Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

انسانی مسائل کا حل ایک تجزیاتی مطالعہ (قسط: دوم)

انسانی مسائل کا حل ایک تجزیاتی مطالعہ (قسط: دوم)
عنوان: انسانی مسائل کا حل ایک تجزیاتی مطالعہ (قسط: دوم)
تحریر: غلام مصطفیٰ رضوی
پیش کش: محمد صابر عطاری

مطالعہِ کائنات اور خالقِ کائنات

مخلوق کا مشاہدہ خالق کی سمت رہنمائی کرتا ہے، مبلغِ اسلام فرماتے ہیں:

”جب ہم اپنے ارد گرد (ایک وسیع کائنات)، ستاروں سے بھرپور آسمان اوپر، گوناگوں مخلوق نیچے دیکھتے ہیں اور جابجا ایک (حسین) ترتیب اور (متوازن) نمونے کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ہم مجبوراً اس نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں کہ یقیناً کسی نہ کسی مصور و صانع اور خالق کا ہونا ضروری ہے، جسے بجا طور پر کائنات کا موجدِ عظیم باعثِ اول کہا جا سکے، عقل اسے کیوں کر تسلیم کر سکتی ہے کہ یہ وسیع کائناتی نظام کسی بنانے والے کے بغیر ہی ظہور پذیر ہو گیا ہو۔ (بہ الفاظِ دیگر) مخلوق خود ہی اپنے خالق کی نشان دہی کر رہی ہے۔“ [11]

مبلغِ اسلام کے اس نکتے پر قرآنِ مقدس سے ایک دلیل دینا زیادہ مناسب سمجھتا ہوں، جس میں نظامِ کائنات میں غور و خوض کی تعلیم دے کر خالقِ حقیقی کی سمت رہنمائی کی گئی ہے اور دعوتِ فکر بھی ہے:

إِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِيْ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنْزَلَ اللهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ مَّاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيْهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ وَّتَصْرِيْفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ.

بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات و دن کا بدلتے آنا اور کشتی کہ دریا میں لوگوں کے فائدے لے کر چلتی ہے اور وہ جو اللہ نے آسمان سے پانی اتار کر مردہ زمین کو اس سے جلا دیا اور زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلائے اور ہواؤں کی گردش اور وہ بادل کہ آسمان و زمین کے بیچ میں حکم کا باندھا ہے، ان سب میں عقل مندوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں۔ (کنز الایمان) [12]

مبلغِ اسلام کے بیان کردہ اس پہلو کی مزید توضیح انہیں کے ایک اصول سے کرتے ہیں، فرماتے ہیں:

”اب ہر عقل مند کا فرض ہے کہ وہ اپنی عقل کو بروئے کار لائے اور سوچے کہ کیا اسے انسان کے گھڑے ہوئے نامکمل نظریات کو اختیار کرنا ہے، یا ہر چیز کے جاننے والے خدا کی طرف سے آئی ہوئی مکمل راہِ ہدایت کو...“ [13]

دعوتِ فکر

وجودِ باری سے متعلق عقلائے زمانہ کو غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے مبلغِ اسلام علامہ شاہ عبد العلیم میرٹھی فرماتے ہیں:

”اسے معمولی عقل سے بھی سمجھا جا سکتا ہے، ہر سچا اور غیر متعصبانہ فلسفہ اور سائنسی نظریہ بھی اس کا مؤید ہے۔ (یہ طے ہو چکا تو) منطقی جرح و قدح کے مطابق یہ بھی ضروری ہے کہ وہ (باعثِ ہستی) خلاقِ اکبر، ہمہ داں اور (اپنے علم و قدرت سے) ہر جگہ موجود ہے۔“

منکرین! عقل سے بے بہرہ تھے، اسی لیے یہ بات جو آسان بھی ہے اور مشاہداتی بھی ان کی سمجھ میں نہ آئی مبلغِ اسلام فرماتے ہیں:

