| عنوان: | دورِ حاضر میں علم کی اہمیت |
|---|---|
| تحریر: | عالمہ ام الورع ایوبی |
| پیش کش: | ندائے قلم، ایوبیہ اکیڈمی للبنات |
علم کا لغوی معنی یقین اور معرفت کے ہیں۔
آج کے اس ترقی یافتہ دور میں علم کی فضیلت اور اہمیت بے شمار ہیں۔ کامیابی کا زینہ اور راستہ علم ہی ہے۔ بغیر علم کے انسان ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔ ہر دور اور ہر زمانے میں علم کا بول بالا رہا ہے۔ جس قوم نے جتنا علم حاصل کیا، اتنا ہی ترقی اور کامیابی حاصل کی۔ انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ بھی علم ہی کی بدولت ملا ہے۔
اللہ رب العزت خود علم حاصل کرنے کا حکم فرما رہا ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
قُلْ رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا.
ترجمہ کنز الایمان: عرض کرو کہ اے میرے رب مجھے علم زیادہ دے۔ [سورۃ طٰہٰ، آیت: 114]
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو علم میں زیادتی کی دعا کرنے کا حکم دے رہا ہے۔
علم ایک ایسی عظیم نعمت ہے جس سے اللہ تعالیٰ اپنے منتخب بندوں کو ہی نوازتا ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ.
ترجمہ کنز الایمان: تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان، نصیحت تو وہی مانتے ہیں جو عقل والے ہیں۔ [سورۃ الزمر، آیت: 9]
اس آیتِ کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جاننے والے اور نہ جاننے والے کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔
ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:
يَرْفَعِ اللهُ الَّذِيْنَ آمَنُوْا مِنْكُمْ وَالَّذِيْنَ أُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ.
ترجمہ کنز الایمان: اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔ [سورۃ المجادلۃ، آیت: 11]
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ علم کا درجہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بلند ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فَتَلَقّٰى آدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ.
ترجمہ کنز الایمان: پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمے تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کی بے شک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان۔ [سورۃ البقرۃ، آیت: 37]
اس آیتِ کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر بھیجا، تو انہیں کچھ کلمات سکھائے، جن کی بدولت ان کی توبہ قبول ہوئی۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ کو راضی کرنے کے لیے بھی علمِ ربانی کی ضرورت ہے۔
دورِ حاضر میں علم ایک بے مثال نعمت کی حیثیت رکھتا ہے، جو انفرادی، اجتماعی اور معاشرتی خوش حالی کا راز ہے۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ میں اہلِ علم کا مقام بلند بتایا گیا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيْضَةٌ عَلٰى كُلِّ مُسْلِمٍ.
ترجمہ: علم حاصل کرنا ہر مسلمان (مرد و عورت) پر فرض ہے۔ [مشکوٰۃ، ص: 34]
اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوا کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ علم کے بغیر انسان نامکمل ہے۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
لَيْسَ الْجَمَالُ بِأَثْوَابٍ تُزَيِّنُنَا
إِنَّ الْجَمَالَ جَمَالُ الْعِلْمِ وَالْأَدَبِ
ترجمہ: خوبصورتی لباس کی زینت سے نہیں ہوتی، بلکہ اصل خوبصورتی علم و ادب کی ہوتی ہے۔
ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:
لَيْسَ الْيَتِيْمُ الَّذِيْ قَدْ مَاتَ وَالِدُهٗ
بَلِ الْيَتِيْمُ يَتِيْمُ الْعِلْمِ وَالْأَدَبِ
ترجمہ: یتیم وہ نہیں جس کے والد فوت ہو چکے ہوں، بلکہ یتیم وہ ہے جو علم و شرافت سے محروم ہو۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم دینی اور عصری، دونوں تعلیمات سے خود کو آراستہ و پیراستہ کریں۔ اگر ہم صرف دینی تعلیم حاصل کریں گے تو دنیا و آخرت دونوں سنور جائیں گی، لیکن اگر ہم صرف عصری تعلیم تک محدود رہیں گے تو وقتی کامیابی تو ممکن ہے، لیکن دائمی کامیابی ہمارا مقدر نہیں بن سکے گی۔
علم حاصل کرنے کے بعد ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے علم کو دوسروں تک پہنچائیں، معاشرتی اصلاح کریں اور کتمانِ علم (علم کو چھپانے) سے پرہیز کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرنے، اس پر عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین، بجاہِ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔
