Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

پلی درس (قسط: دوم)

مضمون: پلی درس (قسط: دوم)
عنوان: مضمون: پلی درس (قسط: دوم)
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: دلکش قادریہ رضویہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

تنظیم المدارس و جمعیۃ المعلمین

سمستھا کیرلا کے زیرِ انتظام کیرلا کے تمام پلی درس کو ایک سلسلہ میں منسلک کر کے جدید نظام تعلیم کے اعتبار سے پلی درس کو مستحکم کر دیا گیا ہے، اور حسب ضرورت اساتذہ کی تقرری کی جاتی ہے۔ ۲۴ مارچ ۱۹۵۱ء میں ”وڈکرا“ (Vodakkara) میں حضرت مولانا حبیب اللہ (مفتی مدارس) کے زیرِ صدارت تنظیم المدارس سے متعلق میٹنگ منعقد ہوئی، پھر اسی سال ستمبر میں تنظیم المدارس کے پروگرام کو عملی طور پر سر انجام دینے کے لیے ایک منتظمہ کمیٹی کی تشکیل عمل میں آئی۔ انتظامی امور کے لیے ۳۳ ممبران منتخب ہوئے۔ حضرت مولانا محی الدین کٹی مسلیار کو صدر اور کے پی عثمان صاحب جنرل سکریٹری مقرر کیے گئے۔ حضرت سید عبدالرحمن بافقیہ کو خازن مقرر کیا گیا۔ تنظیم المدارس کمیٹی کے زیر اہتمام تمام درج رجسٹر مدارس کے ششماہی و سالانہ امتحانات ہوا کرتے ہیں۔ قراءت و تجوید قرآن کی تعلیم کے لیے سمستھا کیرلا کی جانب سے قراء و مجودین کو مقرر کیا جاتا ہے جو متعینہ مدت میں تمام ملحقہ مدارس میں تجوید و قراءت کی تعلیم دیا کرتے ہیں۔ سمستھا کے ماتحت معلمین کی بھی ایک تنظیم ہے جو ”جمعیۃ المعلمین“ کے نام سے موسوم ہے۔ جمعیۃ المعلمین کی ایک ریاستی کمیٹی ہوتی ہے۔ پھر ضلعی، علاقائی کمیٹیاں ہوتی ہیں۔ ہر ماہ ان کمیٹیوں کی میٹنگ ہوتی ہے۔

کیرلا میں جو تعلیم گاہیں ”پلی درس“ کے نام سے متعارف ہیں اور قریباً ہر مسجد میں اس کا اہتمام ہے۔ اس کے لیے مستقل نصاب تعلیم ہے۔ سمستھا کیرلا (سنی جمعیۃ العلماء) اپنی ایک ذیلی کمیٹی ”تنظیم المدارس“ کے ذریعہ کیرلا بھر کے پلی درس کی نگرانی کرتی ہے۔ اسکولوں کی طرح پلی درس میں سات کلاس ہوتے ہیں۔ ششماہی و سالانہ امتحانات بھی ہوتے ہیں۔ سمستھا کیرلا کی ذیلی کمیٹی ”جمعیۃ المعلمین“ بھی پلی درس کی نگرانی اور اس کے متعلق منصوبہ سازی کرتی ہے۔ پلی درس کی تمام درسی کتابوں کی اشاعت سمستھا کیرلا کی جانب سے ہوتی ہے۔ ریاست بھر کے پلی درس میں وہی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔ اس طرح شعبہ نشر و اشاعت سے سمستھا کیرلا کو ہر سال ایک بڑی آمدنی حاصل ہوتی ہے، جو تنظیمی امور میں صرف ہوتی ہے۔ معاونین کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے۔

ملیالم زبان میں مسجد کو ”پلی“ کہا جاتا ہے۔ اس طرح پلی درس کا مفہوم ”مسجد کا درس“ ہوا۔ چونکہ ہندوستان بھر میں اس تعلیم کا سب سے عمدہ انتظام ریاست کیرلا میں ہے۔ اس لیے اس تعلیم کا نام ریاست کیرلا کی مناسبت سے ”پلی درس“ رکھا جائے تاکہ بوقت ضرورت اہل کیرلا سے پلی درس کے اصول و ضوابط اور طور طریقے اخذ کیے جا سکیں۔ کیرلا میں پلی درس کو مدرسہ بھی کہا جاتا ہے اور اقامتی مدارس جہاں عالمیت، فضیلت کی تعلیم ہوتی ہے اسے ”کالج“ کہا جاتا ہے۔ شمالی ہند میں اقامتی مدارس کو مدرسہ یا دارالعلوم کہا جاتا ہے۔ بعض عظیم مدارس کو جامعہ بھی کہتے ہیں، جبکہ پلی درس (درس مساجد) کو ”مکتب“ کہا جاتا ہے اور عوام مسلمین مکتب کو مدرسہ کہتے ہیں۔

شمالی ہند میں علمِ دین (فرض عین)

شمالی ہند میں علمِ دین، فرض عین کے لیے کبھی کوئی خاص توجہ نہ دی گئی۔ قوم کے درمیان خصوصی طور پر یہ تحریک چلائی گئی کہ اگر علم دین فرض کفایہ کی فرصت و ہمت نہیں تو علم دین، فرض عین ضرور حاصل کریں۔ علم دین فرض عین کی تحصیل کے لیے نہ کوئی طویل مدت کی ضرورت ہے، نہ ہی مستقل وقت دینے کی ضرورت، اسکول و کالج کے فارغ اوقات مثلاً صبح بعد فجر، شام کو بعد عصر و مغرب دینی تعلیم کے لیے وقت دیا جا سکتا ہے۔ اہل کیرلا کے لیے پلی درس کا یہی ٹائم ہے، یعنی صبح کو بعد نمازِ فجر اور شام کو بعد نمازِ عصر و مغرب۔ چونکہ پلی درس میں سات کلاس ہوتے ہیں، اس لیے ہر مسجد میں امام و خطیب کے علاوہ چھ سات اساتذہ ہوتے ہیں، جنہیں ”استاذ“ کہا جاتا ہے، اور امام کو ”خطیب“ یا ”قاضی“ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ شمالی ہند میں بھی مساجد میں امام و خطیب کے علاوہ اساتذہ مقرر کیے جائیں。

شمالی ہند میں علمِ دین فرض عین کی جانب آج بھی قوم کی کما حقہ ترغیب و تشویق نہیں کی جاتی ہے۔ تمام فضائل و محاسن علم دین فرض کفایہ یعنی عالم، فاضل اور حافظ قرآن کے بیان کیے جاتے ہیں۔ مکتب کی تعلیم یا مکتب کے مدرس کی کچھ حیثیت و وقعت بھی نہیں ہوتی۔ آج نتیجہ یہ ہے کہ عام مسلمانوں کو یہ معلوم بھی نہیں کہ یہی مکتب میں دی جانے والی دینی تعلیم فرض عین ہے، اور عظیم الشان مدارس میں ہونے والی تعلیم فرض کفایہ ہے۔ اب یہ بات بالکل واضح ہے کہ جب انسان کے قلب و نظر میں کسی چیز کی اہمیت و عزت کم ہو جاتی ہے تو اس کی جانب توجہ بھی نہیں جاتی۔ یہی حال شمالی ہند میں علمِ دین فرض عین کا ہوا۔ کیرلا میں ہر مسلمان پلی درس میں لازمی طور پر تعلیم پاتا ہے، اور پلی درس کا فارغ التحصیل نصف عالم ضرور ہو جاتا ہے۔ شمالی ہند میں مکاتب کی تعلیمی بہتری کے لیے مرکز الثقافۃ السنیہ (کالی کٹ، کیرلا) کے زیر اہتمام ”اسلامک ایجوکیشنل بورڈ آف انڈیا“ تشکیل دیا گیا ہے۔ سال ۱۹۹۱ء میں اس کا مرکزی آفس دہلی میں قائم کیا گیا۔ تادم تحریر یہ بورڈ تعلیمی خدمات میں مصروف عمل ہے۔ اس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ عمل، عدم عمل سے بہتر ہے، کہا جاتا ہے ”حرکت میں برکت ہے“۔

علم دین: فرض عین سے غفلت کا نقصان کیا ہے؟

میں پلی درس یا مکتب کی تعلیم کے ساتھ بارہا فرض عین لکھ کر اس کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں، نیز اس تعلیم کی اہمیت اور قدر و قیمت سے بھی امت مسلمہ کو آگاہ کرنا مقصود ہے۔ اگر میں اس کو ”مکتب کی تعلیم“ لکھ دوں تو مکتب کی تعلیم کا جو تصور عامۃ المسلمین کے دل و دماغ میں بیٹھا ہوا ہے، وہی تصور پلٹ آئے گا۔ سبھوں کو معلوم ہے کہ مکتب کی تعلیم اور مکتب کے اساتذہ کی اہمیت ہمارے دل و دماغ میں صفر کے برابر ہے۔ حالانکہ مکتب میں علم دین فرض عین کا اہتمام ہوتا ہے۔

علم دین فرض عین سے ناواقف ہونے کے بہت سے نقصانات ہیں۔ نہ ایمان سلامت رہ سکتا ہے، نہ ہی اعمال و عبادات۔ اسلامی عقائد کی تعلیم بھی ضروری ہے، کیونکہ ہر عہد میں بد مذہب فرقے اپنے دین باطل کی طرف لگے رہے اور ایمان ہاتھ سے چلے جانے کا خطرہ عامۃ المسلمین کے سروں پر منڈراتا رہا ہے۔ علم عقائد کے ساتھ وضو، غسل، نماز اور روزے کے مسائل اور تجوید قرآن کا سیکھنا لازم ہے۔

تجوید قرآن سے ناواقف ہونے کا نقصان

نماز ہر دن میں پانچ مرتبہ ادا کی جاتی ہے۔ نماز میں آیات قرآنیہ کی تلاوت کی جاتی ہے۔ اگر قرآن نہ پڑھا ہو، یا آیات زبانی یاد نہ ہوں تو نماز میں کیا پڑھے گا؟ اگر آیات و سورتیں یاد ہیں، لیکن حروف کے مخارج اور صفات سے ناواقفیت ہے تو یہ بھی ایک بڑا معاملہ ہے۔ اگر حرف کی ادائیگی میں فساد کے سبب معنی فاسد ہو جائے تو نماز فاسد ہو جائے گی۔ صفات کی ادائیگی کا بھی خیال رہے۔ فقہی مسائل درج ذیل ہیں:

مسئلہ: ط ت، س ث ص، ذ ز ظ، ا ع، ہ ح، ض ظ، ان حرفوں میں صحیح طور پر امتیاز رکھیں، ورنہ معنی فاسد ہونے کی صورت میں نماز نہ ہوگی، اور بعض تو س ش، ز ج، ق ک، میں فرق نہیں کرتے۔ [بہار شریعت، حصہ سوم، ص: ۵۵۷، مکتبۃ المدینہ، کراچی]

مسئلہ: ایک حرف کی جگہ دوسرا حرف پڑھنا، اگر اس وجہ سے ہے کہ اس کی زبان سے وہ حرف ادا نہیں ہوتا تو مجبور ہے۔ اس پر کوشش کرنا ضروری ہے۔ اگر لاپرواہی سے ہے جیسے آج کل کے حفاظ و علماء کہ ادا کرنے پر قادر ہیں، مگر بے خیالی میں تبدیل حرف کر دیتے ہیں تو اگر معنی فاسد ہوں، نماز نہ ہوئی۔ اس قسم کی جتنی نمازیں پڑھی ہوں ان کی قضا لازم۔ [بہار شریعت، حصہ سوم، ص: ۵۵۷، مکتبۃ المدینہ، کراچی]

مسئلہ: جس سے حروف صحیح ادا نہیں ہوتے، اس پر واجب ہے کہ تصحیح حروف میں رات دن پوری کوشش کرے، اور اگر صحیح خواں کی اقتداء کر سکتا ہو تو جہاں تک ممکن ہو اقتداء کرے، یا وہ آیتیں پڑھے جس کے حروف صحیح سے ادا کر سکتا ہو اور یہ دونوں صورتیں ناممکن ہوں تو زمانہ کوشش میں اس کی اپنی نماز ہو جائے گی، اور اپنے مثل دوسرے کی امامت بھی کر سکتا ہے، یعنی اس کی کہ وہ بھی اسی حرف کو صحیح نہ پڑھتا ہو۔ اور اگر اس سے جو حرف ادا نہیں ہوتا دوسرا ادا کر لیتا ہے مگر کوئی دوسرا حرف اس سے ادا نہیں ہوتا تو ایک دوسرے کی امامت نہیں کر سکتے اور اگر کوشش بھی نہیں کرتا تو اس کی خود کی بھی نہیں ہوتی، دوسرے کی اس کے پیچھے کیا ہوگی۔ آج کل عام لوگ اس میں مبتلا ہیں کہ غلط پڑھتے ہیں اور کوشش نہیں کرتے، ان کی نمازیں خود باطل ہیں، امامت درکنار۔ [بہار شریعت، حصہ سوم، ص: ۵۷۰، ۵۷۱، مکتبۃ المدینہ، کراچی]

مسئلہ: امی پر واجب ہے کہ رات دن کوشش کرے، یہاں تک کہ بقدر فرض قرآن مجید یاد کر لے، ورنہ عنداللہ معذور نہیں۔ بلاشبہ اتنی تجوید جس سے تصحیح حروف ہو اور غلط خوانی سے بچے فرض عین ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: ۳، ص: ۱۳۰، رضا اکیڈمی]

