| عنوان: | وندے ماترم اور اسلامی نظریہ |
|---|---|
| تحریر: | مفتی غلام مصطفیٰ نعیمی |
| پیش کش: | بنت اسلم برکاتی |
ان دنوں ہمارے ملک میں وندے ماترم کو لے کر گرما گرم بحثیں جاری ہیں، بحثوں کا سلسلہ پارلیمنٹ سے لے کر میڈیا چینلوں اور مذہبی اداروں تک چل رہا ہے۔ بحث و مباحثے کی وجہ یہ ہے کہ اس گیت کو لکھے ہوئے 150 سال مکمل ہو گئے ہیں، جس کی بنیاد پر حکومتِ ہند نے اس گیت کو عوامی سطح پر مقبول بنانے کے لیے مختلف تقریبات کے انعقاد کا فیصلہ لیا ہے۔
پارلیمنٹ میں 8 دسمبر کو اس گیت کے متعلق دس گھنٹے کا سیاسی مباحثہ بھی رکھا گیا۔ حکومتی ادارے اس گیت اور اس کے مصنف کے متعلق لوگوں کی ذہن سازی کے پروگراموں میں مصروف ہیں۔ حکومت اور میڈیا ہاؤس اس گیت کو حب الوطنی سے جوڑ کر ہر شخص پر تھوپنے کی پر زور کوشش کر رہے ہیں۔
ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے کہ جس نے یہ گیت نہیں گایا اس کی حب الوطنی مشکوک ہے یا وہ اپنے ملک سے محبت ہی نہیں کرتا۔ ایسے ماحول میں ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم اس گیت کے متعلق اسلامی احکام کو واضح کریں تا کہ مسلمانوں پر اس گیت کی تفصیلات علم میں رہیں۔ اس کے مطابق عمل کریں اور معترضین کا تشفی بخش جواب بھی دے سکیں۔
کیا ہے وندے ماترم؟
وندے ماترم بنگلہ زبان میں لکھا ہوا ترانہ ہے۔ اسے بھارت کا قومی گیت بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ ترانہ بنگلہ زبان کے شاعر بنکم چندر چٹوپادھیائے نے لکھا ہے۔ یہ ترانہ پہلی مرتبہ سات نومبر 1875ء کو بنگ درشن نامی ماہانہ رسالے میں شائع ہوا۔
اس رسالے کے بانی اور ایڈیٹر بنکم چندر ہی تھے۔ بنکم چندر نے سنہ 1882ء میں آنند مٹھ نامی ایک ناول تحریر کیا تھا۔ اس میں بھی مذکورہ ترانہ شامل تھا۔ ناول بنیادی طور پر مسلم دشمنی پر مبنی ہے۔ اسی ناول کے ایک حصے میں کچھ افراد اپنی دیوی درگا کی مورتی کے آگے یہ ترانہ پڑھتے ہیں۔ اشاعت کے اکیس سال بعد کلکتہ میں کانگریس پارٹی کا سیاسی کنونشن منعقد ہوا۔ اس کنونشن میں پہلی مرتبہ روندر ناتھ ٹیگور نے اس ترانے کو گایا۔ جس کے بعد یہ ترانہ بنگال میں اور بعدہ ملک بھر میں پھیل گیا۔
کانگریس نے اس ترانے کو سیاسی طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا۔ جب اس گیت کو قومیت کی علامت بنا کر پیش کیا جانے لگا تو روندر ناتھ ٹیگور نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے سنہ 1937ء میں سبھاش چندر بوس کو ایک خط لکھا کہ:
”وندے ماترم کا بنیادی عقیدہ دیوی درگا کی پرستش ہے اور یہ اتنا واضح ہے کہ اس پر کسی قسم کی بحث کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ بے شک بنکم نے درگا کو متحدہ بنگال کی ایک علامت کے طور پر پیش کیا ہے مگر کسی مسلم سے یہ توقع نہیں کی جانی چاہیے کہ وہ حب الوطنی کے نام پر دس ہاتھوں والی درگا کی عبادت کرے۔“ [بحوالہ: روندر ناتھ کے معنی خطوط، مطبوعہ کیمبریج یونیورسٹی]
یعنی اس گیت کو پڑھنے کے باوجود روندر ناتھ ٹیگور بہت اچھی طرح جانتے تھے کہ اس گیت کی بنیاد ہندو دھرم کے عقیدے پر رکھی ہوئی ہے۔ اس لیے قومیت اور وطنیت کی بنیاد پر کسی مسلمان کا اسے پڑھنا درست نہیں ہوگا۔ اس لیے انہوں نے اس پر نقطہِ نظر واضح کر دیا کہ مسلمانوں کو اسے پڑھنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ آزادی کے بعد دستور ساز کمیٹی میں ملک کے قومی ترانے کو لے کر مباحثہ ہوا تو کچھ لوگوں کی رائے تھی کہ وندے ماترم کو بھارت کا قومی ترانہ مقرر کیا جائے اور کچھ لوگوں کا رجحان ”جن من گن“ کی جانب تھا۔
بحث و مباحثہ کے بعد جن من گن کو بھارت کا قومی ترانہ تسلیم کر لیا گیا۔ مگر چونکہ وندے ماترم کے حامیوں کی تعداد بھی اچھی خاصی تھی اور یہ گیت عرصہ دراز سے ہندو عوام میں مستعمل تھا، اس لیے اس کے ابتدائی اشعار کو قومی گیت کا درجہ دے دیا گیا۔
وندے ماترم کا مفہوم کیا ہے؟
ان دنوں ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے جیسے وندے ماترم ہی حب الوطنی کا پہلا اور آخری سرٹیفکیٹ ہے، اس لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ پہلے ہم اچھی طرح وندے ماترم کے مفہوم و مطلب کو جان لیں۔ وندے ماترم بنگلہ زبان کا ترانہ ہے، ہم اس کے چند اشعار کا اردو ترجمہ نقل کرتے ہیں:
”اے ماں! میں تیری عبادت کرتا ہوں۔ جو اچھے پانی، پھلوں اور فصلوں سے بھرپور ہے جس کی ہوا جنوبی پہاڑوں سے آنے والی ٹھنڈی اور بھینی بھینی خوشبو کی طرح ہے۔ جس کی دھرتی ہری بھری فصلوں سے لہلہا رہی ہے۔ اے ماں! میں تیری عبادت کرتا ہوں۔ وہ جس کی رات کو چاند کی روشنی زینت دیتی ہے۔ وہ جس کی زمین کھلے ہوئے پھولوں سے، سجے ہوئے درختوں سے مزین ہے ہمیشہ بننے والی میٹھی زبان بولنے والی، راحت دینے والی، برکت دینے والی ماں! میں تیری عبادت کرتا ہوں اے میری ماں! تیس کروڑ لوگوں کی پرجوش آوازیں، ساٹھ کروڑ بازو میں سمیٹنے والی تلواریں، کیا اتنی طاقت کے بعد بھی تو کمزور ہے اے میری ماں! تو ہی میرے بازو کی قوت ہے، میں تیرے قدم چومتا ہوں۔ اے میری ماں، تیری ہی محبوب مورتی مندر میں ہے، تو ہی درگا دس مسلح ہاتھوں والی، تو ہی کملا ہے، تو ہی کنول کے پھولوں کی بہار ہے، تو ہی پانی ہے، تو ہی علم دینے والی ہے۔“
وندنا کا استعمال اور ہندو میتھالوجی
اس گیت میں لفظ ”وندے“ بار بار آتا ہے۔ یہ لفظ ”وندنا“ کے معنی میں ہے۔ وندنا کے ہندی لغات میں درج ذیل معانی لکھے گئے ہیں:
- پوجا کرنا۔
- غایت درجہ عقیدت کا اظہار کرنا۔
- پرارتھنا (دعا) کرنا۔
- پرنام (سلام) کرنا۔
درج بالا معانی سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ لفظ وندے مشترک لفظ ہے لیکن یہاں بات ذہن نشین رہے کہ مذکورہ سبھی معانی صرف لفظاً ہی مختلف ہیں حقیقتاً سبھی ایک بنیادی معنی دیتے ہیں اور وہ معنی خود کو کمترین اور سامنے والے کو معظم ترین ماننا۔ جیسے بندہ اپنے آپ کو خدا کے سامنے کمترین اور اپنے خدا کو معظم ترین مانتا ہے۔
اسی لیے ہندو دھرم میں اپنے دیوی دیوتاؤں کے لیے لفظ وندن بہ کثرت استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً انہیں اپنے دیوتا شو کی پوجا کرنا ہوتی ہے تو اس کے لیے شو وندنا کا استعمال کرتے ہیں۔ درگا دیوی کے لیے درگا وندنا، سرسوتی دیوی کے لیے سرسوتی وندنا، غرضیکہ اپنے ہر دیوی دیوتا کے لیے لفظ وندنا ہی کا استعمال کرتے ہیں۔
کبھی وہ اس سے بھگوان کی پوجا مراد لیتے ہیں۔ کبھی بھگوان سے پرارتھنا کرنا اور کبھی اپنے بھگوان کی غیر معمولی تعریف کرنا۔ بہر طور یہ لفظ دیوی دیوتاؤں ہی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہاں کبھی کبھار لفظ وندنا انسانوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جیسے کسی کے پاؤں چھونے کے لیے چرن وندنا استعمال ہوتا ہے۔ ہندو سماج میں بڑے بزرگوں (ماں باپ، استاذ وغیرہ) کے پاؤں چھونے کو چرن وندنا سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ لفظ بھی حقیقتاً دیوی دیوتاؤں کے تصور ہی کے تحت استعمال کیا جاتا ہے۔
ہندو آستھا کے مطابق ماں باپ اور استاذ بھگوان کا روپ ہوتے ہیں اس لیے وہ لوگ ماں باپ اور استاذ کو بھگوان کا روپ مان کر ان کی چرن وندنا یعنی دیوتا کا غایت درجہ احترام کرتے ہیں۔
اس تفصیل سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ ہندو دھرم میں لفظ وندنا محض تعریف یا سلام کرنے کے لیے استعمال نہیں ہوتا ہے۔
[ماہنامہ سنی دنیا، بریلی شریف، جنوری 2026ء، ص: 5]
