| عنوان: | حضرت مولانا ارشاد حسین رامپوری- حیات و خدمات (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | محمد غلام مرتضیٰ قادری رضوی |
| پیش کش: | ام حبیبہ واسطی |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
تدریس و افتاء
مولانا ارشاد حسین رامپوری علیہ الرحمہ کا حلقہ درس بہت وسیع تھا۔ دور و دراز مقامات سے تشنگانِ علومِ دینیہ رامپور آ کر آپ کے حلقہ درس میں شریک ہوتے اور اپنی علمی پیاس بجھاتے۔ آپ دو وقت پڑھاتے تھے۔ صبح میں طلوعِ آفتاب کے بعد اوراد و وظائف، دعائے حزب البحر، نمازِ اشراق، نمازِ چاشت، نمازِ استخارہ اور ختم حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہ سے فارغ ہو کر درس و تدریس میں مشغول رہتے۔ یہ مجلس دوپہر تک گرم رہتی۔ سہ پہر میں نمازِ عصر سے فارغ ہو کر مغرب تک کتبِ تصوف مثلاً مثنوی مولانا روم، مکتوبات امام ربانی، عوارف المعارف، احیاء العلوم وغیرہ پڑھاتے تھے۔ منگل اور جمعرات کا دن فتاویٰ لکھنے کے لیے مقرر تھا، اس لیے ان دو دنوں میں طلبہ کا سبق نہیں ہوتا تھا۔ [”معارف عنایتیہ“، ص: ۱۲۱، ۱۲۲]
مولانا ارشاد حسین مجددی علیہ الرحمہ ہفتہ میں دو روز منگل اور جمعرات کو فتاویٰ تحریر کرتے تھے۔ آپ نے اپنی عمر شریف میں کثیر تعداد میں فتاویٰ سپردِ قرطاس کیے، دور دراز مقامات سے سوالات آتے تھے اور ان کے جوابات دیے جاتے تھے۔
نقل کی مہلت نہیں ملتی تھی اس لیے آپ کے فتاویٰ محفوظ نہیں رہ سکے۔ بعض احبا نے نقل بھی کیے لیکن وہ بہت قلیل تھے۔ تقریباً ڈھائی سو فتاویٰ دستیاب ہو سکے جن کو دو جلدوں میں مرتب کر کے مولانا مفتی عبد الغفار خاں رامپوری نے طبع کرایا۔
حضرت فتویٰ لکھنے میں کسی کی رعایت نہیں فرماتے تھے۔
ایک روز صاحبزادہ مہدی علی خاں، نواب احمد علی خاں کے داماد جو شیعہ مذہب تھے، نے بہ نیت فساد، شیعہ سنی نکاح کے متعلق فتویٰ طلب کیا، مولانا مفتی محمد ارشاد احمد مجددی نے اپنے ایک شاگرد سے جواب لکھوا دیا کہ: ”حنفیہ کے نزدیک درست نہیں“۔ اس فتوے کی زد نواب کلب علی خاں پر بھی پڑی تھی۔ اس لیے اس فتوے کو نواب کلب علی خاں کے سامنے پیش کیا گیا۔ نواب کلب علی خاں بغیر کچھ سوچے سمجھے رنجیدہ ہوئے مگر بردباری و ہوشیاری سے کام لیا اور یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ جواب مولانا کے قلم کا نہیں ہے۔
