Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

غیر مقلدین تاریخ کے آئینے میں (قسط: دوم)

غیر مقلدین تاریخ کے آئینے میں (قسط: دوم)
عنوان: غیر مقلدین تاریخ کے آئینے میں (قسط: دوم)
تحریر: مفتی عبد المالک مصباحی
پیش کش: بنت ریاض شیخ

غیر مقلدیت اشرف علی تھانوی کی نظر میں

دیوبندی جماعت کے مشہور عالم مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں: ”مولانا اشرف علی تھانوی کے بارے میں کہتے ہیں کہ مولانا موصوف غیر مقلد تھے مگر منصف مزاج تھے، حضرت تھانوی نے فرمایا میں خود ان کے رسالے ”اشاعۃ السنہ“ میں ان کا یہ مضمون دیکھا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ 25 سال کے تجربہ سے یہ معلوم ہوا کہ غیر مقلدی بے دینی کا دروازہ ہے۔“

اور لکھتے ہیں کہ حضرت تھانوی نے ارشاد فرمایا کہ غیر مقلدی بے عقلی کی دلیل ہے، بے دینی کی نہیں، ہاں جو ائمہِ مجتہدین پر تبرا کرے تو بے دینی ہے۔

مولانا اشرف علی تھانوی نے کہا کہ ایسے اکثر غیر مقلدین ہیں، حدیث کا تو نام ہی نام ہے محض قیاسیات ہی قیاسیات ہیں، اپنے ہی مقلد ہیں، حدیث کی تو ہوا بھی نہیں لگی اور ایک چیز کا تو ان میں نام و نشان ہی نہیں وہ ادب ہے نہایت بے ادب اور گستاخ ہوتے ہیں جو جس کو چاہتے ہیں کہہ ڈالتے ہیں بڑے جری ہیں اس باب میں اور بزرگوں کی شان میں گستاخی کرنے والا بڑے خطرے میں ہوتا ہے سوئے خاتمہ کے۔

تھانوی صاحب نے اور کیا کہا کہ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ اکثر غیر مقلدوں کے مذہب کا حاصل مجموعہ رخص (رخصتوں پر عمل کرنا) جس کا نتیجہ اکثر بد دینی ہے۔

تھانوی صاحب نے اور کہا کہ غیر مقلد ہونا آسان ہے البتہ مقلد ہونا مشکل ہے۔ کیونکہ غیر مقلدی میں تو یہ ہے کہ جو جی میں آیا کر لیا جسے چاہا بدعت کہہ دیا جسے چاہا سنت کہہ دیا کوئی معیار ہی نہیں مقلد ایسا نہیں کر سکتا اس کو قدم قدم پر دیکھ بھال کرنے کی ضرورت ہے۔ بعضے آزاد غیر مقلدوں کی ایسی مثال ہے کہ جیسے سانڈ ہوتے ہیں اس کھیت میں منہ مارا اس کھیت میں منہ مارا نہ کوئی کھونٹا ہے نہ تھان ہے۔

تھانوی صاحب اور کہتے ہیں کہ اکثر محبِ دنیا ہیں بزرگوں سے بدگمانی اس قدر بڑھی ہوتی ہے جس کا کوئی حد و حساب نہیں اور اس سے آگے یہ ہے کہ بد زبانی تک پہنچے ہوئے ہیں ادب اور تہذیب ان کو چھو بھی نہیں گئے ہاں بعضے محتاط بھی ہیں وَقَلِيْلٌ مِّنْهُمْ (اور وہ بہت تھوڑے ہیں)۔

تھانوی صاحب اور کہتے ہیں کہ بعضے غیر مقلدوں میں تشدد بہت ہوتا ہے اور طبیعت میں شر ہوتا ہے اور مجھے تو إِلَّا مَا شَاءَ اللهُ ان کی نیت پر بھی شبہ ہے سنت سمجھ کر شاید ہی کوئی عمل کرتے ہوں مشکل ہی سا معلوم ہوتا ہے۔

تھانوی صاحب مزید کہتے ہیں کہ آج کل کے اکثر غیر مقلدوں میں تو سوءِ ظن (بدگمانی) کا خاص مرض ہے، کسی کے ساتھ حسنِ ظن نہیں رکھتے، بڑے ہی جری ہوتے ہیں جو جی میں آتا ہے جس کو چاہتے ہیں جو چاہے کہہ ڈالتے ہیں، ایک سنت کی حمایت میں دوسری سنت کا ابطال کرتے ہیں۔

غیر مقلدیت مفتیِ دیوبند کی نظر میں

دار العلوم دیوبند کے مفتی جناب مہدی حسن شاہ جہاں پوری لکھتے ہیں: ”اس تجربہ اس امر کا یقین دلاتا ہے کہ انسان غیر مقلد ہو کر بد مذہب بد زبان بے باک بہت ہو جاتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عادات و اطوار سے کوسوں دور ہو جاتا ہے إِلَّا مَا شَاءَ اللهُ، نہ مسلمانوں کو گالیاں دینے سے باک ہوتا ہے نہ صحابی کو فاسق کہنے سے ننگ معلوم ہوتا ہے نہ حدیث کے خلاف سے شر معلوم ہوتی ہے نہ قرآن کی مخالفت کرنے سے۔“

غیر مقلدیت امام احمد رضا کی نظر میں

مصلحِ امت، مجددِ ملت اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری برکاتی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِيْنَ! یہ فرقہِ غیر مقلدین کہ ائمہِ دین کے دشمن اور بیچارہ عوام اہلِ اسلام کے رہزن ہیں، مذاہبِ اربعہ کو چوراہا بتائیں، ائمہِ ہدیٰ کو احبار و رہبان ٹھہرائیں، سچے مسلمان کو کافر و مشرک بتائیں، قرآن و حدیث کی آپ سمجھ رکھنا، ارشاداتِ ائمہ کو جانچنا پرکھنا ہر عامی جاہل کا کام کہیں، بے راہ چل کر بے گناہ مچل کر حرامِ خدا کو حلال کر دیں حلالِ خدا کو حرام کہیں۔“

مزید آگے لکھتے ہیں: ”جس نے تجربہ کیا ہے اس سے پوچھیے کہ دنیا درکنار خاص امورِ دین میں اصاغر بالائے طاق ان کے اکابر و معتمدین میں شنیع بے باکیاں، عظیم سفاکیاں پھیل رہی ہیں خدا نہ کرے کہ کسی فاسق کو بھی اس کی ہوا لگے۔ کیا نہ دیکھا کہ ان کے امام العصر نے اپنے مہری فتویٰ میں دودھ کے چچا کو بھتیجی دلائی، کیا نہ جانا کہ ان کے رشید شاگرد نے مطبوعہ رسالے میں حقیقی پھوپھی تک حلال بتائی، کیا نہ سنا کہ دوسرے شاگرد نے سوتیلی خالہ کو بھانجہ کے حق میں مباح کیا اور اس آفت کے فتویٰ سے استاد صاحب نے اپنی مہر کا نکاح کر دیا پھر امام العصر کا اجرت لے کر مسائل لکھنا ایک ہی مقدمہ میں مدعی مدعا علیہ دونوں کے پاس حضرت کا فتویٰ ہونا کیسی اعلیٰ درجہ کی دیانت ہے؟“

کچھ اور آگے چل کر لکھتے ہیں: ”سبحان اللہ! جب تقلیدِ شخصی معاذ اللہ کفر و شرک ٹھہری تو تمہارے نزدیک ہر عصر کے علماء اور گیارہ سو برس کے عامہِ مؤمنین معاذ اللہ سب کفار و مشرکین ہوئے، نہ سہی اتنا تو اجلیٰ بدیہیات سے ہے جس کا انکار آفتاب کا انکار ہے، صدہا برس سے لاکھوں اولیاء علماء محدثین فقہاء عامہِ اہلِ سنت و اصحابِ حق و ہدیٰ تقلیدِ ائمہِ اربعہ اپنے دوشِ ہمت پر اٹھائے ہوئے ہیں، جسے دیکھو کوئی حنفی کوئی شافعی کوئی مالکی کوئی حنبلی، یہاں تک کہ فرقہِ ناجیہ اہلِ سنت و جماعت ان چار مذاہب میں منحصر ہو گیا، جیسا کہ اس کی نقل سید احمد مصری رحمۃ اللہ علیہ سے شروع دلیل اول میں گزری اور قاضی ثناء اللہ پانی پتی کہ معتمدین و مستندینِ طائفہ سے ہیں تفسیر مظہری میں لکھتے ہیں:

أَهْلُ السُّنَّةِ قَدِ افْتَرَقَتْ بَعْدَ الْقُرُوْنِ الثَّلَاثَةِ أَوِ الْأَرْبَعَةِ عَلٰى أَرْبَعَةِ مَذَاهِبَ وَلَمْ يَبْقَ فِي الْفُرُوْعِ سِوٰى هٰذِهِ الْمَذَاهِبِ الْأَرْبَعَةِ.

ترجمہ: اہلِ سنت تین چار قرنوں کے بعد ان چار مذاہب پر تقسیم ہو گئے اور فروع میں ان مذاہبِ اربعہ کے سوا کوئی مذہب باقی نہ رہا۔

طبقاتِ حنفیہ و طبقاتِ شافعیہ وغیرہما تصانیفِ علماء دیکھو گے تو معلوم ہوگا کہ ان چاروں مذاہب کے مقلدین کیسے کیسے ائمہِ ہدیٰ و اکابرین محبوبانِ خدا گزرے جنہوں نے ہمیشہ اپنے آپ کو مثلاً حنفی یا شافعی کہا اور ہمیشہ اسی لقب سے یاد کیے گئے اور ہمیشہ اسی کی ترویج میں دفتر لکھے، یہ سب معاذ اللہ تمہارے نزدیک چنیں چناں ہوئے۔

