| عنوان: | فتاوی بدر العلماء "کاروانِ حیات" (قسط:چہارم) |
|---|---|
| تحریر: | حضرت مولانا مفتی محمد ابو الحسن رضوی قادری |
| پیش کش: | شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ زید کہتا ہے کہ خدا اور رسول چاہیں گے تو یہ کام ہو جائے گا، کہنا جائز نہیں اس لیے کہ قرآن سے ثابت ہے کہ وحدانیت میں رسول کو شریک نہیں کرنا چاہیے، مگر لوگ رسول کو اتنا بڑھا دیتے ہیں کہ خدا سے بھی رسول کا مرتبہ بڑھا دیتے ہیں۔
مستفتی: محمد بشیر قادری چشتی۔ ضلع گونڈہ
الجواب: بے شک مشیتِ حقیقیہ ذاتیہ مستقلہ صرف اللہ جل جلالہ و مجدہ کے لیے ہے، اور مشیتِ عطائیہ تابعۂ مشیتِ الہی تعالیٰ رب العزت جل جلالہ نے اپنے عباد (بندوں) کو عطا فرمائی ہے، پھر چوں کہ تمام بندگانِ الہی میں سرکارِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل و اعلیٰ، بلند و بالا رب العالمین جل جلالہ کے خلیفۂ اعظم و نائبِ اکبر ہیں، اس لیے سرکار کی مشیت کو اللہ تعالیٰ نے پوری کائناتِ عالم میں دخلِ عظیم عطا فرمایا ہے۔
امام طبرانی معجمِ کبیر میں حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی ہیں:
إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ الشَّمْسَ فَتَأَخَّرَتْ سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ
یعنی سرکارِ مصطفیٰ رسولِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان میں چلتے سورج کو حکم دیا کہ کچھ چلنے سے ٹھہر جا، وہ فوراً ٹھہر گیا۔ (بحوالہ الامن والعلٰی، ص: ۹۹)
دیکھو دنیا کے کل جاہ و جلال والے بادشاہ اور حکمت و دانش والے تمام سائنس داں اپنا سارا زور لگا دیں مگر سورج کی رفتار ایک سیکنڈ کے لیے بند نہیں ہو سکتی، لیکن قربان جاؤ اللہ کے خلیفۂ اعظم پیارے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ آپ نے اپنے رب جل جلالہ و اعلیٰ مجدہ کی عطا فرمودہ مشیت سے کروڑوں میل کی دوری پر چلتے ہوئے سورج کو ٹھہرا دیا، الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علٰی سید المرسلین۔
اس کے بعد نہایت دلکش پیرایۂ بیان میں شارحِ بخاری حضرت امام ربانی احمد بن محمد خطیب قسطلانی اور حضرت عبدالعزیز محدث دہلوی، امام الاولیاء شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مقدس اقوال سے استدلال کرتے ہوئے بخاری و مسلم اور نسائی کی وہ حدیث نقل فرمائی جس میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی:
مَا أَرَى رَبَّكَ إِلَّا يُسَارِعُ فِي هَوَاكَ
یعنی یا رسول اللہ! میں یہی دیکھتی ہوں کہ رب العزت جل جلالہ حضور کی چاہت پوری کرنے میں جلدی فرماتا ہے، (بخاری ج ۲، ص ۲۰۶) پھر فرماتے ہیں:
سبحان اللہ! کیسی پیاری چاہت ہے سرکارِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور کیسی مبارک مشیت ہے پیارے نبی کی کہ خود رب العلمین جل جلالہ جلد سے جلد اسے قبول و اجابت کا سہرا عطا فرماتا ہے۔ بس اسی مشیتِ عطائیہ مبارکہ کے باعث مسلمان حضرات نامِ الٰہی جل جلالہ کے ساتھ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا نامِ پاک ملا کر یوں کہہ دیا کرتے ہیں کہ ”اللہ و رسول چاہیں تو یہ کام ہو جائے گا،“ شرع کے نزدیک ایسا کہنا ہرگز شرک نہیں، امام الوہابیہ ملّا اسماعیل اور دیگر وہابیہ کی یہ دھاندلی ہے کہ یہ لوگ اس کہنے کو شرک قرار دیتے ہیں، بعدہ نہایت بصیرت افروز ہدایت نما بات تحریر فرماتے ہیں، انہیں کے الفاظ میں ملاحظہ ہو۔
