Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

غیرت مند مرد پاکیزہ معاشرہ

غیرت مند مرد پاکیزہ معاشرہ
عنوان: غیرت مند مرد پاکیزہ معاشرہ
تحریر: بنت سلیم عطاریہ

معاشرے میں بے حیائی و بے پردگی اور گناہ جس تیزی سے پھیل رہے ہیں اس کی بہت بڑی وجہ حیا اور غیرتِ ایمانی کی کمی ہے۔ عورت اپنی حیا اور پردے کی حفاظت کرے اور مرد بھی اپنی غیرت کو زندہ رکھے تو مسلمانوں میں بڑھتے ہوئے اس بے حیائی اور گناہوں کے سیلاب کو روکا جا سکتا ہے۔ افسوس کہ دورِ پر فتن میں جہاں عورت سے حیا و پردہ چھیننے اور اس سے متنفر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے وہیں مرد کی غیرت بھی کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں بے پردگی عام ہو رہی ہے۔ جس معاشرے کے مردوں کی عقل پر پردے پڑ جائیں ان کی عورتیں بے حیا اور بے پردہ ہو جاتی ہیں۔ اکبر الہ آبادی کا شعر ہے:

بے پردہ نظر آئیں جو چند بیبیاں
اکبرؔ زمیں میں غیرتِ قومی سے گڑ گیا

پوچھا جو ان سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا؟
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا

اللہ پاک نے مرد کو حاکم بنایا ہے جیسا کہ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا: اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ ترجمہ کنز الایمان: ”مرد افسر ہیں عورتوں پر“۔ [النساء: 34]

تفسیر صراط الجنان میں ”اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ“ کے تحت مذکور ہے: عورت کی ضروریات، اس کی حفاظت، اسے ادب سکھانے اور دیگر کئی امور میں مرد کو عورت پر تسلط حاصل ہے گویا کہ عورت رعایا اور مرد بادشاہ، اس لیے عورت پر مرد کی اطاعت لازم ہے۔

لہذا مرد کی ذمہ داری جہاں کفالت اور نان و نفقہ کی ہے وہیں اس کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گھر میں اسلامی احکامات کو نافذ کرے، اپنی بیوی اور محارم کو پردہ و حیا کی تعلیم دے۔ ان پر غیرت کھائے اور وہ شخص جو اپنی محارم یا بیوی پر غیرت نہ کھائے وہ دیوث ہے۔

جیسا کہ فتاویٰ رضویہ میں در مختار کے حوالے سے مذکور ہے: ”ديوث من لا يغار على امرأته أو محرمه“ ”جو اپنی عورت یا اپنی کسی محرم پر غیرت نہ رکھے وہ دیوث ہے“۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 6، ص: 486]

دیوث کے متعلق حدیث پاک میں وعید آئی ہے کہ وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔ جیسا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تین شخص جنت میں نہیں جائیں گے، ماں باپ کو ستانے والا اور دیوث اور مردانی وضع بنانے والی عورت“۔ [مجمع الزوائد، ج: 8، ص: 270، حدیث: 13432]

مردانگی فقط طاقت نہیں بلکہ غیرت کا نام ہے۔ بے پردگی و بے حیائی کا دور دورہ ہے، مسلمان خواتین پارکوں، شاپنگ سینٹرز، اور تفریحی مقامات پر بے پردہ گھومتی، بالخصوص غیر محرم رشتہ داروں سے بے تکلف ہوتیں اور فقط اتنا نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر اپنی زینت دکھا کر معاشرے میں بے حیائی کو عام کر رہی ہیں مگر افسوس کہ مرد اپنی ذمہ داری سے غفلت برتتے ہیں اور غیرت نہیں کھاتے۔

یہ دین اسلام کے احکامات اور حلال و حرام کا معاملہ ہے۔ سرعام رب تعالیٰ کی نافرمانیاں کی جا رہی ہیں مگر مسلمان کی غیرت جاگتی نہیں جبکہ مومن کامل تو وہ ہے جو رب تعالیٰ کی نافرمانی دیکھے تو اس کی غیرتِ ایمانی جوش میں آ جائے اور اسے روکے، اس کو ختم کرنے کے لیے کڑھے۔

نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے جو برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روک دے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان کے ذریعے روکے، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اپنے دل میں برا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے“۔ [صحیح مسلم، ص: 49، حدیث: 177]

خدارا مسلمان اپنی غیرتِ ایمانی کو کام میں لائیں اور ان بڑھتے ہوئے فتنوں کو روکیں اور معاشرے کی اصلاح میں اپنا کردار ادا کریں۔ ایسی خواتین جو بے پردگی و بے حیائی پھیلا رہی ہیں ان کو روکا جائے اور ان کے اس عمل کی کسی بھی صورت حوصلہ افزائی نہ کی جائے بلکہ حوصلہ شکنی کی جائے اور وعظ و نصیحت کی جائے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!