| عنوان: | امام احمد کبیر اور ان کے القابات (قسط: دوم و آخری) |
|---|---|
| تحریر: | مدثر جمال رفاعی |
| پیش کش: | محمد بلال رضا عطاری مدنی، احمدآباد، گجرات |
امام ذہبی کے یہاں امام رفاعی کے تعظیمی القاب
بعض وجوہ سے مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلے میں سب سے پہلے وہ القاب درج کیے جائیں جو جلیل الشان و کبیر المقام محدث علامہ شمس الدین محمد الذہبی الشافعی رحمۃ اللہ علیہ نے امام رفاعی قدس سرہ کے تذکرے میں رقم فرمائے ہیں اور وہ درج ذیل ہیں:
- الإسلام للذهبي
- الزاهد الكبير
- سلطان العارفين۔ [بحوالہ: تاریخ الاسلام للذہبی]
فائدہ: اسی تاریخ الاسلام میں امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے امام رفاعی قدس سرہ کے متعلق جو دعائیہ جملہ درج کیا ہے وہ بھی ان کے علو مقام کی دلیل ہے اور وہ یہ ہے:
- الإمام
- القدوة
- العابد
- الزاهد
- شيخ العارفين۔ [بحوالہ: سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج: 21]
- زاهد العراق۔ [تذکرۃ الحفاظ، ج: 4، ص: 1341]
علامہ شہاب الدین احمد کے یہاں امام رفاعی کے تعظیمی القاب
موصوف اپنی کتاب ”مسالک الابصار فی ممالک الامصار“ میں لکھتے ہیں:
كان رضي الله عنه رجلا صالحا فقيها شافعي المذهب [ج: الثامن]
”امام رفاعی رضی اللہ عنہ نیک سیرت آدمی تھے، فقیہ تھے اور شافعی المسلک تھے۔“
اس مختصر سی عبارت میں تین باتیں قابل غور ہیں: ایک امام رفاعی کے لیے ”رضی اللہ عنہ“ والا دعائیہ جملہ لانا، دوسرے امام رفاعی کے متعلق رجل صالح کا وصف، تیسرے امام رفاعی کے متعلق فقیہ کا وصف۔
یہاں یہ بھی یاد رکھنا مفید ہوگا کہ علامہ ابن فضل اللہ العمری شیخ ابن تیمیہ کے شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں۔
امام یافعی یمنی مکی کے یہاں امام رفاعی کے تعظیمی القاب
موصوف اپنی کتاب ”مرآۃ الزمان“ میں درج ذیل القاب ذکر کرتے ہیں:
تاج العارفين، إمام المعرفين، ذو الأنوار الزاهرة، والكرامات الباهرة، والمقامات العلية، والأحوال السنية، والبركات العامة، والفضائل الشهيرة بين الخاصة والعامة یعنی: امام رفاعی قدس سرہ روشن انوار والے، چمکدار کرامتوں والے، بلند مقامات اور روشن احوال والے، عوام اور خواص کے درمیان فضائل کی شہرت رکھنے والے اور پھیلی ہوئی برکتوں والے ہیں۔
اس عبارت میں ہر وصف در حقیقت ایک لقب ہے جو اہل فہم پر خفی نہیں، اسی طرح یہی امام یافعی رحمۃ اللہ علیہ اپنی ایک دوسری کتاب ”خلاصة المفاخر في مناقب الشيخ عبد القادر“ میں امام رفاعی قدس سرہ کے متعلق لکھتے ہیں:
”كان من أعيان مشايخ العراق، وأجلاء العارفين وأكابر المحققين وصدور المقربين، عمر الله القلوب بمحبته وملأ الصدور من مهابته وعمر الأوطان بذكره وعطر الآفاق بنشره“
”امام رفاعی عراق کے نمایاں ترین مشایخ، جلیل القدر عارفین، اکابر محققین اور مقربین کے صدر مجلس والے لوگوں میں سے ہیں، اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت اور ان کے سینوں میں ان کی ہیبت بھر دی ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کے تذکرے سے سب خطے آباد کر دیے ہیں اور آفاق میں ان کی خوشبو پھیلا دی ہے۔“
اس عبارت میں بھی ہر ہر جملہ امام رفاعی قدس سرہ کے لیے ایک ایک لقب اور ایک ایک وصف کا بیان ہے اور عیاں را چہ بیاں؟
علامہ جمال الدین اسنوی کے یہاں امام رفاعی کے تعظیمی القاب
موصوف اپنی کتاب ”طبقات الشافعیہ“ میں امام رفاعی کے تذکرے میں درج ذیل القاب ذکر کرتے ہیں: صاحب الأحوال والكرامات أستاذ الطائفة المشهورة - یعنی عمدہ احوال اور کرامات والے مشہور جماعت کے استاذ۔
امام ابن کثیر دمشقی کے یہاں امام رفاعی کے تعظیمی القاب
موصوف نے ”طبقات“ میں درج ذیل لقب ذکر کیا ہے: الزاهد الكبير المشهور اور ”البدایۃ والنہایۃ“ میں درج ذیل لقب: شيخ الطائفة الأحمدية والرفاعية والبطائحية...
