Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مسئلہ تکفیر و تضلیل اور مسئلہ قصاص

مسئلہ تکفیر و تضلیل اور مسئلہ قصاص
عنوان: مسئلہ تکفیر و تضلیل اور مسئلہ قصاص
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: ساریہ فاطمہ رضویہ

قتل کا بدلہ یعنی قصاص کو قرآن مجید میں انسانی جانوں کا محافظ بتایا گیا ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے:

وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ [البقرة: 179]

ترجمہ: ”اور خون کا بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے اے عقلمندوں!“ [کنز الایمان]

مسئلہ تکفیر و تضلیل عقائدِ اسلامیہ کا محافظ ہے، جیسے حکمِ قصاص انسانی جانوں کا محافظ ہے، ورنہ جس کے دم میں جو آئے گا، وہ بکتا پھرے گا۔ لوگ تکفیر کا مطلب کسی کو کافر بنانا سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ محض حکمِ اسلام کا اظہار ہے۔ قائل یا فاعل اپنے کفریہ قول و فعل کے سبب کافر ہو جاتا ہے، خواہ کوئی عالم فتویٰ دے، یا نہ دے۔ کفریات بکنا، اور کفری اعمال انجام دینا، جیسے پانچ کے بجائے تین ہی نماز کو فرض بتانا، یا شجر و حجر کی عبادت کرنا کفر ہے۔ اس کفر کو کفر بتانا غلط نہیں ہے، بلکہ ان جرائم کا ارتکاب کرنا غلط ہے، نیز جیسے مجرم کو بے گناہ اور بے قصور بتانا غلط ہے، اسی طرح کافر و مرتد کو مومن بتانا بھی غلط ہے۔ ایسا مجرم خود کو اچھا انسان نہ بتائے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم اہلِ تصوف ہیں، ہم کسی کی تکفیر نہیں کرتے۔ کیا بت پوجنے والے کو بھی مومن سمجھتے ہیں؟ یہ مذہب گرونانک، سائی بابا اور اس قسم کے چند اہلِ ہند کا تھا جسے بھکتی مذہب کہا جاتا تھا۔ اگر کوئی کلمہ و نماز پڑھنے والا اہلِ قبلہ کہے کہ فرض نماز پانچ نہیں، بلکہ تین ہے تو کیا وہ مومن ہے؟ کیا اس کفر کے باوجود اسے کافر نہیں کہا جائے گا؟

انسانوں کے دنیا میں آباد ہونے سے قبل ہی رب تعالیٰ نے شیطان کی تکفیر فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو فرمایا کہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں۔ شیطان اس وقت فرشتوں کا سردار تھا۔ اس نے سجدہ سے انکار کر دیا، پس اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو کافر قرار دیا اور اپنے دربار سے نکال دیا۔ الغرض کافر کو کافر کہنا اللہ تعالیٰ کا طریقہ اور حکم ہے۔

قرآنِ مقدس میں ارشادِ خداوندِ قدوس ہے:

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوْا لِآدَمَ فَسَجَدُوْا إِلَّا إِبْلِيْسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِيْنَ [البقرة: 34]

ترجمہ: ”اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہو گیا“ [کنز الایمان]

شیطان نے کہا تھا کہ میں آدم علیہ السلام سے افضل ہوں۔ مجھے آگ سے پیدا کیا گیا اور آدم علیہ السلام کو مٹی سے، یعنی میں افضل ہو کر انہیں سجدہ نہیں کر سکتا۔

قرآنِ مقدس میں ہے:

قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذَا أَمَرْتُكَ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِيْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَهُ مِنْ طِيْنٍ قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا يَكُوْنُ لَكَ أَنْ تَتَكَبَّرَ فِيْهَا فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِيْنَ [الأعراف: 12-13]

ترجمہ: ”کس چیز نے تجھے روکا کہ تو نے سجدہ نہ کیا جب میں نے تجھے حکم دیا تھا؟ بولا: میں اس سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے بنایا۔ فرمایا: تو یہاں سے اتر جا۔ تجھے نہیں پہنچتا کہ یہاں رہ کر غرور کرے۔ نکل، تو ہے ذلت والوں میں“ [کنز الایمان]

شیطان نے کفر کی راہ اختیار کی۔ اللہ تعالیٰ اسے کافر قرار دیا۔ اسی طرح منافقین کو بھی اولاً اللہ تعالیٰ نے کافر قرار دیا۔ سورۂ بقرہ اور سورۂ منافقون میں منافقین کا ذکر ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے:

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِيْنَ [البقرة: 8]

ترجمہ: ”اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائے اور وہ ایمان والے نہیں“ [کنز الایمان]۔ الغرض کافر کو کافر کہنا طریقِ خدا ہے۔

تکفیرِ کلامی کا معاملہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ فرقۂ دیوبندیہ کے اشخاصِ اربعہ کی عبارتوں میں کفرِ کلامی ہے یا کفرِ فقہی؟ یہ فیصلہ ہر شخص نہیں کر سکتا۔ جو اس کے اہل ہیں، وہی غور و فکر کے بعد کسی نتیجہ تک پہنچ سکتے ہیں۔ جو اہل نہیں، ان کو اہلِ علم کے قول پر عمل کرنا ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے: فَاسْأَلُوْا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ کا یہی مفہوم ہے۔

مجتہدِ مطلق اصولِ اجتہاد و قوانینِ استنباط بھی وضع کرتے ہیں اور مسائلِ فقہیہ کا بھی استنباط کرتے ہیں جیسے حضرات ائمۂ اربعہ رضی اللہ عنہم اجمعین۔ مجتہد فی المذہب مسائلِ فقہیہ کا استنباط کرتے ہیں، لیکن اصولِ اجتہاد میں اپنے مجتہد امام کی تقلید کرتے ہیں جیسے ائمۂ اربعہ رضی اللہ عنہم کے تلامذۂ عظام۔ مجتہد ہونے کا مفہوم یہ نہیں کہ ہر قسم کے مجتہدین اصولِ استنباط و قوانینِ اجتہاد بھی وضع کر سکتے ہیں اور مسائلِ فقہیہ کا بھی استنباط کر سکتے ہیں۔ مجتہدِ مطلق اور مجتہد فی المذہب دونوں عالم ہوتے ہیں، لیکن مجتہد فی المذہب اصولِ اجتہاد کا استنباط نہیں کر سکتے۔ اسی طرح ہر عالم و فاضل کفرِ کلامی کا فتویٰ نافذ نہیں کر سکتے ہیں، نہ ہی ہر شخص کو تکفیرِ فقہی یا تضلیل کی اجازت ہے: لكل فن رجال۔

خلیفۂ اول حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے منکرینِ زکوٰۃ سے جنگ کا عزم فرمایا تو حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ جیسے عظیم شخص بھی دربارِ صدیقی میں آ کر سوال کرتے ہیں کہ کیا آپ منکرینِ زکوٰۃ سے جنگ کریں گے؟ حالانکہ وہ لوگ اسلام کا کلمہ پڑھتے ہیں۔ حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے اثبات میں جواب دیا، پھر اطمینانِ قلب کے بعد حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے قلب کو اللہ تعالیٰ نے کشادہ فرما دیا اور ہم نے معاملے کو سمجھ لیا کہ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کا قول حق ہے۔ اس سے متعلق حدیث درج ذیل ہے:

عن أبي هريرة قال: لما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم واستخلف أبو بكر بعده، وكفر من كفر من العرب، قال عمر لأبي بكر: كيف تقاتل الناس وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله، فمن قال لا إله إلا الله عصم مني ماله ونفسه إلا بحقه وحسابه على الله؟ فقال: والله لأقاتلن من فرق بين الصلاة والزكاة، فإن الزكاة حق المال، والله لو منعوني عقالا كانوا يؤدونه إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم لقاتلتهم على منعه. فقال عمر: فوالله ما هو إلا أن رأيت الله قد شرح صدر أبي بكر للقتال فعرفت أنه الحق.

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: جب آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا وصالِ مبارک ہوا، اور حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے اور اہلِ عرب میں سے بہت سے لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی (ادائے زکوٰۃ کا انکار کر کے) تو حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آپ ان لوگوں سے کیسے جنگ فرمائیں گے، حالانکہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ مجھے لوگوں سے جنگ کا حکم دیا گیا، یہاں تک کہ وہ لا إله إلا الله کہیں (ایمان لے آئیں)، پس جو لا إله إلا الله کہہ لے، اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کر لی، مگر جان و مال کے حق کے ساتھ اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے؟ پس حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا:

”قسم بخدا! میں اس سے ضرور جنگ کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کرے۔ اس لیے کہ زکوٰۃ مال کا حق ہے۔ قسم بخدا! اگر ان لوگوں نے مجھ سے اونٹ کی رسی روک لی جسے وہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کرتے تھے تو اس کے روکنے پر بھی میں ان سے جنگ کروں گا“۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”قسم بخدا! میں نے سمجھ لیا ہے کہ اللہ عزوجل نے جنگ کے لیے خلیفۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا قلب کشادہ فرمایا ہے، پس میں نے جان لیا کہ یہی حق ہے“۔ [صحیح بخاری، ج: 2، باب الاقتداء بسنن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم / صحیح مسلم، ج: 1، باب الامر بقتال الناس حتی یقولوا / ماخوذ از: عہدِ حاضر کے بد مذہب فرقے، ص: 108]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!