| عنوان: | رضویات اور مسلکِ اعلیٰ حضرت: توضیح و تشریح (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | محمد سجاد علی قادری ادریسی |
حضرت علامہ ابراہیم خوشتر قادری رضوی جمال پوری قدس سرہ العزیز کی حیات و خدمات پر مرکزِ اہلِ سنت بریلی شریف میں منعقدہ سیمینار تاریخ 25 مارچ 2018ء کے لیے تحریر کردہ طویل مقالہ کا ایک اہم حصہ:
ہم جس ملک میں اقامت پذیر ہیں، اسے محمد بن قاسم (62ھ - 98ھ / 681ء - 717ء) نے سترہ سال کی عمر میں فتح کر لیا تھا۔ ہم چالیس، پچاس، ساٹھ سال عمر پا کر بھی کچھ نہیں کر پاتے۔ اگر کرنا بھی چاہیں تو شاید ایسے عظیم کارنامے ہمارے ہاتھوں انجام پانے سے کترا جاتے ہیں۔ کچھ ایسا کمال ہماری ذات میں نہ آسکا کہ جس کی بنیاد پر کسی عظیم کارنامہ کا تاجِ زریں ہمارے سروں پر سجایا جا سکے۔ آخر وہ کون سے اوصاف و کمالات ہیں، جو ہم حاصل نہ کر سکے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی ذات میں غور و فکر کر کے اپنے عیوب اور خامیوں کو تلاش کریں، اور جہدِ مسلسل کے سہارے خود کو کمالات اور خوبیوں سے آراستہ کر دیں، تاکہ ہمارا مستقبل بھی سنور جائے اور ہمارے دم قدم سے کائنات کی بھلائیاں بھی وجود پذیر ہوتی جائیں۔ اربابِ علم و دانش اسی عمل کو محاسبہِ نفس کہا کرتے ہیں۔
ہمارے اوصافِ حسنہ و اعمالِ صالحہ کے سبب ہماری دنیا و آخرت بھی قابلِ رشک بن جاتی ہے اور ہم سے جس کسی کا تعلق ہو جائے، وہ بھی بے نظیر و بے مثال ہو جاتا ہے۔ حضور خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دربار میں جبین سائی کرنے والے خواجہ بختیار کاکی بنے۔ حضرت خواجہ غریب نواز علیہ الرحمۃ والرضوان نے ملکِ ہند میں قدم رکھا تو بت کدوں کی آوازیں تھم گئیں اور اذانوں کی صدائے دل نواز بلند ہونے لگی۔ امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری قدس سرہ العزیز کی بارگاہ کے حاضر باشوں کی فہرست نظروں سے گزاریں تو نہ جانے کتنے آفتاب و مہتاب جگمگاتے نظر آئیں گے۔ عظیم ہستیوں کے فیض یافتگان بھی عظیم ہو جاتے ہیں۔
عہدِ حاضر میں ”رضویات“ کی اصطلاح نے اپنے مفہوم میں ایسی جامعیت کو شامل کر لیا ہے کہ اسے کسی حد میں محدود کرنا مشکل نظر آتا ہے۔ لغت اور عالمی اصطلاح کے اعتبار سے ”رضویات“ کی اصطلاح کو امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت مجددِ اسلام امام احمد رضا قادری (1272ھ - 1340ھ) کی حیات و خدمات اور ان کے شخصی احوال و کوائف تک محدود ہونا چاہیے تھا، لیکن امامِ اہلِ سنت قدس سرہ العزیز کی خدمات کے وسیع دائرہ میں کچھ ایسے امور بھی شامل ہیں کہ وہ شعبہِ اسلامیات سے تعلق رکھتے ہوئے بھی ”بابِ رضویات“ کے لیے رونق بخش اور وسعتِ مفہوم کا سبب بن گئے، بلکہ وہ خدمات ہی اصل ہیں، باقی سب فرع۔ انسان اپنی بیش بہا خدمات کی بنیاد پر ہی ایک تاریخی شخصیت کی شکل میں نمودار ہوتا ہے۔ وہ خدمات دوسروں کو بھی دعوتِ عمل دیتی ہیں کہ وہ آمادہِ عمل ہوں۔ کسی کی خدمات کا تذکرہ اسی مقصد سے کیا جاتا ہے کہ اہلِ دنیا ان کے نقشِ قدم پر چل کر خود کو عملی خدمات کی جانب راغب کریں محض کسی کی خدمات پر تحسین و آفرین کر کے خاموش رہ جانا نہ خود قاری و سامع کے لیے بہت زیادہ نفع بخش ہے، نہ ہی قوم و ملت کو بہت زیادہ فائدہ ہونے کی امید ہے۔
جہاں کسی مذہب کے احوال و تواریخ کا ذکر ہوتا ہے، وہاں اس مذہب کے علما و مبلغین کے بھی تذکرے ہوتے ہیں۔ رضویات کے مفہوم کو اگر اس طرز پر دیکھا جائے تو مذہبِ اہلِ سنت کے چودہ سو سالہ سفر کا تذکرہ اصل قرار پائے گا اور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی خدمات کا تذکرہ مذہبِ اہلِ سنت کی تاریخ کا ایک ذیلی و فرعی عنوان قرار پائے گا۔
کوئی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو کہ امام احمد رضا نے مذہبی دنیا میں کوئی نیا رنگ بھرنے کی کوشش کی تھی، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مذہب و مسلک کے خوش نما رنگ پر اگر کہیں حجاب آ گیا، اور لونِ اصلی مستور و مخفی ہو گیا تھا تو اسی حجاب کو اٹھا کر آپ نے مسئلہ کی اصل حقیقت ظاہر فرما دی، اور ایک مجدد کے فرائض میں بھی یہ شامل ہے کہ وہ مردہ سنتوں کو زندہ فرمائے۔ مذہبِ اسلام میں اگر کسی قسم کے فکری یا اعتقادی مفاسد داخل ہو چکے ہوں تو دودھ اور پانی کو الگ کر دکھائے۔ چند لفظوں میں مجدد کے مفہوم کو واضح کر دوں، تاکہ ”رضویات“ کا مفہوم سمجھنے میں کچھ آسانی ہو جائے۔ سالِ آئندہ یعنی 1340ھ میں جابجا امامِ اہلِ سنت قدس سرہ العزیز کا ”عرسِ صد سالہ“ منایا جانے والا ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ہماری توضیحی عبارات قارئین کو اس باب کی وسعت سے آشنا کر دے گی۔
کوئی یہ سوال نہ کرے کہ علامہ خوشتر کے تذکرہ نامہ میں ایک اجنبی مفہوم پر ہم نے اپنے کلام کو طویل کر دیا، ہرگز نہیں۔ علامہ موصوف تاحیات جو خدمات انجام دیتے رہے، اس کی وضاحت رقم کر دیتا ہوں۔ خدمات کا تفصیلی تذکرہ بہت سے ادبائے مشاہیر کے مضامین میں نظر نواز ہوں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ میری یہ تحریر بہت سے خلجان کو دفع کرنے والی ہوگی۔ اولاً مجدد کا مفہوم سپردِ قرطاس کیا جاتا ہے، پھر امامِ اہلِ سنت کی ان خدمات کا تذکرہ ہوگا، جو بابِ رضویات میں کلیدی حیثیت اختیار کر چکی ہیں اور جس کے سبب آج مسلکِ اہلِ سنت و جماعت کے لیے جدید تعبیری لقب ”مسلکِ اعلیٰ حضرت“ کا استعمال ہوتا ہے۔ صاحبِ تذکرہ علامہ خوشتر قادری علیہ الرحمۃ والرضوان کی زبان سے بھی مدینہ منورہ کا ایک چشم دید واقعہ مرقوم ہوگا۔
بعثتِ مجددینِ اسلام
عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ فِيْمَا أَعْلَمُ عَنْ رَّسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللهَ يَبْعَثُ لِهٰذِهِ الْأُمَّةِ عَلٰى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَّنْ يُّجَدِّدُ لَهَا دِيْنَهَا.
[سنن ابی داؤد کتاب الملاحم - معرفۃ الآثار والسنن للبیہقی، ج: 1، ص: 208 - المستدرک علی الصحیحین، ج: 2، کتاب الفتن والملاحم – المعجم الکبیر للطبرانی، ج: 11، ص: 467]
(ترجمہ) حضور اقدس سرورِ دو جہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رب تعالیٰ اس امت کے لیے ہر صدی کے اخیر میں ایسے کو مبعوث فرمائے گا، جو اس امت کے لیے اس کے دین کی تجدید کرے گا۔
توضیح: حدیثِ مذکورہ میں صریح لفظوں میں بتایا گیا کہ ہر صدی میں مجددین کی آمد ہوگی، یعنی جب تک اسلام رہے گا، تب تک ہر صدی میں مجددین کا وجود ہوتا رہے گا۔ حدیثِ مذکورہ بالا سے یہ حقیقت بھی ظاہر ہو جاتی ہے کہ بقائے اسلام تک ہر صدی میں جماعتِ حق کا وجود ہوگا، اور اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کے لیے ہر صدی میں علما و فقہا کے علاوہ چند مخصوص افراد کو خاص صفات کے ساتھ پیدا فرماتا رہے گا، جو مذہبِ حق میں جنم لینے والی کسی بھی برائی کو دور کر دے گا، اور حق و باطل کو واضح کر دے گا، پھر جو لوگ برائی پر مصر رہیں، وہ قانونِ اسلام کے سبب اہلِ حق سے خارج قرار پائیں گے۔
ہر عہد میں اسی طرح اہلِ باطل کو اہلِ حق سے جدا ہونا پڑا۔ وہ اپنے باطل عقائد پر قائم رہے، اور اپنے باطل اعتقادات کی تاویلیں کرتے رہے۔ جب اہلِ حق نے دیکھا کہ اب یہ لوگ حق کی طرف آنے والے نہیں تو ان کے بطلان کا فیصلہ کیا اور باطل جماعتوں نے خود کو اہلِ حق سے جدا کر لیا اور اہلِ حق کے دلائل کو قبول نہ کیا۔ اسی مفہوم کو حدیثِ نبوی میں مَنْ شَذَّ شَذَّ فِي النَّارِ سے تعبیر فرمایا گیا، یعنی باطل معتقدات پر اصرار کے سبب یہ لوگ خود ہی اہلِ حق سے جدا ہو جائیں گے۔ ایسا نہیں کہ کوئی عالم یا مجدد ان کو اسلام سے خارج کر دے گا، بلکہ اصرار کے سبب اسلامی قانون کے اعتبار سے وہ اہلِ باطل قرار پاتے ہیں۔ علمائے دین صرف اسلامی احکام کو ظاہر کرتے ہیں۔ ظاہر کرنا الگ بات ہے، اور خارج کرنا الگ بات ہے۔
اہلِ باطل کے اصرار کا سبب یہ ہوتا ہے کہ قومِ مسلم کے کچھ افراد ان کے ساتھ ہو جاتے ہیں۔ اب یہ لوگ اپنی جماعت میں قوت محسوس کرتے ہیں۔ بعض افراد کے ساتھ ہونے کے متعدد اسباب ہوتے ہیں۔ کبھی تلوار کے خوف سے لوگ باطل کی طرف چلے جاتے ہیں، جیسے مامون رشید نے تلوار کے زور سے لوگوں کو مذہبِ معتزلہ کی طرف لایا۔ کبھی دنیاوی عہدوں کا لالچ دیا جاتا ہے، جیسے یزید نے میدانِ کربلا میں فوجیوں اور سالاروں کو میدانِ کربلا میں بھیجنے کے لیے حکومت و دولت کا لالچ دیا اور بات نہ ماننے پر عہدوں سے برطرف کرنے کی دھمکی دی گئی۔ آج بھی دنیاوی منفعت دکھا کر لوگوں کو باطل مذہب کی طرف بلایا جاتا ہے۔ یہ ایسی حقیقت ہے، جس کی توضیح کی ضرورت نہیں۔
ہمارے رسول حضور اقدس تاجدارِ کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حدیثِ مقدس کا ایک لفظ مبارک خاص خادمانِ دین (مجددین) کے لیے کچھ اضافی حیثیت کو ظاہر فرماتا ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مجددین کے ظہور سے متعلق ”یبعث“ کا لفظ ارشاد فرمایا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رب تعالیٰ خاص طور پر چند مومنین کو مجدد کے رتبہ سے سرفراز فرماتا ہے۔ وہ اس خصوصیت کے سبب عام اربابِ فضل کی بہ نسبت ایک قسم کی فضیلت رکھتے ہیں، گرچہ دیگر حیثیتوں کے اعتبار سے وہ دیگر اربابِ فضائل کی بہ نسبت مفضول بھی ہو سکتے ہیں۔ اب چونکہ رب تعالیٰ انہیں خاص طور پر تجدیدِ دین / احیائے سنت / دفعِ بدعت / احقاقِ حق / ابطالِ باطل وغیرہ خدماتِ دینیہ کے لیے مبعوث فرماتا ہے تو رحمتِ الٰہی سے امید ہے کہ انہیں بعض علوم و فضائل سے خاص فرما دے: وَمَا ذٰلِكَ عَلَى اللهِ بِعَزِيْزٍ.
