| عنوان: | فرقہ مودودیہ (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | قافیہ نوری بنت محمد ظہیر رضوی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
ابوالاعلیٰ مودودی: ذاتی حالات اور ناقص تعلیم
مودودی جماعت کو برصغیر میں جماعتِ اسلامی کے نام سے شہرت حاصل ہے۔
مودودی (بانی جماعتِ اسلامی)، سرسید احمد خاں (بانی نیچریت) اور قادیانی (بانی قادیانیت) عالم و فاضل نہیں تھے، لیکن یہ لوگ اسلامی فرقوں کے بانی ہیں۔ تعجب ہے ان لوگوں پر جو ایسوں کی پیروی کرتے ہیں اور غیر علماء کو مذہبی رہنما و دینی قائد تسلیم کرلیتے ہیں۔
ابوالاعلیٰ مودودی (۱۹۰۳ء۔۱۹۷۹ء) کسی دینی مدرسے کا فارغ التحصیل نہیں تھا۔ اس کا دامن اعلیٰ دینی تعلیم اور علومِ اسلامیہ و فنونِ دینیہ سے خالی تھا، لیکن اس کے پیروکاروں نے اسے امام مہدی بنا رکھا ہے۔ مودودی کی نہ دنیاوی تعلیم اعلیٰ درجہ کی تھی، نہ ہی دینی تعلیم۔
- محمد یوسف بنوری دیوبندی نے لکھا:
وَمِنْ بَوَاعِثِ الْأَسَفِ أَنَّ الشَّيْخَ الْمَوْدُودِيَّ وَصَلَ إِلَى الثَّانَوِيَّةِ مِنَ التَّعْلِيمِ الْمَدَنِيِّ وَتَلَقَّى مَبَادِيَ الْكُتُبِ الْعَرَبِيَّةِ فِي بَيْتِهِ ثُمَّ دَخَلَ مَعْهَدًا بِحَيْدَرَآبَادَ — فِيهِ كَانَ مَبَادِي التَّعْلِيمِ الدِّينِيِّ مَعَ شَيْءٍ مِنَ التَّعْلِيمِ الْمَدَنِيِّ وَكَانَ وَالِدُهُ الْكَرِيمُ مُحَامِيًا فَتَرَكَ وَظِيفَتَهُ وَأُصِيبَ بِالشَّلَلِ وَالْفَالِجِ وَبَقِيَ مَرِيضًا نَحْوَ أَرْبَعِ سَنَوَاتٍ إِلَى أَنْ تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ — غَفَرَ اللَّهُ لَهُ وَرَحِمَهُ — وَلَكِنَّ الشَّيْخَ الْمَوْدُودِيَّ فِي حَيَاتِهِ اضْطُرَّ إِلَى مَعَاشِهِ وَفِي شَرْخِ شَبَابِهِ قَبْلَ إِكْمَالِ الدِّرَاسَةِ وَمِنْ سُوءِ الصُّدْفَةِ أَنَّهُ اصْطَحَبَ كَاتِبًا بَارِعًا فِي اللُّغَةِ الْأُرْدُوِيَّةِ — وَكَانَ مِنْ كِبَارِ مَلَاحِدَةِ الْكُتَّابِ — وَهُوَ نِيَاز فَتْح پُورِي وَقَدْ تَأَثَّرَ إِلَى حَدٍّ كَبِيرٍ مِنْ صُحْبَتِهِ
ترجمہ: افسوس کے اسباب و وجوہات میں سے یہ ہے کہ ابوالاعلیٰ مودودی عصری تعلیم کے دوسرے درجے (سیکنڈری ایجوکیشن) تک پہنچا اور عربی کی ابتدائی کتابیں اپنے گھر میں پڑھیں، پھر حیدرآباد کے ایک ادارہ میں داخل ہوا، جس میں کچھ عصری تعلیم کے ساتھ ابتدائی دینی تعلیم تھی اور اس کے والد گرامی وکیل تھے، پس انہوں نے اپنا مشغلہ چھوڑ دیا اور وہ فالج زدہ ہو گئے اور چار سال تک بیمار رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں موت عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان پر رحم فرمائے، لیکن ابوالاعلیٰ مودودی ان (والد) کی زندگی میں اور تعلیم مکمل کرنے سے قبل اپنی ابتدائی جوانی میں معاش کی طرف مجبور ہوا، اور بد قسمتی سے اس نے اردو زبان کے ایک ماہر ادیب کی صحبت اختیار کی اور وہ کتاب اللہ کے بڑے تحریف کاروں میں سے تھا اور وہ نیاز فتح پوری ندوی (۱۸۸۴ء-۱۹۶۶ء) ہے اور مودودی (۱۹۰۳ء-۱۹۷۹ء) اس کی صحبت سے بہت حد تک متاثر ہوا۔ [الاستاذ المودودی و شیء من حیاتہ وافکارہ: ص ۶ - استنبول: ترکی]
صحبت اپنا اثر ضرور دکھلاتی ہے۔ اچھوں کی صحبت اچھا اور بُروں کی صحبت بُرا بناتی ہے۔ احادیثِ مقدسہ میں بھی صحبت کی تاثیر کا تذکرہ انتہائی بلیغ انداز میں وارد ہوا ہے۔
صحبتِ صالح ترا صالح کند
صحبتِ طالح ترا طالح کند
- مزید بنوری نے لکھا:
وَبِالْجُمْلَةِ كَانَ الْأَسَاسُ أَنَّهُ لَمْ يَتَلَقَّ الْعُلُومَ الشَّرْعِيَّةَ مِنْ أَهْلِهَا وَلَمْ يُتْقِنِ الْعُلُومَ الْعَرَبِيَّةَ مِنْ أَصْلِهَا وَلَمْ يَسْتَفِدْ مِنْ صُحْبَةِ أَرْبَابِ الْكَمَالِ الرَّاسِخِينَ فِي الْعُلُومِ - تَلَقَّى شَيْئًا مِنَ الْمَبَادِئِ وَتَقَدَّمَ إِلَى الْأَمَامِ بِذَكَائِهِ وَمُطَالَعَتِهِ
ترجمہ: الحاصل بنیادی بات یہ ہے کہ ابوالاعلیٰ مودودی نے علمائے دین سے علومِ شرعیہ کو حاصل نہ کیا اور علومِ عربیہ کو اس کی اصل سے مضبوط نہ کیا اور علم و ہنر میں ماہر اربابِ کمال کی صحبت سے استفادہ نہ کیا۔ ابتدائی تعلیم میں سے کچھ حاصل کیا اور اپنی ذہانت اور مطالعہ کے بل بوتے مقصد کی طرف پیش قدمی کر ڈالا۔ [الاستاذ المودودی و شیء من حیاتہ وافکارہ: ص ۱۰ - استنبول: ترکی]
جب بنیاد ہی مضبوط نہ ہو تو عمارت کیوں کر مضبوط ہو سکتی ہے۔ بنیاد ہی اصل ہوتی ہے۔ بنیاد اگر کج ہو تو ساری عمارت میں کجی آ جاتی ہے۔ یہی حال انسانی شخصیت کا ہے۔
خشتِ اول چوں نہد معمارِ کج
تا ثریا می رود دیوارِ کج
- محمد یوسف بنوری دیوبندی نے لکھا:
وَكُلُّ مَا ظَهَرَ مِنْ تَأْلِيفِهِ بِالْعَرَبِيَّةِ فَهُوَ مُتَرْجَمٌ مِنَ الْأُرْدُوِيَّةِ بِقَلَمِ الشَّيْخِ مَسْعُود عَالَم النَّدْوِي وَتَلَامِذَتِهِ وَكُلُّ رَسَائِلِهِ بِالْعَرَبِيَّةِ مِنْ هَذَا الْقَبِيلِ وَإِنْ كَانَ مَكْتُوبًا عَلَيْهَا "تَأْلِيفُ الْمَوْدُودِي" دِعَايَةً وَادِّعَاءً — وَظَنَّ الْقَوْمُ وَخُصُوصًا عُلَمَاءُ بِلَادِ الْعَرَبِ وَالسُّعُودِيَّةِ أَنَّهُ نَفْسُهُ أَلَّفَهُ بِالْعَرَبِيَّةِ الْفُصْحَى بِالْأُسْلُوبِ الْأَدَبِيِّ الرَّائِعِ الْمَتِينِ
ترجمہ: عربی زبان میں جو اس (مودودی) کی تالیف منظرِ عام پر آئی تو وہ مسعود عالم ندوی اور اس کے شاگردوں کے قلم سے اردو زبان سے ترجمہ کی ہوئی ہے اور عربی زبان میں اس کے تمام رسائل اسی قسم کے ہیں، اگرچہ اس پر ”تالیفِ مودودی“ لکھا ہوا ہے دعویٰ کرنے کے طور پر (کہ مودودی کی تالیف ہے) اور قوم نے خصوصاً بلادِ عرب اور سعودیہ کے علماء نے سمجھا کہ اس (مودودی) نے خود ہی اسے فصیح عربی میں خوبصورت عبارت والے ادبی اسلوب میں لکھا۔ [الاستاذ المودودی و شیء من حیاتہ وافکارہ: ص ۱۰ - استنبول: ترکی]
مودودی نے اردو زبان میں کتابیں اور رسالے لکھے اور مسعود عالم ندوی (۱۹۱۰ء-۱۹۵۴ء) اور اس کے تلامذہ نے اس کا عربی ترجمہ کر دیا۔ ان کتابوں یا رسالوں میں یہ وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ یہ کتب و رسائل اردو زبان سے عربی میں ترجمہ کیے گئے ہیں، اس طرح اہلِ عرب کو دھوکہ ہوا، اور ان لوگوں نے مودودی کو ایک زبردست عالم و فاضل سمجھ لیا۔
قادیانی ہو یا مودودی، سرسید ہو یا دیگر گمراہ گرانِ مسلمین، وہ علم سے خالی ایک ڈھول کی طرح ہیں۔ جو صرف ڈھب ڈھب کی آواز دے سکتا ہے اور اس کا باطن دینی علوم و فنون سے خالی ہوتا ہے۔ اس کے پیروکار و متبعین اسے رازی و غزالی کے ہمسر بنا دیتے ہیں۔
مودودی جماعت کے عقائدِ باطلہ
مودودی جماعت کے افکار و نظریات بھی کفر و ضلالت پر مشتمل ہیں۔ جب کوئی غیر عالم مذہبی قیادت کرے تو لامحالہ اس سے چھوٹی یا بڑی غلطی ہوگی اور پھر اس کی آخرت تباہ و برباد ہوگی。
غیر اللہ کی عبادت بھی عبادتِ الٰہی
ابوالاعلیٰ مودودی نے لکھا: ”انسان خواہ خدا کا قائل ہو یا منکر، خدا کو سجدہ کرتا ہو یا پتھر کو، خدا کی پوجا کرتا ہو یا غیر خدا کی، جب وہ قانونِ فطرت پر چل رہا ہے اور اس کے قانون کے تحت ہی زندہ ہے تو لامحالہ وہ بغیر جانے بوجھے بلا عمد و اختیار طوعاً و کرہاً خدا ہی کی تسبیح کر رہا ہے۔ اسی کی عبادت میں لگا ہوا ہے۔“ [تفہیمات: جلد اول، ص ۴۳]
