| عنوان: | درود و سلام پر ایک نئے اعتراض کا محققانہ جائزہ (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | ڈاکٹر امجد رضا امجد |
| پیش کش: | شاہین صبا نوری |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
درود و سلام اہلِ ایمان کی روحانی غذا ہے، بیمار دلوں کے لیے شفا ہے، دافعِ رنج و الم ہے، یہ عمل کائنات کی پیدائش سے ہی جاری ہے۔ اللہ رب العزت بھی اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیج رہا ہے، اس کے فرشتے بھی بھیج رہے ہیں۔ کتنا بابرکت عمل ہے یہ اور کیا شانِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ان پر اللہ بھی درود بھیج رہا ہے، اس کے فرشتے بھی بھیج رہے ہیں اور مومن بندوں سے بھی فرمایا جا رہا ہے: يٰأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا (اے مومنو! تم بھی درود بھیجو اور خوب سلام بھیجو)۔
کب بھیجو، کتنا بھیجو، کس طرح بھیجو، اس کی وضاحت نہیں کی گئی بلکہ اسے ایمان والوں کے پاکیزہ جذبے پر چھوڑ دیا گیا، جتنا چاہو اتنا بھیجو، جس وقت چاہو، اس وقت بھیجو اور جس طرح چاہو اس طرح بھیجو۔ کھڑے ہو کر چاہو اجازت ہے، بیٹھ کر چاہو کوئی رکاوٹ نہیں، لیٹ کر چاہو کوئی ممانعت نہیں، دنیا کی کوئی کتاب اور دنیا کا کوئی عالم خواہ وہ کسی بھی عہد کا ہو، اس نے درود و سلام کا نہ عدد متعین کیا نہ وقت کا تعین کیا اور نہ درود و سلام پڑھنے کی حالت کی کوئی قید لگائی، لگا بھی نہیں سکتا ہے کہ جب قرآن نے اسے پڑھنے والے کی حالت، وقت اور کیفیت پر چھوڑا ہے تو کسی کو کسی ایک حالت میں مقید کرنے یا کسی حالت پر اعتراض کرنے کی جرات کیسے مل سکتی ہے اور جو جرات کر رہا ہے، وہ رب کی منشا کا مخالف ہے، اس کے مقصد کا مخالف ہے اور اس کے حکم کا مخالف ہے۔ پروردگار عالم نے آیت میں حکمِ درود و سلام کو نماز، روزہ اور حج کی طرح وقت و حالت اور حدود سے اس لیے مقید نہیں فرمایا کہ بندہ جب چاہے، جتنا چاہے اور جس حالت میں چاہے آداب ملحوظ رکھتے ہوئے، میرے محبوب پر درود و سلام بھیجے۔ مگر آج کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کا بندہ اور اپنے نبی کا امتی ہو کر رب کی منشاء و مرضی کے مطابق درود و سلام پڑھنے والے کو نشانہِ تحقیر بناتے ہیں انہیں بدعتی اور مشرک کہتے ہیں۔
عجیب دور ہے دیوانہِ نبی کے لیے
ہر ایک ہاتھ میں پتھر دکھائی دیتا ہے
انہی درود و سلام مخالفین میں ایک صاحب ہیں جن کا مضمون ”درود و سلام مسئلہ قیام پر تناظرِ اسلام“ روزنامہ پندار (5 اپریل 2013ء) میں شائع ہوا ہے۔ مضمون میں ایسا کچھ نہیں کہ اس کا جواب دیا جائے، کوئی نئی بات، نیا سوال اور نیا حوالہ ہو تو جواب دیا جائے، ہر بات اور ہر سوال کا تفصیلی جواب قرآن و احادیث کی روشنی میں اتنی بار دیا گیا ہے کہ اس کا بوجھ اٹھانے سے ان کی پوری جماعت قاصر ہے پھر انہی سوالوں کا مزید جواب دینا مکرر جواب کے سوا کیا ہے مگر بعض احباب مصر ہیں کہ مضمون نگار کا پندارِ علم کتنا ہے اور ان کے دعوے میں سچائی کتنی ہے یہ عوام کے سامنے آنا چاہیے، اسی تناظر مضمون کے بعض پیراگراف کا تنقیدی جائزہ حاضر ہے۔
آیت کا مفہومِ قرآنی
سورہ احزاب کی آیت (بے شک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اے مومنو تم بھی درود و سلام بھیجو) میں مذکور لفظ ”صلوٰۃ“ کو مضمون نگار نے انتساب کے اعتبار سے مختلف المعنیٰ لکھا ہے اور یہ وہ بات ہے جو مدرسہ کا مبتدی طالب علم بھی جانتا ہے اور دل اگر محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار ہے تو یہ یقین بھی رکھتا ہے کہ لفظ ”صلوٰۃ“ انتساب کے اعتبار سے اگرچہ مختلف المعنیٰ ہے مگر مفہوم و مقصود کے اعتبار سے متحد المعنیٰ ہے، یعنی صلوٰۃ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو، فرشتے کی طرف ہو یا بندوں کی طرف، تمام معانی سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شانِ رفیع ہی ظاہر ہوتی ہے اور یہی آیت کے نزول کا مقصد ہے۔