امام ابن الملقن کے یہاں امام رفاعی کے تعظیمی القاب
امام موصوف اپنی کتاب ”طبقات الاولیاء“ میں لکھتے ہیں: ”أستاذ الطائفة المشهورة، كان من حقه التقديم فإنه أوحد وقته حالا وصلاحا.“ امام رفاعی مشہور جماعت کے استاذ ہیں، اور مقدم ہونا ان کا حق ہے کیوں کہ وہ اپنے حال اور اپنی نیکی کے اعتبار سے اپنے زمانے میں سب سے یکتا تھے۔
اسی طرح یہی امام موصوف امام رفاعی قدس سرہ کا ایک مقولہ ان کی فضیلت و منقبت کے اظہار کے لیے ذکر کرتے ہیں کہ امام رفاعی قدس سرہ نے اپنی موت سے پہلے یہ ارشاد فرمایا کہ: ”أنا شيخ من لا شيخ له، أنا شيخ المنقطعين“ میں امت مسلمہ کے ان لوگوں کا شیخ ہوں جن کا کوئی شیخ نہ ہو اور میں بچھڑے ہوئے لوگوں کا شیخ ہوں۔
علامہ جمال الدین کے یہاں امام رفاعی کے تعظیمی القاب
علامہ موصوف اپنی کتاب ”النجوم الزاهرة في ملوك مصر والقاهرة“ میں لکھتے ہیں:
إمام وقته في الزهد والصلاح والعلم والعبادة، كان من الأفراد الذين أجمع الناس على علمه وفضله وصلاحه. امام رفاعی زہد و صلاح اور علم و عبادت میں اپنے وقت میں امام تھے اور ان یگانہ روزگار افراد میں سے تھے جن کے علم و فضل اور نیکی پر سب لوگوں کا اتفاق ہے۔
علامہ ابو الفضل عبد القادر الشاذلی اور امام رفاعی کے تعظیمی القاب
علامہ موصوف اپنی کتاب ”الكواكب الزاهرة في اجتماع الأولياء يقظة بسيد الدنيا والآخرة“ میں درج ذیل دو لقب لکھتے ہیں:
- القطب
- العارف
علامہ محمد بن یحییٰ التاذفی کے یہاں امام رفاعی کے تعظیمی القاب
علامہ موصوف اپنی کتاب ”قلائد الجواهر في مناقب الشيخ محيي الدين عبد القادر الجيلاني“ میں امام رفاعی کے لیے درج ذیل لقب خاص طور پر ذکر کرتے ہیں: السيد الكبير محيي الدين، سيد العارفين یعنی بڑے سردار، دین کو زندہ کرنے والے، عارفین کے سردار۔ نیز یہ بھی لکھتے ہیں:
”وهو أحد الأربعة الذين يبرئون الأكمه والأبرص ويحيون الموتى بإذن الله سبحانه وتعالى“
”امام رفاعی ان چار بزرگوں میں سے ایک ہیں جو اللہ تعالیٰ کی اجازت اور حکم سے مردوں کو زندہ کرتے تھے اور کوڑھی اور برص کی بیماری والوں کو شفا دیتے تھے۔“
حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت اور امام رفاعی کے تعظیمی القاب
حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ شہر مخشوان میں چلہ سے فارغ ہونے کے بعد مجھے ام عبیدہ جانے کا حکم ہوا کہ وہاں سلطان العارفین حضرت سلطان سید احمد کبیر رفاعی رحمۃ اللہ علیہ آرام فرما ہیں اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (بشارت رؤیا میں) کہ اولین صحابہ کرام میں افضل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، اولین اولیائے کرام میں افضل علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہیں اور آخرین اولیائے کرام میں افضل حضرت سلطان سیدی احمد کبیر رفاعی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ [سفر نامہ مخدوم جہانیاں، ص: 22]
امام شعرانی اور امام رفاعی کے تعظیمی القاب
امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ”الطبقات الکبریٰ“ میں لکھتے ہیں:
امام رفاعی قدس سرہ کے ایک شاگرد نے ان سے پوچھا: اے میرے سردار! کیا آپ قطب ہیں؟ تو امام رفاعی نے فرمایا: اپنے شیخ کو قطبیت سے بلند تر سمجھو، پھر اس شاگرد نے پوچھا: کیا آپ غوث ہیں؟ تو امام رفاعی نے فرمایا: اپنے شیخ کو غوثیت سے بلند تر سمجھو۔ یہ بات ذکر کر کے امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں کہتا ہوں کہ اس بات میں یہ دلیل موجود ہے کہ امام رفاعی (معلوم) مقامات اور اطوار سے بلند تر ہو چکے تھے، کیوں کہ قطبیت اور غوثیت تو معروف اور معلوم مقامات ہیں اور جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور اللہ کی توفیق کے ساتھ ہوتا ہے تو اس کا کوئی مقام جانا نہیں جا سکتا اگرچہ اسے ہر مقام حاصل ہوتا ہے، واللہ اعلم۔
قطبیت اور غوثیت سے ہے سوا
رتبہ اعلیٰ و اکرم آپ کا
شان عالی آپ کی ہے بے نظیر
یا رفاعی سید احمد كبير
خلاصہ اس بات کا یہ ہوا کہ: امام رفاعی قدس سرہ کا مقام قطبیت اور غوثیت کے مقام سے بھی بلند تھا اور اتنا بلند تھا کہ دوسرے لوگ اس کو معلوم نہیں کر سکتے! چند کتابوں کو سرسری نظر سے دیکھنے سے یہ چند معلومات آپ کے سامنے رکھی ہیں اور سلسلہ مبارکہ رفاعیہ کے اپنے اکابر و شیوخ کی کتب اور حوالہ جات ابھی اس میں شامل نہیں ہیں، اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امام رفاعی قدس سرہ کی ذاتِ گرامی کو کس قدر مناقب و امتیازات سے نوازا گیا ہے اور وہ کس قدر بلند پایہ القاب سے شرف یاب ہیں، طبع سلیم اور فہم مستقیم رکھنے والوں کے لیے یہ معلومات بھی کافی ہیں اور ان کے بلند مقام سے آگاہی کے لیے روشن نشانات ہیں۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے نبی اکرم، شافع محشر، حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، تمام انبیا اور تمام مرسلین اور تمام اولیائے کرام کے طفیل اپنی محبت و معرفت کا نور نصیب فرمائیں اور اپنے ان بندوں کی برکات سے دنیا اور آخرت میں مستفید فرمائیں اور انہی کے وسیلے سے اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت و محبت نصیب فرمائیں۔
یہ چند باتیں اپنے مکرم سید حسام الدین رفاعی ابن سید جمال الدین رفاعی (خانقاہ رفاعیہ، بڑودہ، گجرات، ہندوستان) کی توجہ دلانے سے زیرِ قلم آئی ہیں، اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں اور سید صاحب موصوف کی مساعی جمیلہ میں برکت عطا فرمائیں اور انہیں تمام مسلمانوں کی خیر خواہی کے وافر جذبات سے سرشار فرمائے رکھیں اور انہیں امت مسلمہ کے زخموں پر مرہم رکھنے والا بنائیں!
آمین یا رب العالمین۔
آخر میں اپنے شیخ و مرشد سیدی و سندی، حضرت امام رفاعی قدس سرہ کے متعلق اپنے دو شعر درج کرتا ہوں:
تاباں ہے سورج تری مدحتوں کا
چرچا ہے ہر سو تیرے رنگ و بو کا
ہے حاصل تجھے رتبہ امام ہدیٰ کا
ہے فرزند جو تو رسول خدا کا
[ماہنامہ سنی دنیا بریلی شریف، مارچ 2022، ص: 47 تا 49]
