Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

عیدوں کی عید عید میلاد النبی|توحید احمد خان رضوی

عیدوں کی عید عید میلاد النبی
عنوان: عیدوں کی عید عید میلاد النبی
تحریر: توحید احمد خان رضوی
پیش کش: جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم، بریلی شریف
منجانب: تحسینی فاؤنڈیشن، بریلی شریف

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ پر خوشیاں منانے اور جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بہاروں سے لطف اندوز ہونے کا سلسلہ عاشقان رسول کی پیاری سنت، تاریخی عمل اور بزرگان دین کا طریقہ رہا ہے۔ اس کے باوجود چند لوگ اس بات کو پھیلانے میں لگے ہیں کہ عید میلاد النبی منانا بدعت ہے، نہیں منانا چاہیے۔ اس طرح کی مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ کرنے والی اور عقیدت سوز باتوں کو پھیلانے کے لیے طرح طرح کے حربے استعمال کیے جارہے ہیں۔ یہاں پر عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جشن منانے کے تعلق سے قرآن و حدیث کی روشنی میں کچھ باتیں تحریر کی جارہی ہیں جس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا نہ صرف جائز بلکہ باعث اجر و ثواب اور خوشنودی رب تبارک و تعالی ہے۔

عید میلاد النبی عیدوں کی عید ہے:

اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی عنایتوں پر شکر کے اظہار کے لیے ایک طریقہ اور صورت یہ ہے کہ اس خوشی کا اظہار عید کے طور پر کیا جائے۔ اللہ تعالی نے مسلمانوں کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، لیکن سب سے عمدہ اور بہترین نعمت جو اس نے ہمیں عطا فرمائی ہے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے درمیان بھیج کر بڑا احسان فرمایا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: “بے شک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا۔” [سورۃ آل عمران: 164]

پہلی امتوں میں بھی شکر کا یہ طریقہ تھا کہ جس دن اللہ تعالی کی کوئی خاص نعمت میسر آتی تو اس دن کو گزری ہوئی امتیں عید کے طور پر مناتی تھیں اور یہ سنت انبیاء بھی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یوں عرض کرتے ہیں: “ہمارے رب ہم پر آسمان سے خوان (دستر خوان) اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو جائے ہمارے اگلے پچھلوں کی۔” [سورۃ المائدہ: 114]

غور کریں! کہ جس دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر آسمان سے دستر خوان اترے تو وہ عید ہو جائے اور جس دن آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم جن کے صدقے میں کروڑوں نعمتیں اللہ تعالی مخلوق کو عطا فرماتا ہے، تشریف لائیں، وہ دن عید کیوں نہیں ہو سکتا؟ یقیناً وہ عید کا دن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام مسلمان اس دن حضور کے میلاد کی محفلیں منعقد کرتے ہیں اور جلوس نکالتے ہیں۔

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر خوشی منانا اللہ تعالی کی سنت ہے:

تمام سیرت کی کتابوں میں اس قسم کی روایتیں اکثر ملتی ہیں جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے حالات کے ساتھ واضح طور پر یہ بیان بھی ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پر خوشی منائی، پورے سال جشن کے طور پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر ساری زمین کو سر سبز و شاداب کر دیا، ہر طرف رحمتوں اور برکتوں کی بھر مار کر دی اور قحط والے علاقوں میں رزق کی اتنی کشادگی فرمادی کہ وہ سال خوشی کا سال کہلایا۔ خصائص الکبریٰ میں ہے: “جس سال نور محمدی حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ودیعت ہوا وہ فتح و نصرت، تر و تازگی اور خوشی کا سال کہلایا۔ قریش والے اس سے پہلے معاشی بد حالی تنگی اور قحط سالی میں مبتلا تھے۔ ولادت کی برکت سے اس سال اللہ تعالی نے بے آب و گیاہ زمین کو شادابی اور ہریالی عطا فرمائی اور درختوں کی مردہ شاخوں کو ہرا بھرا کر کے انہیں پھلوں سے لاد دیا۔ قریش والے اس طرح ہر طرف سے کثیر خیر آنے سے خوشحال ہو گئے۔”

خود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے اس کا ثبوت ملتا ہے، امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے “الحاوی للفتاویٰ” میں اس پر روشنی ڈالی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اپنا میلاد منایا۔ اس لحاظ سے یہ سنت رسول بھی ہے۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر کے روزے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں اسی دن پیدا کیا گیا۔ [مشکوۃ شریف] اس حدیث پاک سے یہ بات بخوبی پتہ چلتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ولادت کے دن روزہ رکھ کر اپنی ولادت کی خوشی منائی۔

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی نعمت ہیں:

قرآن کریم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نعمۃ اللہ (اللہ کی نعمت) رکھا۔ آیت کریمہ “إِنَّ الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللَّهِ كُفْرًا” کی تفسیر میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں نعمۃ اللہ (اللہ کی نعمت) سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ لہذا ان کے تشریف لانے کا تذکرہ حکم الہی اور ارشاد خداوندی پر عمل کرنا ہے۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: “اپنے رب کی نعمت کا خوب خوب چرچا کرو۔” [سورۃ الضحیٰ] حضور کا تشریف لانا تمام نعمتوں سے اعلیٰ نعمت ہے۔

اللہ تعالی فرماتا ہے: “تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اس کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں۔” [سورۃ یونس: 58]

اللہ تعالی نے اس آیت کریمہ میں دو چیزوں کا خاص طور پر ذکر فرمایا ہے (1) فضل (2) رحمت۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت میں فضل اور رحمت سے کیا مراد ہے جس پر خوشی منانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں فضل اور رحمت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں جیسا کہ اکثر مفسرین کرام نے فرمایا ہے۔ اور اس کی وضاحت میں کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے حضور مراد ہیں، دوسری قرآنی آیات سے بھی اس کی تائید ملتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: “اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ضرور تم شیطان کے پیچھے لگ جاتے۔” [سورۃ النساء: 83]

اور فرماتا ہے: “اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم ٹوٹے والوں میں ہو جاتے (یعنی تم خسارے والوں میں ہوتے)۔” [سورۃ البقرہ: 64]

ان آیتوں کی تفسیر میں مفسرین کرام نے فرمایا ہے کہ یہاں پر اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے حضور مراد ہیں۔ اور یہ حقیقت تو بالکل عیاں ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو سارے جہان کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: “(اے محبوب) آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔” [سورۃ الانبیاء: 107]

ان تفصیلات کو جاننے کے بعد یہ صاف ہو گیا کہ آیت کریمہ میں اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور رحمت پر خوشی منانے کا حکم دے رہا ہے تو عید میلاد النبی منانا اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!