| عنوان: | فضائل عید الفطر |
|---|---|
| تحریر: | محمد سلمان العطاری |
| پیش کش: | لباب اکیڈمی |
فضائل عید الفطر
عید الفطر مسلمانوں کا ایک عظیم اور مبارک دن ہے جو پورے مہینے کے روزوں، عبادتوں اور روحانی تربیت کے بعد بطور انعام عطا کیا جاتا ہے۔ لفظ ”عید“ کے معنی خوشی اور بار بار لوٹ آنے کے ہیں، جبکہ ”فطر“ کا معنی روزہ کھولنے کے ہیں۔ اس طرح عید الفطر وہ دن ہے جس میں مسلمان رمضان المبارک کے روزوں کی تکمیل پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ یہ دن دراصل اللہ تعالیٰ کی رحمت، مغفرت اور بندوں کے لیے انعام و اکرام کا دن ہے۔
وجہ تسمیہ
عید نام ہے ماہِ شوال المکرم کے پہلے دن اور ذی الحجہ کے دسویں دن کا، ان دونوں کو عید اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں لوگ اطاعتِ الٰہی یعنی ماہِ رمضان المبارک کے فرض روزے اور حج سے فارغ ہوئے اور اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹ آئے یعنی انھوں نے شوال کے چھ روزے رکھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی تیاری کی، یا انھیں عید اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ دن ہر سال لوٹ آتے ہیں، یا اس لیے کہ اس میں خداوندِ متعال بار بار فضل و کرم کرتا ہے، یا اس لیے کہ ان کے آنے سے خوشیاں لوٹ آتی ہیں، بہر حال تمام توجیہات میں عود کا معنی پایا جاتا ہے۔ [مکاشفۃ القلوب]
عید الفطر حدیث کی روشنی میں
پہلی نمازِ عید
- حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی نمازِ عید ۲ ہجری میں نمازِ عید الفطر ادا کی اور پھر اسے کبھی ترک نہیں فرمایا۔ [مکاشفۃ القلوب]
عید کے دن کا وظیفہ
- حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جس شخص نے عید کے دن ۳۰۰ مرتبہ سبحان الله وبحمده پڑھا اور مسلمان مردوں کی روحوں کو اس کا ثواب ہدیہ کیا تو ہر مسلمان کی قبر میں ایک ہزار انوار داخل ہوتے ہیں اور جب وہ مرے گا تو اللہ پاک اس کی قبر میں ایک ہزار انوار داخل فرمائے گا۔ [مکاشفۃ القلوب]
- فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ جس نے عید کی رات طلبِ ثواب کے لیے قیام کیا، اس دن اس کا دل نہیں مرے گا جس دن تمام دل مر جائیں گے۔
- ترمذی و ابن ماجہ و دارمی بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ ”حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عید الفطر کے دن کچھ کھا کر نماز کے لیے تشریف لے جاتے اور عید الاضحی کو نہ کھاتے، جب تک نماز نہ پڑھ لیتے“۔ اور بخاری کی روایت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے، کہ ”عید الفطر کے دن تشریف نہ لے جاتے، جب تک چند کھجوریں نہ تناول فرما لیتے اور طاق ہوتیں“۔
- ترمذی و دارمی نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ ”عید کو ایک راستہ سے تشریف لے جاتے اور دوسرے سے واپس ہوتے“۔
- حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عید الفطر کے دن جنت کو پیدا فرمایا اور درختِ طوبیٰ عید الفطر کے دن بویا، جبریل کا وحی کے لیے عید الفطر کے دن انتخاب کیا اور فرعون کے جادوگروں کی توبہ بھی اللہ تعالیٰ نے عید الفطر کے دن قبول فرمائی۔ [مکاشفۃ القلوب]
عید الفطر کے دن مسنون اعمال
عید کے دن چند اعمال سنت اور مستحب ہیں جن کا اہتمام کرنا چاہیے:
- صدقۂ فطر ادا کرنا
عید کی نماز سے پہلے صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہے تاکہ غریب اور محتاج بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔ - غسل کرنا
عید کے دن نماز سے پہلے غسل کرنا سنت ہے۔ - اچھے اور صاف کپڑے پہننا
ممکن ہو تو نئے کپڑے پہنیں یا صاف ستھرے کپڑے پہنیں۔ - خوشبو لگانا
مردوں کے لیے خوشبو لگانا مستحب ہے۔ - نماز سے پہلے کچھ میٹھا کھانا
عید الفطر کے دن نماز سے پہلے کھجور یا کوئی میٹھی چیز کھانا سنت ہے۔ - عیدگاہ جانا
عید کی نماز عیدگاہ یا مسجد میں باجماعت ادا کرنا چاہیے۔ - تکبیرات کہنا
عید کے دن اللہ پاک کی بڑائی بیان کرنا (الله أكبر، الله أكبر، لا إله إلا الله...) مستحب ہے۔ - ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ جاتے وقت ایک راستہ اختیار فرماتے اور واپس دوسرے راستے سے آتے تھے۔
خلاصہ
عید الفطر صرف کھانے پینے اور ظاہری خوشی کا نام نہیں بلکہ اس کا اصل پیغام یہ ہے کہ رمضان میں جو تقویٰ، صبر، عبادت اور نیکی کی عادت پیدا ہوئی ہے اسے باقی سال بھی برقرار رکھا جائے۔ عید الفطر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لیے خوشی، رحمت اور انعام کا دن ہے۔ اس دن کا اصل مقصد اللہ کا شکر ادا کرنا، عبادت کرنا، غریبوں کا خیال رکھنا اور مسلمانوں کے درمیان محبت اور اخوت کو فروغ دینا ہے۔
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
قالوا غدا العيد ماذا أنت لابسه
قلت خلعة ساق عبده الجرعا
ترجمہ: انھوں نے کہا کل عید ہے تم کیا پہنو گے؟ میں نے کہا ایسی پوشاک جس نے بندوں کو رفتہ رفتہ بہت کچھ دیا۔
فقر وصبر ثوبان بينهما
قلب يرى ربه الأعياد والجمعا
ترجمہ: فقر اور صبر دو کپڑے ہیں اور ان کے درمیان دل ہے جس کو اس کا مالک عیدوں اور جمعوں میں دیکھتا ہے۔
العيد لي مأتما إن غبت يا أملي
والعيد إن كنت لي مرأى ومستمعا
ترجمہ: تب میری عید نہیں ہوگی، اے امید اگر تم مجھ سے غائب ہو جائے اور اگر تو میرے سامنے اور کانوں کے قریب ہوئی تو پھر میری عید ہے۔ [مکاشفۃ القلوب]
خداوندِ متعال ہمیں عید الفطر کی ڈھیروں خوشیاں نصیب فرمائے آمین یارب العالمین۔
