Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

دنیا پر حکومت

دنیا پر حکومت
عنوان: دنیا پر حکومت
تحریر: محمد رضا توصیفی (مہدیا مہوتری، جنکپور، نیپال)

اگر ایک انسان اپنے گھر کا مالک ہو جائے تو اپنے گھر پر حکومت کرنا آسان ہو جاتا ہے اور جو حکم چاہے نافذ کر سکتا ہے۔ اسی طرح جو ایک ملک کا بادشاہ بن جائے تو وہ جو چاہے اپنے ملک میں کر سکتا ہے۔ اس کی تمثیل بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، سب کے سامنے نصف النہار سے زیادہ واضح ہے۔ دنیا بھر میں اسلام پھیلانے کے مختلف ذرائع اپنائے جاتے ہیں، اور جو جو ذرائع شرعِ مطہرہ کے تحت اپنائے جاتے ہیں، سب طریقے درست و صواب ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دینِ اسلام، دینِ محمدیہ پوری دنیا میں ایک دم تیزی کے ساتھ پھیلے تو ہمیں وہ طریقہ اپنانا پڑے گا جس کے سبب ہماری حکومت پوری دنیا میں ہو۔ یہاں دنیا پر حکومت کرنے کے بنیادی چار اصول بیان کیے جائیں گے۔

1: تعلیم

تعلیم ایک ایسی چیز ہے جس کے فضائل و کمال کا شاید کوئی منکر نہ ہو۔ تعلیم ہی وہ چیز ہے جس کے سبب انسان تمام اغیار سے ممتاز ہو جاتا ہے۔ تعلیم ہی انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ کیا اور کب کیا بولنا ہے۔

اللہ تعالیٰ خود عالم اور جاہل کے درمیان افتراق کو بیان فرماتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ

ترجمہ: آپ کہہ دیجیے، کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہیں؟ [الزمر: 9]

اور رب تعالیٰ نے جو سب سے پہلی آیت نازل فرمائی، اسی میں سب سے پہلے پڑھنے کا حکم دیا گیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ۝ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ

ترجمہ: اپنے رب کے نام سے پڑھو جس نے پیدا کیا۔ انسان کو خون کے لوتھڑے سے بنایا۔ [العلق: 1-2]

اللہ تعالیٰ عالم اور علم والوں کے درجات کو بلند فرماتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ

ترجمہ: اللہ تم میں سے ایمان والوں اور علم والوں کے درجات بلند فرماتا ہے۔ [المجادلة: 11]

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

الْعِلْمُ فَرِيضَةٌ عَلَىٰ كُلِّ مُسْلِمٍ

ترجمہ: یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔

تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دینِ اسلام میں علم کی کتنی بڑی فضیلت اور اہمیت ہے۔ ترقی کے اہم اصولوں میں سے ایک اہم اصول تعلیم ہے۔ سب سے پہلے تعلیم میں تو یہ ہے کہ جو ہماری امت کو اسلام کے بارے میں معلومات ہونی چاہیے، اس کی جانکاری ضروری ہے۔ عبادات کے معاملے میں، اور جو ضروریاتِ روزمرہ ہیں، ان کی بہترین معلومات ہونی چاہیے۔ اور اس کے ساتھ ہی ساتھ جدید علوم میں بھی مہارت حاصل کرنا، یہ ترقی کا اور دنیا پر حکومت کا ایک ذریعہ بن سکتا ہے، جیسے کہ ٹیکنالوجی، سائیکالوجی، فزکس، میتھمیٹکس، یعنی الغرض جو نئے نئے علوم ہیں اور جن سے کئی زیادہ کام کیا جا سکتا ہے، ان کا حاصل کرنا دنیا پر حکومت کرنے کے لیے اہم ہے۔

اور یہ بات بھی ذہن میں رکھنے کی ہے کہ صرف علم حاصل کرنے سے زیادہ فائدہ ہونے والا نہیں۔ اس لیے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے کام میں، اپنی زندگی میں اس پر عمل کرنا اور پریکٹیکل کرنا ضروری ہے۔ تب جا کر کامیابی اور سَفَل ہو سکتے ہیں۔

انسان کے پاس جتنا زیادہ علم ہوگا اور اس پر عمل ہوگا، تو اتنا ہی وہ لوگوں اور معاشرے کے درمیان اعلیٰ سمجھا جائے گا۔ اس لیے علم پر عمل کرنا ضروری ہے۔ جو علوم حاصل کیے جائیں، ان پر عمل پیرا ہونا نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ جدید یا قدیم، وہ علوم حاصل کیے جائیں جو شریعت میں ممنوع نہ ہوں، بلکہ شریعت کی جانب سے ان کی اجازت ہو، اور ان میں کسی طرح کی شرعی خرابی نہ پائی جاتی ہو۔