منقولہ بالا عبارت میں مودودی نے غیر اللہ کی عبادت یعنی پتھروں اور بتوں کی پوجا کو بھی عبادتِ الٰہی میں شمار کر لیا۔ اس نظریہ میں قرآنِ مقدس کی متعدد آیاتِ طیبہ کا انکار ہے۔ غیر اللہ کی عبادت کو قرآنِ مقدس میں شرک بتایا گیا ہے اور مودودی غیر اللہ کی پوجا کو اللہ تعالیٰ کی عبادت بتا رہا ہے تو پھر یہ کام شرک نہیں ہوگا اور ایسا کرنے والے مشرک نہیں ہوں گے۔ ایسی صورت میں مودودی کا نظریہ قرآنی نظریہ کے خلاف ہوگا۔ جو نظریہ قرآنِ مقدس کے خلاف ہو، وہ یقیناً باطل و مردود ہے اور اس کا قائل شرعی حکم میں گرفتار ہوگا۔
منکرینِ رسالت کے عذاب میں تخفیف
مودودی نے لکھا: ”جو لوگ جہالت و نابینائی کے باعث رسولِ عربی کی صداقت کے قائل نہیں ہیں، مگر انبیائے سابقین پر ایمان رکھتے ہیں اور صلاح و تقویٰ کی زندگی بسر کرتے ہیں، ان کو اللہ کی رحمت کا اتنا حصہ ملے گا کہ ان کی سزا میں تخفیف ہو جائے گی۔“ [تفہیمات: جلد اول: ص ۱۶۸]
منقولہ بالا دونوں قول میں وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ کا انکار ہے۔ مودودی اس طرح کلام کرتا ہے جیسا کہ وہ رب تعالیٰ عزوجل کی جانب سے شریعت کے اختیارات لے کر آیا ہے۔ بعض معتزلہ اور داؤد ظاہری (۲۰۲ھ - ۲۷۰ھ) کا قول بھی اسی طرح ہے۔ یہ لوگ بھی کم عقل یہود و نصاریٰ کی نجاتِ اخروی کے قائل ہیں۔
درج ذیل اقتباسات میں غیر مومن افراد کی نجاتِ اخروی کے قائلین معتزلہ و داؤد ظاہری کا شرعی حکم بیان کیا گیا ہے۔ ان عبارتوں سے مودودی کا حکم بھی واضح ہو جاتا ہے۔
- قاضی عیاض مالکی نے رقم فرمایا:
ذَهَبَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْعَنْبَرِيُّ إِلَى تَصْوِيبِ أَقْوَالِ الْمُجْتَهِدِينَ فِي أُصُولِ الدِّينِ فِيمَا كَانَ عُرْضَةً لِلتَّأْوِيلِ وَفَارَقَ فِي ذَلِكَ فِرَقَ الْأُمَّةِ، إِذْ أَجْمَعُوا سِوَاهُ عَلَى أَنَّ الْحَقَّ فِي أُصُولِ الدِّينِ فِي وَاحِدٍ، وَالْمُخْطِئَ فِيهِ آثِمٌ عَاصٍ فَاسِقٌ وَإِنَّمَا الْخِلَافُ فِي تَكْفِيرِهِ، وَقَدْ حَكَى الْقَاضِي أَبُو بَكْرٍ الْبَاقِلَّانِيُّ مِثْلَ قَوْلِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ دَاوُدَ الْأَصْبَهَانِيِّ وَقَالَ: وَحَكَى قَوْمٌ عَنْهُمَا أَنَّهُمَا قَالَا ذَلِكَ فِي كُلِّ مَنْ عَلِمَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ مِنْ حَالِهِ اسْتِفْرَاغَ الْوُسْعِ فِي طَلَبِ الْحَقِّ مِنْ أَهْلِ مِلَّتِنَا أَوْ مِنْ غَيْرِهِمْ، وَقَالَ نَحْوَ هَذَا الْقَوْلِ الْجَاحِظُ وَثُمَامَةُ فِي أَنَّ كَثِيرًا مِنَ الْعَامَّةِ وَالنِّسَاءِ وَالْبُلْهِ وَمُقَلِّدَةِ النَّصَارَى وَالْيَهُودِ وَغَيْرِهِمْ لَا حُجَّةَ لِلَّهِ عَلَيْهِمْ إِذْ لَمْ تَكُنْ لَهُمْ طِبَاعٌ يُمْكِنُ مَعَهَا الِاسْتِدْلَالُ
ترجمہ: عبید اللہ بن حسن عنبری معتزلی بصری (م ۱۶۸ھ) نے اصولِ دین میں سے ان امور میں اجتہاد کرنے والوں کے اقوال کے صحیح ہونے کا مذہب اختیار کیا جن امور میں تاویل کی گنجائش ہے اور اس بارے میں امتِ محمدیہ کی تمام جماعتوں سے جدا ہو گیا، اس لیے کہ ان کے علاوہ نے اس بات پر اجماع کیا ہے کہ اصولِ دین (عقائدِ اسلام) میں حق ایک ہے اور اس میں غلطی کرنے والا گناہ گار، خطا کار اور فاسق ہے اور اختلاف صرف اس کی تکفیر میں ہے اور قاضی ابوبکر باقلانی (۳۳۸ھ-۴۰۳ھ) نے عبید اللہ عنبری کے قول کی طرح داؤد اصفہانی ظاہری کا قول نقل کیا ہے اور قاضی باقلانی نے فرمایا کہ ایک جماعت نے ان دونوں سے نقل کیا کہ ان دونوں نے ایسا کہا ہر اس شخص کے بارے میں جس کے طلبِ حق کے بارے میں کوشش صرف کرنے کا حال رب تعالیٰ کو معلوم ہے، وہ ہمارے اہلِ مذہب سے ہو، یا ہمارے غیر سے اور اسی طرح کا قول کیا جاحظ معتزلی بصری: عمرو بن بحر (م ۲۵۵ھ) اور ثمامہ بن اشرس نمیری معتزلی (م ۲۱۳ھ) نے اس بارے میں کہ بہت سے عام افراد اور عورتیں اور بے وقوف لوگ اور یہود و نصاریٰ کے متبعین وغیرہ کہ ان کے خلاف رب تعالیٰ کو کوئی حجت نہیں ہے، اس لیے کہ ان کے پاس ایسی عقلیں نہیں تھیں جن سے وہ استدلال کر سکیں۔ [کتاب الشفاء: جلد دوم: ص ۲۸۰- دار الکتب العلمیہ بیروت]
- قاضی عیاض مالکی نے ایسا قول کرنے والوں کا حکم بیان کرتے ہوئے رقم فرمایا:
وَقَائِلُ هَذَا كُلِّهِ كَافِرٌ بِالْإِجْمَاعِ عَلَى كُفْرِ مَنْ لَمْ يُكَفِّرْ أَحَدًا مِنَ النَّصَارَى وَالْيَهُودِ وَكُلِّ مَنْ فَارَقَ دِينَ الْمُسْلِمِينَ أَوْ وَقَفَ فِي تَكْفِيرِهِمْ أَوْ شَكَّ - قَالَ الْقَاضِي أَبُو بَكْرٍ: لِأَنَّ التَّوْقِيفَ وَالْإِجْمَاعَ اتَّفَقَا عَلَى كُفْرِهِمْ - وَمَنْ وَقَفَ فِي ذَلِكَ فَقَدْ كَذَّبَ النَّصَّ وَالتَّوْقِيفَ أَوْ شَكَّ فِيهِ - وَالتَّكْذِيبُ أَوِ الشَّكُّ فِيهِ لَا يَقَعُ إِلَّا مِنْ كَافِرٍ