ہاں ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کے اعتقاد میں چوں کہ اللہ رب العزت کی مشیتِ ذاتی مستقل ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مشیت عطائی ہے، اس لیے ہماری بولی میں کوئی ایسا لفظ ضرور ہونا چاہیے جس سے کہنے والے کو مشیتِ ذاتی مستقل اور مشیتِ عطائی تابع کے درمیان فرق واضح رہا کرے، لہٰذا مذکورہ بالا جملوں کو یوں استعمال کیا جائے، اگر اللہ پھر رسول چاہیں تو یہ کام ہو جائے گا، جب کہ ہمارے علمائے اہل سنت بولتے ہیں، إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ شَاءَ رَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔
امام ابنِ ماجہ کی روایت ہے کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک صحابی نے خواب میں ایک کتابی (یہودی یا نصرانی) سے ملاقات کی، اس کتابی نے کہا کہ تم لوگ کیا ہی اچھی قوم ہو، اگر شرک نہ کرتے، تم لوگ کہا کرتے ہو، مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جو چاہا اللہ اور جو چاہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم، ان صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا یہ خواب سرکارِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا، سرکار نے فرمایا سنتے ہو، خدا کی قسم واقعی تمہاری اس بات پر مجھے خیال گزرتا تھا کہ کفار مخالفین مسلمانوں پر شرک کا الزام اٹھائیں گے۔ چنانچہ خواب میں ایک کتابی نے شرک کا اتہام جڑ ہی دیا، اچھا اب یوں کہا کرو: مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ شَاءَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ (بحوالہ الامن والعلی ص: ۱۷۴)
اس حدیث سے صاف واضح ہو گیا کہ صحابہ کرام کے درمیان یہ جملہ کہ ”اللہ و رسول چاہیں تو فلاں کام ہو جائے گا“ خوب رواں دواں تھا، لیکن یہودی کافر صحابہ کرام پر شرک کی تہمت لگاتے تھے، اس لیے سرکار نے اس کے بجائے یوں بولنا سکھایا، کہ اللہ پھر رسول چاہیں تو فلاں کام ہو جائے گا، اس سے ثابت ہوا کہ دونوں جملے جائز اور شرک سے پاک ہیں لیکن چوں کہ صحابہ کے زمانے میں یہودی اور ہمارے زمانہ میں وہابی پہلا جملہ بولنے پر طعنہ دیتے تھے اور دیتے ہیں۔ اس لیے ہمیں سرکار کے سکھانے کے مطابق ہمیشہ دوسرا یعنی اللہ پھر رسول چاہیں تو یہ کام ہو جائے گا، بولنا چاہیے، کہ دوسرا جملہ طریقۂ ادب سے میل کھاتا ہے۔
یہاں تک تو بدرِ ملت نے احادیث اور اقوال اسلاف سے جملۂ مذکورہ کے استعمال کا جواز ثابت فرمایا، مگر یہ بدیہی ہے کہ مخالف معاند وہ بھی وہابی ہو، تو اس وقت تک اپنی رٹ کے علاوہ دوسری بات نہیں مانتا ہے، جب تک دلیل سے اس کو عاجز درماندہ نہ بنا دیا جائے، اسی لیے حضور بدرِ ملت علیہ الرحمہ نفس مسئلہ کے اثبات پر اکتفا نہ فرما کر آخر میں مسکت دلیل تحریر فرماتے ہیں، جس کے آگے نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن کا جلوہ عیاں ہے۔
یہ خوب واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقدس نام کے ساتھ سرکارِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ملا کر بولنا ہرگز ہرگز شرک نہیں، دیکھو قرآن شریف میں رب العزت جل جلالہ فرماتا ہے:
وَمَا نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْ فَضْلِهِ
(پ ۱۰، رکوع ۱۶، آیت ۷۴، توبہ) ”اور ان کو کیا برا لگا یہی نہ کہ ان کو دولت مند کر دیا اللہ اور اللہ کے رسول نے اپنے فضل سے۔“
بخاری شریف حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب ابن جمیل نے زکوٰۃ دینے میں کمی کی تو سرکارِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وَمَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ إِلَّا أَنْ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ
یعنی ابن جمیل کو کیا برا لگ رہا ہے یہی نہ کہ وہ پہلے مفلس محتاج کنگال تھا مگر اللہ و رسول نے اسے مال دار بنا دیا، دیکھو قرآن و حدیث میں دولت مند بنا دینے کی نسبت ایک ساتھ اللہ و رسول کی طرف کی گئی ہے اگرچہ وہابیوں کے جھوٹے مذہب میں ایسی نسبت جائز نہیں بلکہ شرک ہے، مگر شریعت اسلامیہ میں قطعی جائز اور حق ہے، کیوں کہ اغنا کی نسبت جب اللہ تعالیٰ کی طرف مانی جائے گی تو اس سے مراد اغنائے ذاتی مستقل ہوگی، اور جب حضور کی طرف مانی جائے گی تو اس سے مراد اغنائے عطائی تابع ہوگی。
اب زید سے پوچھو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ غنی بنا دینے میں رسول کو بھی ملا دیا تو شرک ہوا یا نہیں؟ اور خدا کی وحدانیت کے خلاف ہوا یا نہیں؟ اگر کہے شرک ہوا تو وہ کھلم کھلا کافر اور دیو کا بندہ ہو گیا اور اگر کہے شرک نہیں تو اس سے کہو کہ اللہ و رسول چاہیں بولنا کیوں کر شرک ہے؟
پھر چوں کہ سوال کا حصہ یہ بھی ہے کہ لوگ رسول کو اتنا بڑھا دیتے ہیں کہ خدا سے بھی رسول کا مرتبہ بڑھا دیتے ہیں اور اس کی طرف عنانِ قلم موڑتے ہیں تو فرماتے ہیں:
یہ حقیقت پوست برکندہ ہے کہ وہابیوں کے بڑے بڑے ملا شانِ الہی کی پہچان سے قطعی جاہل ہیں اور نرے بز اخفش ہیں، ان کو ت، و، ح، ی، د کے صرف پانچ حروف رٹا دیے گئے ہیں، باقی اس کے معنی و مفہوم کی انہیں بالکل خبر نہیں، ان کو یہ پتہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ مقدس غیر متناہی ہے، اس کی صفات کی گنتی بھی غیر متناہی ہے، اس کی ہر شئی یہاں تک کہ گھاس کے صرف ایک تنکے کے بارے میں اس کا جو علم ہے وہ بھی غیر متناہی ہے، اس کی قدرت غیر متناہی، مگر وہابی ملاؤں کو رب العالمین جل جلالہ کی پہچان نصیب نہیں، اس لیے سنی مسلمان علماء بیان کرتے ہیں کہ اللہ پاک کی تعلیم کی بدولت سرکارِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام مَا كَانَ وَمَا يَكُونُ کا علم حاصل ہے اور اللہ تعالیٰ نے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری کائنات کا غیب جاننے پر قابو دیا ہے، کہ پیارے نبی جب چاہیں زمین، آسمان، عرش، کرسی، لوح، قلم کا غیب دریافت کر لیں تو بس وہابی ملا فوراً شور مچاتے ہیں کہ دیکھو لوگوں ”رسول کو خدا کے برابر کر دیا“ اور جب سنی علماء سرکارِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف یوں بیان کرتے ہیں کہ تمام مَا كَانَ وَمَا يَكُونُ کا علم پیارے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے علمِ عظیم کا ایک قطرہ ہے، تو اتنا سنتے ہی وہابی ملا کو غشی آجاتی ہے اور بد حواسی کے عالم میں وہ جل اٹھتے ہیں کہ ارے لوگوں ”سنیوں نے تو رسول کا مرتبہ خدا سے بڑھا دیا“ معاذ اللہ رب العالمین، بات یہ ہے کہ وہابی حضرات جس خدا کی جھوٹی توحید کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں وہ ان کے نزدیک گھٹیا درجہ کا ہے، تو جب سنی حضرات اپنے سچے خدا کے سچے رسول کا مرتبہ بے پایاں بیان کرتے ہیں تو وہابیوں کو اپنا وہمی خدا گھٹیا اور چھوٹا نظر آنے لگتا ہے، اس لیے وہ شور مچاتے اور بطور اعتراض کہتے ہیں کہ رسول کا مرتبہ خدا سے بڑھا دیا۔
اس کے بعد نہایت پر جلال انداز میں فرماتے ہیں: او ظالمو! وہابیو! ”خدائے تعالیٰ کا علم غیر متناہی اور رسولِ پاک کا علم متناہی ہے“ تو خدا سے رسول کا مرتبہ کیسے بڑھ سکتا ہے، او توحید کے جھوٹے پجاریو! تم ایسے کو کیوں خدا مانتے ہو جو مسلمانوں کے سچے رسول کے مرتبہ کے سامنے گھٹیا درجہ رکھتا ہے، تم اس ذاتِ واجب الوجود کو خدا مانو جو سرکارِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا خالق و مالک ہے، جس نے پیارے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو سارے جہاں کے لیے رحمت بنایا، اور سارے جہان والوں کو سرکار مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا محتاج اور نیاز مند قرار دیا، جس نے پیارے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا علمِ عظیم عطا فرمایا کہ جس کی وسعت کے سامنے ساری کائنات جمیع مَا كَانَ وَمَا يَكُونُ کا علم ایک قطرہ ہے، جو وحدہ لا شریک لہ ہے جس کی شان کسی صفت میں کوئی شریک نہیں، جس کا علم غیر متناہی در غیر متناہی ہے، جس کا صرف وہ علم جو ایک ذرہ کے بارے میں ہے وہ بھی غیر متناہی ہے، اور بھاری ہے، سرکار مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس علمِ عظیم پر جو کروڑوں سمندروں کی وسعت سے لاکھوں درجہ بڑا ہے، اور اتنا بڑا ہے کہ مخلوقات میں سے کوئی بھی شخص اس کی گہرائی اور پھیلاؤ کو ناپ نہیں سکتا، کیا اب بھی سنیوں پر رسولِ پاک کو خدائے پاک سے بڑھا دینے کا اتہام رکھو گے؟ ہیہات! ہیہات مولیٰ تعالیٰ تمہیں توبہ کی دولت عطا فرمائے۔ (فتاویٰ فیض الرسول، جلد ۱، ۱۵ تا ۱۹)
یہ فتویٰ آپ کے جلال و جمال، زورِ قلم، نقد و نظر، علمی سطوت، تحقیق و تفحص، جذبۂ احقاق حق، اخذِ دلائل، جرأت و بے باکی، قوت استدلال، وفرتِ مطالعہ، جودتِ طبع، اصابتِ فکر کا عکاس اور آئینہ دار ہے۔
(۲) مستفتی مذکور نے استفتا کیا کہ زید وہابی کہتا ہے کہ قرآن میں ان شاء اللہ کہنے کا صرف ذکر ہے لہٰذا صرف خدا کی مشیئت پر عمل کرنا جائز ہوگا، خدا کے ساتھ رسول کا ذکر جائز نہیں، اگر جائز ہوتا تو قرآن میں ان شاء اللہ کے ساتھ ان شاء الرسول بھی آتا، اس لیے یہ کہنا جائز نہیں کہ اگر خدا اور رسول چاہیں گے تو میں فلاں کام کروں گا۔ (ملخصاً)
اس کے جواب میں حضرت بدرِ ملت علیہ الرحمہ ایک قرآنی آیت نقل فرما کر اس کی دلالت سے نفس حکم ثابت فرماتے ہیں، پھر وہابی زید کو خطاب کر کے فرماتے ہیں:
او اوندھے وہابی! کسی کام کے جائز ہونے کے لیے شرط نہیں ہے کہ اس کا جائز ہونا صراحۃً قرآن میں بھی بیان کیا گیا ہو، بے شک قرآن مجید میں: أَغْنَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ (توبہ آیت ۷۴) آیا ہے، شرع کے نزدیک جو شانِ اغنا کی ہے وہی شانِ مشیئت کی بھی ہے، تو اگر اغنائے الٰہی کے ساتھ اغنائے رسول کا ذکر شامل کرنا شرک نہیں، تو مشیئتِ الٰہی کے ساتھ مشیئتِ رسول کا ذکر ملانا بھی ہرگز ہرگز شرک نہیں، یہ صحیح ہے کہ قرآن مجید میں ان شاء الرسول کا کلمہ نہیں آیا، لیکن حدیث شریف میں تو آیا ہے کہ: مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ شَاءَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (ابن ماجہ حدیث نمبر ۲۱۱۸) ہم اللہ تعالیٰ کے بندوں کو بفضلہ تعالی سمجھا سکتے ہیں لیکن دیو کے بندوں کو ایمان کی واقعی باتیں سمجھنے کے لیے دل ہی نہیں ملا، اس لیے ہم ان کو کس طرح سمجھائیں، بس خدائے تعالیٰ ہی توفیق عطا فرمائے کہ وہابی قرآن و حدیث کی بات سمجھ سکیں، وَاللَّهُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ۔ (فتاویٰ فیض الرسول، جلد ۱، ص: ۲۳)
(جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
ماخوذ از: ماہ نامہ فتاویٰ بدر العلماء ص ۷۷ تا ۸۲