تجدیدِ دین کا مفہوم
- امام عبد الرؤف مناوی شافعی (952ھ – 1031ھ) نے لکھا: يُجَدِّدُ لَهَا دِيْنَهَا، أَيْ يُبَيِّنُ السُّنَّةَ مِنَ الْبِدْعَةِ وَيُكَثِّرُ الْعِلْمَ وَيَنْصُرُ أَهْلَهٗ وَيَكْسِرُ أَهْلَ الْبِدْعَةِ وَيُذِلُّهُمْ قَالُوْا، وَلَا يَكُوْنُ إِلَّا عَالِمًا بِالْعُلُوْمِ الدِّيْنِيَّةِ الظَّاهِرَةِ وَالْبَاطِنَةِ. [فیض القدیر، ج: 1، ص: 14] (ترجمہ) مجدد، دین کی تجدید کرے گا، یعنی سنت کو بدعت سے الگ کرے گا علم کو بڑھائے گا، اہلِ علم کی مدد کرے گا، اہلِ بدعت کو توڑ دے گا اور انہیں ذلت میں ڈالے گا۔ علما نے فرمایا کہ مجدد وہی ہوگا جو ظاہری و باطنی علومِ دینیہ کا علم رکھنے والا ہو۔
- دِيْنَهَا، أَيْ مَا انْدَرَسَ مِنْ أَحْكَامِ الشَّرِيْعَةِ وَمَا ذَهَبَ مِنْ مَّعَالِمِ السُّنَنِ وَخَفِيَ مِنَ الْعُلُوْمِ الدِّيْنِيَّةِ الظَّاهِرَةِ وَالْبَاطِنَةِ. [فیض القدیر، ج: 1، ص: 14] (ترجمہ) مجدد، دین کی تجدید کرے گا، یعنی احکامِ شریعت میں سے جو مٹ گئے ہوں اور سنت کی نشانیوں میں سے جو ختم ہو چکی ہوں اور دین کے ظاہری و باطنی علوم میں سے جو مخفی ہو چکے ہوں (وہ انہیں زندہ کرے گا)۔
- ملا علی قاری حنفی (930ھ - 1014ھ) نے تحریر فرمایا: دِيْنَهَا، أَيْ يُبَيِّنُ السُّنَّةَ مِنَ الْبِدْعَةِ وَيُكَثِّرُ الْعِلْمَ وَيُعِزُّ أَهْلَهٗ وَيَقْمَعُ الْبِدْعَةَ وَيَكْسِرُ أَهْلَهَا. [مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، ج: 1، ص: 247] (ترجمہ) مجدد، سنت کو بدعت سے جدا کرے گا علم کو بڑھائے گا، اہلِ علم کو عزت بخشے گا، بدعت کو اکھاڑ پھینکے گا اور اہلِ بدعت کو توڑ ڈالے گا۔
توضیح: مرقومہ بالا توضیحات سے واضح ہو گیا کہ مجددین مردہ سنتوں کو زندہ کرتے ہیں، اور بدعات و خرافات کو دور کرتے ہیں، اور دین کے ظاہری و باطنی علوم میں سے جو مخفی ہو چکے ہوں، انہیں ظاہر فرماتے ہیں۔ امام احمد رضا قادری کے عہد میں مختلف قسم کے فتنوں نے جنم لیا۔ رب تعالیٰ کی مشیت دیکھیں کہ ایک ہی فرد میں ہر قسم کے فتنوں کو دفع کرنے کی قوت عطا فرما دی گئی۔ رب تعالیٰ کی قدرت میں کوئی کلام نہیں، قدرتِ الٰہی تو لامحدود و غیر متناہی ہے۔ ہاں، جس کسی کو رب تعالیٰ نے اوصاف و کمالات عطا فرما دیا ہو، اس کی مدح سرائی بھی شکرِ الٰہی کی بجا آوری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مجددین کی صورت میں نعمت عطا فرمائی ہے، ان مجددین کی تحسین و تعریف بھی بالواسطہ نعمتِ الٰہیہ کا تذکرہ اور بالواسطہ شکرِ خداوندی بجا لانا ہے۔
علامہ خوشتر کی زبانی اہلِ مدینہ کی کہانی
