Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

فرقہ مودودیہ (قسط: سوم)

فرقہ مودودیہ (قسط: سوم)
عنوان: فرقہ مودودیہ (قسط: سوم)
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: قافیہ نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

تفسیر بالرائے کا اقرار

مودودی نے لکھا: ”میں نے اس میں قرآن کے الفاظ کو اردو کا جامہ پہنانے کے بجائے یہ کوشش کی ہے کہ قرآن کی ایک عبارت پڑھ کر جو مفہوم میری سمجھ میں آتا ہے اور جو اثر میرے دل پر پڑتا ہے، اسے حتی الامکان صحت کے ساتھ اپنی زبان میں منتقل کر دوں۔“ (دیباچہ تفہیم القرآن: جلد اول: ص ۱۰)

یہی تفسیر بالرائے ہے جو حرام ہے۔ ابن عبدالوہاب نجدی، اسماعیل دہلوی، مودودی، چکڑالوی، سرسید نیچری، قادیانی و دیگر اہلِ باطل میں یہ بات مشترک ہے کہ سبھوں نے قرآنِ عظیم کی تفسیر بالرائے کی، پھر خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیے۔

سننِ زوائد کا انکار

مودودی نے لکھا: ”جو امور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عادتاً کیے ہیں، انہیں سنت بنا دینا اور تمام دنیا کے انسانوں سے یہ مطالبہ کرنا کہ وہ ان عادات کو اختیار کر لیں، اللہ و رسول کا ہرگز ہرگز یہ منشا نہ تھا۔ یہ دین میں تحریف ہے۔“ (رسائل و مسائل: جلد دوم: ص ۳۰۰)

فقہائے کرام سننِ زوائد ان امور کو کہتے ہیں جو حضور اقدس رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عادتاً صادر ہوئے ہوں اور جن امور کو بطورِ عبادت حضور اقدس حبیبِ کبریا صلی اللہ علیہ وسلم نے انجام دیا ہو، ان امور کو سننِ ہدیٰ کہا جاتا ہے۔ شرح الوقایہ و دیگر کتبِ فقہیہ میں تفصیل موجود ہے۔ شاید مودودی ایک نیا دین بنانا چاہتا تھا۔ نیا دین تو نہ بنا سکا، لیکن ایک نیا فرقہ ضرور بنا گیا۔ اس کے متبعین آج تک امتِ مسلمہ میں فتنہ برپا کرتے رہتے ہیں۔

تسبیحات پڑھنا عبادت نہیں

مودودی نے لکھا: ”صرف اس لیے کہ خدا خوش ہو گا، پس دنیا کو چھوڑ کر کونوں اور گوشوں میں جا بیٹھنا اور تسبیح ہلانا عبادت نہیں ہے۔“ (حقیقت صوم و صلوٰۃ: ص ۱۸)

نہ جانے کتنے اولیائے کرام رضائے الٰہی کے لیے عبادت و ریاضت کے واسطے جنگلوں کی طرف نکل پڑے، یہاں تک کہ امام الاولیا حضور غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی کئی سالوں تک جنگلوں میں ریاضت و مجاہدہ فرمائے۔ مودودی مذہبِ اسلام کی باتیں کر رہا ہے، یا کسی اور مذہب کی؟ تسبیحات و وظائف پڑھنا عبادت سے خارج کیسے ہو گیا؟ خواہ گوشہ نشیں ہو کر تسبیح پڑھی جائے یا آبادیوں میں رہ کر، تسبیحات پڑھنا یقیناً عبادت ہے۔

تکفیر کا خود ساختہ قانون

مودودی نے لکھا: ”جو لوگ تعلیم و تربیت اور اجتماعی ماحول کی تاثیرات کے باوجود ناکارہ نکلیں، تکفیر کے ذریعے ان کو جماعت سے خارج کر دیا جائے اور اس طرح جماعت کو غیر مناسب عناصر سے پاک کیا جاتا رہے۔“ (سیاسی کشمکش: جلد سوم: ص ۲۱)

ترکِ نماز کو کفر بتانا

مودودی نے لکھا: ”اسلام میں ایسے شخص کے مسلمان کہے جانے کی گنجائش نہیں ہے جو نماز نہ پڑھتا ہو۔“ (حقیقت صوم و صلوٰۃ: ص ۱۸)