”حیاتِ انسانی میں اس اعتقاد کو (وجودِ باری تعالیٰ کے عقیدے کو) عالم گیر حیثیت حاصل رہی ہے اس سے فقط انہی افراد نے انکار کیا ہے جن کے جذباتی تعصب نے انہیں عقل و خرد سے بے نیاز ہو کر سوچنے پر آمادہ کیا۔“ [14]

عقل گو آستاں سے دور نہیں
اس کی تقدیر میں حضور نہیں

نظامِ کائنات پر تفکر یہ بتاتا ہے کہ پورا نظام کسی کے تابع ہے اور ہر ایک فطرت کے مطابق حرکت پذیر، دوسرے الفاظ میں کائنات کا ہر جز اللہ تعالیٰ کے احکام کی متابعت کی بنیاد پر مسلم ہے:

وَلَهٗ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّإِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَ.

اور اس کے حضور گردن رکھے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں خوشی سے اور مجبوری سے اور اسی کی طرف پھریں گے۔ (کنز الایمان) [15]

انبیاء کا آفاقی پیغام

انسانوں کی رہنمائی کے لیے انبیاء تشریف لائے اور خدا کی اطاعت کی تعلیم دی، فطرت سے انحراف کرنے والوں کو مبلغِ اسلام، انبیائے کرام کے مشن سے متعلق عقلی بات سمجھاتے ہیں:

”خدا سے پیغامات حاصل کرنے اور خلق تک پہنچانے کی بنا پر انہیں مذہبی اصطلاح میں رسول یا نبی کہا جاتا ہے مکتبی بلکہ ہر قسم کی ظاہری تعلیم حاصل نہ کرنے کے باوجود، وہ بلند ترین عقل و علم کی باتیں سکھاتے ہیں۔“

انبیاء کے پیغام کو جب فراموش کر دیا جاتا تب دوسرے نبی جلوہ گر ہوتے اور پیغام کی تکمیل فرما دیتے اور حقانیت کی راہ دکھاتے، بعثتِ انبیاء کا سلسلہ جاری رہا اور آخر وہ وقت بھی آیا جب پوری انسانیت تاریکی کی نذر ہو گئی اور عالم گیر رہنمائی کی محتاج، مبلغِ اسلام کے الفاظ میں:

”یہ سب (حضرات انبیائے کرام علیہم السلام باری باری) تشریف لا کر اپنا اپنا کام (یعنی خلق کی ہدایت) کرتے گئے، حتیٰ کہ ایک ایسا وقت بھی آ گیا جب حیاتِ انسانی ایک عالم گیر تاریکی میں محصور ہو گئی... عالم گیر اصلاح کے لیے ایک عالم گیر پیغام کی ضرورت تھی اور جس خدائے واحد و یکتا نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک سب رسولوں کو وحی بھیجی تھی، حضرت محمد مصطفیٰ علیہ الصلاۃ والسلام والتحیۃ والثناء کو بھی وحی بھیجی، وہی جنہوں نے تاریخِ انسانیت میں بالکل پہلی بار خدائی حکم کے مطابق یہ دعویٰ کیا: يٰأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّيْ رَسُوْلُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيْعًا. (پ 9 ع 10) اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوں۔“ [17]

اس میں ختمِ نبوت کی یہ دلیل بھی مل گئی کہ دوسرے انبیاء کسی خاص علاقہ یا قوم میں جلوہ گر ہوتے تھے لیکن سرکارِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دعوت پیش کی وہ عالم گیر تھی اور اس آفاقی دعوت سے تمام انسانیت کو رہنمائی و ہدایت ملی جس کی مثال تاریخِ انسانی میں نہیں ملتی۔

آخری پیغام کی عقلی دلیل

مبلغِ اسلام اپنے دعوتی اسلوب میں عقلی تجزیہ پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تشریف لائے جب پریس (Press) اور پیغام کو ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھنے کے دوسرے ذرائع ان سائنسی کوششوں کے نتیجے میں رونما ہونے ہی والے تھے جن کا آغاز خود آپ کے غلاموں نے کیا، آپ کا پیغام مستقل اور ابدی ہے، کیوں کہ رب تعالیٰ نے خود درج ذیل الفاظ میں اس کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے:

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهٗ لَحَافِظُوْنَ.

بے شک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بے شک ہم خود اس کے نگہبان ہیں۔ (کنز الایمان) [سورۃ الحجر: 9]

اور اس کے کامل ہونے کا اعلان یوں فرمایا ہے:

اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِيْنًا.

آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا۔ (کنز الایمان) [18، المائدۃ: 3]

یہاں قرآن کے الفاظ میں یہی پیغام کھل کر سامنے آتا ہے:

إِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ.

بے شک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے۔ (کنز الایمان) [19]

اسلام کے اصولوں پر عمل بالخصوص سرکارِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کی ترغیب دیتے ہوئے حقیقی مسرت کے حصول کا راز ان الفاظ میں ذکر کرتے ہیں اور قوانینِ الٰہی کی اطاعت و پیروی کی تلقین بھی:

”سچی مسرت اور حقیقی کامرانی خدائے تعالیٰ کے مقرر کردہ اور برگزیدہ رسولانِ کرام کے لائے ہوئے قوانین کے مطابق زندگی کے جسمانی، اخلاقی اور روحانی پہلوؤں کی متوازن نشو و نما ہی سے حاصل کی جا سکتی ہے۔“ [20]

قوانینِ اسلام پر عمل کرنے کے نتیجے میں سکونِ قلب، تسکینِ روح اور مسرت کا حصول ہوگا، مبلغِ اسلام نے انسانی مسائل کا حل میں مذہب کی ضرورت کے ضمن میں محسوسات پر بھی سائنٹیفک انداز میں گفتگو کی ہے اور حقیقی مسرت کے حصول کے لیے رجوع الی اللہ اور قربِ الٰہی کے پہلو پر قرآنِ مقدس سے دلیل قائم کر کے روشنی ڈالی ہے۔

قربِ الٰہی

مبلغِ اسلام اس پہلو سے ایک مثال دیتے ہیں جو ہر ذی شعور کی سمجھ میں بہ آسانی آئے گی:

”روز مرہ کی زندگی میں اگر آپ کسی ایسے شخص سے اچھی طرح منسلک ہو جائیں جو کسی قسم کی طاقت رکھتا ہو تو آپ اپنے اندر بھی ایک نئی قوت محسوس کریں گے، اب اس ذات سے حصولِ قرب کا اندازہ کیجیے جو زندگی، نور کمال اور قوت کا حقیقی منبع ہے۔“ [21]

اس مقام پر مبلغِ اسلام نے ان انسانوں کی حالتِ زار کو بیان فرمایا ہے جو محرومی کا شکار ہیں نیز اس کے اسباب بھی بیان فرمائے جن کے باعث بندہ قربِ الٰہی سے محروم ہو رہتا ہے۔

عبادت

کیا ربِ قدیر نے جو ہم پر والدین سے زیادہ مہربان ہے اور جس نے اسی بنا پر اپنے رسولانِ کرام علیہم السلام کے ذریعے ہماری رہنمائی کا بندوبست فرمایا، اپنے ذکر کا کوئی بہترین طریقہ بھی سکھایا ہے، کیا عبادت کی معینہ صورتیں یا ایک ہی وقت کی عبادت سودمند یا کافی ہے، یہ وہ سوالات ہیں جو ہمارے دماغ میں ابھرتے ہیں اور جن کا جواب خود قرآنِ حکیم نے دیا ہے، ہمیں حکم ہے کہ پانچ دفعہ تو فرض نمازیں ادا کریں اور ان کے علاوہ زندگی کا لمحہ لمحہ اپنے رب کی یاد سے معمور رکھیں، الہامی کلام کے الفاظ میں:

اَلَّذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللهَ قِيَامًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰى جُنُوْبِهِمْ.

