Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

فتنہِ صلح کلیت کی نحوست! سدِ باب اور شرعی احکام

فتنہِ صلح کلیت کی نحوست! سدِ باب اور شرعی احکام
عنوان: فتنہِ صلح کلیت کی نحوست! سدِ باب اور شرعی احکام
تحریر: مولانا توصیف رضا قادری علیمی
پیش کش: شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

انسانی تاریخ میں ایسے فتنوں نے جنم لیا ہے جنہوں نے صدیوں تک امتِ مسلمہ کے فکری و اعتقادی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا، انہی فتنوں میں ایک خطرناک اور گمراہ کن فتنے کا نام صلح کلیت ہے، یہ فتنہ دراصل دینِ اسلام کی اصل تعلیمات اور امتیازی خصوصیات کو مٹا کر، تمام باطل ادیان و ملل کو یکساں درجہ دینے اور ہر مذہب کے ماننے والوں کو "برحق" قرار دینے کی سازش کا دوسرا نام ہے۔

صلح کلیت کی تعریف

لفظ "صلح کلیت" دو الفاظ سے مرکب ہے، صلح یعنی میل جول اور کلیت یعنی سب کے ساتھ۔ ایسا رویہ جس میں سب فرقوں کو حق پر سمجھے یا ان سے دینی سطح پر مصالحت کر لے، اسے "صلح کلی" کہلاتا ہے اور اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اسلام کے اصل عقائد کی سرحدیں دھندلا دی جائیں تاکہ حق و باطل ایک ہی صف میں نظر آئیں۔

صلح کلیت کی ابتدا

فتنہِ صلح کلیت برصغیرِ ہند میں مغلیہ بادشاہ اکبر نے "دینِ الٰہی" کے نام سے شروع کیا۔ جس میں اسلام، ہندو مت، بدھ مت، عیسائیت اور دیگر مذاہب کا ملغوبہ تیار کیا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ سلطنت کے تمام عوام کو ایک ہی "مذہبی چھت" کے نیچے جمع کیا جائے اور مذہبی اختلافات کو ختم کر دیا جائے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ نظریہ اسلام کو کمزور کرنے اور اس کی امتیازی حیثیت کو مٹانے کی ایک چال تھی۔

موجودہ دور میں صلح کلیت

یہ چیز واضح رہے کہ آج کے دور میں صلح کلیت سے مراد تمام بد مذہب (مثلاً وہابی، دیوبندی، اہلِ حدیث، قادیانی، رافضی وغیرہ) سے عملی یا اعتقادی طور پر صلح کر لینا یا ان بد مذہبوں سے میل جول رکھنا یا انہیں حق جاننا بہر حال صلح کلیت ہے۔

احکام و اقسام

(1) عملی صلح کلی: جو ان بد مذہبوں سے میل جول، شادی بیاہ وغیرہ کسی بھی طرح کی رشتہ داری رکھیں لیکن ان کے عقائدِ باطلہ کو نہ مانے یا نہ جانے، عملی صلح کلی ہے اور وہ فاسق و گمراہ ہے، سیدی اعلیٰ حضرت قدس سرہ فرماتے ہیں:

"وہابی و غیر مقلدین و دیوبندی و مرزائی وغیرہ ہم فرقے آج کل سب کفارِ مرتدین ہیں، ان کے پاس نشست و برخاست حرام ہے، ان سے میل جول حرام ہے، اگرچہ اپنا باپ یا بھائی یا بیٹے ہوں اور اگر ان کو یقیناً کافر جانتا ہے اور پھر ان سے میل جول رکھتا ہے تو اگرچہ اس قدر سے کافر نہ ہوگا مگر فاسق ضرور ہے اور اسے امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نماز مکروہِ تحریمی قریب بہ حرام کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب۔"

[فتاویٰ رضویہ، 9/311-312، رضا اکیڈمی ممبئی]