حضرت علامہ ابراہیم خوشتر رضوی علیہ الرحمہ نے سال 1982ء میں ڈربن میں منعقدہ ”عرسِ اعلیٰ حضرت“ میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ میں مدینہ طیبہ میں حاضر تھا، ریاض الجنہ کی کیاریاں سامنے تھیں۔ استادِ محترم محدثِ اعظم پاکستان حضرت علامہ سردار احمد رضوی بھی وہیں تھے۔ مدینہ منورہ کے ایک سنی صحیح العقیدہ شخص آتے ہیں اور حضور محدثِ اعظم پاکستان سے عرض کرتے ہیں: يَا مَوْلَانَا! اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ، رَجُلٌ فِي الْمَدِيْنَةِ يَقُوْلُ لِيْ إِنِّيْ بَرَيْلَوِيٌّ. سلام پیش کرنے کے بعد وہ مدنی عرض کرتے ہیں کہ مدینہ میں ایک شخص مجھے کہتا ہے کہ میں بریلوی ہوں۔ يَا مَوْلَانَا! لَا أَعْلَمُ، مَا مَعْنَى الْبَرَيْلَوِيِّ؟ اے مولانا! میں نہیں جانتا کہ بریلوی کا کیا معنی ہے؟
علامہ خوشتر نے فرمایا کہ میں وہیں موجود تھا۔ حضور محدثِ اعظم پاکستان نے اس سائل کو دیکھا اور فرمایا: يَا صَاحِبَ الْمَدِيْنَةِ! أَنْتَ صَاحِبُ الْمَدِيْنَةِ. اے مدینہ والے! آپ مدنی ہیں۔ آپ یہ بتائیں کہ آپ کا عقیدہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں سنی ہوں۔ أَنَا سُنِّيٌّ وَّأَنَا مُرِيْدُ الشَّيْخِ عَبْدِ الْقَادِرِ الْجِيْلَانِيِّ أَنَا قَارِي قَصِيْدَةِ الْبُرْدَةِ. میں شیخ عبد القادر جیلانی کا مرید ہوں، میں قادری ہوں، اور میں قصیدہ بردہ شریف پڑھتا ہوں۔ محدثِ اعظم پاکستان نے فرمایا کہ مدنی بھائی! آپ کو بریلوی اس لیے کہا جاتا ہے کہ آپ سنی ہیں اور آپ قادری ہیں، قصیدہ بردہ آپ پڑھتے ہیں۔ مدنی بھائی نے جواب دیا: يَا مَوْلَانَا! أَنَا بَرَيْلَوِيٌّ. یعنی اگر لوگ اس سبب سے مجھے بریلوی کہتے ہیں تو میں بریلوی ہوں۔ اس کے بعد حضرت محدثِ اعظم علیہ الرحمہ نے انہیں بتایا کہ بریلی (ہند) میں ایک شخص پیدا ہوئے تھے۔ ان کا نام ”احمد رضا“ تھا۔ انہوں نے اس چودہویں صدی ہجری میں ہم سنیوں کو حضور اقدس رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت کا سبق دیا تھا، اسی لیے لوگ سنیوں کو بریلوی کہتے ہیں۔
عقائدِ اسلامیہ اور امام احمد رضا کی تحقیقات
اصولِ عقائد میں کسی کو اختلاف کی گنجائش نہیں، بلکہ اصولِ عقائد میں سوادِ اعظم سے اختلاف کرنے والا اہلِ سنت و جماعت سے خارج ہے۔ اگر ضروریاتِ دین میں سے کسی امر کا انکار کرتا ہے تو وہ اسلام سے خارج ہے۔ امام ابوالحسن اشعری (260ھ - 324ھ) و امام ابو منصور ماتریدی (م 333ھ) کے مابین اعتقادیات کے بعض فرعی مسائل کی توضیح و تشریح میں کچھ اختلاف ہے۔ ان اختلاف کا ماحصل اور اصل مقصود ایک ہی ہے، اور محض تعبیر و تشریح میں فرق ہے، اس لیے علمائے محققین نے ان اختلافات کو لفظی اختلاف کہا ہے۔
مجددِ اسلام امام احمد رضا قادری کی تحریروں میں اسلافِ کرام کی بیان کردہ فروعِ اعتقادیہ کی تشریحات کے برخلاف کوئی جدید طرز کی تشریح بھی نظر نہیں آتی۔ اعتقادی امور میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری کی خدمات و تحقیقات کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، نیز ایک عظیم امر یعنی تحفظِ ناموسِ رسالت اور عشقِ نبوی کی تبلیغ و ترویج میں مجددِ موصوف کا نمایاں کردار انتہائی قابلِ لحاظ امر ہے، بلکہ اسی سبب سے انہیں شہرتِ دوام اور عزتِ مدام حاصل ہوئی، اور اکنافِ عالم میں ”امامِ عشق و محبت“ کے لقب سے سرفراز ہوئے۔
امرِ اول: راجح و مرجوح کی تشریح
مجددِ ممدوح نے بعض فروعِ اعتقادیہ کی راجح صورت کا راجح ہونا ظاہر فرمایا۔ ایسا نہیں ہے کہ امام احمد رضا قادری نے از خود ان اعتقاداتِ فرعیہ کی بعض صورتوں کو راجح قرار دیا، بلکہ یہ امر اسلافِ کرام کے نزدیک راجح تھا، اس کو امام احمد رضا قادری نے اسلافِ کرام کے حوالوں کی روشنی میں راجح ہونا ثابت فرمایا۔ اس کی مثال کے طور پر علومِ خمسہ سے متعلق امام احمد رضا قادری کی تشریحات اور مفتی مدینہ منورہ علامہ سید احمد برزنجی شافعی کی توضیحات پیش کی جا سکتی ہیں۔ اس طریقِ کار میں بھی امام احمد رضا منفرد نہیں، بلکہ اسلافِ کرام نے اپنی کتابوں میں یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ امام احمد رضا قادری اس باب میں بھی اسلافِ کرام کے متبع و پیروکار ہیں۔ ہاں، مسائلِ حاضرہ سے متعلق ائمہ کرام کی کتب و مصنفات میں منتشر دلائلِ ترجیح کی جمع و تدوین امامِ موصوف نے فرمائی۔
امامِ اہلِ سنت نے رسالہ ”خالص الاعتقاد“ میں علومِ خمسہ سے متعلق علما کے اختلاف کا حکم بیان کرتے ہوئے تحریر فرمایا: ”یہ خاص مسئلہ جس طرح ہمارے علمائے اہلِ سنت میں دائر ہے۔ مسائلِ خلافیہ اشاعرہ و ماتریدیہ کے مثل ہے کہ اصلاً محلِ لوم نہیں۔ ہاں، ہمارا مختار قولِ اخیر ہے، جو عام عرفائے کرام و بکثرتِ اعلام کا مسلک ہے۔“ [فتاویٰ رضویہ، ج: 29، ص: 453، جامعہ نظامیہ لاہور]
اللہ تعالیٰ نے اپنے اس بندہِ مومن کو وہ تمام خوبیاں اور وسائل عطا فرما دیے، جن سے وہ تمام فتنوں کا دفاع کر سکے۔ جدید فتنوں کے جواب و دفاع میں بعض علمائے حق نے مرجوح صورتیں اختیار فرمائیں، گرچہ ہم اسے بھی حق اور قائلین کو اہلِ حق تسلیم کرتے ہیں لیکن مجددین کو رب تعالیٰ یہ ملکہ عطا فرماتا ہے کہ وہ مخفی علوم کو ظاہر فرما دے۔ امامِ اہلِ سنت نے ان تمام صورتوں میں راجح امور کو ظاہر فرما دیا۔
امرِ دوم: تحقیقات و تسامحات کی توضیح
بعض امورِ اعتقادیہ کی تشریح میں بعض محققین کی عبارتوں میں قلتِ التفات کے سبب بعض تسامحات بھی پائے گئے، ان تسامحات کو امام احمد رضا قادری نے دلائل کی روشنی میں ظاہر فرمایا۔ اگر قائل موجود ہوتے تو وہ بھی امام احمد رضا قادری کی تشریحات کو قبول فرماتے، کیوں کہ ان کا عقیدہ وہی تھا، جو ان کی دیگر تحریروں سے ثابت ہوتا ہے۔ گرچہ خاص اس تحریر اور اس تعبیر میں ان سے بعض ایسے الفاظ صادر ہو گئے، جن سے بظاہر ایک اجنبی مفہوم اس عبارت میں نظر آنے لگا۔ رسالہ: ”قمع المبین لآمال المکذبین“ میں امام احمد رضا کی توضیحات اس پر شاہدِ عدل ہیں۔ امام احمد رضا اس طریقِ کار میں بھی اسلافِ کرام کے متبع ہیں۔ ہاں، مسائلِ حاضرہ سے متعلق اظہارِ حقائق کا فریضہ آپ کے قلم سے انجام پایا، اور یہی مجدد کا فرضِ منصبی ہوتا ہے کہ مغلقات کی توضیح اور صورِ مختلفہ میں ترجیح کی شکل پیش فرمائے۔
- امام احمد رضا قادری نے اس قسم کی عبارتوں سے متعلق تحریر فرمایا: ”ان عبارتوں کے جواب کو اربابِ دین و انصاف کے لیے بحمدہ تعالیٰ ایک نکتہ بس ہے۔ عقیدہ وہ ہوتا ہے جو متون، یا تراجمِ ابواب و فصول، یا فہرست و فذلکہ عقائد میں لکھتے ہیں۔ وہی اہلِ سنت کا معتقد ہوتا ہے۔ وہ ہی خود ان علما کا دینِ معتمد ہوتا ہے۔ ہنگامِ ذکرِ دلائل و ابحاث و مناظرہ جو کچھ ضمناً لکھ جاتے ہیں، اس پر نہ اعتماد ہے، نہ خود ان کا اعتقاد ہے، اور تو اور خود سب سے اعلیٰ و اجلیٰ مسئلہ توحید میں ملاحظہ فرمائیے۔
اس کلامِ محدث (جدید علمِ کلام) میں اس کے دلائل پر کیا کیا نقض وارد کیے ہیں۔ دلائلِ عقلیہ بالائے طاق رکھیے، خود برہانِ قطعی، یقینی، ایمانی، قرآنی لَوْ كَانَ فِيْهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللهُ لَفَسَدَتَا پر کیا شور و شغب نہ ہوا حتیٰ کہ علامہ سعد الدین تفتازانی نے اسے محض اقناعی لکھ دیا، جس پر نوبت کہاں تک پہنچی۔ کیا معاذ اللہ اس کے یہ معنی ہیں کہ ان کو توحید پر ایمان نہیں، یا اس میں کچھ شک ہے۔ نہیں، یہ صرف طبع آزمائیاں اور بحث و مباحثہ کی خامہ فرسائیاں ہیں، جو گمرہوں کے لیے باعثِ ضلال و دستاویزِ اضلال ہو جاتی ہیں، اور اہلِ متانت و استقامت جانتے ہیں کہ: مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ (انہوں نے تم سے یہ نہ کہی، مگر ناحق جھگڑنے کو، بلکہ وہ ہیں جھگڑالو لوگ) ولہٰذا ائمہِ دین و کبرائے ناصحین ہمیشہ سے اس کلامِ محدث (جدید علمِ کلام) کی مذمت اور اس میں اشتغال سے ممانعت فرماتے آئے ہیں۔“ [فتاویٰ رضویہ، ج: 15، ص: 514، 515، جامعہ نظامیہ لاہور] - ”میں نے القمع المبین میں متعدد نظائر اس کے ذکر کیے ہیں کہ ایمان و عقیدہ کچھ ہے، اور بحث و مباحثہ میں کچھ کا کچھ حتیٰ کہ کفرِ صریح تک لکھتے ہیں۔“ [فتاویٰ رضویہ، ج: 15، ص: 515، جامعہ نظامیہ لاہور]
- ”یہ حضرات خود بھی تصریح کر گئے ہیں کہ عقائد معلوم و متعین ہو چکے۔ ابحاث و مشاجرات وغیرہا میں جو کچھ ہم لکھیں، اس پر اعتماد نہ کرو، عقیدہ سے مطابقت و مخالفت دیکھ لو، پھر بھی اگر الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ زَيْغٌ (وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے) بگڑیں، فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ (وہ تو اشتباہ والی آیتوں کے پیچھے پڑتے ہیں، گمراہی چاہنے کو) پر اڑیں تو یہ ان کی بدنصیبی و بے ایمانی۔“ [فتاویٰ رضویہ، ج: 15، ص: 515، جامعہ نظامیہ لاہور]
اس طرح کی عبارتیں کبھی محقق کی قلتِ التفات کبھی نسخہ نقل کرنے والے کی خطا کے سبب کبھی ناقل کی تحریف کے سبب کبھی مناظرانہ طرز پر کلام میں بطورِ فرض و تقدیر یا محض اسکاتِ خصم کے لیے کتابوں میں درج ہو جاتی ہیں۔ مسئلہ امکانِ کذب سے متعلق مفتیِ احناف مکہ معظمہ حضرت مولانا صالح کمال بن صدیق کمال علیہما الرحمۃ والرضوان کا فتویٰ، پھر علامہ غلام دستگیر قصوری (م 1315ھ) کے توجہ دلانے پر مفتیِ احناف کا توضیحی جواب ”ضمیمہ تقدیس الوکیل“ میں موجود ہے۔ یہ محقق کی قلتِ التفات کے سبب ہوا، اسی لیے بعد میں اپنی عبارت کی توضیح پیش فرمائی۔ تفصیل کے لیے تقدیس الوکیل ضمیمہ [ص: 430 تا 440، نوری کتب خانہ لاہور] رجوع کیا جائے۔ ایسے مواقع پر رقم کردہ عبارتوں میں اصل عقیدہ کا بیان نہیں ہوتا۔ اس امر کی وضاحت کے لیے چند اقتباسات درجِ ذیل ہیں۔
- محققِ شہیر حضرت علامہ سید ابن عابدین شامی حنفی (1198ھ - 1252ھ / 1784ء - 1836ء) نے تحریر فرمایا: وَأَمَّا الْمُعْتَزِلَةُ فَمُقْتَضَى الْوَجْهِ حِلُّ مُنَاكَحَتِهِمْ لِأَنَّ الْحَقَّ عَدَمُ تَكْفِيْرِ أَهْلِ الْقِبْلَةِ وَإِنْ وَّقَعَ إِلْزَامًا فِي الْمَبَاحِثِ بِخِلَافِ مَنْ خَالَفَ الْقَوَاطِعَ الْمَعْلُوْمَةَ بِالضَّرُوْرَةِ مِنَ الدِّيْنِ مِثْلِ الْقَائِلِ بِقِدَمِ الْعَالَمِ وَنَفْيِ الْعِلْمِ بِالْجُزْئِيَّاتِ عَلٰى مَا صَرَّحَ بِهِ الْمُحَقِّقُوْنَ - وَأَقُوْلُ: وَكَذَا الْقَوْلُ بِالْإِيْجَابِ بِالذَّاتِ وَنَفْيِ الِاخْتِيَارِ - اﻫ وَقَوْلُهٗ وَإِنْ وَّقَعَ إِلْزَامًا فِي الْمَبَاحِثِ مَعْنَاهُ: وَإِنْ وَّقَعَ التَّصْرِيْحُ بِكُفْرِ الْمُعْتَزِلَةِ وَنَحْوِهِمْ عِنْدَ الْبَحْثِ مَعَهُمْ فِيْ رَدِّ مَذْهَبِهِمْ بِأَنَّهٗ كُفْرٌ، أَيْ يَلْزَمُ مِنْ قَوْلِهِمْ بِكَذَا الْكُفْرُ وَلَا يَقْتَضِيْ ذٰلِكَ كُفْرَهُمْ، لِأَنَّ لَازِمَ الْمَذْهَبِ لَيْسَ بِمَذْهَبٍ. [رد المحتار علی الدر المختار، ج: 3، ص: 50، دار الفکر بیروت]
توضیح: فقہا نے معتزلہ کی تکفیر کی ہے لیکن متکلمین کے یہاں معتزلہ ایک گمراہ فرقہ ہے۔ مناظرہ و مباحثہ میں بطورِ اسکاتِ خصم ایسی عبارت رقم کر دی جاتی ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ متکلمین بھی معتزلہ کو کافر مانتے ہیں۔ - علامہ میر سید شریف جرجانی حنفی (740ھ - 816ھ) نے تحریر فرمایا: عَلَيْكَ بِرِعَايَةِ قَوَاعِدِ أَهْلِ الْحَقِّ فِيْ جَمِيْعِ الْمَبَاحِثِ وَإِنْ لَّمْ يُصَرِّحْ بِهَا. [شرح المواقف، ج: 5، ص: 242]
- امام احمد رضا قادری نے تحریر فرمایا: ”شاہ عبد العزیز صاحب نے تحفہ اثنا عشریہ میں تصریح کی کہ جو کچھ میں اس میں کہوں، میرا مذہب نہ سمجھا جائے۔ میری باگ ایک قومِ بے ادب کے ہاتھ میں ہے۔ جدھر لے جاتے ہیں، جانا پڑتا ہے۔ بالجملہ مباحثِ کلام و مناظرہ کا کچھ اعتبار نہیں۔ محلِ بیانِ عقائد میں جو کچھ لکھا ہے، وہ عقیدہ ہے، یا جس پر صراحتاً اجماعِ ملت بتایا جائے، یا اسے تصریحاً عقیدہِ اہلِ سنت کہا جائے، یا اس کے خلاف کو مذہبِ گمراہاں بتایا جائے۔“ [فتاویٰ رضویہ، ج: 15، ص: 515، جامعہ نظامیہ لاہور]
[رضویات اور مسلکِ اعلیٰ حضرت: توضیح و تشریح، ص: 1 تا 8]