جو اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے۔ (کنز الایمان) [آل عمران: 191]

اس مقام پر مبلغِ اسلام عبادت و ذکرِ الٰہی کی دو صورتیں ذکر کرتے ہیں:

  1. ہم ہر لمحے کے اختتام پر یہ یاد رکھیں کہ تمام قوت و خوبی اس (ذاتِ باری) سے ملتی ہے، وہی اصل میں ہر حسن و کمال دینے والا اور ہم تو محض اس کے بھکاری ہیں۔
  2. کوئی بھی عمل کرتے وقت باخبر رہیں کہ یہ کام خدا کے اتارے ہوئے اور خدا کے سکھائے ہوئے قوانین کے مطابق ہے کہ نہیں۔ [22]

عمل کی ترغیب کا منطقی انداز

ایک مشفق استاذ یہ چاہتا ہے کہ اپنا درس طالب علم کے ذہن میں اتار دے اور ایسا کہ وہ اسے پھر نہ بھولے اس لیے استاذ مثالوں سے اپنی بات کو آسان اور قابل فہم بناتا ہے مبلغ اور داعی کا وصف یہی بتایا گیا ہے کہ وہ پر از حکمت کلام کرتا ہے اور اسلام کی تعلیمات کو سلجھے ہوئے انداز میں پیش کر کے فکر پر خوشگوار اثرات مرتب کرتا ہے، مبلغِ اسلام اس جوہر سے مرصع تھے اور ایک مشفق و کامیاب استاذ بھی، جو حق کی دعوت کے نکات کو ذہن نشین کرانے کا فن خوب جانتے تھے، کچھ ایسا ہی انداز اس اقتباس میں دکھائی دیتا ہے، جس میں عمل کی ترغیب بھی ہے اور اسلام کی تعلیمات کی سچائی پر دعوتِ فکر بھی:

”جس طرح سائنس کا کوئی نظریہ عملی تجربے سے تائید لیے بغیر مکمل طور پر سمجھ میں نہیں آ سکتا بالکل اسی طرح آپ اسے بھی عملی طور پر آزمائیں یہ کارروائی خود نظریے کی صداقت کا ثبوت پیش کر دے گی، جب آپ اپنے اعمال کی بنیاد ذکرِ خدا پر رکھیں گے تو جلد ہی اپنی زندگی کو خدائے الٰہی کے مطابق ایک متوازن سانچے میں ڈھلی ہوئی پائیں گے۔“ [23]

انسانی مسائل کے حل کا پیغام

اپنے معرکۃ الآراء مقالہ ”انسانی مسائل کا حل“ کے آخر میں مبلغِ اسلام، اسلام پر ثابت قدمی کا پیغام عقیدے کی بنیاد پر ان الفاظ میں دیتے ہیں، جن میں ادیانِ باطلہ کی تردید کے ساتھ ہی تنبیہ بھی ہے اور قلبی واردات کی کیفیت بھی:

”خبردار! خدا ہی آپ کا مالکِ حقیقی اور شہنشاہِ ازلی ہے، اس کے احکام کے آگے سرِ تسلیم خم کر کے اس کے رسولوں کی اتباع کیجیے، جن میں آخری حضرت محمد مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء ہیں، اسی راستے پر خود چلیے اور اسی کی دوسروں کو تلقین کیجیے اور اسی پر چل کر فوز و فلاح، ابدی سکون اور دوامی مسرت حاصل کیجیے۔“ [24]

اس پیغام کو ہم مبلغِ اسلام کی ”اذانِ سحر“ بھی کہہ سکتے ہیں جس میں حق کی اشاعت کا جذبہِ صادق موجود ہے، جس سے گلستانِ حیات میں تازگی کا احساس ہوتا ہے، اقبال نے کہا تھا:

وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستانِ وجود
ہوتی ہے بندہِ مومن کی اذاں سے پیدا

