Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

دور سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ میں اسلام کا عروج (قسط:دوم)

دورِ سیدنا صدیقِ اکبر میں اسلام کا عروج (قسط: دوم)
عنوان: دورِ سیدنا صدیقِ اکبر میں اسلام کا عروج (قسط: دوم)
تحریر: محمد انس رضا حامی برکاتی
پیش کش: بنت اسلم برکاتی

طلحہ اسدی

طلحہ اسدی نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا جو قبیلہ بنی اسد کا سردار تھا، حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسے بھی شکستِ فاش فرمائی۔

سجاح بنتِ حارث

مرد تو مرد عورت بھی کم نہیں، مسیلمہ کذاب کی بیوی سجاح بنتِ حارث نے بھی نبوت کا دعویٰ کر ڈالا، مذہباً نصرانی تھی، بہت جلدی لوگوں کو اپنے جال میں پھنسا لیا، اشعب بن قیس اس کا خاص داعی تھا، جب مسیلمہ قتل کر دیا گیا تو سجاح میدان سے بھاگ گئی تھی، ایک روایت میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں اسلام لائی تھی مگر اس کے اس وقت کے مکر و فریب سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی حفاظت فرمائی۔

جھوٹے مدعیانِ نبوت کو شکستِ فاش فرما کر خلیفۂ اول حضرت سیدنا و مولانا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے امت پر بہت بڑا احسان فرمایا نیز نیو کو ایسا مضبوط فرما دیا کہ اسلام کی طرف دشمنوں نے کتنی ہی کوششیں کر لیں مگر کچھ نہ کر سکے۔

توسیعِ ریاست

۱۲ھ میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت علاء بن حضرمی کو بحرین کی طرف روانہ فرمایا کیونکہ وہاں بھی ارتداد پھیل رہا تھا، جوانی کے مقام پر لڑائی ہوئی اور بالآخر مسلمان فتح یاب ہوئے، عمان میں بھی یہی فتنہ سرکشی دکھانے لگا تو حضرت عکرمہ بن ابی جہل کو اس کی سرکوبی پر مامور فرمایا۔ مہاجرین ابی امیہ کو خطۂ اہل بخیر کی طرف، حضرت زیاد بن لبید انصاری کو بھی ایک سرکش گروہ کی بیخ کنی کے لیے روانہ فرمایا۔

یہی ابتدا تھی اسلام کو دور دراز مقام میں پھیلانے کی، جب فتنۂ ارتداد کی آگ سرد ہو چکی اور داخلی فتنے اپنی موت آپ مر گئے تو خلیفۂ اول حضرت سیدنا و مولانا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بیرونی محاذ کی طرف توجہ فرمائی، سرکار رفیقِ مزار صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے سیف اللہ حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بصرہ روانہ فرمایا جہاں سخت معرکے کے بعد ایلہ کا شہر فتح ہوا۔ سلسلۂ فتوحات آگے بڑھتا رہا اور کچھ صلح اور کچھ جہاد کے مراحل طے کرتے ہوئے مدائنِ کسریٰ (عراق) بھی طلوعِ اسلام کی روشنی سے منور ہو گیا۔

۱۲ ہجری میں حضور خلیفۂ اول رضی اللہ عنہ نے حجِ بیت اللہ کی ادائیگی بھی سعادت کے ساتھ انجام دی۔ واپسی پر مایہ ناز جرنیل حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو ایک جرار لشکر دے کر سرزمینِ شام کی طرف بھیجا۔ ملکِ شام میں جنگِ اجنادین سن ۱۳ ہجری میں برپا ہوئی۔ بفضلِ اللہ تعالیٰ نصرتِ الٰہی کا پرچم مسلمانوں کا سر بلند ہوا۔ لیکن اس عظیم فتح کی بشارت رفیقِ غار و مزار رضی اللہ عنہ کو اس وقت پہنچی جب سرکار صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ بسترِ علالت پر حالتِ نزع میں تھے، اس معرکے میں نامور صحابہ میں یہ ہیں؛ حضرت عکرمہ بن ابی جہل و حضرت ہشام بن عاص رضی اللہ عنہما۔

اس سال جنگِ مرج الصفر بھی ہوئی جس میں کافروں کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس معرکے میں حضرت فضل بن عباس بھی صفِ مجاہدین میں نمایاں نظر آتے ہیں۔ [فتوح الشام]

الحاصل: حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں دینِ حق پہلی بار جزیرۂ عرب سے باہر نکلا۔

عراق کا محاذ

حضرت مثنیٰ بن حارثہ اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کے ذریعے ابلا، عین تمر، باروسما، ولایتِ فرات فتح ہوئیں۔

شام کا محاذ

یہ وہ سرزمین تھی جو رومی تہذیب کا گہوارہ، جنگی قوت کا محور اور تجارتی سامان کا مرکز تھی۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص، یزید بن ابی سفیان اور حضرت ابوعبیدہ نیز سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہم کو جوڑ کر ایک حربی وحدت قائم فرمائی۔ یہ تدبیر تاریخِ جنگ میں ایسی مثال ہے جو حکمتِ عملی اور بصیرتِ عمارت دونوں پر دلالت کرتی ہے۔ [طبری]

جمعِ قرآن مجید

حضرت ابویعلیٰ رضی اللہ عنہ مولائے کائنات علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت کرتے ہیں کہ قرآنِ عظیم کے سلسلے میں سب سے زیادہ اجر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ملے گا کہ سب سے اول آپ ہی نے اسے کتابی شکل میں جمع فرمایا۔

قرآنِ مقدس کو حفظ فرمانے والے صحابہ بکثرت شہید ہو رہے تھے تو حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کی قرآنِ کریم کو کتابی شکل میں جمع کرنا چاہیے، سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں وہ کام کیسے کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا۔ مگر جب حقیقت واضح ہوئی کہ منفعتِ عامہ اسی میں ہے تو ارشاد فرمایا: هُوَ وَ اللَّهِ خَيْرٌ۔ [صحیح البخاری، کتاب فضائل القرآن]

اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو یہ عظیم ذمہ داری عطا فرمائی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ کارنامہ امت کو تحریف سے محفوظ کرنے، تلاوت کو معیار پر رکھنے، تعلیم کو متحد کرنے، فقہ و تفسیر کی بنیاد رکھنے میں بنیادی ترین کردار رکھتا ہے۔

امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:

”جَمْعُ الْقُرْآنِ فِي مَصْحَفٍ وَاحِدٍ أَعْظَمُ أَعْمَالِ أَبِي بَكْرٍ وَبِهِ حِفْظُ الدِّينِ“

ترجمہ: قرآن مجید کو ایک مصحف میں جمع کرنا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عظیم ترین اعمال میں سے ہے، اور اسی کے ذریعے دین کی حفاظت ہوئی۔ [الاتقان، ج: ۱، ص: ۱۰۵]

فتنۂ ارتداد اور صدیقِ اکبر کا سیفِ فیصل

حبیبِ کبریا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہری وصال کے بعد عرب کے گوشے گوشے میں فتنۂ ارتداد بھڑک اٹھا۔ کسی نے زکوٰۃ کا انکار کیا، کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا، کسی نے بیعت توڑی، کسی نے حدود کو معطل کرنے کی سعی کی لیکن سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کا فرمان آج تک آفتابِ نیم روز کی طرح روشن ہے، حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

”وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ“

ترجمہ: اللہ تعالیٰ کی قسم میں ضرور اس سے قتال کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کرے گا۔ [بخاری شریف، حدیث: ۱۴۰۰]

یعنی: یہ کہے گا کہ نماز تو فرض ہے زکوٰۃ فرض نہیں۔ زکوٰۃ کے انکار سے بھی لوگ مرتد ہو رہے تھے۔ فتنۂ ارتداد کا خاتمہ صرف ایک سیاسی کارنامہ نہ تھا، بلکہ یہ حفظِ دین کے فریضے کی عظیم ترین مثال ہے۔ اس کے نتیجے میں قبائلِ عرب دوبارہ متحد ہو گئے، اسلام کا نظم واپس قائم ہوا، بیت المال مضبوط ہوا، حکومتی اختیار بحال ہوا، دینی شعائر محفوظ ہو گئے۔

نظامِ عدل و حکومت

خلافت قائم کرتے ہی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے وہ خطبہ دیا جسے علما نے حکمرانی کا دستور کہا:

”أَطِيعُونِي مَا أَطَعْتُ اللهَ فِيكُمْ فَإِنْ عَصَيْتُهُ فَلَا طَاعَةَ لِي عَلَيْكُمْ“

ترجمہ: تم میری اطاعت کرو، جب تک میں اللہ کی اطاعت کرتا رہوں۔ پھر اگر میں اس کی نافرمانی کروں، تو تم پر میری کوئی اطاعت لازم نہیں۔

یہ جملہ ۳ اصولوں کا مجموعہ ہے۔ (۱) حکمران کی اطاعت، اطاعتِ الٰہی کے تابع ہے۔ (۲) حکومت کا معیار عدل ہے، شخصی عظمت نہیں۔ (۳) احتسابِ اقتدار ایک شرعی حق ہے۔

خلافتِ صدیقی کے فقہی و اصولی نقوش

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور سے متعدد ضوابط اخذ کیے گئے: (۱) مصلحتِ مرسلہ کی مشروعیت: جمعِ قرآنِ عظیم، فوجوں کی تقسیم، فتنۂ ارتداد پر فوج کشی سب مصلحتِ عامہ پر مبنی اجتہادات تھے۔ (۲) اجماعِ امت کا استقرار: بیعتِ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر اتفاق نے اصولِ فقہ میں اجماع کی حجیت کو مضبوط کیا۔ (۳) امارت و قضا کی تفریق: اس سے بعد کے خلفا نے مکمل نظامِ قضائی بنایا۔

اسلام کا روحانی و ایمانی عروج

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں صرف سیاست و فتوحات ہی نہیں بلکہ ایمان اپنے اعلیٰ ترین اثبات پر پہنچا، کیونکہ نفاق کمزور ہوا، ایمانِ صحابہ بالکل کمزور نہ ہوا، دین کے حدود نمایاں ہوئے، باطل کی جڑیں کٹ گئیں، دین کی راہ متعین ہو گئی۔ امام ذہبی لکھتے ہیں:

”هُوَ ثَانِيَ اثْنَيْنِ بِهِ قَامَ الدِّينُ بَعْدَ وَفَاةِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ“

[سیر اعلام النبلاء] ترجمہ: وہ دو میں دوسرے ہیں اشارہ غارِ ثور کی رات کی طرف ہے جہاں فقط میرے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جلوہ افروز ہوئے تھے۔

ربِ قدیر نے ارشاد فرمایا:

ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا

[التوبہ: ۴۰] ترجمہ: صرف دو جان سے جب وہ دونوں غار میں تھے جب اپنے یار سے فرماتے تھے غم نہ کھا بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔

اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا انکار کفر ہے اور انہی کے ذریعے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصالِ ظاہری کے بعد دین قائم رہا۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں اسلام نے ایسا عروج پایا کہ تا قیامت کوئی اس پر غالب نہیں آ سکتا۔ قرآن پاک اور زکوٰۃ کی حفاظت ہونے سے لے کر دوسرے ممالک میں اسلام اسی دور میں پہنچا۔

سرکار صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے ڈھائی سال کی مختصر مدت میں وہ کارہائے نمایاں سر انجام دیے جس کی روشنی تا قیامت امت کی راہوں کو روشن کرے گی۔ مولیٰ عمر فاروق عدل کے شہنشاہ ہیں، مولیٰ عثمان ذوالنورین حیا کے پیکر، مولیٰ علی المرتضیٰ شجاعت کے علم تو مولیٰ صدیقِ اکبر اسلام کے عروج کا دروازہ ہیں، رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔

میرے امام سرکار اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:

سایۂ مصطفوی مایۂ اصطفا
عز و نازِ خلافت پہ لاکھوں سلام

یعنی اس افضل الخلق بعد الرسل
ثانی اثنین ہجرت پہ لاکھوں سلام

اصدق الصادقین سید المتقین
چشم و گوشِ وزارت پہ لاکھوں سلام

اللہ پاک ہمیں امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیق اکبر خلیفۂ اول رضی اللہ عنہ کے فیوض و برکات سے مالا مال فرمائے، ان کے وسیلے سے ہمارے ایمان و عقیدے کی حفاظت فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم۔

[ماہنامہ سنی دنیا، ص: ۲۸]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!