| عنوان: | حج تمتع کا تفصیلی بیان |
|---|---|
| تحریر: | فقیہ ملت الحاج مفتی جلال الدین احمد امجدی |
| پیش کش: | قافیہ نوری بنت محمد ظہیر رضوی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
تینوں قسم کے حج میں چونکہ تمتع آسان ہے اس لیے حجاج اکثر اسی طرح حج کرتے ہیں۔ لہٰذا ہم اس کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔
میقات
میقات اس جگہ کو کہتے ہیں کہ مکہ معظمہ جانے والے کے لیے وہاں سے احرام باندھنا ضروری ہے۔ مختلف راستوں سے آنے والوں کے لیے الگ الگ میقات مقرر ہیں۔
مدینہ طیبہ کی طرف سے آنے والوں کے لیے میقات ذوالحلیفہ ہے جسے آج کل بئرِ علی کہتے ہیں۔ عراق کی طرف سے آنے والوں کی میقات ذاتِ عرق ہے۔ شام اور مصر سے آنے والوں کی میقات جحفہ یا رابغ ہے۔ نجد والوں کی میقات قرن ہے۔ اہلِ یمن کی میقات یلملم ہے۔ ہندوستان و پاکستان سے جانے والوں کی میقات بھی یلملم ہی ہے۔
بحری جہاز پر سفر کرنے والے حاجیوں کے لیے یلملم سے پہلے کوئی خاص عمل نہیں ہے۔ اس درمیان میں کتاب وغیرہ کی مدد سے حج کے مسائل اچھی طرح سمجھ لیں۔ درود شریف کی کثرت کریں، قرآن پاک کی تلاوت اور توبہ و استغفار میں سارا وقت گزاریں۔
یلملم بحری راستے سے بہت دور ہے جہاز سے نظر نہیں آتا وہ مکہ شریف سے براہِ خشکی تقریباً 80 کلومیٹر دور ہے، کراچی اور بمبئی کا جہاز عام طور سے چوتھے یا چھٹے یا ساتویں دن یلملم کے مقابل پہونچتا ہے۔ وہاں پہونچنے سے چھ سات گھنٹہ پہلے جہاز والے سیٹی بجا کر یلملم آنے کی خبر کرتے ہیں اور لاؤڈ اسپیکر سے بھی اعلان کیا جاتا ہے تاکہ یلملم آنے سے پہلے ہی لوگ احرام باندھ لیں۔ یلملم کے بعد چھ سات گھنٹے میں جہاز جدہ پہونچ جاتا ہے۔
مردوں کا احرام
احرام باندھنے سے پہلے حجامت بنوا لیں تو بہتر ہے اگر حجامت نہ بنوا سکیں تو کوئی گناہ نہیں البتہ ناخن کاٹنا، بغل اور زیرِ ناف کے بال دور کر لینا مناسب ہے۔ اس کے بعد مسواک کریں اور غسل کریں۔ اگر غسل نہ کر سکیں تو وضو کر کے احرام باندھیں۔ سلے ہوئے کپڑے اور موزے اتار دیں۔ ایک سفید چادر بدن پر ڈال لیں اور ایک لنگی کے طور پر باندھ لیں۔ بعض لوگ اسی وقت سے چادر داہنی بغل کے نیچے کر کے دونوں پلو بائیں کندھے پر ڈال لیتے ہیں یہ خلافِ سنت ہے۔ (بہارِ شریعت)
احرام باندھ کر بدن اور کپڑوں پر خوشبو لگانا سنت ہے لیکن احرام کے کپڑوں پر خوشبو کا داغ نہ لگے پھر مکروہ وقت نہ ہو تو سر ڈھانک کر احرام کی نیت سے دو رکعت نماز نفل پڑھیں پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ اور دوسری رکعت میں قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ پڑھنا بہتر ہے۔ سلام پھیرنے کے بعد سر سے چادر ہٹا لیں اور اسی جگہ بیٹھے ہوئے اس طرح نیت کریں:
اَللّٰهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ الْعُمْرَةَ فَيَسِّرْهَا لِي وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي
ترجمہ: ”اے اللہ! میں عمرہ کی نیت کرتا ہوں اس کو میرے لیے آسان کر دے اور اسے میری طرف سے قبول فرما۔“
نیت کہتے ہیں دل کے ارادہ کو، تو اگر کسی نے زبان سے کچھ نہ کہا اور دل ہی میں نیت کرلی تب بھی نیت پوری ہو جائے گی۔ جو شخص احرام باندھ لے نماز کی حالت میں بھی اس کا سر کھلا رہے گا اس لیے کہ احرام کی حالت میں مردوں کو سر پر کپڑا رکھنا منع ہے۔
تلبیہ
نیت کے بعد درمیانی آواز سے اس طرح لبیک کہیں:
لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيْكَ لَكَ
ترجمہ: ”میں تیرے حضور حاضر ہوا، اے اللہ! میں تیرے حضور حاضر ہوا، تیرے حضور حاضر ہوا۔ تیرا کوئی شریک نہیں میں تیرے حضور حاضر ہوا۔ بیشک تعریف، نعمت اور ملک تیرے ہی لیے ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔“
لبیک تین بار کہے پھر درود شریف پڑھے اس کے بعد یہ دعا مانگے:
اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْئَلُكَ رِضَاكَ وَالْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَضَبِكَ وَالنَّارِ
ترجمہ: ”اے اللہ! میں تیری رضا اور جنت کا طالب ہوں اور تیرے غضب اور جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“
جو شخص مدینہ طیبہ پہلے جانا چاہے اسے یلملم سے احرام باندھنے کی ضرورت نہیں وہ مدینہ طیبہ کی میقات بئرِ علی سے احرام باندھے اور آج کل لوگ مدینہ طیبہ ہی سے احرام باندھ لیتے ہیں اس لیے کہ بس والے عموماً بئرِ علی پر ٹھہرتے نہیں۔
اور جو شخص ہوائی جہاز سے سفر کرے اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ ہوائی اڈہ پر جانے سے پہلے احرام باندھ لے اس لیے کہ درمیان میں اسے مسنون طریقہ پر احرام باندھنے کا موقع نہیں مل سکے گا۔
لبیک کے مسائل
احرام کے لیے ایک مرتبہ زبان سے لبیک کہنا ضروری ہے اگر اس کی جگہ سُبْحَانَ اللَّهِ یا اَلْحَمْدُ لِلَّهِ یا لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ جیسے کلمات کہے اور احرام کی نیت کرلی تو بھی احرام ہو جائے گا مگر سُنت لبیک ہی کہنا ہے۔ احرام کے لیے لبیک کہنے میں نیت شرط ہے۔ یعنی اگر بغیر نیت لبیک کہا تو احرام نہ ہوا۔ یونہی تنہا نیت بھی کافی نہیں جب تک کہ لبیک یا اس کے قائم مقام کوئی اور چیز نہ ہو۔ ہر فرض نماز کے بعد لبیک کہیں اور چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے لوگوں سے ملاقات کے وقت باوضو اور بے وضو درمیانی آواز سے لبیک کہتے رہیں اور جب شروع کریں تو تین بار کہیں۔ لبیک کے جو الفاظ مذکور ہوئے ان میں کمی نہ کریں اور جو شخص لبیک کہہ رہا ہے اس حالت میں اس کو سلام نہ کریں۔
