| عنوان: | فضائلِ قربانی |
|---|---|
| تحریر: | محمد سلمان العطاری |
| پیش کش: | لباب اکیڈمی |
اسلام ایک کامل اور جامع دین ہے جس میں عبادات کے ذریعے بندے کو اپنے رب سے قریب کیا جاتا ہے۔ انہی عظیم عبادات میں سے ایک عبادت قربانی ہے۔ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم سنت، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ، شعائرِ اسلام میں سے ایک عظیم شعار اور مسلمانوں کے لیے ایثار و محبتِ الٰہی کا عملی مظاہرہ ہے۔
قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ اطاعت، محبت، اخلاص، تقویٰ اور فرمانبرداری کا درس دیتی ہے۔ جب ایک مسلمان اللہ تعالیٰ کے حکم پر اپنا قیمتی جانور قربان کرتا ہے تو دراصل وہ یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ اپنے رب کی رضا کے لیے ہر چیز قربان کرنے کو تیار ہے۔
قربانی کا معنی
قربانی عربی لفظ ”قرب“ سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں: ”قریب ہونا“۔
شرعی اصطلاح میں:
اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے مخصوص دنوں میں مخصوص جانور کو ذبح کرنا قربانی کہلاتا ہے۔
قربانی کی مشروعیت
قربانی قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔
قرآنِ پاک میں قربانی
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ
ترجمۂ کنز الایمان: تو تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
لَنۡ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوۡمُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلٰـكِنۡ يَّنَالُهُ التَّقۡوٰى مِنۡكُمۡ
ترجمۂ کنز الایمان: اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ ان کے خون، ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ قربانی کا اصل مقصد اخلاص اور تقویٰ ہے۔
احادیثِ مبارکہ میں قربانی کی فضیلت
- قربانی اللہ کو بہت محبوب عمل ہے: عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ، وَإِنَّهُ لَيَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا وَأَشْعَارِهَا وَأَظْلَافِهَا، وَإِنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللَّهِ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ بِالْأَرْضِ. ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی کے ایام میں ابنِ آدم کا کوئی عمل خداوندِ متعال کے نزدیک خون بہانے (یعنی قربانی کرنے) سے زیادہ پیارا نہیں۔ اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں، کھروں کے ساتھ آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل خدائے تعالیٰ کے نزدیک مقامِ قبول میں پہنچ جاتا ہے۔ [ترمذی، ج: 1، ص: 275]
- قربانی کے جانور کے ہر بال پر نیکی: عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا هٰذِهِ الْأَضَاحِيُّ؟ قَالَ: سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ. قَالُوا: فَمَا لَنَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَةٌ. قَالُوا: فَالصُّوفُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: بِكُلِّ شَعْرَةٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَةٌ. ترجمہ: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا اس سے ہم کو ثواب ملے گا؟ فرمایا ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے، عرض کیا اور اون یا رسول اللہ؟ آپ نے فرمایا کہ اون کے ہر بال میں بھی ایک نیکی ملے گی۔ [مشکوٰۃ شریف، ص: 129]
- قربانی قیامت کے دن پیش ہوگی: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا“۔ یعنی قربانی ضائع نہیں جاتی بلکہ آخرت میں اجر و ثواب کا خزانہ بن جاتی ہے۔
قربانی کی تاریخ
قربانی کی اصل حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی یادگار ہے۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی راہ میں قربان کر رہے ہیں تو انہوں نے اللہ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی فرمایا: ابا جان! آپ کو جو حکم ملا ہے وہ کیجیے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔
جب دونوں نے اللہ کے حکم کے سامنے گردن جھکا دی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بدلے جنت سے دنبہ بھیج دیا۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کی رضا کے سامنے اپنی خواہشات کو قربان کر دینا ہی اصل بندگی ہے۔
قربانی کے روحانی فوائد
- تقویٰ پیدا ہوتا ہے: قربانی انسان کے دل میں اللہ کا خوف اور محبت پیدا کرتی ہے۔ بندہ یہ سیکھتا ہے کہ اللہ کے حکم کے سامنے ہر چیز چھوڑی جا سکتی ہے۔
- اخلاص پیدا ہوتا ہے: قربانی دکھاوے کے لیے نہیں بلکہ صرف اللہ کی رضا کے لیے کی جاتی ہے۔
- سنتِ ابراہیمی پر عمل: قربانی ادا کرنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم سنت کو زندہ کرنا ہے۔
- جذبۂ ایثار پیدا ہوتا ہے: انسان اپنی محبوب چیز اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے جس سے قربانی اور ایثار کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
قربانی کے معاشرتی فوائد
- غریبوں کی مدد: قربانی کے گوشت سے غریب اور محتاج لوگ بھی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔
- مسلمانوں میں محبت: قربانی سے آپس میں محبت، بھائی چارہ اور ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔
- اسلامی شعائر کا اظہار: قربانی اسلام کے عظیم شعائر میں سے ہے، اس سے اسلامی شناخت نمایاں ہوتی ہے۔
قربانی کن پر واجب ہے؟
ہر عاقل، بالغ، مقیم مسلمان جو صاحبِ نصاب ہو اس پر قربانی واجب ہے۔
قربانی کے دن
قربانی کے ایام:
- 10 ذو الحجہ
- 11 ذو الحجہ
- 12 ذو الحجہ
ان دنوں میں قربانی کی جا سکتی ہے۔
قربانی کے جانور
یہ جانور قربانی کے لیے جائز ہیں:
- اونٹ
- گائے
- بھینس
- بکری
- بھیڑ
- دنبہ
قربانی کا اصل پیغام
قربانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے:
- اللہ کے حکم پر عمل کرو
- اپنی خواہشات قربان کرو
- اخلاص اختیار کرو
- غریبوں کا خیال رکھو
- سنتِ ابراہیمی کو زندہ رکھو
موجودہ دور میں قربانی کی اہمیت
آج کے مادی دور میں انسان دنیا کی محبت میں گرفتار ہے۔ قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل کامیابی اللہ کی رضا میں ہے، نہ کہ مال و دولت میں。
قربانی کا مقصد صرف جانور ذبح کرنا نہیں بلکہ دل کی اصلاح کرنا ہے۔ اگر انسان کے اندر تقویٰ، اخلاص اور اللہ کی محبت پیدا نہ ہو تو قربانی کی روح حاصل نہیں ہوتی。
قربانی کے آداب
- جانور اچھا اور صحت مند ہو
- نیت خالص ہو
- جانور کو تکلیف نہ دی جائے
- سنت کے مطابق ذبح کیا جائے
- گوشت میں غریبوں کا حصہ رکھا جائے
نتیجہ
قربانی ایک عظیم عبادت، سنتِ ابراہیمی اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس میں محبتِ الٰہی، اطاعت، ایثار، اخلاص اور تقویٰ کا درس موجود ہے۔
ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ قربانی کی حقیقی روح کو سمجھے اور اس عبادت کو محض رسم نہ بنائے بلکہ خداوندِ متعال کی رضا کے لیے پورے اخلاص کے ساتھ ادا کرے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح معنوں میں قربانی کی روح سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہِ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔
