Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

ہر مرض کی دوا ہے صلی علی محمد ﷺ (قسط: دوم)

ہر مرض کی دوا ہے صلی علی محمد (قسط: دوم)
عنوان: ہر مرض کی دوا ہے صلی علی محمد (قسط: دوم)
تحریر: سیف الدین اصدق چشتی
پیش کش: بنت شہاب عطاریہ

آپ کو دین و دنیا کی بھلائی پر مشتمل ایک ایسا ایمان افروز مکالمہ سناتا ہوں جس میں 25 مسائل کا حل رحمتِ عالم صلى الله عليه وآله وسلم نے بیان فرمایا ہے۔ فردِ واحد ہو یا ایک پوری جماعت یا پھر ساری قوم ہی کیوں نہ ہو، یہ 25 مسائل وہ ہیں جن میں کسی نہ کسی کا انہیں شکار ہونا ہے اور ان سب کا حل اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے اپنی ایک مجلس میں عطا فرما دیا۔ حضرت خالد بن ولید رضي الله عنه اس کے راوی ہیں، وہ فرماتے ہیں، ایک بدو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے دربار میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ! میں کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔“ فرمایا: ”ہاں کہو!“

  1. اس نے عرض کیا: ”رسول اللہ صلى الله عليه وسلم! میں امیر (غنی) بننا چاہتا ہوں۔“ فرمایا: ”قناعت اختیار کرو، امیر ہو جاؤ گے۔“
  2. عرض کیا: ”میں سب سے بڑا عالم بننا چاہتا ہوں۔“ فرمایا: ”تقویٰ اختیار کرو، عالم بن جاؤ گے۔“
  3. عرض کیا: ”عزت والا بننا چاہتا ہوں۔“ فرمایا: ”مخلوق کے سامنے ہاتھ پھیلانا بند کردو، باعزت ہو جاؤ گے۔“
  4. عرض کیا: ”اچھا آدمی بننا چاہتا ہوں۔“ فرمایا: ”لوگوں کو نفع پہنچاؤ، اچھے آدمی بن جاؤ گے۔“
  5. عرض کیا: ”عادل بننا چاہتا ہوں۔“ فرمایا: ”جسے اپنے لیے اچھا سمجھتے ہو، وہی دوسروں کے لیے پسند کرو۔“
  6. عرض کیا: ”طاقتور بننا چاہتا ہوں۔“ فرمایا: ”اللہ پر توکل کرو، طاقت ور بن جاؤ گے۔“
  7. عرض کیا: ”اللہ کے دربار میں خاص درجہ چاہتا ہوں۔“ فرمایا: ”کثرت سے ذکر کرو۔“
  8. عرض کیا: ”رزق کی کشادگی چاہتا ہوں۔“ فرمایا: ”ہمیشہ باوضو رہو، تمہارے رزق میں کشادگی پیدا ہو جائے گی۔“
  9. عرض کیا: ”دعا کی قبولیت چاہتا ہوں۔“ فرمایا: ”حرام نہ کھاؤ، تمہاری دعائیں قبول ہوں گی۔“
  10. عرض کیا: ”ایمان کی تکمیل چاہتا ہوں۔“ فرمایا: ”اخلاق اچھا کر لو، تمہارا ایمان کامل ہو جائے گا۔“
  11. عرض کیا: ”قیامت کے روز اللہ سے، گناہوں سے پاک ہو کر ملنا چاہتا ہوں۔“ فرمایا: ”جنابت کے بعد فوراً غسل کیا کرو۔“
  12. عرض کیا: ”گناہوں میں کمی چاہتا ہوں۔“ فرمایا: ”کثرت سے استغفار کرو۔“
  13. عرض کیا: ”قیامت کے روز نور میں اٹھنا چاہتا ہوں۔“ فرمایا: ”ظلم کرنا چھوڑ دو۔“
  14. عرض کیا: ”چاہتا ہوں اللہ مجھ پر رحم کرے۔“ فرمایا: ”اللہ کے بندوں پر رحم کرو۔“
  15. عرض کیا: ”چاہتا ہوں اللہ میری پردہ پوشی فرمائے۔“ فرمایا: ”لوگوں کی پردہ پوشی کرو۔“
  16. عرض کیا: ”رسوائی سے بچنا چاہتا ہوں۔“ فرمایا: ”زنا سے بچو۔“
  17. عرض کیا: ”چاہتا ہوں اللہ اور اس کے رسول کا محبوب ترین بن جاؤں۔“ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ اور اس کے رسول کا محبوب ہو، اس کا اپنا محبوب بنا لو۔“
  18. عرض کیا: ”اللہ کا فرمانبردار بننا چاہتا ہوں۔“ فرمایا: ”فرائض کا اہتمام کرو۔“
  19. عرض کیا: ”احسان کرنے والا بننا چاہتا ہوں۔“ فرمایا: ”اللہ کی یوں بندگی کرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو یا جیسے وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔“
  20. عرض کیا: ”یا رسول اللہ! کیا چیز گناہوں سے معافی دلاتی ہے؟“ فرمایا: ”آنسو، عاجزی اور بیماری۔“
  21. عرض کیا: ”کیا چیز دوزخ کی آگ کو ٹھنڈا کرے گی؟“ فرمایا: ”دنیا کی مصیبتوں پر صبر۔“
  22. عرض کیا: ”اللہ کے غضب کو کیا چیز سرد کرتی ہے؟“ فرمایا: ”چپکے چپکے صدقہ اور صلہ رحمی۔“
  23. عرض کیا: ”سب سے بڑی برائی کیا ہے؟“ فرمایا: ”بد اخلاقی اور بخل۔“
  24. عرض کیا: ”سب سے بڑی اچھائی کیا ہے؟“ فرمایا: ”اچھا اخلاق، تواضع اور صبر۔“
  25. عرض کیا: ”اللہ کے غضب سے بچنا چاہتا ہوں۔“ فرمایا: ”لوگوں پر غصہ کرنا چھوڑ دو۔“ [کنز العمال، مسند احمد]

