Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

غیر مقلدین تاریخ کے آئینے میں (قسط: اول)

غیر مقلدین تاریخ کے آئینے میں (قسط: اول)
عنوان: غیر مقلدین تاریخ کے آئینے میں (قسط: اول)
تحریر: مفتی عبد المالک مصباحی
پیش کش: بنت ریاض شیخ

شاہراہِ اسلام میں سرنگ کھودنے والی ایک ایسی جماعت جس کی جرات و بے باکی نے ہر ایرے غیرے کی زبان کو دراز اور بے لگام بنا دیا ہے، دل دہلا دینے والے خیالات اور مزعومات سے پردہ اٹھانے والی چشم کشا تحریر کا دل جمعی سے مطالعہ کیجیے اور اپنے ایمان و عقیدہ کی فصیل کی حفاظت کے سامان فراہم کیجیے۔

پیرویِ قیس نہ فرہاد کریں گے
ہم طرزِ جنوں اور ہی ایجاد کریں گے

یہ فرقہ بھی دراصل وہابیت ہی کی ایک شاخ ہے، جیسا کہ ابتدا میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا تھا، یہی لوگ اپنے آپ کو اہلِ حدیث کے نام سے مشہور کرتے ہیں، حکیم نجم الغنی رامپوری اپنی کتاب ”مذاہب الاسلام“ میں لکھتے ہیں:

”وہابیہ کی دو قسمیں ہیں، ان میں سے ایک تو وہ ہیں جنہوں نے اعلانیہ ہم سے جدائی اختیار کی اور اجماعِ امت سے علاحدہ ہو کر تقلیدِ شخصی کا انکار کر دیا ہے، ان سے ہم کو کچھ سروکار نہیں، مگر دوسری قسم کے وہابیہ ان کا فتنہ نہایت عظیم و ضرر رساں ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو ظاہر میں بڑے زور سے دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم مقلد اور پکے حنفی ہیں اور تقلیدِ امام کو تمام اصول و فروع میں واجب سمجھتے ہیں، مگر عقائد میں اکثر غیر مقلدوں سے بالکل متفق ہیں۔“

وہ وقت آ گیا ہے کہ ساحل کو چھوڑ کر
گہرے سمندروں میں اتر جانا چاہیے

غیر مقلدین کی ابتدا

اس جماعت کا تاریخی پسِ منظر اسی کے ایک نیازمند کی تحریر کے حوالے سے پیش ہے تاکہ اسے استنادی حیثیت حاصل رہے، مستند ہے میرا فرمایا ہوا، جناب مسعود عالم ندوی اپنی کتاب ”ہندوستان کی پہلی اسلامی تحریک“ میں لکھتے ہیں:

”ہندوستان میں حضرت سید (احمد رائے بریلوی) صاحب کی دعوت و جہاد کے ساتھ اتباعِ سنت اور عمل بالحدیث کا چرچا بھی شروع ہوا، خود سید صاحب اور ان کے ماننے والے اہلِ صادق پور (پٹنہ) تو اپنے کو حنفی مع القول بالترجیح کہتے تھے مگر خود سید صاحب کی جماعت میں مولانا اسماعیل شہید (1246ھ) کے اثر سے خالص عاملین بالحدیث کا بھی ایک طبقہ پیدا ہو گیا تھا، شروع شروع میں یہ دونوں طبقے یعنی حنفی اور اہلِ حدیث ساتھ مل کر کام کرتے تھے، دونوں کا زور جہاد پر تھا اور ان فروعی مسئلوں میں روادار تھے، مگر آگے چل کر جب مجاہدین کی داروگیر شروع ہوئی اور آمین بالجہر کہنے والے پر وہابی کا شبہ کیا گیا اور وہابی کا معنیٰ سرکاری میں باغی کے ہو گئے، تو ہندوستان کی جماعت اہلِ حدیث موجودہ شکل میں ظاہر ہوئی اور ان کے سرکردہ مولوی محمد حسین بٹالوی (1338ھ/ 1356ھ) نے سرکارِ انگریزی کی اطاعت کو واجب قرار دیا۔“

مذکورہ بالا اقتباس سے سب سے پہلے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ غیر مقلدین یا جماعتِ اہلِ حدیث کے سربراہ مولوی اسماعیل دہلوی ہیں، ان سے پہلے اس قسم کی کوئی بات نہ تھی اور نہ ہی اس نام کی کوئی جماعت، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس جماعت کی عمر دو سو سال بھی نہیں ہوئی ہے، جبکہ اسلام کا نیرِ تاباں آج سے سوا چودہ سو سال پہلے بقعہِ نور بنا چکا ہے، ساتھ ہی اس اقتباس سے یہ بات بھی کھل کر سامنے آ گئی کہ اہلِ حدیث وہابی جماعت ہی کی ایک شاخ ہے، یہ روایت ہے کہ اس وقت اس نام سے کتراتے تھے کیونکہ ”وہابی“ کا معنیٰ برٹش گورنمنٹ کی ڈکشنری میں ”باغی“ تھا اور یہ لوگ اس بات کے لیے ہرگز تیار نہ تھے کہ ہم پر بغاوت کا ذرہ برابر بھی شبہ ہو، مگر اب جب کہ یہ عارضی مانع ختم ہو چکا ہے اس لیے اب تو برملا اور فخریہ اس کا اعلان اور اعتراف کرتے ہیں، دیوبندی جماعت کے مشہور عالم مولوی خلیل احمد انبیٹھوی لکھتے ہیں:

”فرقہِ اہلِ حدیث کی عمر تخمیناً چالیس پچاس سال ہوگی، ہندوستان ہی میں اس مٹھی بھر فرقہ کا توارد ہوا اور یہاں ہی نشوونما پایا۔“

قَدْ نَبَتَتْ فِيْ هٰذَا الزَّمَانِ فِرْقَةٌ ذَاتُ سُمْعَةٍ وَّرِيَاءٍ تَدَّعِيْ لِأَنْفُسِهَا عِلْمَ الْحَدِيْثِ وَالْقُرْآنِ وَالْعَمَلَ بِهِمَا عَلَى الْعِلَّاتِ فِيْ كُلِّ شَأْنٍ مَّعَ أَنَّهَا لَيْسَتْ فِيْ شَيْءٍ مِّنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَالْعَمَلِ وَالْعِرْفَانِ

یعنی اس زمانے میں دکھاوے اور مکاری کا ایک فرقہ پیدا ہوا ہے، جو اپنے علاتی بھائی (احناف و مقلدین) کے مقابلے میں ہر قدم پر قرآن و حدیث پر عمل کرنے کا دعویدار ہے حالانکہ علم و عمل اور معرفت میں ان کا کچھ بھی دخل نہیں۔

مولوی محمد شاہ شاہجہانپوری رقم طراز ہیں:
”کچھ عرصہ سے ہندوستان میں ایک ایسے غیر مانوس مذہب کے لوگ دیکھنے میں آ رہے ہیں جس سے لوگ بالکل نا آشنا ہیں۔ پچھلے زمانے میں شاذ و نادر ہی اس خیال کے لوگ کہیں ہوں تو ہوں مگر کثرت سے دیکھنے میں نہیں آئے۔ بلکہ ان کا نام ابھی تھوڑے ہی دنوں سے سنا ہے۔ اپنے آپ کو تو وہ اہلِ حدیث یا محمدی یا موحد کہتے ہیں۔ مگر مخالف فریق میں ان کا نام غیر مقلد یا وہابی یا لامذہب لیا جاتا ہے۔“

مولوی بشیر احمد دیوبندی لکھتے ہیں:
”سارے عالم میں غیر مقلدین کا فرقہ باقاعدہ جماعتی رنگ میں کبھی پہلے تھا اور نہ موجود ہے، صرف ایک ہندوستان ایسا ملک ہے جس میں یہ فرقہ کہیں کہیں پایا جاتا ہے، لیکن ہندوستان میں انگریزی حکمرانی سے قبل اس گروہ کا کہیں بھی نام و نشان تک نہ تھا، ہندوستان میں اس فرقہ کا ظہور و وجود انگریز کی نظرِ کرم اور چشمِ کرم کا رہینِ منت ہے۔“

یہ دوسروں کی زبانی اس فرقہ کے نوپید ہونے کی شہادت ملی ساتھ ہی خود انہوں نے بھی اس کے نوزائیدہ ہونے کا اعتراف کیا ہے، جیسا کہ مشہور غیر مقلد پیشوا مولوی ثناء اللہ امرتسری لکھتے ہیں:
”امرتسر میں مسلم آبادی غیر مسلم آبادی (ہندو سکھ) کے مساوی ہے، اسی سال قبل سب مسلمان اسی خیال کے تھے جن کو بریلوی حنفی کہا جاتا ہے۔“

وہابی کے بجائے اہلِ حدیث کیوں؟

غیر مقلدین حضرات نے جب یہ دیکھا کہ سرکاری زبان میں وہابی باغی کا مترادف ہو گیا ہے تو انہیں سخت جھٹکا لگا اور یہ سوچ کر کہ کہیں گورنمنٹ کی نظرِ الطاف و عنایات جلال و عتاب میں تبدیل نہ ہو جائے، اس لیے ایک منظم پلان کے تحت سرکارِ برطانیہ کی خدمت میں ایک عریضہ پیش کیا جس میں یہ درخواست کی گئی کہ ہمیں ”وہابی“ کی بجائے اہلِ حدیث کے نام سے پکارا جائے، پروفیسر ایوب قادری لکھتے ہیں:

”انہوں نے (محمد حسین بٹالوی) اور ارکانِ اہلِ حدیث کی ایک دستخطی درخواست لیفٹیننٹ گورنر پنجاب کے ذریعے وائسرائے ہند کی خدمت میں روانہ کر دی، اس درخواست پر سرِ فہرست شمس العلماء میاں نذیر حسین کے دستخط تھے، گورنر پنجاب نے وہ درخواست اپنی تائیدی تحریر کے ساتھ گورنمنٹ آف انڈیا کو بھیج دی وہاں سے حسبِ ضابطہ تائید آ گئی کہ ”وہابی“ کے بجائے اہلِ حدیث کا لفظ استعمال کیا جائے۔“

اس طرح سے یہ لوگ اپنے آپ کو وہابی چھوڑ کر اہلِ حدیث کہنے اور لکھنے لگے۔ مگر بھلا شعر کی حقانیت کس طرح پامال کی جا سکتی ہے:

حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے
خوشبو نہیں آ سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے

مقصد جو پہلے تھا وہ اب بھی ہے، صرف نام تبدیل ہوا ہے اور بس!

غیر مقلدین کے عقائد و نظریات

غیر مقلدین کا کہنا ہے کہ اصل ماخذ قرآن و حدیث ہیں، صرف انہی دونوں سے مسائل کا استخراج اور استنباط ہو سکتا ہے، ان کے علاوہ قیاس اور اجماع تو یہ کوئی چیز نہیں، یہ لوگ تقلید کو شخصیت پرستی اور فرقہ بندی گردانتے ہیں اور لوگوں میں بڑے زور و شور سے ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کہ یہ جو اختلافات اور لڑائی جھگڑے ہو رہے ہیں اس کی اصل وجہ یہی تقلیدِ شخصی ہے لوگ الگ الگ اماموں کی پیروی کرتے ہیں اور جن کی پیروی کرتا ہے وہ انہیں کی مدح و ستائش میں زمین آسمان کے قلابے ملانے لگتا ہے، بقیہ دیگر ائمہِ کرام کی شان میں اہانت آمیز کلمات استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا جس کی وجہ سے مدِ مقابل چراغ پا ہو جاتا ہے اور آہستہ آہستہ نفرت کی چنگاری شعلہِ جوالہ کی صورت اختیار کر لیتی ہے اور نتیجہ قتل و خوں ریزی تک پہنچ جاتا ہے۔

مگر یہ سراسر مغالطہ اور لوگوں کو اپنے جال میں پھنسانے کا حربہ ہے، جس سے ہر ذی شعور اور بالغ نظر انسان باخبر ہے، کیونکہ کوئی بھی سمجھدار اور مسائلِ شرعیہ سے واقف انسان کسی امام کی شان میں گستاخی کے کلمات نکالنا تو دور کی بات ہے ایسا سوچ بھی نہیں سکتا، اس کے برخلاف خود علمائے غیر مقلدین ائمہِ کرام کی شانِ اقدس میں نازیبا کلمات استعمال کرتے ہیں، اس کی تفصیل بعد میں پیش کی جائے گی۔

مقلدین علمائے کرام کا متفقہ عقیدہ ہے کہ تقلیدِ شخصی واجب ہے اس کے بغیر صراطِ مستقیم پر گامزن رہنا نہ صرف دشوار ہے بلکہ باعثِ خطرہِ ایمان ہے، خصوصاً اس دور میں جبکہ دینی علوم کا فقدان اور اس سے بے رغبتی بالکل ظاہر و باہر ہے، تفصیل سے بچتے ہوئے یہاں صرف چند عقائد مختصراً پیش کیے جاتے ہیں۔

غیر مقلدین کے مخصوص عقائد

غیر مقلدین کے مخصوص عقائد و نظریات ذیل میں پیش کیے جا رہے ہیں:

  1. خدا پاک کا جھوٹ بولنا ممکن ہے۔
  2. انبیاءِ کرام سے بھول چوک دینی احکام میں مقرر (ثابت) ہے۔
  3. غیر مقلدین مسئلہِ رجعت کے قائل ہیں یعنی حضرت امام مہدی رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں سب مردے جو ان کی محبت میں مرے قبور سے قبلِ قیامت زندہ ہو کر ان سے مستفید ہوں گے۔
  4. حضرت ابوبکر صدیق حضرت فاطمہ کے ساتھ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کینہ رکھتے تھے۔
  5. سوائے حدیثِ متواتر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی معجزہ ثابت نہیں۔

کیا یہ کھلے بندوں کثیر در کثیر معجزاتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں؟ اس جماعت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ اسلام کا تصور کچھ اس انداز سے پیش کرتی ہے مغربی تعلیم یافتہ ذہن جس کا متمنی ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام ایک آفاقی اور عالمگیر مذہب ہے، ہر دور اور ہر زمانے کی ضرورت کی تکمیل کا سامان اس میں موجود ہے، ہر زمانے میں اس کے زریں اصول پر عمل کیا جا سکتا ہے، اسلام ہمیشہ ترقی یافتہ رہا ہے اور اپنے ماننے والوں کو ترقی ہی کی دعوت دیتا رہا ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس جذبہِ ترقی اور ذوقِ آرائشِ جمال میں اسلام کے مستحکم اور مبینہ دستور کو زیرِ قدم روند ڈالا جائے اصولِ اسلام کی دھجیاں بکھیر کر خود کو ترقی یافتہ اور روشن خیال ظاہر کرنا خام خیالی کے علاوہ اور کچھ نہیں، جبکہ غیر مقلدین حضرات اسی کو اسلام کی اصل خدمت سمجھ رہے ہیں۔

غیر مقلدیت کا فائدہ

مشہور اہلِ حدیث عالم مولوی محمد حسین بٹالوی اپنے تجربہ کی روشنی میں جو کچھ فرماتے ہیں اسے ملاحظہ کیجیے اور اس بھیانک فتنہ کے اور نہ کی کا رخ متعین کیجیے، وہ لکھتے ہیں:
”25 برس کے تجربے سے ہم کو یہ بات معلوم ہوئی کہ جو لوگ بے علمی کے ساتھ مجتہدِ مطلق ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور مطلق تقلید کے تارک بن جاتے ہیں وہ آخر اسلام کو سلام کر بیٹھتے ہیں، کفر و ارتداد کے اسباب اور بھی بکثرت موجود ہیں مگر دین داروں کے بے دین ہو جانے کے لیے بے علمی کے ساتھ ترکِ تقلید بڑا بھاری سبب ہے، مگر اہلِ حدیث میں جو بے علم یا کم علم ہو کر ترکِ مطلق تقلید کے حامی ہیں وہ ان نتائج سے ڈریں، اس گروہ کے عوام آزاد اور خود مختار ہوتے جاتے ہیں۔“

[سنی دنیا، بریلی شریف، مئی 2018ء، ص: 40]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!