اختتامیہ

نجات و مسرت کا حصول صرف قوانینِ فطرت کی اطاعت میں پنہاں ہے، اس سے بغاوت کی کوکھ سے ہی مسائل سر ابھارتے ہیں اور انسانیت ذلت و پستی اور رسوائی سے دوچار ہوتی ہے مبلغِ اسلام نے انسانی کمزوریوں کی خوب نشاندہی کی ہے اور اس کے تدارک کی دوا تجویز کی ہے۔ ”انسانی مسائل کا حل“ میں آپ نے یہی فکر دی کہ فطرت کو اپنایا جائے اور خلافِ فطرت سے اجتناب برتا جائے، تب دنیا مسرت کا گہوارہ بنے گی اور امن و سکوں کا گلستاں اور یہ حقیقی مسرت دینِ فطرت میں ہے جسے اسلام کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے، یہاں اس مفہوم کی وضاحت میں مبلغِ اسلام کے افکار کے عطر سے ایک نمونہ پیش کرنا مناسب سمجھتا ہوں جس کی خوشبو یقیناً وجود کو مہکا دے گی:

”اسلامی تعلیمات کے مطابق قادرِ مطلق رب پر ایمان رکھنا اور اس کے احکامات کے آگے سرِ تسلیم خم کر دینا انسانی فطرت ہے، ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

كُلُّ مَوْلُوْدٍ يُّوْلَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ.

یعنی ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے۔ [صحیح بخاری، کتاب الجنائز؛ باب: ما قیل فی أولاد المشرکین] صحابہ نے عرض کی: فطرت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: طبیعتِ اسلام، اس لیے اسلام فطرت کا مترادف ہے اور فطرت اسلام کے مترادف، اسلام کی ساری تعلیمات فطرت سے ہم آہنگ ہیں۔“ [25]

اس فطرت سے انحراف کی بنیاد پر ہی دنیا طرح طرح کے مسائل سے گزر رہی ہے، انسانی مسائل کا حل صرف اسلام میں ہے اور حق کی راہ روشن ہے مبلغِ اسلام علامہ شاہ عبد العلیم صدیقی کے مرشدِ گرامی امام احمد رضا نے بجا ہی فرمایا ہے:

ترے دینِ پاک کی وہ ضیا کہ چمک اٹھی رہِ اصطفا
جو نہ مانے آپ سقر گیا کہیں نور ہے کہیں نار ہے

حوالہ جات:

  1. عبد العلیم میرٹھی، علامہ، انسانی مسائل کا حل، مترجم محمد حسین آسی، پروفیسر، ورلڈ اسلامک مشن کراچی 2008ء، ص: 8-9
  2. سورۃ البقرۃ: 164
  3. عبد العلیم میرٹھی، علامہ، اسلام کے اصول، مترجم محمد حسین آسی، پروفیسر، مشمولہ تبرکات مبلغِ اسلام، اویسی بک اسٹال گوجراں والہ 2004ء، ص: 192
  4. عبد العلیم میرٹھی، علامہ، انسانی مسائل کا حل، مترجم محمد حسین آسی، پروفیسر، ورلڈ اسلامک مشن کراچی 2008ء، ص: 9
  5. سورۃ آل عمران: 83
  6. عبد العلیم میرٹھی، علامہ، انسانی مسائل کا حل، مترجم محمد حسین آسی، پروفیسر، ورلڈ اسلامک مشن کراچی 2008ء، ص: 10
  7. مرجع سابق، ص: 11-12
  8. مرجع سابق، ص: 13-14
  9. سورۃ آل عمران: 19
  10. عبد العلیم میرٹھی، علامہ، انسانی مسائل کا حل، مترجم محمد حسین آسی، پروفیسر، ورلڈ اسلامک مشن کراچی 2008ء، ص: 14
  11. مرجع سابق، ص: 16-17
  12. مرجع سابق، ص: 19-20
  13. مرجع سابق، ص: 20
  14. مرجع سابق، ص: 21-22
  15. عبد العلیم میرٹھی، علامہ، تبلیغِ اسلام کے اصول و فلسفہ، خورشید احمد سعیدی، تحریکِ فکرِ رضا ممبئی، ص: 21-22

[ماہنامہ سنی دنیا، بریلی شریف، فروری 2022ء، ص: 88]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!