اس کے بعد ایک روز نواب کلب علی خاں نے مہدی علی خاں کے سامنے مسئلہ مذکورہ کا ذکر کر کے حضرت مولانا مفتی محمد ارشاد حسین مجددی سے عرض کیا کہ ایسے مسائل کے جواب میں تامل سے کام لینا چاہیے۔ حضرت مولانا ارشاد حسین مجددی نے ارشاد فرمایا: ”جو کچھ لکھا گیا وہ حق ہے اور اس کا چھپانا شرعاً ممنوع ہے، امورِ شرعیہ میں کسی کی رعایت جائز نہیں“۔ اتنا فرمایا اور فوراً اٹھ کر چل دیے اور دولت خانہ پر آتے ہی شاہجہاں پور کے ارادے سے بریلی شریف کی طرف روانہ ہوئے اور اپنے بڑے بھائی مولانا امداد حسین مجددی سے عرض کیا: ”متعلقین اور لواحقین کو اپنے ساتھ لے کر شاہجہاں پور آئیں“۔ جب یہ خبر نواب کلب علی خاں والیِ رامپور کو معلوم ہوئی تو بے تاب و بے قرار ہو گئے اور اراکینِ ریاست کو حکم دیا کہ جلد سے جلد راستے میں آپ کی خدمت میں پہنچ کر اپنی پگڑیاں قدموں پر رکھ کر میری جانب سے عرض کریں کہ میں اپنی تقصیر و بے ادبی کی معافی کا طالب ہوں اور اپنی خطا پر شرمسار۔ آئندہ احکامِ شرعیہ میں کبھی بے جا مداخلت نہیں کروں گا۔ غرض کہ موضع دھمورہ کے قریب یہ تمام امور طے ہو گئے اور مولانا ارشاد احمد مجددی علیہ الرحمہ واپس رامپور تشریف لے آئے۔ ابھی تسبیح خانہ میں پہنچے ہی تھے کہ نواب کلب علی خاں خود بھی خدمت میں حاضر ہو گئے اور عہد و پیمان از سرِ نو مضبوط ہو گیا، اس کے بعد کوئی امرِ خلاف ظہور میں نہیں آیا۔
چنانچہ مولانا ارشاد صاحب مجددی علیہ الرحمہ، نواب کلب علی خاں کی بیماری کے دوران اپیل خاص کے مقدمات کا فیصلہ فرماتے تھے اور رعایا کے فائدے کے پیش نظر سرکاری نقصان بھی ہو جاتا تھا مگر کبھی حرفِ شکایت نواب کلب علی خاں کی زبان پر نہیں آیا۔ [”معارف عنایتیہ“]
قبولیت حق کا جذبہ فراواں
مولانا ارشاد احمد رامپوری علیہ الرحمہ اس شہرت و عظمت اور علمی جلالت کے باوجود اپنے قلب میں قبولیتِ حق کا وہ جذبہ فراواں رکھتے تھے جو ہمارے اسلاف و اکابر کے دلوں میں موجود تھا کہ اپنے ہی فیصلے کے خلاف اگر کسی عالم کا فیصلہ نظر آیا جو حق سے زیادہ قریب تھا تو اپنی عظمت و شہرت کا خیال کیے بغیر اسے قبول کر لیا اور اپنے قول سے رجوع فرما لیا。
آپ نے ایک فتویٰ صادر فرمایا جس پر اس وقت کے تمام مشاہیر علما نے بطور تصدیق دستخط ثبت فرما دیے۔ وہ فتویٰ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت فاضل بریلوی قدس سرہ کی بارگاہ میں پیش ہوا۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے اس کے خلاف فتویٰ دیا۔ وہ فتویٰ جب والیِ رامپور نواب کلب علی خاں کے سامنے پیش ہوا تو انہوں نے حضرت مولانا مفتی ارشاد حسین مجددی سے اس فتوے کے بارے میں دریافت کیا۔ آپ نے باوجود شہرت و عظمت و جلالتِ علمی کے کھلے دل سے اس بات کا اعتراف کر لیا کہ ”فتویٰ یہی صحیح ہے جو بریلی سے آیا ہے“۔ جب نواب کلب علی خاں نے یہ کہا کہ آپ کے فتوے کی تو ہندوستان بھر کے تمام مشاہیر علما نے تصدیق کی ہے، صرف بریلی کے ایک عالم نے اس کے خلاف لکھا ہے، تو حضرت مولانا ارشاد صاحب مجددی علیہ الرحمہ نے پورے انشراحِ صدر کے ساتھ ارشاد فرمایا اور یہ کہتے ہوئے معاملہ ختم فرما دیا کہ اور علما نے میری شہرت پر اعتماد کرتے ہوئے ایسا کیا ہے ورنہ حق یہی ہے کہ فتویٰ وہی صحیح ہے جو بریلی سے آیا ہے۔ [ماہنامہ ”فیض الرسول“، نومبر ۱۹۸۵ء]
