| عنوان: | فضائلِ استغفار احادیث کی روشنی میں |
|---|---|
| تحریر: | حافظ فرمان المصطفیٰ نظامی حسینی حنفی |
| پیش کش: | جامعۃ المدینہ فیضان مفتی اعظم ہند شاہجہاں پور |
استغفار، عربی زبان کا لفظ ہے جو باب استفعال سے ماخوذ ہے اور اس کا مطلب ہے ”مغفرت طلب کرنا“۔ یہ عمل اسلامی تعلیمات میں بے حد اہمیت کا حامل ہے، مگر افسوس! آج کل بہت سے مسلمان اس کی اہمیت سے نا آشنا ہیں۔ حالانکہ اللہ عزوجل اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہے اور بخشش کی بھیک مانگنے والوں کو معافی کا پروانہ بھی عطا فرماتا ہے، مگر ہماری کیفیت یہ ہے کہ ہم بارگاہِ خداوندی میں جبینِ نیاز خم کرنے سے ہی گریزاں ہیں جس کی بنیادی وجہ کم علمی اور استغفار کی حقیقت سے بے خبری ہے جبکہ استغفار کے فضائل احادیث میں بکثرت وارد ہیں۔
ابنِ ماجہ میں ہے: حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے استغفار کو اپنے لیے ضروری قرار دیا تو اللہ تعالیٰ اسے ہر غم اور تکلیف سے نجات دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اسے وہم و گمان بھی نہ ہو گا۔ [سنن ابن ماجہ، کتاب الادب، ج: 4، ص: 257، حدیث نمبر: 3819]
مسلم شریف کی روایت ہے: حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رات کے آخری تہائی حصے میں اللہ عزوجل آسمانِ دنیا پر خاص تجلی فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے ”ہے کوئی دعا مانگنے والا کہ اس کی دعا قبول کروں؟ ہے کوئی سوال کرنے والا کہ اسے عطا کروں؟ ہے کوئی بخشش کا طالب کہ اسے بخش دوں؟“ [صحیح مسلم، ص: 381، حدیث نمبر: 758]
دوسرے مقام پر ہے: حضرت سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے رکوع و سجود میں قرات سے منع کیا گیا ہے، رکوع میں تم اپنے پروردگار کی عظمت کا ذکر کیا کرو اور سجدے میں خوب دعا کیا کرو کیونکہ یہ قبولیتِ دعا کے زیادہ لائق ہے۔ [صحیح مسلم، کتاب الصلوۃ، ص: 249، حدیث نمبر: 479]
حضرت سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم میدانِ عرفات میں تشریف لائے اور قبلہ رخ ہو کر غروبِ آفتاب تک دعا مانگتے رہے۔ [صحیح مسلم، کتاب الحج، ص: 637، حدیث نمبر: 1218]
درج بالا احادیثِ کریمہ سے ہمیں یہ درس ملا کہ اللہ رب العزت اپنے بندوں پر کس قدر مہربان ہے کہ بندوں کو اس بات کی دعوت ارشاد فرما رہا ہے کہ اے میرے بندو! تم سے گناہ سرزد ہو گئے ہیں تم میری بارگاہ میں جھک جاؤ، اپنے ندامت بھرے ہاتھ بلند کر دو میں تمہیں معاف کر دوں گا۔
ناظرینِ کرام! ہمیں بھی چاہیے کہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں خوب گڑگڑا گڑگڑا کر اور اپنے گناہوں پر شرمندہ ہو کر استغفار کریں ابھی جوانی ہے کیا پتہ کب روح ہماری جسم سے جدا ہو جائے۔
اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں اور تمام امتِ مسلمہ کو کثرتِ استغفار کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