ف 1: اس طرح کی صلح کلی! آج کل سنیوں میں بڑھتی جا رہی ہے، اس کی علامت یہ ہے کہ بد مذہبوں (گستاخوں) سے دوستی، محبت، میل جول، ان کے یہاں جانا، انہیں اپنے یہاں بلانا، اہلِ سنت کی مساجد میں آنے دینا، درس و تبلیغ کی اجازت دینا، منع کرنے پر باز نہ آنا، ان کی طرف جھکاؤ یا مائل ہونا، بالخصوص ان کے رد کرنے پر اپنی ناراضگی ظاہر کرنا اور پوچھنے پر مصلحت کا بہانہ بنانا وغیرہ بد مذہبی اور ایسے صلح کلی سخت فاسق بلکہ بعض صورتوں میں گمراہ اور ان کے پیچھے نماز نہیں ہوگی۔

[فتاویٰ رضویہ، 11/258، رضا فاؤنڈیشن لاہور]

ف 2: چونکہ وہابی دیوبندی اجماعاً کافر و مرتد بے دین ہیں، لہٰذا ان سے کسی طرح کا معاملہ بالخصوص علما کو منع ہے کہ ان کا ملنا عوام کے لیے گمراہی کا سبب ہے۔ حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"علما کے لیے کچھ تخصیصِ وجوب نہیں بلکہ علما پر اس صورت میں مؤاخذہ شدید ہے کہ بد مذہبوں سے ان کا ملنا ہزاروں عوام کے ارتداد و گمراہی کا موجب ہوگا اور ایسے لوگ قائدِ اہلِ سنت کہلانے کے مستحق نہیں۔"

[فتاویٰ تاج الشریعہ، 2/231، جامعۃ الرضا بریلی شریف]

(2) اعتقادی صلح کلی: یہ چیز صاف ہے کہ جو ان بد مذہبوں سے میل جول رکھے، ساتھ ہی ان کے عقائدِ کفریہ سے مطلع ہو کر ان کے کفر میں شک کرے یا کلی طور پر ان کے عقائدِ باطلہ کو حق جانے (یعنی جن بد مذہبوں کی بد مذہبی حدِ کفر تک پہنچ گئی ہے) اور جو یہ اعتقاد رکھے کہ وہ سب حق پر ہیں تو وہ اعتقادی صلح کلی ہے اور ایسا صلح کلی بلاشبہ کافر و مرتد ہے۔ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:

"ایسا صلح کلی جو دیوبندیوں وغیرہ کو جن کی بد مذہبی حدِ کفر تک پہنچ گئی دانستہ مسلمان جانے انہیں کی طرح مرتد، بے دین ہے۔ اس کے (یعنی ایسے صلح کلی کے) پیچھے نماز محض باطل بلکہ اسے دانستہ امام بنانا کفر ہے کہ تعظیمِ کافر کفر اور انہیں صف میں کھڑا کرنا حرام ہے۔"

[فتاویٰ تاج الشریعہ، 2/184، جامعۃ الرضا بریلی شریف]

ف 1: ایسا صلح کلی اکثر وہابی دیوبندی رافضی وغیرہ تمام بد مذہبوں میں پائے جاتے ہیں جو تقیہ کر کے سنیوں کی صفوں میں شامل ہو جاتے ہیں اور اپنے اقوالِ ملعونہ کا پرچار کرتے ہیں۔ حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں:

"آج کل کے بہت سے وہابی بھی اپنی وہابیت چھپاتے اور خود کو سنی ظاہر کرتے ہیں اور جب موقع پاتے ہیں تو بد مذہبی کی آہستہ آہستہ تبلیغ کرتے ہیں۔"

[بہارِ شریعت: 1/534، مکتبۃ المدینہ]

ف 2: اس طرح کی صلح کلی کی علامت، عملی صلح کلی ہی کی طرح ہوتی ہے۔ پس اس میں خاص علامت یہ ہے کہ جب اُن بد مذہبوں کے کفریہ عقائد سے مطلع کراؤ اور اس سے توبہ کرنے کو کہو تو انکار کر دیتے ہیں، جو کہ چھپا ہوا بد مذہب ہوتا ہے، شارحِ بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ ایسے بد مذہب سے متعلق تحریر فرماتے ہیں:

"پھر جب یہ اس کفری قول سے توبہ کرنے سے انکار کرتا ہے تو یہ بھی دلیل ہے کہ واقعی وہ دیوبندی ہے، اگر وہ سنی ہوتا تو ضرور توبہ کر لیتا۔"

[فتاویٰ شارحِ بخاری، 3/377-378، دائرۃ البرکات گھوسی]

صلح کلیت کی نحوست

(1) بد مذہبوں پر سختی نہ کرو، کہنا: یہ صلح کل کا پہلا درجہ ہے اور یہ گمراہی ہے، حدیثِ پاک میں ہے:

إِذَا رَأَيْتُمْ صَاحِبَ بِدْعَةٍ فَاكْفَهِرُّوْا فِيْ وَجْهِهٖ فَإِنَّ اللهَ يُبْغِضُ كُلَّ مُبْتَدِعٍ.

ترجمہ: جب تم کسی بد مذہب کو دیکھو تو اس کے سامنے ترش روئی (سختی) سے پیش آؤ اس لیے کہ خدائے تعالیٰ ہر بد مذہب کو دشمن رکھتا ہے۔

[تاریخ دمشق لابن عساکر، رقم الحدیث: 5144، 33/743، ط: دار الفکر بیروت لبنان]

معلوم ہوا کہ بد مذہبوں کے ساتھ لطف و مہربانی سے پیش آنا جائز نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دشمن ہیں۔ لہٰذا اُن پر سختی کی جائے گی اور جو لوگ "ان پر سختی نہ کرو" کہتے ہیں وہ خود انہیں کی طرح بد مذہب اور اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے۔

(2) بد مذہبوں کی برائی نہ کرو، کہنا: یہ صلح کل کا دوسرا درجہ اور بدترین گمراہی ہے، حدیثِ پاک میں ہے:

عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيْمٍ، عَنْ أَبِيْهِ، عَنْ جَدِّهٖ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهٖ وَسَلَّمَ: أَتَرْعَوُوْنَ عَنْ ذِكْرِ الْفَاجِرِ؟ اُذْكُرُوْهُ بِمَا فِيْهِ كَيْ يَعْرِفَهُ النَّاسُ وَيَحْذَرَهُ النَّاسُ.

ترجمہ: حضرت بہز بن حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اپنے دادا سے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ فاجر کو برا کہنے سے پرہیز کرتے ہو آخر اسے لوگ کیوں کر پہچانیں گے فاجر کی برائیاں بیان کرو تاکہ لوگ اس سے بچیں۔

[السنن الکبریٰ للبیہقی، رقم الحدیث: 20914، 10/354، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان]

اور یہ جاننا چاہیے کہ بد مذہب و گمراہ کا ضرر فاسق کے ضرر سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اسی لیے ان کی برائی بیان کرنا اور ان کے کفریہ عقائد سے لوگوں کو باخبر کرنا نہایت ضروری ہے، علامہ سعد الدین تفتازانی رحمۃ اللہ علیہ (ت 793ھ) فرماتے ہیں:

حُكْمُ الْمُبْتَدِعِ الْبُغْضُ وَالْعَدَاوَةُ وَالْإِعْرَاضُ عَنْهُ وَالْإِهَانَةُ وَالطَّعْنُ وَاللَّعْنُ.

ترجمہ: بد مذہب کے لیے شریعت کا حکم یہ ہے کہ اس کے ساتھ بغض و عداوت رکھیں اور اس سے بچیں اس کی توہین اور اس پر لعن طعن کریں۔

[شرح المقاصد، 5/231، عالم الکتب بیروت، لبنان]

(3) کافر کو کافر نہ کہو، کہنا: حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

"کافر کو کافر جاننا ضروریاتِ دین سے ہے، قطعی کافر کے کفر میں شک بھی آدمی کو کافر بنا دیتا ہے، اس زمانہ میں بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ میاں! جتنی دیر اسے کافر کہو گے اتنی دیر اللہ اللہ کرو یہ ثواب کی بات ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم کب کہتے ہیں کہ کافر کافر کا وظیفہ کر لو! مقصود یہ ہے کہ اسے کافر جانو اور پوچھا جائے تو قطعاً (یعنی یقینی طور پر) کافر کہو، نہ یہ کہ اپنی صلحِ کل سے اس کے کفر پر پردہ ڈالو۔"

[بہارِ شریعت، 1/186-187، مکتبۃ المدینہ]