دو قسم کی تعلیم گاہوں کا قیام لازم

علم دین: فرض کفایہ کی تعلیم کے لیے عظیم الشان اقامتی مدارس ملک بھر میں موجود ہیں۔ اب لازم ہے کہ علم دین فرض عین کی تعلیم و تربیت کے لیے چند اقامتی مدارس قائم کیے جائیں، جہاں ایک سالہ، دو سالہ کورسز ہوں۔ ان تعلیم گاہوں کو صدقات واجبہ سے بالکل مستثنی رکھا جائے۔ طلبہ سے فیس لی جائے اور انتظامات اچھے ہوں تاکہ ارباب ثروت بھی اپنے بچوں کو یہاں داخل کر سکیں۔ اس قسم کی تعلیم گاہوں کا ایک مستقل نصاب تعلیم ہو، اور ذریعہ تعلیم اردو ہو۔ ناظرہ قرآن مجید، حفظ سورۃ، تجوید، اردو زبان، سیرت نبوی، فقہ حنفی وغیرہ مضامین شامل نصاب ہوں، رفتہ رفتہ اسی نصاب تعلیم کو تمام مکاتب و انجمن میں رائج کر دیا جائے تاکہ ہر مسلمان کو دینی تعلیم کا اچھا موقع فراہم ہو سکے۔

نصاب تعلیم برائے دینیات

Syllabus for Islamic Studies

موجودہ صورتحال میں لازم ہے کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کی طرز پر دینی تعلیم کے لیے قلیل المدت مختلف قسم کے کورس ہوں۔ ہماری تجویز میں دو قسم کے پروگرام ہیں:

  1. سرٹیفیکٹ کورس ان اسلامک اسٹڈیز: یک سالہ۔
  2. ڈپلومہ کورس ان اسلامک اسٹڈیز: دو سالہ۔

اس قسم کے کورسز کا مقصد صرف یہ ہو کہ طلبہ کو فرض علم دین سے آراستہ کر دیا جائے۔ ابتدائی مرحلہ میں اس قسم کی تعلیم کے لیے باضابطہ اقامتی مدرسہ کا انتظام کیا جائے۔ پھر اسی درمیان مکتب کی تعلیم کو سدھارنے کی تدبیر جاری رہے تاکہ ہندوستان کا ہر ایک مسلمان فرض عین کی ادائیگی کر سکے۔ جسے علم دین: فرض کفایہ یعنی عالم و فاضل بننا ہو تو اس کے لیے بہت سے اقامتی مدارس موجود ہیں۔ سرٹیفیکیٹ کورس اور ڈپلومہ کے نصاب کا مجوزہ خاکہ حسب ذیل ہے۔ بوقت ضرورت اس میں ترمیم و تبدیلی کی جا سکتی ہے۔

Syllabus for certificate course in Islamic studies

First semester

  1. ناظرہ قرآن مع تصحیح حروف و صفات
  2. قانون شریعت: بحث نماز
  3. قانون شریعت: بحث روزہ و حج
  4. سیرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم
  5. اسلامی اخلاق و آداب
  6. نماز عیدین، جمعہ، جنازہ، نکاح کی عملی تربیت

2nd Semester

  1. مصباح التجوید مع مشق قراءت
  2. قانون شریعت: بحث نکاح و طلاق
  3. قانون شریعت: بحث بیع و شرا
  4. قانون شریعت: بحث عقائد
  5. اسلامی تاریخ
  6. بہار شریعت سے استخراج مسائل کی عملی تربیت، اہلیت داخلہ، امیدوار ناظرہ قرآن اور ابتدائی اردو پڑھا ہو۔ مدت تعلیم ایک سال (اپریل تا مارچ)

Syllabus for diploma in Islamic studies

1st semester

  1. بہار شریعت اول
  2. بہار شریعت سوم
  3. جاء الحق
  4. ضیاء القراءت
  5. منہاج العربیہ اول
  6. ابتدائی فارسی

2nd Semester

  1. بہار شریعت سوم
  2. بہار شریعت چہارم
  3. جاء الحق
  4. فوائد مکیہ
  5. منہاج العربیہ دوم
  6. فارسی قواعد

3rd Semester

  1. بہار شریعت پنجم
  2. بہار شریعت ششم
  3. عربی نحو و صرف
  4. فیض الادب اول
  5. تسہیل المصادر
  6. فتاوی رضویہ و دیگر اردو کتب فتاوی سے فقہی مسائل کا استخراج (عملی تربیت)