حدیث شریف میں ارشاد فرمایا گیا کہ غیر کافر کو کافر کہنے سے خود قائل پر کفر پلٹ آتا ہے۔ مودودی وہی کفر ساز نظریہ ترتیب دے رہا ہے جو اسلام کے خلاف ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دینِ اسلام کے سوا کسی جدید مذہب کا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے۔ عام مسلمان کو اتنی قوت کہاں کہ گمراہوں کی باتیں سمجھ سکیں، نہ ہر تعلیم یافتہ کو توفیق میسر ہوتی ہے کہ راہِ حق پر آ سکے۔

مذہب کو نبی کی طرف منسوب نہ کرنا

مودودی نے لکھا: ”ہم اپنے مسلک و نظام کو کسی خاص شخص کی طرف منسوب کرنے کو ناجائز سمجھتے ہیں۔ مودودی تو درکنار، ہم اس مسلک کو محمدی کہنے کے لیے بھی تیار نہیں۔“ (ترجمان القرآن)

مودودی مذہب مسلکِ محمدی نہیں، پھر اسے مسلکِ محمدی کیوں کر کہا جا سکتا ہے۔ اسے مسلکِ مودودی بھی نہ کہا جائے تو اسے مسلکِ شیطانی تو ماننا ہی پڑے گا، کہو یا نہ کہو۔ سچائی کو تسلیم کرنا ہو گا۔ مودودی علمِ دین کے بغیر کتنی اونچی باتیں کرتا ہے اور شرماتا بھی نہیں۔

اسلافِ کرام کی تعلیمات بے فائدہ

مودودی نے لکھا: ”اسلام میں ایک نشاۃِ جدیدہ کی ضرورت ہے۔ پرانے اسلامی مفکرین و محققین کا سرمایہ اب کام نہیں دے سکتا۔“ (تنقیحات: ص ۱۵)

حضرات ائمہ مجتہدین علیہم الرحمۃ والرضوان کے فقہی اقوال و ارشادات، ذخیرۂ تفاسیر اور اسلافِ کرام کی علمی خدمات کو دریا برد کر کے اب مودودی کی تعلیمات پر عمل کیا جائے۔ جہلِ مرکب کے نتائج و اثرات کوئی دیکھنا چاہے تو مودودی کی کتابوں میں دیکھے。

تقلیدِ شخصی کا انکار

مودودی نے لکھا: ”نہ میں مسلکِ اہلِ حدیث کو اس کی تمام تفصیلات کے ساتھ صحیح سمجھتا ہوں اور نہ ہی حنفیت یا شافعیت ہی کا پابند ہوں۔“ (رسائل و مسائل: حصہ اول، ص ۱۸۹)

مودودی خود ایک جدید فقہی مذہب کا بانی ہے، حالاں کہ اس نے کما حقہ دینی تعلیم بھی حاصل نہیں کی تھی۔ تعجب ہے ان لوگوں پر جو ایسے ناقصوں کی پیروی اور اتباع کرتے ہیں۔

کانا دجال کا انکار

مودودی نے لکھا: ”یہ کانا دجال وغیرہ تو افسانے ہیں جن کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔ ان چیزوں کو تلاش کرنے کی ہمیں کوئی ضرورت بھی نہیں۔ عوام میں اس قسم کی جو باتیں مشہور ہوں، ان کی کوئی ذمہ داری اسلام پر نہیں اور ان میں سے کوئی چیز اگر غلط ثابت ہو جائے تو اس سے اسلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔“ (رسائل و مسائل: حصہ اول، ص ۲۶)

خروجِ دجال افسانہ نہیں، بلکہ دجال کا خروج قیامت کی ایک بڑی نشانی ہے اور اس کا ذکر احادیثِ طیبہ میں موجود ہے۔ مودودی نے بہ یک جنبشِ قلم اس حقیقت کا انکار کر دیا۔ گمراہوں کو حقیقت بتائی جائے تو وہ اسے قبول نہیں کرتے اور اپنی غلط بات پر قائم رہتے ہیں۔

وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وَآلِهِ الْعَظِيمِ

[ماخوذ از: ماہنامہ: عہدِ حاضر کے بد مذہب فرقے، صفحہ نمبر: ۳۳]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!