ترجمہ: اور ان تمام (اقوال) کا قائل کافر ہے، اس کے کفر پر اجماع ہونے کی وجہ سے جس نے یہود و نصاریٰ اور دینِ مسلمین سے جدا ہو جانے والے میں سے کسی ایک کو کافر نہیں کہا، یا اس کی تکفیر میں توقف کیا، یا شک کیا۔ قاضی ابوبکر نے فرمایا: (ایسا قائل کافر ہے) کیوں کہ توقیف (قرآن و حدیث) اور اجماع ان کے کفر پر متفق ہیں اور جس نے اس بارے میں توقف کیا، پس اس نے نص اور توقیف کی تکذیب کی، یا اس میں شک کیا اور نصوص کی تکذیب یا اس میں شک صرف کافر سے واقع ہوتا ہے۔ [کتاب الشفاء: جلد دوم: ص ۲۸۱]
- علامہ فضلِ رسول بدایونی (۱۷۹۷ء - ۱۸۷۲ء) نے رقم فرمایا:
وَفِي الْأَصْلِ: وَقَدْ حَكَى الْقَاضِي أَبُو بَكْرٍ الْبَاقِلَّانِيُّ مِثْلَ قَوْلِ الْعَنْبَرِيِّ عَنْ دَاوُدَ الْأَصْبَهَانِيِّ — وَهُوَ إِمَامُ أَهْلِ الظَّاهِرِ — قَالَ: وَحَكَى قَوْمٌ — أَنَّهُمَا قَالَا ذَلِكَ (أَيْ كُلُّ مُجْتَهِدٍ فِي أُصُولِ الدِّينِ مُصِيبٌ) فِي كُلِّ مَنْ عَلِمَ اللَّهُ مِنْ حَالِهِ اسْتِفْرَاغَ الْوُسْعِ فِي طَلَبِ الْحَقِّ مِنْ أَهْلِ مِلَّتِنَا وَمِنْ غَيْرِهِمْ — وَقَالَ نَحْوَ هَذَا الْقَوْلِ الْجَاحِظُ وَثُمَامَةُ فِي أَنَّ كَثِيرًا مِنَ الْعَامَّةِ وَالْبُلْهِ وَالنِّسَاءِ وَمُقَلِّدَةِ النَّصَارَى وَالْيَهُودِ وَغَيْرِهِمْ لَا حُجَّةَ لِلَّهِ عَلَيْهِمْ إِذْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ طِبَاعٌ يُمْكِنُ مَعَهَا الِاسْتِدْلَالُ
[المعتقد المنتقد: ص ۲۲۵ - استنبول: ترکی]
- امام اہلِ سنت قدس سرہ العزیز نے المعتقد المنتقد کی عبارت پر حاشیہ تحریر فرمایا:
هَذَا، إِنْ ثَبَتَ فَكُفْرٌ قَطْعًا لِقَوْلِهِ تَعَالَى: وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ - وَهَذَا يَقُولُ: إِنَّهُمْ لَيْسَ بِخَاسِرٍ لِاسْتِفْرَاغِهِ الْجُهْدَ - لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
ترجمہ: یہ قول (یعنی داؤد ظاہری کا یہ قول کہ حق کا ہر طلب گار حق پر ہے، چاہے یہودی ہو یا نصرانی) اگر ثابت ہو جائے تو یقینی طور پر کفر ہے۔ رب تعالیٰ عزوجل کے فرمانِ اقدس (اور جو اسلام کے علاوہ دین کو قبول کرے تو اسے قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں گھاٹے والا ہے) کی وجہ سے اور یہ کہتا ہے کہ وہ آخرت میں گھاٹے والا نہیں ہے، اس کے کوشش صرف کرنے کی وجہ سے (پس اس کا قول فرمانِ الٰہی کے خلاف ہے)۔ [المعتمد المستند: ص ۲۲۵]
(جاری.......)
[ماخوذ از: ماہنامہ: عہدِ حاضر کے بد مذہب فرقے، صفحہ نمبر: ۲۳]