فرامینِ مصطفی صلى الله عليه وسلم کی روشنی میں اب ذرا ہم اپنا جائزہ لیں، ہم اللہ و رسول کی نافرمانیوں کے دلدل میں گردن تک ڈوبے ہوئے ہیں، تو بھلا ہم دنیاوی مسائل سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ اسراف و فضول خرچی کا شکار ہیں، ایسے میں ہم امیر وغنی کیسے ہو سکتے ہیں؟ ہم اللہ کی مخلوق کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں تو بھلا ہمارا رزق کیسے کشادہ ہو سکتا ہے؟ ہم توکل علی اللہ سے کوسوں دور ہیں تو بھلا ہم طاقتور کیسے بن سکتے ہیں؟ بد اخلاقی ہمارے رگ و پے میں بسی ہے تو پھر ہمارا ایمان کیسے کامل ہو سکتا ہے؟ ہم بندوں پر رحم نہیں کرتے تو پھر اللہ ہم پر رحم کیسے فرمائے گا؟ ہم صدقات و خیرات کو بوجھ سمجھتے ہیں تو پھر اللہ کے غضب سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ ہم پر آنے والے تمام مصائب و آلام، تکالیف و درد اور مسائل و الجھنیں اس لیے ہیں کہ ہم قدمِ نازِ مصطفی صلى الله عليه وسلم سے دور ہو کر کہیں اور اس سے اس کا حل تلاش کر رہے ہیں۔ خواجہ محمد اکبر وارثی کے روح افزا اور ناصحانہ نعتیہ کلام پر میں اپنی بات ختم کرتا ہوں:

ہر درد کی دوا ہے صل على محمد
تعویذ ہر بلا ہے صلى على محمد

محبوب کبریا ہے صل على محمد
کیا نقش خوشنما ہے صل على محمد

قربِ خدا ہو حاصل جنت میں ہو وہ داخل
جس نے لکھا پڑھا ہے صلى على محمد

جنت مقام ہوگا دوزخ حرام ہوگا
گر دل پہ لکھ لیا ہے صل على محمد

اس کی نجات ہوگی رحمت بھی ساتھ ہوگی
جو پڑھ کے مر گیا ہے صل على محمد

جو درد لادوا ہو یہ گھول کر پلا دو
کیا نسخۂ شفا ہے صل على محمد

کاندھا بدلنے والو ہمراہ چلنے والو
پڑھتے چلو ردا ہے صل على محمد

جانے بھی دے ارم کو رضواں نہ روک ہم کو
سینے پہ لکھ رکھا لکھ رہا ہے صلى الله محمد

منزل کا ہے بھروسہ اکبر بغل میں توشہ
کیا خوب لے چلا ہے صلى على محمد

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!