4th Semester

  1. بہار شریعت ہفتم
  2. بہار شریعت ہشتم
  3. جامع الوقف
  4. فیض الادب دوم
  5. تبلیغ دین کی عملی مشق
  6. رد و ابطال کی کتابوں سے سنی وہابی اختلافی مسائل کے جوابات کا استخراج (عملی تربیت)

شرائط داخلہ: امیدوار سرٹیفیکیٹ کورس ان اسلامک اسٹڈیز کا امتحان پاس کیا ہو یا ڈپلومہ ان اسلامک اسٹڈیز کا انٹرنس ایگزام پاس کیا ہو۔

مدت تعلیم: (اپریل اول تا مارچ دوم)

  1. اسکول میں سالانہ امتحان ماہ مارچ میں ہوتا ہے اور پھر ماہ مئی سے اسکول دوبارہ کھل جاتا ہے۔ اسکول کے نظام الاوقات کے اعتبار سے سرٹیفیکیٹ کورس اور ڈپلومہ کا وقت متعین کیا جائے، تاکہ اسکول میں تعلیم پانے والے طلبہ ایک یا دو سال کے لیے دینی تعلیم سے منسلک ہو کر دینی تعلیم حاصل کر لیں۔ پھر اسکولی تعلیم کی جانب منتقل ہو جائیں۔ اس اعتبار سے یہ دونوں تعلیمی پروگرام اپریل سے شروع کیا جائے اور آئندہ مارچ پر ختم کر دیا جائے۔ سرٹیفیکیٹ کورس مارچ اول میں اور ڈپلومہ مارچ دوم میں مکمل ہو جائے گا۔ پھر اپریل یا مئی میں طلبہ اسکول میں ایڈمیشن لے لیں۔ اس تعلیم کا سلسلہ مدارس عربیہ کی طرح شوال تا شعبان رکھنا مناسب نہیں ہے۔
  2. نصاب تعلیم میں جتنی کتابیں ہوں، سب کی مقدار تعلیم متعین ہو۔
  3. ہر سمسٹر کا امتحان متعینہ مقدار تعلیم تک ہو۔
  4. اس نظام کے لیے ایک باضابطہ بورڈ ہو، جو اس قسم کے تمام مدارس کے امتحانات اور نظام و نصاب کی نگرانی کرے۔

دینی تعلیم کے تدریسی درجات

مدارس عالیہ کے نصاب کے اعتبار سے دینی تعلیم کے متعدد تدریسی درجات ہیں:

  1. التحتانیہ
  2. وسطانیہ
  3. فوقانیہ
  4. مولوی
  5. عالم
  6. فاضل

بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ (پٹنہ) کی جانب سے وسطانیہ سے فاضل تک کے امتحانات منعقد ہوتے ہیں۔ جسے اسکول کی زبان میں پرائمری ایجوکیشن کہا جاتا ہے۔ دینیات کے شعبہ تحتانیہ یا پرائمری ایجوکیشن کا انتظام محلہ اور مسجد کے مکتب و انجمن میں ہونا چاہیے۔ اسی طرح ٹیوشن کے ذریعہ بھی یہ تعلیم دلائی جا سکتی ہے۔ ہر مسلمان کو دینیات کی اتنی تعلیم ضرور حاصل کرنی چاہیے جو کہ ضروری مسائل کو کتابوں میں پڑھ سکے۔

تحتانیہ (پرائمری ایجوکیشن) میں ناظرہ قرآن، حفظ سورۃ و دعائیں، صفت حروف و صفات، مشق قراءت، ابتدائی اردو، انوار شریعت اور قانون شریعت کی تعلیم ضرور ہونی چاہیے۔ ہمارے مذکورہ نصاب کے مطابق سرٹیفیکیٹ کورس کو وسطانیہ اور ڈپلومہ کو فوقانیہ کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔ ہمارے پاس وسائل مہیا نہیں کہ ان امور کے لیے پیش قدمی کر سکوں۔ احباب اہل سنت سے عرض کرتا ہوں کہ اس بارے میں غور و فکر کریں تاکہ ہمیں بھی اجر و ثواب سے سرفراز کیا جائے: وَمَا تَوْفِيْقُ اللهِ بِاللهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ، صَلَاةٌ وَسَلَامٌ عَلَى حَبِيْبِهِ الْكَرِيْمِ وَآلِهِ الْعَظِيْمِ۔ جاری۔۔۔ [ماہنامہ پیغام شریعت، دہلی، مارچ ۲۰۱۸ء]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!