Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

بخاری شریف کا آخری درس (قسط: اول)

مضمون: بخاری شریف کا آخری درس (قسط: اول)
عنوان: مضمون: بخاری شریف کا آخری درس (قسط: اول)
تحریر: مفتی محمد عاقل رضوی
پیش کش: نکہت رضویہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

باب

بَابُ قَوْلِ اللّٰهِ تَعَالَى: وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ

ترجمہ: اور ہم عدل کی ترازوئیں رکھیں گے قیامت کے دن (سے متعلق ہے)۔ [الانبیاء: 47]

فائدہ: حضرت امام بخاری علیہ الرحمہ نے اپنی جامع صحیح کے آخر میں میزانِ عدل سے متعلق باب رکھا اس لیے کہ قیامت کے دن سب سے آخر میں وزنِ اعمال ہوگا۔ اس کے بعد حساب و کتاب اور پرسش کچھ نہ ہوگی بلکہ! جس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوگا وہ جنت میں چلا جائے گا۔ اور جس کے گناہوں کا پلڑا بھاری ہوگا وہ جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ البتہ گنہگار مؤمنین شفاعت سے جہنم سے نکالے جائیں گے۔ اسی مناسبت سے حضرت امام بخاری علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب کا اختتام اس باب پر فرمایا۔

توضیحِ کلمات

الموازین: میزان کی جمع ہے۔ میزان کی اصل موازن ہے، واؤ ماقبل کسرہ ہونے کی وجہ سے واؤ کو یا سے بدلا گیا ہے۔ میزان کا ماخذ وزن ہے اور امام راغب نے فرمایا: شے کی مقدار کی معرفت کو وزن کہا جاتا ہے۔

موازین صیغہ جمع ہونے کی وجہ سے بعض علما نے فرمایا کہ قیامت میں ہر شخص کے لیے یا ہر عمل کے لیے الگ الگ میزان ہوگی اور بعض علما نے فرمایا: قیامت میں ایک ہی میزان ہوگی، اس میں تولے جانے والے عمل مختلف ہوں گے۔ اس اعتبار سے صیغۂ جمع کا اطلاق ہوا۔ یا اس اعتبار سے کہ بہت سارے انسانوں کے اعمال تولے جائیں گے اس لیے صیغۂ جمع کا اطلاق فرمایا گیا۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوحٍ الْمُرْسَلِينَ ”نوح کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا“ حالانکہ قومِ نوح کی طرف صرف حضرت نوح علیہ السلام ہی کو رسول بنا کر بھیجا گیا۔ قوم نے ان ہی کی تکذیب کی، حضرت نوح کے لیے صیغۂ جمع المرسلین ان کی عظمتِ شان کے اظہار کے لیے فرمایا گیا۔ [الشعراء: 105]

علامہ ابن حجر عسقلانی نے فرمایا: راجح یہ ہے کہ ایک ہی میزان ہے، ایک میزان میں سارے انسانوں کے اعمال کا وزن کیا جانا کوئی مشکل نہیں کہ احوالِ دنیا پر قیاس نہیں کیا جا سکتا ہے۔

القسط: یہ مصدر ہے جس کا معنی عدل ہے۔ مصدر ہونے کی وجہ سے یہ مفرد، تثنیہ اور جمع سب کی صفت بن سکتا ہے۔ یہاں جمع الموازین کی صفت ہے مبالغہ الموازین کی صفت القسط ذکر کی گئی گویا کہ وہ میزان سراپا عمل ہے۔ یا القسط سے پہلے مضاف ذوات مقدر ہے یعنی ذوات القسط عدل والی ترازو۔

اہلِ سنت والجماعت کا یہ قول ہے کہ قیامت کے دن ترازو جسمِ محسوس ہوگی۔ اس کے دو پلڑے اور ایک ڈنڈی ہوگی، اس کے پلڑوں کی وسعت کا یہ عالم ہے کہ آسمان و زمین اور جو کچھ آسمان و زمین میں ہیں سب ایک پلڑے میں سما جائیں گے۔

ایک روایت میں ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی: یا اللہ! مجھے میزان دکھا دے۔ جب میزان دیکھے تو ان پر غشی طاری ہو گئی۔ عرض کیا: یا اللہ! یہ میزان بھرنے پر کون قادر ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے داؤد! میں جس بندے سے راضی ہوں گا اس کے ایک چھوہارہ صدقے کے ثواب سے یا لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ پڑھنے کے ثواب سے بھر دوں گا۔

حضرت حذیفہ سے مروی ہے کہ اعمال تولنے والے جبرئیل علیہ السلام ہوں گے اور اس کا نگراں حضرت آدم علیہ السلام کو بنایا جائے گا۔ نیکیوں کا پلڑا عرش کی داہنی جانب جنت کی طرف ہوگا اور گناہوں کا پلڑا عرش کی بائیں جانب جہنم کی طرف ہوگا۔

اللہ تعالیٰ علیم و خبیر ہے، سب کے اعمالِ حسنہ و اعمالِ سئیہ کو جانتا ہے۔ اعمال کے وزن کا فائدہ اظہارِ عدل اور مبالغہ فی الانصاف ہے اور یہ بھی کہ بندوں کے سامنے ان کے اعمال ظاہر ہو جائیں اور کسی بندے کو کوئی عذر باقی نہ رہے۔

لیوم القیامۃ: میں لام برائے تعلیل ہے اور مضاف محذوف ہے یعنی لحساب یوم القیامۃ یا لام بمعنی فی ہے یعنی فی یوم القیامۃ۔

وَأَنَّ أَعْمَالَ بَنِي آدَمَ وَقَوْلَهُمْ يُوزَنُ

ترجمہ: اور انسانوں کے اعمال اور ان کے قول تولے جائیں گے۔

توضیحِ کلمات

اعمالِ بنی آدم: حضرت امام بخاری علیہ الرحمہ کے اس ارشاد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سارے انسانوں کے اعمال تولے جائیں گے لیکن! اس سے دو جماعتیں مستثنیٰ ہیں:

  1. وہ کافر جنہوں نے کفر کے سوا کوئی گناہ نہیں کیا اور نہ کوئی نیکی والا کام کیا وہ بلا حساب اور بلا وزنِ اعمال جہنم میں جائیں گے۔
  2. وہ نیک مؤمنین جنہوں نے کسی گناہ کا ارتکاب نہ کیا وہ بلا حساب اور بلا وزنِ اعمال جنت میں جائیں گے۔ یہ وہی مؤمنین ہیں جو بجلی کی چمک، تیز ہوا اور تیز گھوڑوں کی طرح پل صراط پار کریں گے۔ ان دونوں جماعتوں کے علاوہ مؤمنین و کافرین سب سے حساب ہوگا اور ان کے اعمال کا وزن کیا جائے گا۔

کافروں کے حساب اور وزنِ اعمال پر دلیل سورۂ المؤمنون کی یہ آیتِ کریمہ ہے: فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ۝ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُولٰئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ فِي جَهَنَّمَ خَالِدُونَ ۝ تَلْفَحُ وُجُوهَهُمُ النَّارُ وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ ترجمہ: تو جن کی تولیں بھاری ہولیں وہی مراد کو پہنچے اور جن کی تولیں ہلکی پڑیں وہی ہیں جنہوں نے اپنی جانیں گھاٹے میں ڈالیں ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ ان کے منھ پر آگ لپٹ مارے گی اور وہ اس میں چڑائے ہوں گے۔ [المؤمنون: 102 - 104]

علامہ قرطبی نے کافر کے وزنِ عمل کی کیفیت میں دو صورتیں ذکر فرمائیں:

  1. (پہلی صورت) اس کا کفر ایک پلڑے میں رکھا جائے گا، دوسرا پلڑا بالکل خالی رہ جائے گا۔
  2. (دوسری صورت) ایک پلڑے میں اس کا کفر رکھا جائے گا، دوسرے پلڑے میں اس کے وہ اچھے کام رکھے جائیں گے جو اگر مؤمن کرتا تو نیکیاں ہوتیں، اس کا کفر اس کے اچھے کاموں پر بھاری ہوگا۔ لہٰذا کفر کا پلڑا بھاری ہوگا تو وہ جہنم میں جائے گا۔

