Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

فرقہ مودودیہ (قسط: دوم)

فرقہ مودودیہ (قسط: دوم)
عنوان: فرقہ مودودیہ (قسط: دوم)
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: قافیہ نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

آخری نبی کی تنقیص و بے ادبی

مودودی نے لکھا: ”صحرائے عرب کا یہ ان پڑھ اور بادیہ نشیں جو چودہ سو برس پہلے اس تاریک دور میں پیدا ہوا تھا۔ دراصل دورِ جدید کا بانی اور تمام دنیا کا لیڈر ہے۔“ (تفہیمات: ص ۲۱۰)

جس عظیم رسول کی شانِ اقدس میں ارشادِ الٰہی ہے:

وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا

ترجمہ: اور اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت اتاری اور تمہیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے۔ (کنز الایمان، سورہ نساء: آیت ۱۱۳)

ایسے عظیم علم و فضل والے رسول و نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ان پڑھ کہنا تنقیص و بے ادبی کے ساتھ حماقت و بے وقوفی بھی ہے۔ تعلیم حاصل کی جاتی ہے، تاکہ علوم و فنون حاصل ہو جائیں۔ جن کو اللہ تعالیٰ عزوجل کسی معلم کے وسیلہ کے بغیر اپنے فضل و کرم سے علم و فضل سب سے زیادہ عطا فرما دے تو پھر ان کو رسمی تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، نیز کسی کے پاس تعلیم حاصل کرنے سے وہ شخص معلم و استاذ قرار پائے گا۔ اللہ تعالیٰ عزوجل کو یہ پسند نہ تھا کہ کوئی شخص معلمِ کائنات اور رسولِ کل جہاں علیہ التحیۃ والثنا کا معلم نہ ہو، بلکہ بلا واسطہ براہِ راست دربارِ خداوندی سے ان کو سب کچھ عطا فرما دیا جائے اور عطا فرما دیا گیا۔

اس اعتبار سے حضور اقدس نورِ مجسم معلمِ کائنات علیہ الصلوٰۃ والسلام کا امی ہونا ایک عظیم فضیلت ہے کہ بلا رسمی تعلیم حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کائناتِ عالم میں سب سے زیادہ علم و فضل والے ہیں۔ دوسروں کے حق میں امی ہونا عیب ہے، کیوں کہ دوسرا شخص جو امی ہو، وہ علم و فضل سے خالی ہوگا۔ جب تعلیم ہی نہیں پایا تو وہ علم والا بھی نہیں ہوگا۔

ذرا مودودی کو دیکھیں کہ یہ بد نصیب حضور اقدس عالمِ ماکان وما یکون علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ان پڑھ اور بادیہ نشیں کہتا ہے، حالاں کہ مکہ معظمہ ابتدائے آفرینش سے مرکزِ عالم تھا۔ ارشادِ الٰہی ہے:

إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ

ترجمہ: بے شک سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کو مقرر ہوا، وہ ہے جو مکہ میں ہے، برکت والا اور سارے جہاں کا راہنما۔ (کنزالایمان، سورہ آل عمران: آیت ۹۶)

رب نے فرمایا:

لَا أُقْسِمُ بِهَذَا الْبَلَدِ وَأَنْتَ حِلٌّ بِهَذَا الْبَلَدِ

ترجمہ: مجھے اس شہر کی قسم کہ اے محبوب تم اس شہر میں تشریف فرما ہو۔ (کنزالایمان، سورہ بلد: آیت ۱-۲)

اللہ تعالیٰ عزوجل مکہ معظمہ کو شہر قرار دے اور مودودی اس شہر کو بادیہ تصور کر بیٹھا۔

حضرت موسیٰ کلیم اللہ کی بے ادبی

مودودی نے لکھا: ”پھر اسرائیلی چرواہے کو دیکھئے جس سے وادئ مقدس طویٰ میں بلا کر باتیں کی گئیں، وہ بھی عام چرواہوں کی طرح نہ تھا۔“ (تفہیمات: ص ۲۴۱)

مودودی کی قلبی شقاوت دیکھیں کہ اولوالعزم رسول و نبی حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو چرواہا کہہ ڈالا۔ شیطان نے بھی حضرت آدم خلیفۃ اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لیے اتنے رکیک و خفیف الفاظ استعمال نہ کیے تھے۔ یہ تو ابلیس کا بھی استاد نکلا۔

انبیاء و ملائکہ علیہم السلام بے اختیار رعیت

مودودی نے لکھا: ”خدا کی سلطنت میں سب بے اختیار رعیت ہیں، خواہ فرشتے ہوں یا انبیاء و اولیاء۔“ (دستورِ جماعتِ اسلامی: ص ۵)

رب تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اپنا خلیفہ بنایا۔ فرشتوں کے لیے قرآنِ مجید میں فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا (سورہ نازعات: آیت ۵) ارشاد فرمایا۔ بہت سے ملائکۂ کرام علیہم السلام کو کسی کام مثلاً قبضِ روح، بارش برسانا و دیگر امور پر مقرر فرمایا۔ حضرت سلیمان علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دولت و نعمت عطا فرما کر اختیار عطا فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ آپ پر کچھ حساب نہیں، جب کہ مودودی کہتا ہے کہ بندوں کو کچھ اختیار نہیں۔ یہی اسماعیل دہلوی کا نظریہ تھا۔ علمائے اہلِ سنت و جماعت نے اس دہلوی نظریہ کی مکمل تردید فرمادی ہے۔

