حضرت مفتی محمد عمر الدین ہزاروی آگے تحریر کرتے ہیں:

”شبلی نعمانی کو ندویوں نے جلسہِ تائیدی ندوہ کے لیے بلایا تھا، اخبارِ سفیر میں اطلاع کی تھی کہ شبلی اور مہدی صاحبان ندوہ کے مقاصد پر لیکچر دیں گے مگر قبل اس کے دونوں لکھنؤ سے بمبئی تشریف لاتے اور جمعہ کی نماز کے بعد وعظ میں خوب ندوہ کے پرخچے اڑائے اور شبلی و عبد الحق صاحبان اراکینِ ندوہ کی بھی خوب خبر لی، شبلی صاحب بمبئی سے چلے گئے اور اراکین کے حوصلے پست ہو گئے۔“ [مکتوباتِ علما و کلامِ اہلِ صفاء طبع بریلی، 1314ھ، ص: 83]

1314ھ میں ہی ”فتاوی السنۃ لالجأم الفتنۃ“ کے نام سے ایک کتاب چھپ کر منظرِ عام پر آئی، اس کتاب کے مصنف حضرت علامہ شاہ محمد عبد الرزاق مکی حیدر آبادی تھے۔ مطبع نادری بریلی سے شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب میں ندوہ کے متعلق چھ سوالات اور ان کے جوابات ہیں، کتابِ مذکور کا منشا ہے کہ اہلِ ندوہ سے بچا جائے۔ حیدرآباد کے علاوہ بمبئی اور دیگر بلادِ ہند علماء، فقہا، مشائخ اور ماہرینِ دین و دانش کی تائید و حمایت اس کتاب کو حاصل ہے۔

آج سے ایک سو پچیس سال پہلے جن علما، مشائخ، خطبا اور ائمہ نے اس کتاب کی تائید و حمایت اور دستخط و مہر ثبت کر کے ندوہ سے اپنی نفرت و بیزاری کا اظہار و اعلان کیا ہے، یہاں ان کے چند اسمائے گرامی درج کیے جاتے ہیں، اصل کتاب میں تفصیل دیکھیے یا میری کتاب ”مطالعہِ ندویت“ کا مطالعہ کیجیے، وہ اسمائے مبارکہ یہ ہیں:

حضرت علامہ محمد عبید اللہ مکی، صدر مدرس مدرسہ اسلامیہ جامع مسجد بمبئی۔ حضرت علامہ قاضی محمد اسماعیل مہری استاذ مدرسہ اسلامیہ جامع مسجد بمبئی۔ حضرت علامہ قاضی محمد صالح بن قاضی شریف عبد اللطیف جامع مسجد بمبئی۔ خلیفہِ بغداد حضرت علامہ عبد اللہ بن محمد حموی از سرکارِ بغداد واردِ حال بمبئی۔ حضرت علامہ قاضی شیخ محمد مرگھے، قاضیِ شہر دوم، بمبئی۔ حضرت علامہ قاضی محمد اسماعیل جلمائی شافعی خادمِ شرع، بمبئی۔ حضرت علامہ شاہ محمد امین اللہ عرف شاہ جہان حسینی رفاعی، بمبئی۔ حضرت علامہ مولانا محمد اسحاق صاحب واعظِ شہر بمبئی۔ حضرت علامہ سید شاہ غلام حسین جونا گڑھی، واردِ حال بمبئی۔ حضرت علامہ محمد عبد الغفور صاحب واعظ و مدرسِ شہر بمبئی۔ حضرت علامہ حسن بن نور محمد صاحب - حضرت علامہ مفتی محمد عمر الدین ہزاروی واعظ و مدرس شہر بمبئی۔ حضرت علامہ محمد طاہر صاحب۔

دو تین کو چھوڑ کر یہ سارے مقامی و آفاقی علما و خطبا و ائمہ تھے، جو ندوہ کی شناعتوں، سفاہتوں اور دینی قباحتوں کا کھلے عام اعلان کر رہے تھے اور اپنی نفرت و بیزاری کا اظہار کر رہے تھے، ان کے علاوہ عمائدین، تاجرین اور دانشورانِ شہر بھی اس تحریکِ اصلاح کے پرجوش کارکن اور سرگرم حصہ تھے، چند پرجوش کارکنان کے اسمائے گرامی یہ ہیں:

حضرت علامہ محمد اسماعیل نقشبندی شاذلی۔ گورے بابو۔ حاجی محمد قاسم۔ حاجی عیسیٰ خان محمد۔ حاجی نور محمد عثمان۔ حاجی محمد قاسم۔ حاجی محمد اسحاق آدم۔ حاجی ابو۔ حاجی حبیب۔ حاجی محمد ابراہیم۔ شیخ محمد ابراہیم بن شیخ چاند وغیرہم اور شہرِ ناسک سے حضرت شاہ محمد عبد الفتاح کے فرزند حضرت مولانا سید امام الدین اور جناب سید احمد صاحب بہت ہی فعال تھے۔

تحفہ حنفیہ پٹنہ

یہ سو سوا سو سال پہلے کی بات ہے۔ یہ ایک ماہنامہ تھا، جو عظیم آباد پٹنہ سے شائع ہوتا تھا۔ یہ رسالہ ندوہ اور غیر مقلدیت کے رد و تعاقب میں کلیدی کردار انجام دیا ہے، یہ اس دور کا نہایت مشہور اور مقبول رسالہ تھا۔ حضرت مفتی محمد عمر الدین قادری رضوی ہزاروی اس کے خاص قلم کاروں میں تھے، آپ اس کی اشاعت و ترقی کے خواہاں تھے۔ اس دور کے قلیل آبادی والے بمبئی شہر میں درج ذیل قارئین و معاونین تھے۔ حتیٰ کہ یہ سلسلہ گجرات تک انہوں نے دراز کرا دیا تھا:

  1. جناب سوداگر بکر خان ولد عمر خان، قصبہ میسا نگر، گجرات، بذریعہ حامی الاسلام والدین مولانا محمد عمر الدین صاحب مدرس دام مجدہ، جاملی محلہ امر کھاڑی مکان حاجی صدیق جعفر، بمبئی۔
  2. جناب مولانا محمد میاں صاحب، محلہ قصاب واڑہ، کوچہ چاند سیٹھ، بمبئی۔
  3. جناب حاجی عبد الرحیم صاحب بن حاجی بلند مرحوم محلہ قصاب واڑہ، کوچہ چاند سیٹھ، بمبئی۔
  4. جناب میاں مومن صاحب، محلہ قصاب واڑہ، کوچہ چاند سیٹھ، بمبئی۔
  5. جناب مولانا سید محمد شاہ صاحب عرف بابا میاں، مکان عیسیٰ صاحب، جاملی محلہ بمبئی۔
  6. جناب مولانا احمد میاں صاحب مہتمم مدرسہ احمدیہ، محلہ قصاب واڑہ، کوچہ چاند سیٹھ، بمبئی۔
  7. جناب حاجی عیسیٰ جمعہ صاحب، مستری محلہ بمبئی۔
  8. جناب مولانا حافظ عبد الغفور صاحب امام مسجد محلہ متصل کرافٹ مارکیٹ، بمبئی۔
  9. جناب شیخ احمد بھائی صاحب متصل مسجد قصاب واڑہ، بمبئی۔
  10. جناب سیٹھ دادا میاں صاحب الیاس حاجی چینائی بردکان حاجی محمد اسحاق الیاس، متصل زکریا مسجد، بمبئی۔
  11. جناب مولانا عبد الرحیم احمد امین صاحب، بردکان زکریا حاجی، متصل زکریا مسجد، بمبئی۔
  12. جناب ابراہیم اسماعیل صاحب، زکریا مسجد، بمبئی۔
  13. جناب مولانا مولوی حسن صاحب امام مسجد حکیم اسماعیل صاحب، چونا بھٹی، بمبئی۔
  14. جناب شیخ عبد اللطیف صاحب احمد کمپنی شیخ میمن اسٹریٹ، متصل جامع مسجد بمبئی۔
  15. جناب مولانا خدا بخش صاحب امام مسجد دھان باڑی، بمبئی۔
  16. جناب احمد صاحب کا پڑیا متصل محلہ گندا تالاب، بمبئی۔
  17. جناب عثمان رحیمتا صاحب، بر مکان عیسیٰ علی، جاملی محلہ بمبئی۔
  18. جناب میاں جی حسین صالح محمد صاحب ملا مستری محلہ بمبئی۔
  19. جناب محمد علی صاحب دلوی محلہ دھان باڑی، بمبئی، بذریعہ مؤید سنت خیر البشر مولانا حاجی و حافظ و قاری واعظ سید شاہ محمد عمر صاحب دام مجدہ، حیدرآباد دکن۔