اگر ہم چین، جاپان، امریکہ اور سنگاپور کو دیکھیں، تو ان سب کی دنیاوی کامیابی اور ایک طرح سے دنیا پر حکومت کی جاتی ہے، کہ ان کا سامان کئی ممالک میں فروخت ہوتا ہے اور ان کی ایک پہچان بن گئی ہے۔ تو ان سب کی ایک وجہ بہترین اور جدید تعلیم کا ہونا ہے۔

2: تجارت

دنیا پر حکومت کرنے کا دوسرا اور ایک اہم ذریعہ بہترین تجارت کا ہونا بھی ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا

ترجمہ: اور اللہ نے بیع کو حلال کیا اور سود کو حرام فرمایا۔ [البقرة: 275]

ارشادِ ربانی ہوتا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ

ترجمہ: اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ، مگر یہ کہ باہمی رضامندی سے تجارت ہو۔ [النساء: 29]

ان دونوں آیاتِ کریمہ مبارکہ سے تجارت کی اہمیت کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بیع کو حرام نہیں فرمایا، بلکہ حلال فرمایا ہے، اور تجارت کرنے کا بھی ایک طرح سے حکم فرمایا ہے کہ تم حرام طریقے سے مال نہ کماؤ اور حرام طریقے کو اپنا ذریعۂ کسب نہ بناؤ، بلکہ حلال طریقے سے کماؤ، تجارت کر کے کماؤ۔

تجارت کے معاملے میں ان چیزوں کا ملحوظ رکھنا بے حد ضروری اور لازم ہے، جن کی وجہ سے تجارت میں فساد اور خرابی کی گنجائش ہو۔ اس لیے تجارت کرنے سے پہلے اس کے مکمل طور پر احکامِ شریعت نے کیا کیا احکام بیان فرمائے ہیں، ان کا پڑھنا، ان کا جاننا اور ان کا یاد رکھنا نہایت ہی ضروری ہے۔

تجارت انسان کی زندگی گزارنے کے لیے نہایت ہی ضروری اور اہم سمجھی جاتی ہے، اور یہ دنیا پر اپنی حکومت کرنے کا بھی ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اگر ہم اپنے سامان کو بہترین انداز میں بنا کر ملکوں میں فروخت کریں، تو اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ ہماری پہچان بنے گی اور ایک طرح سے ہمارے سامان کے ذریعے ان ملکوں پر ہماری حکومت آئے گی۔ پھر جو حرام چیزیں بکتی ہیں اور حرام چیزوں کا خرید و فروخت ہوتا ہے، ان سے نظر کر کے، ان سب کو چھوڑ کر ہم حلال چیزوں کو فروخت کریں گے اور بیچیں گے، تو اس سے یہ ہوگا کہ لوگ خراب اور خبیث چیزوں کو کھانے سے بچ جائیں گے۔

آج اگر ہم چین کو دیکھتے ہیں، تو چین تجارت کے معاملے میں تقریباً ہر ایک ملک سے آگے نکلا ہوا ہے۔ آج ہندو پاک اور نیپال وغیرہ ممالک میں چین کا سامان ملتا ہے، اور چین کا سامان بہت زیادہ ہوتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ وہ اپنے سامان کے ذریعے ایک طرح سے ہم پر اپنی حکومت کرتا ہے۔ اس لیے چین کا دنیا پر حکومت کرنے کا ایک ذریعہ تجارت ہوا۔ تو اس لیے ہم لوگوں کو بھی اچھے اور بہترین انداز میں دنیا پر حکومت کرنے کے لیے تجارت کرنا ضروری ہے۔

تجارت کے معاملے میں ان چیزوں کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا جائے کہ جو انسان کی زندگی میں نہایت عام ہوں، ان چیزوں کی تجارت کی جائے، ان چیزوں کو بیچا جائے، ان کی خرید و فروخت کی جائے تاکہ زیادہ بھی بکے اور جلدی بھی بکے، اور اس طرح اپنی حکومت بہت جلد دنیا پر ہو۔

ہمارے بزرگانِ دین نے بھی اس شعبے یعنی تجارت کو اختیار فرمایا ہے، جیسے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اور امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وغیرہ۔

3: سیاست

دنیا پر حکمرانی کرنے کا ایک بہترین ذریعہ سیاست کا ہونا بھی ہے، اور پاور فل ہونا ضروری ہے، کیونکہ سیاست ہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے ہم اسلامی احکام نافذ کر سکتے ہیں اور دینِ اسلام کی تبلیغ و اشاعت سہل اور آسان انداز میں کر سکتے ہیں۔ اگر ہماری سیاست مضبوط ہوگی تو ہم قانون لگا سکتے ہیں، جو زنا کرتا ہے اس کو کون سی سزا دینی چاہیے، جو چوری کرتا ہے ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا جائے، یہ سب سیاست کے ذریعے ہم اسلامی نظام کو نافذ کر سکتے ہیں۔

اور سیاست ہی کے ذریعے بہت ہی اچھے اور بہترین انداز میں لوگوں کو نیک اور پرہیزگار بنا سکتے ہیں، اور غریبوں کی مدد کرنے میں ہمارا مددگار بن سکتی ہے۔ اس طرح ہمارے اسلام کی خوبی ظاہر ہوگی۔

اور یہ سیاست کوئی نئی چیز نہیں ہے، بلکہ اسلامی سیاست میں سب سے نمایاں کردار خلفائے راشدین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق، حضرت سیدنا عمر فاروق، حضرت سیدنا عثمان غنی اور حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا ہے، جبکہ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے بھی مختلف علاقوں میں حکومتی اور انتظامی ذمہ داریاں نبھائیں۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھی تعلق سیاست سے رہا۔

اس لیے سیاست کا ہونا دنیا پر حکومت کرنے کے لیے ضروری ہے۔

4: سوشل میڈیا

دورِ جدید میں سوشل میڈیا کا ہونا ترقی اور دنیا پر حکومت کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے، کیونکہ یہ ایک ایسا دور ہے جس میں تقریباً ہر ایک میڈیا کا استعمال کرتا ہے، چاہے کسی بھی طریقے سے ہو، لیکن اس کا استعمال مثبت طریقے سے ہو تب ہی فائدہ مند ہے، ورنہ خسارے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔

سوشل میڈیا کا استعمال اس طور پر بھی کیا جا سکتا ہے کہ کوئی سامان بنایا جائے، اور اس کو پوری دنیا میں فروخت کرنا ہو تو یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام وغیرہ پر اس کی تصاویر اور ویڈیوز بنا کر اپ لوڈ کریں۔ اگر وہ یونیک ہو تو بہت جلد اس کی فروخت ممکن ہے، کیونکہ یہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہر ایک تک پیغام اور تقریباً دنیا کے ہر کونے کونے میں بہت ہی جلد پہنچ جاتا ہے۔

اور سوشل میڈیا پر اپنے سامان کی فروخت کے لیے ویب سائٹ بنائی جائے جہاں آرڈر کرنے کا سسٹم ہو، اور وہاں سے کوئی سامان آرڈر کرے، پھر اسے اس کے گھر تک پہنچایا جائے۔ تو اس طرح اس سے کئی طرح کے مثبت اور ترقی کے لیے اور دنیا پر اثر انداز ہونے کے لیے کام لیے جا سکتے ہیں۔ جتنا بہترین طریقے سے کام کیا جائے اتنا ہی فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

حاصل کلام

اگر پوری دنیا میں دینِ اسلام کے احکام و قوانین کو نافذ کرنا اور ایک بہترین، منظم اور مثالی نظام قائم کرنا مقصود ہو تو اس کے لیے معاشرے میں مضبوط بنیادیں قائم کرنا ضروری ہے۔ ان بنیادوں میں چار چیزیں نہایت اہم ہیں:

  1. تعلیم۔
  2. تجارت۔
  3. سیاست۔
  4. سوشل میڈیا۔

اگر ان چاروں شعبوں میں مکمل مہارت اور بہترین انداز میں کام کیا جائے تو ان شاء اللہ ایک ایسا وقت آ سکتا ہے جب معاشرے میں بہتری، اصلاح اور ترقی عام ہو جائے گی، برائیاں کم ہوں گی اور نیکی و بھلائی کو فروغ ملے گا، حلال اور اچھی چیزوں کو فروغ حاصل ہوگا۔

آج دنیا میں مختلف ممالک مختلف نظریات اور نظاموں کے تحت چل رہے ہیں، اور ہر ملک اپنے اصول و قوانین کے مطابق اپنی پالیسیاں بناتا ہے۔ اس حقیقت کے پیشِ نظر یہ ضروری ہے کہ مسلمان بھی اپنے دین کی تعلیمات کو سامنے رکھتے ہوئے علم، اخلاق، دیانت اور محنت کے ساتھ ان شعبوں میں ترقی کریں۔

اگر مسلمان تعلیم میں آگے ہوں، تجارت میں دیانت اور مہارت رکھیں، سیاست میں عدل و انصاف کو اپنائیں، اور سوشل میڈیا کو مثبت اور تعمیری انداز میں استعمال کریں تو وہ نہ صرف اپنی حالت بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ دنیا میں ایک باوقار اور مؤثر کردار بھی ادا کر سکتے ہیں۔

اصل مقصد کسی پر غلبہ نہیں بلکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جو عدل، امن، اخلاق اور بھلائی پر قائم ہو، اور یہی اسلام کی حقیقی تعلیمات کا بھی تقاضا ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!