علمائے کرام کے اقوال کی روشنی میں فرقہِ غیر مقلدین یا جماعتِ اہلِ حدیث کی اصلیت و حقیقت کو جان لیجیے اور پھر اپنے لیے راہِ نجات تلاش کیجیے اور دیکھیے کہ آیا اس کے دامن میں ہمیں ابدی راحت و آرام اور دائمی اطمینان و سکون نصیب ہو سکتا ہے یا نہیں؟ چلتے چلتے چند اور مسائل ملاحظہ کر لیجیے اور علمائے غیر مقلدین کی تن آسانی اور نفس پروری پر سر دھنیے:

  1. ایک بارگی طلاق دینے سے صرف ایک ہی واقع ہوگی، دوبارہ رجوع کر سکتا ہے۔
  2. وتر صرف ایک رکعت ہے۔
  3. سفر میں چند نمازیں ایک ساتھ جائز ہیں۔
  4. تراویح صرف آٹھ رکعت ہے۔
  5. دو مٹکا پانی کبھی گندا نہیں ہوتا، چاہے اس میں کتنی ہی نجاست پڑ جائے۔
  6. عورتوں کے زیور پر زکوٰۃ نہیں۔
  7. منی پاک ہے، شراب پاک ہے، مردہ جانور پاک ہے۔
  8. دودھ کی کڑاہی میں اگر بچہ کا پیشاب گر جائے تو دودھ پاک ہے۔
  9. خنزیر کے پیشاب کے سوا باقی سب جانوروں کا پیشاب پاک ہے۔
  10. کافر کا ذبیحہ حلال ہے۔
  11. ناٹک کا بطورِ عبرت دیکھنا جائز ہے۔
  12. حائضہ عورت کو قرآن پڑھنا جائز ہے۔
  13. وطی فی الدبر کی حرمت ظنی ہے۔
  14. کچھوا، کیکڑا اور گھونگا حلال ہے۔

یہ اور اس قسم کے اور بھی بہت سارے مسائل ”فقہ الفقیہ“ میں غیر مقلدوں کی مستند کتابوں کے حوالے سے منقول ہیں۔

قِيَاس كُنْ زِ گُلِسْتَانِ مَنْ بَهَارِ مَرَا

ان حقائق کی موجودگی میں یہ جماعت کہاں تک اسلامی روح کے قریب ہے، اس کا فیصلہ آپ پر ہے۔

ہم کو آئینہ دکھانا ہے دکھا دیتے ہیں

ماخوذ مراجع:

  1. مذاہب الاسلام، از نجم الغنی، ص: 622، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور۔
  2. ہندوستان کی پہلی اسلامی تحریک، از مسعود عالم ندوی، ص: 20-21، مرکزی مکتبہ اسلامی، دہلی۔
  3. جلد التہذیب علی ظہر عدم التقلید (جَلْدُ التَّهْدِيْدِ عَلٰى ظَهْرِ عَدَمِ التَّقْلِيْدِ)، از شاہ ولی اللہ دہلوی، ص: 3، شاہ ولی اللہ اکیڈمی، دہلی۔
  4. الحطۃ، از نواب صدیق حسن خان، ص: 152، مطبوعہ لاہور۔
  5. اہلِ حدیث اور انگریز، از بشیر احمد، ص: 15-16، ابو حنیفہ اکیڈمی، پاکستان۔
  6. شمعِ توحید، ثناء اللہ پانی پتی، ص: 40، کتب ثنائیہ، سرگودھا، پاکستان۔
  7. جنگِ آزادی 1857ء، از محمد شفیع، پاکستان۔
  8. صیانۃ الایمان، از مشہود الحق، ص: 5، مرادآباد۔
  9. ردِ تقلید بکتابِ مجید، ص: 12۔
  10. دراسات اللبیب، از محمد معین، ص: 219، لاہور۔
  11. اعتصام السنہ، از عبد اللہ محمدی، ص: 69، کانپور۔
  12. دلیلِ محکم، از نذیر حسین دہلوی۔
  13. اشاعۃ السنہ، جلد: 1، ص: 4، مطبوعہ 1888ء۔
  14. مجالسِ حکیم الامت، ص: 142۔
  15. مجالسِ حکیم الامت، ص: 234۔
  16. افاضاتِ یومیہ، جلد: 4، ص: 24۔
  17. افاضاتِ یومیہ، جلد: 4، ص: 269۔
  18. افاضاتِ یومیہ، جلد: 4، ص: 294۔
  19. افاضاتِ یومیہ، جلد: 1، ص: 322۔
  20. افاضاتِ یومیہ، جلد: 1، ص: 309۔
  21. افاضاتِ یومیہ، جلد: 2، ص: 322۔
  22. قطع الوتین، جلد: 1، ص: 21۔
  23. النہی الاکید عن الصلاۃ وراء عدی التقلید، مشمولہ فتاویٰ رضویہ، جلد: 3، ص: 300۔
  24. النہی الاکید عن الصلاۃ وراء عدی التقلید، مشمولہ فتاویٰ رضویہ، جلد: 3، ص: 315۔

[سنی دنیا، بریلی شریف، مئی 2018ء، ص: 40]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!