چنانچہ تفسیر ابی سعود میں ہے: يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ: قِيْلَ الصَّلٰوةُ مِنَ اللهِ الرَّحْمَةُ. یعنی اللہ تعالیٰ درود بھیجتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ رحمت نازل فرماتا ہے، بخاری شریف میں ہے: صَلٰوةُ اللهِ تَعَالٰى عَلَيْهِ ثَنَاؤُهٗ عِنْدَ الْمَلٰئِكَةِ. یعنی اللہ تعالیٰ کا درود یہ ہے کہ وہ فرشتوں کی محفل میں اپنے محبوب کا تذکرہ فرماتا ہے، کب سے فرما رہا ہے اور کس طرح فرما رہا ہے، اس کیفیت کو کوئی نہیں بتا سکتا، دلِ بینا اس نورانی منظر کا تصور کر سکتا ہے اور بس! فرشتوں کے درود بھیجنے کا مطلب کیا ہے۔
تفسیر ابی سعود ہی میں ہے: وَمِنَ الْمَلٰئِكَةِ الِاسْتِغْفَارُ. مضمون نگار نے اس کا مفہوم ان الفاظ میں لکھا ہے، یعنی فرشتوں کے درود بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بارگاہِ عالیہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ترقیِ درجات کے طلب گار ہیں، ”اور صلوٰۃ کی نسبت جب بندوں کی طرف ہو تو کیا معنی ہوگا؟“ مضمون نگار نے خود ہی لکھا ہے ”صلوٰۃ کی نسبت جب بندہ مومن کی طرف ہوگی تو مدح و ثنا خوانی اور دعا کا مجموعہ مراد ہوگا“، یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے فرما رہا ہے کہ تم میرے محبوب کی مدح و ثنا بیان کرو، مدح و ثنا کا مطلب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف، ان کی صورت و سیرت کا تذکرہ ہی تو ہے، اب اگر کوئی نعت پاک پڑھ رہا ہے، میلاد النبی یا سیرت النبی کے جلسے کر رہا ہے، مختلف صیغوں اور مختلف زبانوں میں درود و سلام بھیج رہا ہے تو یہ سب اسی حکمِ قرآن پر عمل ہے، آیت کا اطلاق بتا رہا ہے کہ اس حکم کو کسی زبان، صیغہ، یا ہیئت سے خاص کر دینا منشائے الٰہی نہیں، یہ صلوٰۃ یعنی مدح و ثنا جس زبان، انداز اور صیغے سے ہو سب حکمِ ربی میں شامل ہے۔
جماعت اہلِ حدیث کی ”تفسیر احسن البیان“ میں ہے ”آیتِ پاک سورہ احزاب کی ہے اس آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مرتبہ و منزلت کا بیان جو ملاءِ اعلیٰ (آسمانوں) میں آپ کو حاصل ہے اور وہ یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں میں آپ کی ثنا و تعریف کرتا اور آپ پر رحمتیں بھیجتا ہے اور فرشتے بھی آپ کے بلندی درجات کی دعا کرتے ہیں اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے عالمِ سفلی (اہلِ زمین) کو حکم دیا کہ وہ بھی آپ پر صلوٰۃ و سلام بھیجیں تاکہ آپ کی تعریف میں علوی اور سفلی دونوں عالم متحد ہو جائیں۔ [حافظ صلاح الدین یوسف، لاہور]
اس وضاحت سے یہ بات آئینہ کی طرح صاف ہو جاتی ہے کہ ”صلوٰۃ“ کا انتساب خدائے تعالیٰ یا، فرشتہ و بندہ کسی کی طرف ہو، اس کا مفہوم متحد المعنیٰ ہے، اس لیے مضمون نگار کا اپنے مفروضے کو ثابت کرنے کے لیے انتساب کے اعتبار سے صلوٰۃ کو مختلف المعنیٰ بتانا، اس ذہنیت کے علاوہ کچھ نہیں کہ درود و سلام کے حوالے سے مسلمانوں کے اذہان کو مشکوک بنا دیا جائے۔
بندوں کے درود و سلام کی حقیقت