علامہ ابن حجر عسقلانی نے فرمایا: یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کفر کے علاوہ اس کے اچھے اور برے کام بھی تولے جائیں تو اگر دونوں برابر ہوں تو صرف کفر کی وجہ سے عذاب ہو، اگر برے کام اچھے کاموں سے زیادہ ہوں تو عذاب میں مزید اضافہ ہو، یا اچھے کام برے کاموں سے زیادہ ہوں تو اشد عذاب میں کچھ تخفیف ہو جیسا کہ ابو طالب کے حق میں وارد ہے۔

میزانِ اعمال پر اہلِ سنت کا اجماع ہے، فرقہ معتزلہ نے اس کا انکار کیا جو درحقیقت کتاب اللہ اور سنتِ رسول کے مخالف ہے۔ معتزلہ نے یہ کہا کہ اعمال اعراض ہیں اور عرض قابلِ وزن شے نہیں ہوتی۔ معتزلہ کے اس شبہ کے کئی جواب ہیں:

  1. حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ صحیفے جن میں فرشتے اعمال لکھتے ہیں وہ تولے جائیں گے۔ اسی قول کو علامہ قرطبی نے راجح قرار دیا ہے اسی کی ترجیح و تقویت اس حدیثِ مبارکہ سے بھی ثابت ہوتی ہے جو ترمذی شریف میں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایک شخص کو تمام مخلوقات سے الگ کر دے گا اور اسے نناوے دفتر دے گا، ہر دفتر حدِ نظر تک لمبا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: ان دفتروں میں جو لکھا ہوا ہے کیا تو اس سے انکار کرتا ہے؟ کیا ہمارے کراماً کاتبین نے تجھ پر کچھ ظلم کیا ہے؟ وہ عرض کرے گا: نہیں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے بندے! ہمارے پاس تیری ایک نیکی ہے آج تجھ پر ظلم نہیں ہوگا، پھر اللہ تعالیٰ کاغذ کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا نکالے گا جس میں لکھا ہوگا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فرمائے گا یہ لے اور میزان پر جا۔ وہ عرض کرے گا: یا اللہ! اس چھوٹے سے ٹکڑے کی ان دفتروں کے مقابلے میں کیا حیثیت ہے؟ فرمائے گا: جا تیرے اوپر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ میزان کے ایک پلے میں وہ سارے دفتر رکھے جائیں گے اور ایک پلے میں وہ کاغذ کا ٹکڑا، اس کاغذ کے ٹکڑے والا پلہ ان دفتروں سے بھاری ہو جائے گا۔
  2. اعمال ہی کا وزن کیا جائے گا جیسا کہ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن میزان میں حسنِ اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی دوسرا عمل نہیں ہوگا۔ اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ قیامت کے دن میزان قائم کی جائے گی، نیکیاں اور گناہ تولے جائیں گے، جس کی نیکیاں اس کے گناہوں پر رائی کے دانے کے برابر بھی بھاری ہو جائیں گی وہ جنت میں جائے گا اور جس کے گناہ اس کی نیکیوں پر رائی کے دانے کے برابر بھاری ہو جائیں گے وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ سوال کیا گیا کہ جن کی نیکیاں اور گناہ دونوں برابر ہوں، ان کا کیا ہوگا؟ فرمایا: وہ اصحابِ اعراف ہیں۔

وَقَالَ مُجَاهِدٌ: الْقِسْطَاسُ: الْعَدْلُ بِالرُّومِيَّةِ

ترجمہ: اور امام مجاہد نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد: وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ (ترجمہ: اور برابر ترازو سے تولو) میں قسطاس کا معنی رومی لغت میں عدل ہے، اس کا معنی عربی لغت میں بھی عدل ہے۔ اصح قول یہ توافقِ وضع سے ہے کہ دونوں لغت میں قسطاس کا معنی عدل ہے ایسا نہیں کہ یہ رومی لغت سے عربی زبان میں منقول ہوا ہو۔ [الاسراء: 35، والشعراء: 182]

وَيُقَالُ: الْقِسْطُ مَصْدَرُ الْمُقْسِطِ وَهُوَ الْعَادِلُ، وَأَمَّا الْقَاسِطُ فَهُوَ الْجَائِرُ

ترجمہ: اور کہا جاتا ہے کہ قسط مقسط کا مصدر ہے۔ مقسط عادل ہے اور قاسط کا معنی ظالم ہے۔