حضرت سلیمان علیہ الصلوٰۃ والسلام سے متعلق قرآنِ مقدس میں ارشادِ الٰہی ہے:

هَذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ

ترجمہ: یہ ہماری عطا ہے۔ اب تو چاہے تو احسان کر، یا روک رکھ۔ تجھ پر کچھ حساب نہیں۔ (کنز الایمان، سورہ ص: آیت ۳۹)

قرآنِ مقدس میں فرشتوں کے بارے میں ارشادِ الٰہی ہے:

وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا وَالنَّاشِطَاتِ نَشْطًا وَالسَّابِحَاتِ سَبْحًا فَالسَّابِقَاتِ سَبْقًا فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا

ترجمہ: قسم ان کی کہ سختی سے جان کھینچیں اور نرمی سے بند کھولیں اور آسانی سے پیریں (چلیں)، پھر آگے بڑھ کر جلد پہنچیں، پھر کام کی تدبیر کریں۔ (کنز الایمان، سورہ نازعات: آیت ۱-۵)

بارگاہِ الٰہی میں شفیع ماننا شرک

مودودی نے لکھا: ”کسی کو شفیع یا سفارشی سمجھنا اسے اللہ بنانا اور خدائی میں اللہ کا شریک ٹھہرانا ہے۔“ (قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں: ص ۲۳)

تمام مومنین حضور اقدس شفیعِ محشر صلی اللہ علیہ وسلم کو بارگاہِ الٰہی میں شفیع مانتے ہیں۔ آیاتِ قرآنیہ و احادیثِ مبارکہ کی شہادت موجود ہے کہ حضور اقدس حبیبِ کبریا علیہ الصلوٰۃ والسلام کو شفاعتِ کبریٰ کا منصب عطا فرمایا گیا ہے اور آپ شفاعت فرمائیں گے۔

میدانِ حشر میں حضور اقدس نورِ مجسم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خداوندِ قدوس کی بارگاہِ عالی میں شفیع بنایا جائے گا۔ بادشاہ کے دربار میں اس بادشاہ کے علاوہ کو سفارشی بنایا جاتا ہے، پس کسی کو دربارِ الٰہی میں شفیع بنانے کا مفہوم ہی یہ ہوا کہ شفیع، خدا نہیں ہے، پس شفیع بنانے والے نے ان کو خدا یا شریکِ خدا نہ سمجھا، بلکہ غیر خدا اور بارگاہِ خدا کا مقرب و مقبول بندہ سمجھا۔ مودودی عالم تو تھا نہیں، اس کی عبارتیں اعلان کر رہی ہیں کہ وہ ضعیف العقل بھی تھا۔

چور کا ہاتھ کاٹنا ظلم

مودودی نے لکھا: ”اپنی جگہ تو چور کے لیے ہاتھ کاٹنا ہی نہیں، بلکہ قید کی سزا بھی بعض حالات میں ظلم ہو گی۔“ (تفہیمات: جلد دوم: ص ۲۸۲)

بدکاری کی سزا دینا ظلم

مودودی نے لکھا: ”جہاں ہر طرف صنفی محرکات پھیلے ہوئے ہوں اور ازدواجی رشتے کے بغیر خواہشات کی تسکین کے لیے ہر قسم کی سہولتیں بھی موجود ہوں۔ جہاں معیارِ اخلاق بھی اتنا پست ہو کہ ناجائز تعلقات کچھ معیوب نہ سمجھا جاتا ہو۔ ایسی جگہ زنا اور قذف کی شرعی حد جاری کرنا بلا شبہ ظلم ہو گا۔“ (تفہیمات: جلد دوم: ص ۲۸۱)

بدکاری اور چوری کی سزا کو رب تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں بیان فرمایا ہے۔ مودودی حکمِ خداوندی پر تنقید کر رہا ہے۔ سب سے پہلے شیطان نے حکمِ الٰہی کو غلط بتایا تھا۔ ابلیس نے حکمِ خداوندی (اسْجُدُوا لِآدَمَ) کا انکار کر دیا تھا اور حکمِ سجدہ کو بھی غلط بتانے کی کوشش کی تھی اور کہا تھا کہ میں آگ سے پیدا کیا گیا ہوں تو میں افضل ہوں، یعنی میں اپنے سے کم درجہ کو کیوں کر سجدہ کروں۔ آج مودودی حکمِ خدا کو غلط بتا رہا ہے۔ شاید شیطان کے بعد مودودی نے ہی خدا تعالیٰ کے احکام پر تنقید کرنے کی جراءت و جسارت کی ہے۔ بندہ کو یہ حق نہیں کہ حکمِ خداوندی پر تنقید کرے۔ افسوس ہے ان عقل مندوں پر جو ایسوں کے پیروکار ہیں۔

(جاری.....)

[ماخوذ از: ماہنامہ: عہدِ حاضر کے بد مذہب فرقے، صفحہ نمبر: ۲۹]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!