قارئین نے ملاحظہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے درود بھیجنے کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ فرشتوں کے درمیان آپ کی تعریف و ثنا بیان فرماتا ہے اور ہم بندے جب درود و سلام بھیجتے ہیں تو اس کا معنیٰ کیا ہوتا ہے، درود و سلام کے معنیٰ پر غور کرنے سے یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ بندہ کی اس سے زیادہ بساط نہیں کہ وہ جب درود بھیجنا چاہے تو خدا کی بارگاہ میں یہ دعا کرے اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ۔ اے اللہ میری طرف سے تو درود بھیج، اَللّٰهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ عَلَيْهِ۔ اے اللہ میری طرف سے تو اپنے محبوب پہ درود بھیج اور سلامتی نازل فرما۔
ایسا کیوں ہے؟ اس لیے کہ بندہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رفعتِ شان اور حقیقت و عظمت جانتا ہی نہیں، عام بندے تو بہرحال عامی ہیں، خلفائے راشدین اور دیگر صحابہ کرام تک کسی نے بھی سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقت و عظمت کو نہیں پہچانا، حدیثِ پاک میں سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے لَمْ يَعْرِفْنِيْ حَقِيْقَةً غَيْرُ رَبِّيْ۔ میری حقیقت میرے رب کے علاوہ کسی نے جانی ہی نہیں، جب امت اپنے نبی کی حقیقت کما حقہ جانتی ہی نہیں تو وہ کما حقہ درود کیا بھیج سکے گی، اس لیے حکم ہوا بندو! تمہارا درود و سلام یہی ہے کہ تم مجھ سے عرض کرو کہ اللہ میری طرف سے تو ہی اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم پہ درود و سلام نازل فرما، تاکہ میں اپنے محبوب پہ ان کی شان کے مطابق درود و سلام بھیجوں۔
مودودی کا حوالہ
مضمون نگار نے اس آیت کی تفسیر میں ہمارے خلاف مودودی کو بطور حوالہ پیش کیا ہے، شاید جناب کو معلوم نہیں کہ ان کے اکابرین نے مولانا مودودی کو مسلمانوں کے لیے مہلک اور زہرِ قاتل بتایا ہے، اس لیے اطلاعاً عرض کروں کہ دار العلوم دیوبند سے اس موضوع پر باضابطہ ایک فتویٰ شائع ہوا تھا جس میں موٹی موٹی یہ چار سرخیاں تھیں (1) سہارن پور سے مودودی فتنہ کو مٹاؤ (2) مودودی تحریک مہلک اور زہرِ قاتل ہے (3) مودودی کے ہم خیال گمراہ ہیں (4) مودودیوں کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔
اس کے خلاف جب جماعت کے امیر ابو اللیث ندوی نے احتجاج کیا تو حسین احمد مدنی نے جواب میں لکھا کہ ”آپ کی تحریک ایک نیا اسلام بنانا چاہتی ہے اور اسی کی طرف لوگوں کو کھینچتی ہے، اس لیے مناسب جانتا ہوں کہ مسلمانوں کو اس تحریک سے علیحدہ رہنے اور مودودی صاحب کے لٹریچر کے نہ دیکھنے کا مشورہ دوں۔“
اگر مضمون نگار کو واقعہ کی صحت کے لیے ثبوت درکار ہو تو وہ ”مکتوباتِ شیخ الاسلام“ جلد: 2، ص: 77/3 ملاحظہ فرما لیں، کمال ہے اس کے باوجود آپ اساطینِ امت کا حوالہ دینے کی بجائے مودودی کی پناہ ڈھونڈتے ہیں۔
اب رہی بات مودودی صاحب کے پیش کردہ حوالہ کی! تو ان کا فرمان ہمارے نظریہ کے خلاف نہیں بلکہ موید ہی ہے، انہوں نے کثرتِ درود کو دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم سے گہرے تعلق اور نعمتِ ایمان کی قدر کا پیمانہ قرار دیا ہے، زحمت نہ ہو تو اپنی پیش کردہ کو پھر سے ملاحظہ کر لیں عبارت ہے ”کثرتِ درود ایک پیمانہ ہے جو ناپ کر بتا دیتا ہے کہ دینِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک آدمی کو کتنا گہرا تعلق ہے اور نعمتِ ایمان کی کتنی قدر اس کے دل میں ہے“ تعجب ہے جس کثرتِ درود کو مودودی دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم سے گہرے تعلق کی علامت بتا رہے ہیں، اسی کے خلاف آپ بیان بازی بھی کر رہے ہیں، بیچارے سنی مسلمانوں پر یہی تو الزام ہے کہ آیتِ کریمہ کی عمومیت پر عمل کرتے ہوئے صبح میں، شام میں، رات میں، دن میں، جلوت میں، خلوت میں، مجلس میں، محفل میں، اجلاس میں، کانفرنس میں، نماز سے پہلے، نماز کے بعد، درود و سلام کی کثرت کرتے ہیں، یہ کثرتِ درود تو ان مسلمانوں کے دین سے گہرے تعلق اور نعمتِ ایمان کی قدر کی پہچان ہے، اب اپنے ہی حوالہ کا معنی مفہوم آپ نہیں سمجھے تو آپ سے اللہ کے علاوہ کون سمجھے، شاید اسی موقع کے لیے مرزا غالب نے کہا تھا۔
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
مضمون نگار نے ”صلوٰۃ“ کے معنی کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے:
”آخرت میں جب انبیاء علیہم السلام کی زبانیں نفسی نفسی پکار رہی ہوں گی، ایسے جاں گداز وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مقامِ محمود اور شفاعتِ کبریٰ کا مقامِ وقیع عطا فرمایا۔“
سیدھے سادے مسلمانوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی مثال، اس سے بڑی اور کیا ہوگی کہ جب جہاں جیسی مصلحت درپیش ہو، ویسی ہی بات کر کے نکل جاؤ، ان کی پوری جماعت سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا انکار کرتی آئی ہے، آج بھی ان کا موقف یہی ہے، انہیں اپنی طرح بشر سمجھتی ہے، مر کر مٹی میں مل جانے کا عقیدہ رکھتی ہے، انہیں مختار نہیں معاذ اللہ مجبور سمجھتی ہے، جب وہ اپنی بیٹی فاطمہ کے کام نہیں آئیں گے تو امتی کے کیا کام آئیں گے؟ جن کا وظیفہ ہے اور مضمون نگار یہاں کس ڈھٹائی سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو شفاعتِ کبریٰ کا حامل بتا رہے ہیں؟ عقیدے کا یہ تضاد ان کی پوری جماعت پر حاوی ہے اور اسی متضاد فکروں پر ان کے ایمان و عقائد کی پوری عمارت کھڑی ہے، اگر مضمون نگار کا یہ عقیدہ صحیح ہے تو پھر وہ اپنے اکابر علمائے دیوبند کے عقیدے پر کیا حکمِ شرعی نافذ کرتے ہیں، اس کی وضاحت ضرور کریں تاکہ اس تضاد بیانی کا معمہ حل ہو سکے۔
مسئلہ سلام کا اسلامی جائزہ
درود کی طرح سلام بھی حکمِ قرآن ہے اور صَلُّوْا عَلَيْهِ (ان پر درود بھیجو) کے بعد سَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا (ان پر خوب سلام بھیجو) کا الگ مطالبہ ہے، اسی لیے سلام کی فضیلت اور اس کا تذکرہ بھی احادیث میں کثرت سے آیا ہے، چنانچہ نسائی، دارمی اور مسند احمد بن حنبل میں ہے: إِنَّ لِلّٰهِ مَلٰئِكَةً سَيَّاحِيْنَ فِي الْأَرْضِ يُبَلِّغُوْنِيْ مِنْ أُمَّتِي السَّلَامَ. یعنی اللہ تعالیٰ کے بہت سے فرشتے زمین میں پھرتے رہتے ہیں اور میری امت کا سلام مجھے پہنچاتے ہیں، دلائل الخیرات میں ہے: أَسْمَعُ صَلٰوةَ أَهْلِ مَحَبَّتِيْ وَأَعْرِفُهٗ. میں اپنے محبت کرنے والوں کا سلام خود سنتا ہوں اور انہیں پہچانتا بھی ہوں۔
درود و سلام براہِ راست حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوبِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فضیلت عطا فرمائی ہے کہ آپ اپنی امتیوں کا سلام اپنی ظاہری حیات اور وصال فرمانے کے بعد دونوں حالتوں میں خود سماعت فرماتے ہیں، حدیثِ پاک ہے: لَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يُّصَلِّيْ عَلَيَّ إِلَّا بَلَغَنِيْ صَوْتُهٗ حَيْثُ كَانَ، وَبَعْدَ وَفَاتِكَ؟ قَالَ وَبَعْدَ وَفَاتِيْ إِنَّ اللهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ. [ابن قیم، جلاء الافہام - سخاوی، القول البدیع فی الصلوۃ علی الحبیب الشفیع]
قارئین ان احادیث کو ملاحظہ فرمائیں اور سوچیں کہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم امتیوں کا درود و سلام سننے کے لیے فرشتوں کے محتاج ہیں؟ خود سماعت فرمانے اور فرشتوں کے ذریعے پہنچنے میں فرق صرف محبت کا ہے، جو اہلِ دل محبتِ رسول کے جذبے میں سرشار ہو کر درود و سلام پڑھا کرتے ہیں، انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود سماعت فرماتے ہیں بلکہ آپ انہیں پہچانتے بھی ہیں اور جن کے درود و سلام کی یہ کیفیت نہیں ہو پاتی ان کا درود و سلام فرشتے لے کر حاضرِ بارگاہ ہوتے ہیں، یہ وہ عمل ہے جو کر لیا جائے تو رائیگاں نہیں جاتا، سرکار صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ضرور ہے۔
مضمون نگار نے لکھا ہے کہ:
”مزار کے علاوہ کہیں سے اَلصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ، يَا نَبِيْ سَلَامٌ عَلَيْكَ پڑھنا خلافِ سنت ہے۔“
یعنی اس لیے خلافِ سنت ہے، اس میں لفظ ’یا‘ کے ساتھ سلام بھیجا گیا ہے، اب یہ آثارِ قیامت نہیں تو اور کیا ہے کہ علم سے عاری افراد بھی قرآن و احادیث کی من مانی تفسیر و توضیح کرنے لگے ہیں اور حق و ناحق کے فیصل بن بیٹھے ہیں، مفسرین فرماتے ہیں کہ ’یا‘ کے ساتھ سلام بھیجو، اس میں کوئی ممانعت نہیں، چنانچہ تفسیرِ بیضاوی جلد 2 میں ہے: وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا: وَقُوْلُوْا اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ..... وَالْآيَةُ تَدُلُّ عَلٰى وُجُوْبِ الصَّلٰوةِ وَالسَّلَامِ عَلَيْهِ فِي الْجُمْلَةِ. یعنی وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا کا معنی یہ ہے کہ اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ کہو۔
اسی طرح روح البیان جلد 7 ص 228 میں ہے: اِعْلَمْ أَنَّهٗ يُسْتَحَبُّ أَيْ أَنْ يُّقَالَ عِنْدَ سَمَاعِ الْأُوْلٰى مِنَ الشَّهَادَةِ الثَّانِيَةِ ”صَلَّى اللهُ عَلَيْكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ“ وَعِنْدَ سَمَاعِ الثَّانِيَةِ ”قُرَّةُ عَيْنِيْ بِكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ“، ثُمَّ قَالُوْا ”اَللّٰهُمَّ مَتِّعْنِيْ بِالسَّمْعِ وَالْبَصَرِ“، بَعْدَ وَضْعِ ظُفْرِ الْإِبْهَامَيْنِ عَلَى الْعَيْنَيْنِ. یعنی مستحب یہ ہے کہ پہلی بار أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللهِ سنے تو کہے صَلَّى اللهُ عَلَيْكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ اور جب دوسری بار سنے تو کہے قُرَّةُ عَيْنِيْ بِكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ (یا رسول اللہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک آپ ہیں) اس کے بعد دونوں انگوٹھوں کو دونوں آنکھوں پر رکھتے ہوئے اَللّٰهُمَّ مَتِّعْنِيْ بِالسَّمْعِ وَالْبَصَرِ کہے (یعنی اے اللہ میری سماعت و بصارت میں اضافہ فرما)۔
ان ایمان افروز تفاسیر کے باوجود یہ کہنا کہ اس طرح سلام بھیجنا خلافِ سنت ہے، جرأتِ بیجا نہیں تو اور کیا ہے، اگر کسی کتاب میں ’یا‘ کے ساتھ درود و سلام بھیجنے کی ممانعت آئی ہو تو اس کا حوالہ دیا جائے اور اگر ممانعت نہیں آئی ہے تو اَلصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ اور يَا نَبِيْ سَلَامٌ عَلَيْكَ دور سے ہو یا نزدیک سے بلا کراہت جائز ہونے پر ایمان لایا جائے، مضمون نگار بخوبی یاد رکھیں کہ ممانعت کے لیے حکم درکار ہے اباحت کے لیے نہیں، ورنہ عبادات سے لے کر معاملات تک سینکڑوں مسائل کے جائز ہونے پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔
