Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مسلک اعلی حضرت کیا پانچواں مسلک ہے؟

مسلک اعلی حضرت کیا پانچواں مسلک ہے؟
عنوان: مسلک اعلی حضرت کیا پانچواں مسلک ہے؟
تحریر: حافظ فرمان المصطفی نظامی حسینی حنفی
پیش کش: جامعۃ المدینہ فیضان مفتی اعظم ہند شاہ جہاں پور یوپی

معترض کا اعتراض یوں ہوا کرتا ہے کہ مسلک تو محض چار ہی ہیں؟ حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی، تو پھر یہ پانچواں مسلک، مسلک اعلی حضرت کہاں سے ایجاد ہو گیا؟ لہٰذا یہ اصطلاح جائز و درست نہیں ہے۔

سب سے پہلے تو اعتراض کرنے والا مسلک اعلی حضرت کو سمجھا ہی نہیں کہ اعلی حضرت رحمة الله عليه کے ساتھ ”مسلک“ کا لفظ کیوں لایا گیا؟ اعلی حضرت کی طرف مسلک کو منسوب کرنے کی کیا وجہ ہے؟

آج کے دور میں مسلک اعلی حضرت جدید تعبیر ہے، ارشادِ رسول ما أنا عليه وأصحابي کی، مسلک اہلِ سنت اور مسلکِ سوادِ اعظم کی۔ یہ نام ضروریاتِ دین کے منکروں اور گستاخانِ رسول سے امتیاز کے لیے وجود میں آیا، اس کا تعلق عقائدِ دینیہ سے ہے، فقہی، فروعی، اجتہادی مسائل اس میں شامل نہیں۔ چاروں ائمۂ مذاہب اور ان کے ماننے والے بے شمار حضرات جس طرح بہت سے فروعی مسائل میں باہم اختلاف رکھنے کے باوجود اہلِ سنت سے ہیں، اسی طرح مسلک اعلی حضرت کے ماننے والے بھی باہم کسی فرع میں اختلاف کے باوجود اس کے ماننے والوں میں ہی مکمل طور پر شامل ہیں، اس لیے افراط و تفریط سے پاک اعتدال کی روش اپنائیے، حق سمجھیے، اور قبول کیجیے۔

مسلک اعلی حضرت کی اصطلاح کیا درست ہے؟

جی ہاں! مسلک اعلی حضرت کی اصطلاح بلاشبہ جائز و درست ہے کیونکہ یہ ”مسلک اہلِ سنت و جماعت“ کا ہی دوسرا نام ہے، اور آج کے دور میں یہ اس کی واضح شناخت اور پہچان ہے۔

مسلک اہلِ سنت و جماعت کا تعلق عقائد سے ہے، خواہ وہ عقائد ضروریاتِ دین سے ہوں، یا ضروریاتِ دین سے تو نہ ہوں مگر اجماعی قطعی ہوں، یا ضروریاتِ اہلِ سنت سے ہوں، اسی مسلک سے عہدِ رسالت سے لے کر آج تک ساری دنیا کے مسلمان وابستہ رہے، پھر بہت بعد میں فقہی، فروعی، اجتہادی مسائل میں دلائل کی بنا پر اسی مسلک سے وابستہ فقہاء کے چار مذاہب وجود میں آئے؛ حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی۔ یہ چاروں مذاہب ناجی ہیں، اور جو ان سے الگ ہے وہ ناری۔ یہ چاروں مذاہب صرف فقہی، فروعی، اجتہادی مسائل میں باہم اختلافِ رائے رکھتے ہیں، اور عقائد میں سب کا مسلک ایک ہے ”مسلک اہلِ سنت و جماعت“۔

اعلی حضرت کی طرف مسلک کو منسوب کرنے کی وجہ:

14ویں صدی ہجری میں جب دیوبندی مذہب کے لوگوں نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کھلی گستاخیاں کیں، مثلاً آپ کے بعد نیا نبی آنا جائز و ممکن بتا کر ایک عقیدۂ قطعیہ اجماعیہ کا جو ضروریاتِ دین سے ہے ان کا انکار بھی کیا۔

تو اس وقت اعلی حضرت امام احمد رضا رحمة الله تعالى عليه نے جہاد بالقلم فرما کر فتنۂ دیوبندیت و وہابیت وغیرہ کی سرکوبی کی اور اہلِ سنت و مسلک اہلِ سنت کی حفاظت کا بے مثال کارنامہ انجام دیا، یہاں تک کہ آپ کا نام سنی اور دیوبندی، یوں ہی سنی و وہابی، اور سنی و قادیانی وغیرہ کے درمیان وجہِ امتیاز بن گیا۔ اسی وجہ سے آج کے زمانے میں مسلک کی نسبت اعلی حضرت کی طرف کی جاتی ہے، اور مسلک اعلی حضرت بولا اور لکھا جاتا ہے۔ [مسلک اعلی حضرت، ص: 14، 15، 16]

اب ذرا غور فرمائیں کہ کہاں مسلک اعلی حضرت جو مسلکِ سوادِ اعظم اہلِ سنت کا دوسرا نام ہے، اور کہاں یہ چاروں مذاہب جو مسلک اہلِ سنت سے نکلی ہوئی چار شاخیں ہیں، یہ مسلک ان مذاہبِ فروع پر اضافہ نہیں، اضافہ تو اس وقت ہوتا جب مسلک اعلی حضرت کا تعلق بھی فقہی، فروعی، اجتہادی امور سے ہوتا، اس لیے یہ سوچ ہی غلط ہے کہ چاروں فقہی مذاہب پر مسلک اعلی حضرت کی اصطلاح اضافہ ہے۔

مولا تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض ہے کہ اعتراض کرنے والوں کو عقلِ سلیم عطا فرمائے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!