Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

میری مثالی شخصیت: ہمارے آقا ﷺ

میری مثالی شخصیت، ہمارے آقا ﷺ
عنوان: میری مثالی شخصیت، ہمارے آقا ﷺ
تحریر: خوشبو فاطمہ قادریہ
پیش کش: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

جب سے نامِ محمد ﷺ کی عظمت کا پتہ چلا ہے، ذہن میں نرمی آنے لگی ہے، دماغ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ آخر ان کے بارے میں نہ جانا تو کیا جانا۔ پہلی مرتبہ مرشد گرامی حضرت محمد مدنی اشرفی الجیلانی کی تفسیر سنی تو محمدِ عربی ﷺ کی محبت و عظمت دل میں اور بڑھ گئی۔ دل کو ایک سکون ملا جو کئی دنوں سے بے چین تھا، قرار مل گیا۔ ہمارے ذہنی فلسفے کے کئی سوالوں کے جوابات ہمیں یہاں سے مل گئے۔

ہمارے ذہن میں جو سوال تھے وہ کچھ اس طرح تھے:

  1. یہ دنیا کیسے بنی؟
    ہمیں جواب ملا، اللہ کریم نے سب سے پہلے ہمارے نبی ﷺ کے نور کو پیدا کیا۔ اور ہمارے آقا ﷺ کے نور نے 40 سال ہمارے رب العالمین کی عبادت و حمد و ثنا کی۔ نورِ محمدی کچھ اس طرح جلوہ گر ہوا، ہمارے رب نے کہا: ”محمد رسول الله“ اور نورِ محمدی وجود میں آ گیا۔ سبحان اللہ! اور ہمارے آقا ﷺ کا نور ہمارے رب کی حمد و ثنا کرتا رہا اور کہتا رہا: ”لا إله إلا الله“۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ”لا إله إلا الله“ کہنا نبی کریم ﷺ کی سنت ہے اور ”محمد رسول الله“ کہنا ہمارے رب العالمین کی سنت ہے۔ اور دوسری بات یہ ظاہر ہوئی کہ ”محمد رسول الله“ کہنے سے ہمارے رب نے ہمارے نبی ﷺ کی عظمت بیان فرمائی ہے، اور اسی نور سے دنیا پیدا کی۔
  2. ہم دنیا میں کیوں آئے؟
    جواب ملا، ہم دنیا میں صرف اور صرف عبادت کرنے کے لیے آئے ہیں۔

ایسے کئی جوابات ملتے گئے اور ہمیں علمِ دین سے دلچسپی بڑھتی گئی۔ دل اور دماغ دونوں یہ بات ماننے سے معذور ہوئے کہ اگر قرآن مجید کو سیکھنا ہے تو پہلے ہمارے آقا ﷺ کی محبت بڑھانی ہوگی تبھی قرآن مجید پڑھنے میں لطف آئے گا۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ہمارے آقا ﷺ کی عظمت کچھ اس طرح بیان فرماتا ہے:

وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ [الم نشرح: 4]

ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے آپ کے ذکر کو بلند فرمایا۔ دل کو اتنی خوشی پہلے نہیں ہوئی جو اس آیت کے ترجمہ اور مفہوم کو جان کر ہوئی۔ دل باغ باغ ہو گیا۔ عبادت کرنے کا مزا ہی کچھ الگ ہو گیا پہلے سے۔ قرآن مجید پڑھنے کا انداز بدل گیا۔ اب تو ذہن میں ایک ہی بات آ رہی تھی کہ ہمارے آقا ﷺ کی ہر سنت کو جانوں تاکہ ہماری زندگی ان کے نقشِ قدم پر چلے، ان کی سنتوں سے بھری ہو اور ہر سانس کا ثواب سنتوں میں شمار ہو۔

ہم نے یہ بھی جانا کہ شہد میٹھا کیوں ہوتا ہے؟ شہد کی مکھیاں پھولوں سے رس چوستی ہیں تو رس کڑوا ہوتا ہے لیکن راستے میں چھتے تک پہنچنے تک ہمارے آقا ﷺ پر درود بھیجتے بھیجتے رس میں درود کی مٹھاس آ جاتی ہے اور شہد اتنا میٹھا ہو جاتا ہے، جس کے کھانے میں بھی شفا رکھی ہے ہمارے رب نے۔

اتنا ہی کافی ہے کہ ہم اپنی زندگی میں نبی کریم ﷺ کی سنتوں کو اپنائیں تاکہ ہم اپنی زندگی بہتر طریقے سے جی سکیں۔ ہماری زندگی میں کسی ایک شخص کا آئیڈیل ہونا ضروری ہے، تاکہ ان کے نقوش اپنی زندگی میں اتار سکیں۔ میرے لیے میرے آئیڈیل ہمارے آقا ﷺ ہیں اور ان تک ہمیں ہمارے مرشد گرامی نے پہنچایا، اور تیسرے آئیڈیل مفتی سلمان ازہری صاحب ہیں، جن کے بیانات ہماری زندگی میں پُر اثر ہیں۔

اللہ کریم ہمیں آقا ﷺ کی سچی عقیدت و محبت عطا فرمائے، ہم پر ان کا سایہ قائم فرمائے، ہمیں دنیا و آخرت میں ان کے سایہ میں رکھے، بقیع میں مدفن بنائے، مدینہ منورہ میں دنیا و آخرت میں گھر عطا فرمائے، ہمارے گناہوں کی بخشش فرمائے اور ہماری زبان کو درود شریف سے پُر رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!