توضیح

مقسط کا مصدر اقساط ہے قسط نہیں، مقسط کا مصدر قسط ہونے کے معنی یہ ہیں کہ مصدر اقساط کے حروفِ زائدہ کو حذف کر دیا جائے تو قسط باقی رہے گا جیسا کہ علامہ کرمانی نے فرمایا کہ مصدر سے مراد محذوف الزوائد ہے۔ اور ابن القطاع نے فرمایا کہ قسط اضداد میں سے ہے کہ اس کا معنی ظلم بھی ہے اور عدل بھی۔ جب کوئی ظلم کرے تو کہا جاتا ہے کہ قَسَطَ فلان (ترجمہ: فلاں نے ظلم کیا) اور جب انصاف کرے تو کہا جاتا ہے أَقْسَطَ فلان (ترجمہ: فلاں نے انصاف کیا) اسی اطلاق پر قرآنِ کریم میں وارد ہے جیسا کہ سورۂ جن میں ہے: وَأَمَّا الْقَاسِطُونَ فَكَانُوا لِجَهَنَّمَ حَطَبًا ترجمہ: اور رہے ظالم وہ جہنم کے ایندھن ہوئے۔ [الجن: 15]

دوسری آیتِ کریمہ میں ہے: وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ ترجمہ: اور اگر تم ان میں فیصلہ فرماؤ تو انصاف سے فیصلہ کرو، بے شک انصاف والے اللہ کو پسند ہیں۔ [المائدہ: 42]

اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”الْمُقْسِطُونَ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ“ ترجمہ: انصاف والے نور کے ممبر پر ہوں گے۔ [أخرجه مسلم] اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں ”مقسط“ بھی ہے۔

علامہ ابن حجر عسقلانی نے فرمایا: کہ مقسط یا تو قسط بکسر القاف بمعنی عدل سے ماخوذ ہے۔ یا قسط بفتح القاف بمعنی ظلم سے ماخوذ ہے، اور ہمزہ سلب و ازالہ کے لیے ہے۔

حدیث

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِشْكَابٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَلِمَتَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمٰنِ، خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ: سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ.

ترجمہ: ہم سے احمد بن اشکاب نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ہم سے محمّد بن فضیل نے حدیث بیان کی، انھوں نے عمارہ بن قعقاع سے، انھوں نے ابو زرعہ سے، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ ابو ہریرہ نے کہا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دو کلمے ہیں جو رحمٰن کو پیارے ہیں، زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں بھاری ہیں: سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ (ترجمہ: ہم اللہ کی ہر عیب سے پاکی بیان کرتے ہیں اس کی حمد کے ساتھ، اللہ ہر عیب سے پاک ہے عظمت والا ہے)۔

مطابقت

ترجمۃ الباب سے حدیث کی مطابقت اس قول ”ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ“ (ترجمہ: وہ کلمے میزان میں بھاری ہیں) میں ہے۔ اس لیے کہ اس سے معلوم ہوا کہ میزانِ عدل قائم کی جائے گی اور یہ کلمے میزان میں بھاری ہوں گے۔

راویانِ حدیث

اس حدیث کے پانچ راوی ہیں:

  1. احمد بن اشکاب: ان کی کنیت ابو عبداللہ ہے، امام بخاری علیہ الرحمہ نے فرمایا: میں نے ان سے 218ھ میں آخری ملاقات کی اور ابن حبان نے فرمایا: یہی ان کا سالِ وصال ہے۔
  2. محمد بن فضیل بن غزوان۔
  3. عمارہ بن قعقاع۔
  4. ابو زرعہ: ان کا نام ہرم ہے۔
  5. حضرت ابو ہریرہ دوسی یمنی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ: ان کے نام میں بہت اختلاف ہے۔ مشہور یہی ہے کہ ان کا نام عبدالرحمن بن صخر ہے۔ یہ قبیلہ ”دوس“ کے فرد ہیں، سن 7 ہجری میں فتحِ ”خیبر“ کے بعد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور پھر آخری دم تک مدینہ طیبہ میں رہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے حاضر باش تھے، ”اصحابِ صفہ“ کے منتظم و نگراں تھے۔ بکثرت احادیثِ نبویہ روایت کرنے والے صحابہ میں سرِ فہرست ہیں۔

کثرتِ روایت کی وجہ خود حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمائی، کہا: میں مسکین تھا۔ ہمیشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتا، مہاجرین بازاروں میں تجارت کرتے، انصار اپنے باغات کی دیکھ ریکھ اور ان میں کام کرتے لیکن! میں ہمیشہ بارگاہِ نبوی میں حاضر رہتا۔ ان سے پانچ ہزار تین سو چوہتر حدیثیں مروی ہیں۔

”ابو ہریرہ“ لقب کی انھوں نے خود یہ وجہ بیان فرمائی کہ میں بکریاں چراتا تھا۔ میری ایک چھوٹی سی بلی تھی اس سے دل بہلاتا تھا تو لوگوں نے ابو ہریرہ کہنا شروع کر دیا۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ان کی آستین میں جیب لگی تھی آپ آستین کی جیب میں چھوٹی بلی رکھتے، ایک مرتبہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا: ”أَنْتَ أَبُو هُرَيْرَةَ!“ پھر کیا تھا ان کی یہی کنیت مشہور ہو گئی۔

ان کی والدہ کا نام میمونہ ہے، ایک زمانہ تک اسلام سے مشرف نہ ہوئیں حضرت ابو ہریرہ کی عرض پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ایمان کی دعا کی تو دعا کی برکت سے ان کی والدہ ایمان سے مشرف ہوئیں۔ ایک مرتبہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں آپ سے حدیثیں سنتا ہوں اور سن کر بھول جاتا ہوں تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابو ہریرہ اپنی چادر پھیلاؤ! کہتے ہیں میں نے اپنی چادر پھیلائی۔ حضور نے لپ چادر میں ڈالی اور فرمایا: چادر سینے سے لگا لو۔ میں نے سینے سے لگائی، اس کے بعد حافظہ کی قوت کا یہ عالم تھا کہ پھر میں کبھی کوئی بات نہیں بھولا۔ [صحیح البخاری، کتاب المناقب، ر: 3648؛ مسند احمد، ر: 7275؛ حلیۃ الاولیاء، ص: 1317]

ان سے آٹھ سو سے زیادہ راویانِ حدیث نے روایتِ حدیث کی ہے۔ روایت کرنے والوں میں صحابہ کرام بھی ہیں اور تابعین بھی، ان سے روایت کرنے والوں میں حضرت جابر بن عبداللہ، حضرت انس بن مالک اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر صحابہ کرام شامل ہیں۔ 78 سال کی عمر میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا 57 یا 58ھ میں مدینہ طیبہ کے اندر وصال ہوا اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔ [ملخصاً: عمدۃ القاری، ج: 1، ص: 193، 194]

توضیحِ کلمات

کلمتان: کلمہ کا تثنیہ ہے۔ یہاں اس کا اطلاق کلام پر ہے جیسے کلمۂ شہادت، کلمۂ اخلاص کہا جاتا ہے۔ کلمتان موصوف ہے، اور ”حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمٰنِ، خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ“ یہ سب اس کی صفت ہے، موصوف صفت سے مل کر خبر مقدم اور ”سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ“ مبتدا مؤخر ہے، اس کلام میں خبر کو مقدم کیا گیا اس لیے کہ جب خبر کے اوصاف زیادہ ہوں تو خبر کو مقدم کرنا مستحسن ہوتا ہے۔ اس میں نکتہ سامع کو مبتدا کا شوق دلانا ہے۔ اس لیے کہ اوصافِ جمیلہ کی کثرت سامع کے شوق میں اضافے کا باعث ہوتی ہے۔

حبیبتان: یہ حبیبۃ کی تثنیہ ہے جو بمعنی مفعول ہے معنی یہ ہیں کہ یہ کلمہ پڑھنے والے سے اللہ تعالیٰ محبت فرماتا ہے۔ فعیل بمعنی مفعول ہو تو اس میں مذکر و مؤنث دونوں برابر ہوتے ہیں یہاں پر بجائے حبیبان کے حبیبتان فرمایا اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ خفیفتان، ثقیلتان سے مناسبت مقصود ہے کہ وہ دونوں بمعنی فاعل ہیں بمعنی مفعول نہیں۔ اس لیے ان دونوں میں کلمتان سے تانیث میں مطابقت واجب ہے لہٰذا ان دونوں کی مناسبت سے حبیبتان بھی بصیغۂ تانیث فرمایا گیا۔

الرحمٰن: اللہ تعالیٰ کا ذکر کلمۂ رحمٰن کے ساتھ فرمایا گیا اس لیے کہ حدیث سے مقصود اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر وسعتِ رحمت کا بیان ہے کہ وہ قلیل عمل پر کثیر اجر عطا فرماتا ہے۔

وبحمدہ: واؤ حالیہ تقدیر یہ ہے ”أُسَبِّحُ اللّٰهَ مُتَلَبِّسًا بِحَمْدِي لَهُ“ یا واؤ عاطفہ ہے اور تقدیر یہ ہے، ”أُسَبِّحُ اللّٰهَ أَتَلَبَّسُ بِحَمْدِهِ“ اور یہ بھی احتمال ہے کہ بحمدہ کا ”با“ محذوف متقدم سے متعلق ہو تقدیر یہ ہے: ”أُثْنِي عَلَيْهِ بِحَمْدِهِ“ اس تقدیر پر تنہا سبحان اللہ مستقل جملہ ہوگا اور بحمدہ الگ دوسرا جملہ یہ ہے۔

سبحان اللّٰہ العظیم: علامہ کرمانی نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی صفات کی دو قسمیں ہیں: (1) وجودیہ جیسے علم و قدرت، انھیں صفاتِ اکرام کہتے ہیں۔ (2) عدمیہ جیسے ”لَا مِثْلَ لَهُ، لَا شَرِيكَ لَهُ“ انھیں صفاتِ جلال کہتے ہیں۔ تسبیح صفاتِ جلال کی طرف اشارہ ہے اور تحمید صفاتِ اکرام کی طرف۔ معنی یہ ہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کی تمام عیوب و نقائص سے پاکی بیان کرتا ہوں اور تمام صفاتِ کمال پر حمد و ثنا کرتا ہوں۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو انسان روزانہ سو مرتبہ ”سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ“ پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرما دے گا اگرچہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔ علامہ ابن حجر عسقلانی نے فرمایا: جب یہ ثواب تنہا ”سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ“ پڑھنے پر ہے تو اس کے ساتھ جب ”سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ“ بھی پڑھے تو اس کے ثواب میں مزید اضافہ ہوگا۔

علامہ ابن بطال نے فرمایا: ذکر و تسبیح کے یہ فضائل انھیں حضرات کے لیے ہیں جو دینی شرف و کمال رکھتے ہوں۔ کبیرہ گناہوں سے بچتے ہوں ایسا نہیں کہ انسان کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرے اور صرف وظیفے پڑھ کر صالحین کا مقام حاصل کر لے۔

فائدہ

اس حدیث کے کلمات کی حسنِ ترتیب یہ ہے کہ پہلے اللہ رب العزت کے محبوب کا ذکر فرمایا پھر بندے کا ذکر کیا کہ بندے کی زبان پر یہ کلمات آسان ہیں، اس کے بعد ان کلمات کا جو ثوابِ عظیم ہے اور جو قیامت کے دن نفع بخش ہوگا (اسے بیان کیا)۔ حضرت امام بخاری علیہ الرحمہ نے کتاب کا آغاز حدیث ”الاعمال بالنیات“ سے فرمایا تاکہ نیت و اخلاص کا بیان ہو اور آخر میں اللہ رب العزت جل جلالہ کی تسبیح و حمد کی فضیلت پر حدیث بیان کی تاکہ آخر کلمہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا ہو اور وہ بھی اس مقدس ذات کی زبانِ مبارک سے نکلے ہوئے کلمات سے جو افضل الحامدین ہیں اور زبان کی عظمت یہ ہے کہ اعلیٰ حضرت امام اہلِ سنت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

وہ زبان جس کو سب کن کی کنجی کہیں
اس کی نافذ حکومت پہ لاکھوں سلام

اس کی پیاری فصاحت پہ بے حد درود
اس کی دلکش بلاغت پہ لاکھوں سلام

اس کی باتوں کی لذت پہ لاکھوں درود
اس کے خطبے کی ہیبت پہ لاکھوں سلام

[حوالہ: سہ ماہی عرفان رضا، مرادآباد، ص: 16]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!