عورتوں کا احرام
عورتیں بھی احرام کے لیے مسواک اور غسل کریں، حیض و نفاس والی عورتیں بھی غسل کریں اگر کسی وجہ سے غسل نہ کرسکیں تو وضو کریں۔ عورتوں کا احرام ان کے سلے ہوئے کپڑے ہیں، حیض و نفاس والی نہ ہوں تو مذکورہ بالا طریقہ پر دو رکعت نماز نفل پڑھ کر عمرہ کی نیت کرلیں، اور لبیک کہہ کر دُعا پڑھ لیں مگر عورتیں اتنی دھیمی آواز سے لبیک کہیں کہ خود سنیں لیکن غیر محرم نہ سنے اور حیض و نفاس والی ہوں تو نماز نہ پڑھیں۔
عورت کو حالتِ احرام میں سر چھپانا جائز ہے بلکہ غیر محرم کے سامنے اور نماز میں فرض ہے اور سر پر کپڑے کی گٹھڑی بھی رکھنا جائز ہے۔ اور چہرے پر کپڑا ڈالنا حرام ہے لیکن چونکہ نامحرم کے سامنے بے پردہ ہونا جائز نہیں اس لیے پیشانی پر چھجہ جیسی کوئی چیز باندھ کر اس پر نقاب اس طرح ڈالیں کہ چہرے کے کسی حصے کو نہ لگے اور چہرے پر چھجانی یا پنکھا اس طرح ڈالنا کہ چہرے کو لگے منع ہے۔ البتہ دستانے، موزے اور سلے ہوئے کپڑے پہننا عورتوں کو جائز ہیں اور ان کے لیے احرام کے دوسرے مسائل مردوں کے مثل ہیں۔
بچوں کا احرام
بچہ اگر سمجھدار ہے تو وہ خود احرام باندھے اور ارکانِ حج ادا کرے۔ اور اگر ناسمجھ ہے تو اس کی طرف سے اس کا ولی احرام باندھے اور اس کے بدن سے سلے ہوئے کپڑے نکال دے اور لنگی پہنا دے۔ اور واضح ہو کہ بچوں پر حج فرض نہیں لہٰذا اگر وہ ممنوعاتِ احرام سے نہ بچ سکیں یا حج کے تمام افعال چھوڑ دیں یا بعض چھوڑ دیں تو ان پر یا ان کے ولی پر کوئی جزا یا قضا واجب نہیں۔
وہ باتیں جو احرام میں حرام ہیں
عورت سے صحبت کرنا، شہوت کے ساتھ گلے لگانا، بوسہ دینا یا چھونا، فحش کلامی کرنا، اور گناہ جو ہمیشہ حرام تھے اب اور سخت حرام ہوگئے، کسی سے لڑائی جھگڑا کرنا مگر دین کے لیے جھگڑنا ناجائز نہیں بلکہ حسبِ ضرورت فرض اور واجب ہے۔ جنگل کا شکار کرنا یا شکاری کی مدد کرنا۔ جنگلی جانور کے انڈے توڑنا، پر اکھیڑنا، پاؤں یا بازو توڑنا، اس کا گوشت یا انڈے پکانا، بھوننا، بیچنا، خریدنا اور کھانا سب حرام ہے۔ کسی کا سر مونڈنا، اپنا یا دوسرے کا ناخن کاٹنا یا دوسرے سے اپنا کٹوانا، سر سے پاؤں تک کہیں سے کوئی بال کسی طرح جدا کرنا۔ منہ یا سر کسی کپڑے وغیرہ سے چھپانا، کپڑے کی گٹھری سر پر رکھنا۔ ہاتھ پیر کے موزے اور کسی قسم کے سلے ہوئے کپڑے پہننا، سر پر عمامہ باندھنا۔ ایسے جوتے پہننا جس سے درمیانِ قدم کی ابھری ہوئی ہڈی چھپ جائے، خالص خوشبو مثلاً مشک، زعفران، جاوتری، لونگ، الائچی، دار چینی اور زنجبیل وغیرہ کھانا، عطر اور خوشبودار تیل لگانا، زیتون یا تل کا تیل اگرچہ بے خوشبو ہوں بدن یا بال میں لگانا، جوں مارنا یا پھینکنا۔ یہ ساری چیزیں حالتِ احرام میں حرام ہیں۔
احرام کے مکروہات
بدن سے میل دور کرنا، بال یا بدن صابن وغیرہ بے خوشبو کی چیز سے دھونا۔ کنگھی کرنا اس طرح کہ بال ٹوٹنے یا جوں گرنے کا اندیشہ ہو۔ خوشبودار ڈینٹل کریم یا پاؤڈر استعمال کرنا یا خوشبودار میوہ کھانا اور قصداً خوشبو سونگھنا اگرچہ خوشبودار پھل یا پتا ہو جیسے لیموں، نارنگی اور پودینہ وغیرہ۔ غلافِ کعبہ کے اندر اس طرح داخل ہونا کہ غلافِ شریف سر یا منہ کو لگے۔ ناک وغیرہ منہ کا کوئی حصہ کپڑے سے چھپانا۔ رفو کیا ہوا یا پیوند لگا ہوا کپڑا پہننا۔ تکیہ پر منہ رکھ کر لیٹنا۔ بازو یا گلے پر تعویذ باندھنا اگرچہ بے سلے ہوئے کپڑے میں ہو۔ سر اور چہرے کے علاوہ بدن کے کسی حصے پر بلا عذر پٹی باندھنا، سنگھار کرنا، گردن میں چادر لپیٹ کر گرہ دینا، چادر یا لنگی کے ایک سرے کو دوسرے سرے سے ملا کر سوئی یا پن سے باندھنا یا گرہ دینا اور لنگی باندھ کر کمر پٹہ وغیرہ سے کسنا، یہ ساری باتیں حالتِ احرام میں مکروہ ہیں۔
احرام کے مباحات
چادر کے آنچلوں کو لنگی میں کھونسنا۔ پیسے کی حفاظت کے لیے لنگی پر کمر پٹہ یا ہمیانی باندھنا۔ ہتھیار باندھنا۔ بے میل چھڑائے غسل کرنا۔ غوطہ لگانا۔ کپڑے دھونا، جبکہ جوں مارنے کی غرض سے نہ ہو۔ مسواک کرنا۔ کسی چیز کے سائے میں بیٹھنا۔ چھتری لگانا۔ انگوٹھی پہننا۔ بے خوشبو کا سرمہ لگانا۔ دانت اکھاڑنا۔ ٹوٹے ہوئے ناخن کو جدا کرنا۔ پھنسی توڑ دینا۔ ختنہ کرنا۔ آنکھ میں جو بال نکلے اسے جدا کرنا۔ سر یا بدن اس طرح کھجانا کہ بال نہ ٹوٹیں۔ احرام سے پہلے جو خوشبو لگائی اس کا لگا رہنا۔ پالتو جانور اونٹ، بکری اور مرغی وغیرہ ذبح کرنا، پکانا، کھانا اور اس کا دودھ دوہنا، اس کے انڈے توڑنا، بھوننا اور کھانا سب جائز ہے۔ کھانے کے لیے مچھلی کا شکار کرنا اور دوا کے لیے کسی دریائی جانور کو مارنا جائز ہے۔ اگر دوا یا غذا کے لیے نہ ہو صرف تفریح کے لیے ہو تو دریا کا شکار ہو یا جنگل کا ہمیشہ حرام ہے۔ اب احرام کی حالت میں اور سخت حرام ہو گیا۔ کوا، چوہا، گرگٹ، چھپکلی، سانپ، بچھو، کھٹمل، مچھر، پسو اور مکھی وغیرہ خبیث و موذی جانوروں کو مارنا اگرچہ حرم میں ہو جائز ہے۔
منہ اور سر کے علاوہ کسی اور جگہ زخم پر پٹی باندھنا، سر یا گال کے نیچے تکیہ رکھنا، سر یا ناک پر اپنا یا دوسرے کا ہاتھ رکھنا، کپڑے سے کان اور گردن چھپانا، سرمہ لگانا یا بوری اٹھانا، گھی، چربی، اور کڑوا تیل یا ناریل، بادام اور کدو کا تیل کہ بسایا نہ ہو، اور بال یا بدن میں لگانا، ایسا جوتا پہننا جو درمیانِ قدم کی ابھری ہوئی ہڈی کو نہ چھپائے، بغیر سلے ہوئے کپڑے میں لپیٹ کر تعویذ گلے میں ڈالنا، آئینہ دیکھنا اور نکاح کرنا یہ ساری چیزیں حالتِ احرام میں جائز ہیں۔