[ماہنامہ تحفہ حنفیہ پٹنہ، شمارہ جمادی الاخریٰ 1316ھ، ضمیمہ ص: 2]

مکتوبِ بمبئی

1318ھ میں سرزمینِ عظیم آباد پٹنہ میں ملک گیر سطح پر ردِ ندوہ تاریخ ساز اجلاس منعقد ہوا۔ یہ اجلاس مسلسل سات دنوں تک چلتا رہا۔ تمام متحدہ ہندوستان کے سوسو علما و مشائخ نے شرکت کی۔ بمبئی سے حضرت مفتی محمد عمر الدین قادری رضوی ہزاروی بھی مدعو تھے۔ ناگزیر حالات کے پیش نظر پٹنہ نہ جا سکے، تو داعی و میزبان حضرت قاضی محمد عبد الوحید فردوسی کو مبارک باد دیتے ہوئے اپنی معذرت کا بھی اظہار کرتے اور لکھتے ہیں:

”برادرم مولانا الفرید الوحید سلمکم اللہ تعالیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

فقیر بمعیت مولانا قاضی مہری صاحب رئیس اعظم بمبئی ضرور حاضرِ جلسہ ہوتا مگر نائب مدرس کی علالت سے مجبور اور مولائے موصوف بھی قصد کرتے کرتے رہ گئے۔ بہرحال مبارک باد دیتا ہوں۔ خدا اہلِ سنت کو فتح یاب اور مبتدعین کو پشیماں اور مغلوب کرے، سائر علمائے اہلِ سنت، بالخصوص اعلیٰ حضرت امام علمائے ظاہر و باطن تاج الفحول محب الرسول بدایونی مدظلہ اور مجددِ مائۃ حاضرہ والا حضرت فاضلِ بریلوی دامت برکاتہم کی خدمات میں تسلیم پہنچائیے، والسلام۔

خادم محمد عمر الدین عفی عنہ
مدرس اول مدرسہ فتحیہ واقع بمبئی“

[رودادِ اجلاسِ اہلِ سنت، تحفہ حنفیہ، پٹنہ 1318ھ، ص: 150]

عملی تعاون

مفتیِ بمبئی حضرت مفتی محمد عمر الدین قادری رضوی ہزاروی ماہنامہ تحفہ حنفیہ پٹنہ کے مستقل مقالہ نگاروں میں تو تھے ہی، مخلصانہ تعاون کرتے اور کراتے بھی تھے۔ چنانچہ مہتمم مطبع حنفیہ حضرت مولانا محمد ضیاء الدین پیلی بھیتی مفتیِ بمبئی اور معاونِ خاص حباب میاں مومن صاحب مرحوم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”خاص کر ناصرِ دین و ملت قاتلِ کفر و بدعت عالمِ نبیل فاضلِ جلیل جناب مولانا مولوی محمد عمر الدین صاحب سنی حنفی قادری ہزاروی مقیم بمبئی مربی تحفہ حنفیہ صانہ اللہ تعالیٰ عن مصائب الدنیویۃ والاخرویۃ کا شکریہ ادا ہو ہی نہیں سکتا اور حامیِ سنت ماحیِ بدعت جناب میاں مومن صاحب سیٹھ کا دفتر تحفہ تہہِ دل سے شکر گزار، جنہوں نے ایسی حالت میں اعانتِ تحفہ و حمایتِ سنتِ مطہرہ فرمائی اور یک مشت ساٹھ روپے بغرضِ مدد تحفہ حضرت مولانا ممدوح کے ذریعہ سے دفتر تحفہ میں بھجوائے، جزاہم اللہ تعالیٰ۔“

[ماہنامہ تحفہ حنفیہ پٹنہ، شمارہ محرم الحرام 1321ھ، ص: 38]

سخاوتِ عثمانی کا جلوہ

شمارہِ مذکورہ کے ص: 39 پر خریداران و معاونین کی فہرست میں جناب صدیق حاجی محمد حاجی عثمان صاحب بمبئی کا نامِ نامی شامل ہے۔

تعمیرِ مزار

اعلیٰ حضرت کے وصالِ پر ملال کے بعد الٹے برس ہی قرآن خوانی، ایصالِ ثواب اور عرس کی تقریبِ سعید منعقد ہونے لگی، جس میں علما و مشائخ کے علاوہ مخلصینِ ملک و ملت نے بھی شرکت کی اور مزارِ مبارک اور خانقاہِ عالیہ کی تعمیر کا معاملہ بھی زیرِ غور آیا، 1341ھ، 1342ھ کے عرسِ پاک میں تعمیرِ مزار و خانقاہ کا نقشہ بھی تیار ہو گیا اور کام بھی شروع ہو گیا۔ خلیفہِ اعلیٰ حضرت الحاج سید محمد عبد الرزاق قادری رضوی کٹنی مدھیہ پردیش ایک ٹرک تعمیراتی اشیا لے کر پہنچے۔

پھر یہ کام کچھ سست رفتاری کا شکار ہو گیا۔ 1345ھ، 1346ھ میں یہ کام ایک نئے عزم و حوصلے کے ساتھ شروع ہوا۔ جس کی نگرانی و سربراہی اعلیٰ حضرت کے دونوں صاحبزادگان نے کی۔ جناب محمد شفیع الدین خان رضوی، حاجی لیاقت علی خان رضوی، سید ایوب علی رضوی اور جناب سید محمد ضمیر الدین وغیرہ عشاقِ اعلیٰ حضرت نے دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھالی۔ واضح رہے اب کی بار یہ کام جناب شیخ نواب جان صاحب رضوی کلکتہ کی تحریک و تعاون پر شروع ہوا، یہ کام مخلصینِ بریلی کے بازوئے ہمت سے چلتا رہا۔ باہر کا تعاون یکا دکا ہی رہا۔ ان خوش نصیبوں میں ایک فردِ فرید حضرت مولانا محمد جسیم صاحب رضوی بمبئی بھی تھے، رحمۃ اللہ علیہ۔

[رودادِ تعمیر مزار شریف، باہتمام حکیمِ ملت حضرت مولانا شاہ محمد حسنین رضا خان، حسنی پریس بریلی، ص: 13 مصدقہ سرکار مفتی اعظم ہند، ص: 16 بتاریخ 23 صفر المظفر 1346ھ]

جماعتِ رضائے مصطفیٰ

یہ تنظیم اعلیٰ حضرت کی زندگیِ پاک کے بالکل اخیر دور میں عمل میں آئی، جس نے تاریخی کارنامے انجام دیے۔ اس تنظیم و تحریک میں بھی علمائے بمبئی اور اہلِ خیر عوام اہلِ سنت بمبئی کی عملی شراکت داری و حصہ داری رہی، مثلاً:

  1. محبِ سنت جناب سیٹھ حاجی ابو یوسف صاحب قادری رضوی، بمبئی۔
  2. محبِ سنت جناب شیخ امام علی صاحب قادری رضوی مالک ہوٹل اسکریم بمبئی۔
  3. محبِ سنت جناب حاجی عبد الغفور صاحب مقیم بمبئی۔
  4. جناب حاجی محمد نصرت یار خان صاحب رضوی بریلوی مقیم بمبئی۔

[رودادِ جماعت رضائے مصطفیٰ، بریلی رودادِ سالِ سوم 1341ھ، ص: 29 و 33 و نیز رودادِ سالِ چہارم، 1342ھ، ص: 48-49]

[ماہنامہ سنی دنیا بریلی شریف، فروری، مارچ 2022ء، ص: 67]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!