Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

سوشل میڈیا اور شہرت کی ہوس

سوشل میڈیا اور شہرت کی ہوس
عنوان: سوشل میڈیا اور شہرت کی ہوس
تحریر: غلام ربانی قادری

اس فانی دنیا میں جہاں اربوں کھربوں لوگ کسبِ معاش کے لیے کوشاں ہیں، انہیں میں ایک طبقہ شہرت کی ہوس لیے اپنے مقصدِ اصلی کو پسِ پشت ڈال کر ایک لامتناہی وادی میں داخل ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں وہ اپنی زندگی کے قیمتی لمحات کو رفتہ رفتہ ضائع کر رہے ہیں۔ فی زمانہ مشہور ہونے کے لیے جو ذریعہ استعمال کیا جاتا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ یقیناً آپ کے ذہن میں ایک نام ضرور آ گیا ہوگا ”سوشل میڈیا“ اگر کہا جائے کہ یہ انسان کے لیے بہت زیادہ ضروری اور اہم ہو گیا ہے تو شاید غلط نہ ہو۔

سوشل میڈیا کا مقصدِ استعمال

محترم قارئین! سوشل میڈیا کے استعمال کا مقصد کیا ہے؟ یقیناً یہ ایک اہم سوال ہے جو دودھ اور پانی کے درمیان واضح امتیاز پیدا کرے گا، اس کے لیے اولاً آپ اس کے یوزرز کا مقصد معلوم کریں تو عموماً آپ کو ارننگ کا لفظ سننے کو ملے گا، جبکہ نفس کے پیروکار کچھ ایسے بھی ہیں جو خود پسندی اور بے شرمی کا لبادہ اوڑھ کر فقط تماشہ کرنے کے شوقین ہوتے ہیں۔ اور تیسرا گروہ وہ ہے جو ان دونوں سے مختلف اور باعتبارِ خسارہ نماز کے چور کے مثل ہے کہ مال کا چور کم از کم دنیاوی نفع سے تو لطف اندوز ہو لیتا ہے جبکہ نماز کا چور خود کو تھکا بھی لیتا ہے اور اس کی نماز بھی نہیں ہوتی مزید یہ کہ حقِّ صلاۃ کو ضائع کرنے کی وجہ سے اس کا وبال بھی الگ ہوتا ہے۔

كَمَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ:- وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”أَسْوَأُ النَّاسِ سَرِقَةً الَّذِي يَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِهِ“، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ وَكَيْفَ يَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِهِ؟ قَالَ: ”لَا يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَلَا سُجُودَهَا“، رَوَاهُ أَحْمَدُ. [مشكاة المصابيح، كتاب الصلاة، حديث: 885]

ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے برا چور وہ ہے جو اپنی نماز کی چوری کرتا ہے۔“ صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! وہ اپنی نماز کی چوری کیسے کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اس کا رکوع و سجود مکمل نہیں کرتا۔“ گویا سوشل میڈیا استعمال کرنے والے تیسرے گروہ کی مثال اسی نماز کے چور کی طرح ہے کہ دن و رات سوشل میڈیا کے سمندر میں غوطہ زنی کے باوجود اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ [مشكاة المصابيح، كتاب الصلاة، حديث: 885]

سوشل میڈیا کے یوزرز کا شرعی تجزیہ

اگر باعتبارِ شرع ان تینوں افراد کے احوال کا تجزیہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ان میں سے ایک مالِ حرام کے لیے اور دوسرا شہرت کے حصول کے لیے اور تیسرا ان دونوں کی کامیابی کے لیے مصروفِ عمل ہے۔

  1. کیونکہ کوئی بھی کمپنی فری میں پیسے نہیں دیتی وہ اپنی پروڈکٹس کی تشہیر کے لیے زیادہ فالوورز یا سبسکرائبرز والے چینلز کا سہارا لیتی ہے اور بے پردہ عورتوں کے ذریعے اپنے پروڈکٹس کی تشہیر کرتی ہے اور اس کے عوض وہ آپ کو پیسے دیتی ہے جس کا لینا حرام، حرام اور حرام ہے۔
  2. جبکہ دوسرا گروہ خود کو مرکزِ حسن تصور کر کے اپنے بالوں پر ہاتھ سہلائے ہوئے مکر و فریب سے لبریز مسکراہٹ کے ساتھ عجیب و غریب حرکتیں کر کے دکھا رہے ہوتے ہیں، جس میں ریا کاری، مکاری، تکبر اور نہ جانے کن کن گناہوں کی واضح جھلک نظر آتی رہتی ہے کہ الامان والحفيظ۔ ایسوں کے متعلق ارشادِ ربّانی ہے،

وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ [لقمان: 18]

کنز الایمان (اردو)

اور کسی سے بات کرنے میں اپنا رخسارہ کج نہ کر اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک اللہ کو نہیں بھاتا کوئی اتراتا فخر کرتا۔ [لقمان: 18]

وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ ۚ إِنَّ أَنْكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ [لقمان: 19]

کنز الایمان (اردو)

اور میانہ چال چل اور اپنی آواز کچھ پست کر بیشک سب آوازوں میں بری آواز، گدھے کی آواز ہے۔ [لقمان: 19]

  1. اب آتے ہیں تیسرے گروہ پر جو کہ دنیا و مافیہا سے بے نیاز ہو کر دن و رات بغیر کسی معاوضے کے ان دونوں کی مدد کرتے ہیں۔ اور فرمانِ الٰہی وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ [المائدة: 2] کے تحت اپنی دنیا و آخرت کو تباہ کر رہے ہوتے ہیں۔ گویا تینوں گروہ گناہوں کے دلدل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور تک نہیں۔

نتیجہ فکر

عزیز قارئین! یقیناً سوشل میڈیا ہلاکت و بربادی کا ایک خطرناک ذریعہ ہے جس سے ہر عاقل کو ہوشیار رہنا چاہیے، یہ بندے کو گناہوں کی طرف کھینچ کر لے جاتی ہے، بہت کم افراد ہیں جو اس کا استعمال کر کے فائدہ اٹھا پاتے ہیں، جبکہ اکثر لوگ اس وادی میں داخل ہو کر تباہ و گمنام ہو چکے ہیں۔

اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے اور اچھوں کی صحبت عطا فرمائے۔ ایمان کی سلامتی کے ساتھ میٹھے مدینہ میں شہادت کی موت نصیب فرمائے، آمین بجاہ خاتم النبيين صلى الله عليه وآله واصحابه وبارك وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!