ف: ایسے صلحِ کل کو جب ان بد مذہبوں کے کفریہ عقائد سے آگاہ کیا جاتا ہے تو وہ سننے سے کتراتے ہیں اور اگر سن بھی لیں تو یقین کے بجائے شک و شبہات میں مبتلا ہو جاتے ہیں، بلکہ ان کفریات کی حقیقت چھپانے اور ان پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، ایسا شخص "مَنْ شَكَّ فِيْ عَذَابِهٖ وَكُفْرِهٖ فَقَدْ كَفَرَ" (جس نے ان کے عذاب اور کفر میں شک کیا تو وہ بلاشبہ کافر ہو گیا) کے دائرے میں داخل ضرور ہے۔ دیکھیے!

[مجمع الانہر فی شرح ملتقی الابحر، کتاب السیر، باب العشر والخراج، فصل فی بیان احکام الجزیۃ، 1/677، ط: دار احیاء التراث العربی، بیروت، لبنان / الدر المختار شرح تنویر الابصار و جامع البحار، کتاب الجہاد، باب المرتد، ص: 345، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت / بہارِ شریعت، ایمان و کفر کا بیان، عقیدہ: 7، 1/185، مکتبۃ المدینہ]

ف 2: شریعت کا یہ قاعدہ ہے کہ کوئی صحیح العقیدہ مسلمان ہوا، گر مرتد کو مرتد، کافر کو کافر، گمراہ کو گمراہ نہ مانے اور اس کو اچھا جانے تو وہی حکم اسی پر لوٹے گا۔ اسی لیے جن اکابرِ دیوبند پر ان کے کفریہ عقائد کے سبب علمائے حرمین شریفین نے مرتد کا حکم صادر کیا ہے (جس کی تفصیل حسام الحرمین میں درج ہے) اس کو مرتد ماننا پڑے گا، ورنہ وہی حکم اس پر پلٹ آئے گا اور جن دیوبندی کی تکفیر نہیں کی گئی، وہ گمراہ ہے، تو اس کو گمراہ ماننا پڑے گا، ورنہ خود گمراہ ہوگا۔ [فتاویٰ رضویہ، 11/258، رضا فاؤنڈیشن لاہور]

(4) میرا کوئی فرقہ نہیں، کہنا: یہ صلحِ کل کا کھلا ہوا کفر ہے، کیوں کہ حدیثِ پاک میں ہے:

وَإِنَّ بَنِيْ إِسْرَائِيْلَ تَفَرَّقَتْ عَلٰى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِيْنَ مِلَّةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِيْ عَلٰى ثَلَاثٍ وَّسَبْعِيْنَ مِلَّةً، كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَّاحِدَةً، قَالُوْا: وَمَنْ هِيَ يَا رَسُوْلَ اللهِ؟ قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِيْ.

ترجمہ: بے شک بنی اسرائیل کے 72 فرقے ہوئے اور میری امت میں 73 فرقے ہو جائیں گے ایک فرقہ جنتی ہوگا باقی سب جہنمی ہیں صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی وہ ناجی فرقہ کون ہے یا رسول اللہ؟ ارشاد فرمایا: وہ جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔

[رواہ الترمذی۔ مشکوٰۃ المصابیح، رقم الحدیث: 171، المکتب الاسلامی، بیروت]

اس حدیثِ پاک کا صاف مطلب یہی ہے کہ جنت میں جانے والا سوائے ایک ہی فرقہ ہے اور وہ فرقہ مسلمان ہوگا۔ ایسا تو ہو نہیں سکتا کہ وہ فرقہ مسلمان نہیں مگر وہ جنت میں جائے گا، یہ محال ہے اور یہ واضح رہے! وہ 72 فرقے ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔

قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:

إِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِيْنَ فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدِيْنَ فِيْهَا.

ترجمہ: بے شک جتنے کافر ہیں کتابی اور مشرک سب جہنم کی آگ میں ہیں ہمیشہ۔ [سورۃ البینۃ، آیت: 6] (بقیہ ص 42 پر)

[ماہنامہ سنی دنیا، جنوری 2022ء، ص: 45]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!