| عنوان: | حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ: حیات مبارکہ کی چند جھلکیاں (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | غلام مصطفی قادری |
| پیش کش: | آفرین فاطمہ رضویہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
مقام فاروق اعظم نگاہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں
حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اللہ تعالٰی نے وہ مقام عطا فرمایا: جس کو الفاظ کی زبان میں کماحقہ بیان نہیں کیا جا سکتا۔ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے جو فضائل بیان فرمائے ان سے بھی آپ کی عظمت و رفعت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
آئیے چند احادیث مبارکہ ملاحظہ کریں
امیر المومنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر میں تم میں مبعوث نہ ہوتا تو عمر نبی کر کے بھیجا جاتا، اللہ تعالٰی نے دو فرشتوں سے عمر فاروق کی تائید فرمائی ہے کہ وہ دونوں عمر کو توفیق دیتے اور ہر امر میں سے ٹھیک راہ پر رکھتے ہیں، اگر عمر کی رائے لغزش کرتی ہے تو وہ فرشتے عمر کو ادھر سے پھیر دیتے ہیں تاکہ عمر حق سے ہی صادر ہو۔ [جامع الاحادیث، ج: ٤، ص: ٥٧٣]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگلی امتوں میں کچھ لوگ فراست صادقہ و الہام حق والے ہوتے تھے، اگر میری امت میں ان سب سے کوئی ہوگا تو وہ ضرور عمر ہے۔ [صحیح البخاری، ص: ٤٩٣]
حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جنت میں گیا تو ابوطلحہ کی بیوی رمیصا کے پاس پہنچا اور میں نے ایک آہٹ سنی تو میں نے کہا یہ کون ہیں؟ فرمایا: یہ بلال ہیں اور میں نے ایک محل دیکھا، جس کے صحن میں ایک بی بی تھیں، میں نے کہا یہ کس کا ہے؟ سب نے کہا عمر بن خطاب کا۔ میں نے چاہا کہ وہاں داخل ہوں کہ اسے دیکھوں تو تمہاری غیرت یاد آ گئی، جناب عمر نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں آپ پر غیرت کر سکتا ہوں؟ [مشکوۃ شریف، ص: ٥٥٧]
حضرت عقبہ ابن عامر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”اگر میرے بعد نبی ہوتا تو جناب عمر بن خطاب ہوتے“۔ [مشکوۃ شریف، ص: ٥٥٨]
کتب احادیث میں بکثرت فضائل عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان ہوئے ہیں تاہم انہی احادیث پر اکتفا کیا جا رہا ہے۔
دینی و ملی خدمات
حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اسلام لانے سے مسلمانوں کے عزم و حوصلے میں مزید پختگی آ گئی۔ دین اور پیغمبر دین کی مدد و اعانت کے لیے سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی قربانی کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا، آپ دین کے لیے تن من دھن سے قربان ہونے کے لیے تیار رہتے تھے، حکم رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر فوراً عمل پیرا ہو جاتے تھے، دین کی راہ میں آنے والی تکالیف و مصائب کو برداشت کرتے، آپ کی کوششوں سے مسلمان کھل کر میدان عمل میں آئے، اور کفار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مشرکین مکہ کی زبان درازیوں کا جواب دینے لگے، دعوت اسلام کے فروغ کے لیے آپ کے قیمتی مشوروں نے عمدہ کردار ادا کیا ہے۔
دین اسلام قبول کرنے کے سبب مسلمانوں کو کفار مکہ کی جن سختیوں کا سامنا کرنا پڑتا انہیں پڑھ اور سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے، ایسے حالات میں رسول کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو ہجرت کی طرف متوجہ کیا اور اس طرح یکے بعد دیگرے مسلمان ہجرت کرنے لگے، انہی میں حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی تھے۔
سیدنا علی مرتضی رضی اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں: ”جہاں تک مجھے علم ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے علاوہ جملہ مہاجرین نے خفیہ طور پر ہجرت کی لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جس روز ہجرت کا عزم کیا انہوں نے تلوار گلے میں حمائل کی اپنی کمان کندھے پر رکھی، تیر اپنی مٹھی میں لیے، چھوٹا نیزہ اپنی کمر کے ساتھ آویزاں کیا بایں کروفر طواف کعبہ کے لیے حرم شریف میں پہنچے، سارے قریش یہ منظر دیکھ رہے تھے، کسی کو دم مارنے کی مجال نہ ہوئی، آپ نے کعبہ شریف کے سات چکر لگائے اور طواف مکمل کیا مقام ابراہیم کے پاس دو نفل پڑھے، قریش کے رئیسوں نے حسب دستور جگہ جگہ اپنی اپنی مجلسیں جمائی ہوئی تھیں ان کی ہر مجلس میں گئے اور بلند آواز سے اعلان کیا:“
”تمہارے چہروں پر پھٹکار ہو۔ اللہ تعالٰی ان ناکوں کو خاک آلودہ کرے، جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کی ماں اس کو روئے، اس کی اولاد یتیم ہو، اس کی بیوی بیوہ بنے، تو وہ اس وادی کے دوسری طرف آئے اور مجھ سے مقابلہ کرے“۔
حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ: حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یہ اعلان کیا، کسی کو جرأت نہ ہوئی کہ آپ کے چیلنج کو قبول کرتا چنانچہ آپ یثرب (مدینہ) کی طرف روانہ ہو گئے۔
مدینہ کی ہجرت اسلام اور مسلمانوں کی زندگی میں ایک نئے دور اور نئی سیاست کی ابتداء تھی، مہاجرین مکہ انصار مدینہ سے مل گئے، اس اجتماع نے مسلمانوں کی آواز بلند کر دی اور ان کی تحریک دین توانا و مستحکم ہو گئی۔
مدینہ میں مسلمانوں کو جو اقتدار حاصل ہو گیا اس نے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لیے ایسے بہت سے راستے کھول دیے جو کہ مسدود تھے، وہ ایک صاحب نظم اور ایک صاحب رائے انسان تھے قوت و شجاعت میں امتیازی شان رکھتے تھے، یہاں آ کر حضرت کی وہ ساری صلاحیتیں چمکیں اور ان کے استعمال کا پورا پورا موقع ملا۔ دین حق کی تبلیغ و اشاعت کا، سلطنت اسلامی کی تاسیس، حربی و عسکری تنظیم کے مسائل درپیش تھے، حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ ان تمام معاملات میں آگے آگے رہے وفات رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک کوئی ایسا اہم مسئلہ یا مہم نہیں جس میں آپ نے ایک سچے شیدائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت سے حصہ نہ لیا ہو۔ [خلفائے راشدین، ص: ١٧٤، ١٧٥]
دین کی سربلندی اور استحکام کے لیے اسلام اور کفر کے مابین جو معرکے ہوئے جنہیں غزوات کہا جاتا ہے، سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ان میں بھی شرکت فرما کر اپنی مثالی قربانیاں پیش فرمائیں، غزوۂ بدر، غزوۂ احد، غزوۂ خندق، خیبر، فتح مکہ اور صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ کی کاوشیں اور قیمتی مشورے آج بھی صفحات تاریخ میں درخشاں ہیں، جنہیں پڑھ کر اہل ایمان و ایقان کے قلوب و اذہان میں جذبۂ جاں فروشی بیدار ہو جاتا ہے، اور ان مواقع پر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی نمایاں قربانیاں بھی بے مثال ہیں، آپ ہی کے عہد خلافت میں قیصر و روم اور کسری ایران کی ہزارہا سالہ جابرانہ سلطنتیں پاش پاش ہوئیں عراق، ایران، شام، اور فلسطین وغیرہ بڑے ممالک فتح ہوئے۔
مسند خلافت پر جلوہ گری
سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے وصال کے بعد سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ مسند آرائے خلافت ہوئے چنانچہ ٢٣ جمادی الآخرہ ١٣ھ کو آپ خلیفہ بنائے گئے، بیعت عام ہوئی اور اس کے بعد آپ نے یہ بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا:
”عرب کی مثال اس اونٹ کی سی ہے جو اپنے ساربان کا مطیع ہو اس کے رہنما کا فرض یہ ہے کہ وہ دیکھے اس کو کس طرح لے جا رہا ہے میں رب کعبہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تم کو راہ مستقیم پر لے چلوں گا۔“
دس سال چھ مہینے پانچ دن بڑی شان و شوکت کا حق ادا کیا۔
علم و فضل
تربیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں رہنے والوں کے علم و فہم کا کیا کہنا، وہاں پڑھایا بھی جاتا ہے اور پلایا بھی جاتا ہے، سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ قرآن و حدیث، فقہ، علم الانساب، شعر و سخن، وعظ و خطابت اور فن حرب میں ماہر تھے، رسول کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے علم و فن کا تذکرۂ جمیل فرمایا، ملاحظہ فرمائیں:
رسول کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے پاس دودھ کا پیالہ لایا گیا میں نے اس سے پیا اور جو باقی بچا عمر بن خطاب کو دے دیا، صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے اس کی کیا تعبیر فرمائی؟ آپ نے فرمایا! ”علم“۔ [جامع ترمذی، ج: ٢، ص: ٢١٠]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہم نے کسی شخص کو عمر سے زیادہ ذکی، ذہین، اور سخی نہیں پایا“۔ [تاریخ الخلفاء، ص: ٧٤]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ: اللہ کی کتاب کے علم کو عمر ہم سب سے زیادہ جانتے تھے، اور اللہ کے دین کے معاملے میں ہم سب سے فقیہ تھے، ترازو کے ایک پلے میں ساری دنیا کا علم رکھا جائے تو عمر کے علم کا پلہ بھاری رہے گا۔
آپ سے کئی احادیث مروی ہیں، حدیث کے بہت بڑے عالم اور ارشادات مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ سمجھنے والے تھے، آپ سے ٥٣٤ حدیثیں مروی ہیں، صحابہ میں عمر بن خطاب نام کے اور کوئی صاحب نہیں، البتہ راویان حدیث میں اس نام کے چھ حضرات ہیں۔ [نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری، ص: ١٤٨]
اپنی خداداد بصیرت علمی سے آپ نے مختلف شعبوں میں کثرت سے فیصلے فرمائے اور پیچیدہ گتھیوں کو سلجھایا。
سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ اور عدل ومساوات
اسلام بلاشبہ اخوت و مساوات کا مذہب ہے، رواداری اور انسانیت کی بقا اس کی ممتاز تعلیمات ہیں قرآن و احادیث میں جابجا عدل و مساوات اور رواداری کی تعلیم دی گئی ہے، رسولِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور پرائے امیر اور غریب صغیر و کبیر کے ساتھ حقوق کی ادائیگی اور رواداری کی جو مثالیں چھوڑی ہیں وہ رہتی دنیا تک یاد کی جائیں گی، اسی طرح آپ کی صحبت و تربیت میں رہ کر آفتاب علم و ماہتاب عمل بننے والے صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے عدل و انصاف کے نرالے نمونے پیش کیے ہیں، آئیے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے عدل و مساوات کے کچھ نظارے کریں۔
حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کو خوف و خشیت الٰہی، تقوی و طہارت اور نیکی اور پارسائی میں خاص حیثیت حاصل تھی، دنیا و مافیہا سے دل نہ لگاتے، جو کچھ کرتے رضائے الہی کے لیے کرتے اور خوشنودی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پیش نظر ہوتی، زید بن اسلم کہتے ہیں کہ: مجھ سے ابن عمر نے عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے کچھ حالات پوچھے تو میں نے بتایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد میں نے کبھی کسی کو عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے زیادہ نیک اور سخی نہیں دیکھا یہ خوبیاں ان میں عمر بھر رہیں۔ [نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری، ج: ٧، ص: ١٤٠]
عشق و محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم
صحابہ کرام میں ہر ایک عشق کی دولت سے سرشار تھا مگر خلفائے راشدین رضی اللہ تعالٰی عنہم کے جذبۂ عشق و محبت کا ایک خاص انداز تھا، وہ اپنے آقا ہی سے نہیں بلکہ ان کی ذات سے منسوب ہر چیز سے محبت رکھتے تھے، سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جو محبت کا مظاہرہ کیا وہ بے مثال ہے، آپ کے رگ و پے میں محبت کے دیپ روشن تھے، محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا کرشمہ تھا کہ آپ نے بدر کے میدان میں اپنے ماموں کو جو کفار مکہ کی طرف سے لڑنے آئے تھے اپنی تلوار سے آپ نے قتل کر ڈالا، یہ جذبۂ الفت ہی تھا کہ جب خانۂ کعبہ میں داخل ہوئے اور حجر اسود کو بوسہ دینے لگے تو برملا فرمایا:
”اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے چومتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے کبھی نہ چومتا“، اس کے بعد اسے چوما۔ [صحیح البخاری، کتاب الحج، ج: ١، ص: ٢١٨]
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ والہانہ عشق کا یہ عالم تھا کہ آپ کے تمام قرابت داروں اور متعلقین سے حددرجہ الفت رکھتے اور انہیں ہر معاملہ میں مقدم جانتے، حضور کے چہیتے غلام زید بن حارثہ کے فرزند اسامہ کا وظیفہ اپنے بیٹے عبداللہ سے زیادہ مقرر کیا، حضرت عبداللہ نے تعرض کیا تو فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسامہ کو تجھ سے زیادہ محبوب رکھتے تھے۔ [خلفائے راشدین، ص: ٣٢٨]
یہ محبت رسول ہی کی مثال ہے کہ آپ کا اٹھنا، بیٹھنا، کھانا، پینا، سونا، رہنا سہنا ہر کام سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہوتا، رسول کی مرضی کے خلاف کام کرنا گوارا نہ کرتے سادہ زندگی بسر کرنا اور اخلاق و مروت سے پیش آنا یہ صحبت نبوی ہی کے اثرات تھے جنہیں دیکھ کر اغیار بھی متاثر ہوتے نظر آتے。
خوف و خشیت الہٰی، تقوی و طہارت اور نیکی و پارسائی میں خاص حیثیت حاصل تھی، دنیا و مافیہا سے دل نہ لگاتے جو کچھ کرتے رضائے الہی کی خاطر کرتے اور رضائے مصطفیٰ پیش نظر رہتی، حضرت زید بن اسلم کہتے ہیں کہ: مجھ سے ابن عمر نے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے کچھ حالات پوچھے تو میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے کہا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد میں نے کبھی کسی کو عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے زیادہ نیک اور سخی نہیں دیکھا یہ خوبیاں ان میں عمر بھر رہیں۔ [نزہۃ القاری، ج: ٧، ص: ١٠٤]
وصال پر ملال
٢٤ ذی الحجہ بروز بدھ فجر کی نماز کے وقت یہودی غلام ابولولو کے خنجر سے محراب النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں شہید ہوئے، بعض روایات میں ٢٨ ذی الحجہ مرقوم ہے، حضرت صہیب رومی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی، روضہ مبارکہ (گنبد خضریٰ) میں حضرت سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پہلو میں دفن ہوئے عمر مبارک ٦٣ سال ہوئی، بلاشبہ آپ کی شہادت سے اہل اسلام کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہوا۔ [ماہنامہ جہان رضا، اکتوبر، نومبر ٢٠١٨ء، ص: ١٩ سے ٢٤]