تفسیر قرآن کریم
مولانا ارشاد حسین مجددی علیہ الرحمہ ہر جمعہ کو بعد نمازِ جمعہ اپنی مسجد میں قرآن کریم کی تفسیر بقدر ایک رکوع اسرار و رموز کے ساتھ بیان فرماتے تھے۔ ہر شخص اپنی استعداد کے لائق حصہ حاصل کرتا۔ بعض لوگوں کی یہ کیفیت ہوتی کہ اپنا سر در و دیوار پر مارتے۔ عصر کے قریب تک تفسیر کی مجلس قائم رہتی، اس طرح تیس سال میں دو مرتبہ قرآن کریم کی تفسیر اول سے آخر تک ختم ہوئی۔
تقریر و خطابت میں بھی آپ کو یدِ طولیٰ حاصل تھا آپ وعظ اس روانی سے فرماتے اور اس میں شریعت و طریقت کے ایسے اسرار و رموز بیان فرماتے کہ سکتہ کا عالم طاری ہو جاتا تھا۔ آپ کی مجلس نہایت پر فیض و بابرکت ہوتی تھی۔ اس میں خوب ذوق و شوق اور گریہ و بکا ہوتا تھا۔ [”مولانا ارشاد حسین رامپوری“، ص: ۲۱]
تصلب فی الدین اور ردِ فرقِ باطلہ
تصلب فی الدین آپ کو ورثے میں تھا، آپ نہایت متشدد حنفی تھے۔ آپ کا شمار اکابر علمائے اہلِ سنت و جماعت میں ہوتا ہے۔ حق گوئی و بے باکی اور ردِ فرقِ باطلہ آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ فتنہ وہابیت کے خلاف جن علمائے کرام نے آوازِ حق بلند کی ان میں آپ کا اسم گرامی نمایاں نظر آتا ہے۔ غزالیِ دوراں حضرت علامہ سید شاہ احمد سعید کاظمی علیہ الرحمہ اپنی تصنیف لطیف ”الحق المبین“ میں فتنہ وہابیت کے خلاف آوازِ حق بلند کرنے والے علمائے کرام کا ذکر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: ”علمائے اہلِ سنت برابر اس فتنے کے خلاف نبرد آزما رہے۔ ان علمائے حق میں مذکورینِ صدر حضرات کے علاوہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، حضرت مولانا عبد السمیع صاحب رامپوری مؤلف انوارِ ساطعہ، حضرت مولانا ارشاد حسین صاحب رامپوری، حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی، حضرت مولانا نور اللہ صاحب حیدر آبادی، حضرت مولانا عبد القدیر صاحب بدایونی وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں“۔ [”الحق المبین“، ص: ۱۴]
فاضل جلیل حضرت مولانا محمود احمد قادری استاذ احسن المدارس قدیم کانپور ”تذکرہ علمائے اہل سنت“ میں تحریر فرماتے ہیں کہ: ”ہم عقیدہ مسلمانوں پر غایت شفقت فرماتے اور باطل پرستوں سے شدید نفرت کرتے تھے“۔ [”تذکرہ علمائے اہل سنت“، ص: ۲۵]
خود مولانا ارشاد حسین رامپوری علیہ الرحمہ نے ”جامع الشواهد في إخراج الوهابيين عن المساجد“ مصنفہ حضرت مولانا شاہ وصی احمد محدث سورتی قدس سرہ کی تصدیق میں فرقہ وہابیہ کے متعلق یوں تحریر فرمایا کہ: ”بلا شبہ یہ فرقہ ضالہ جس کے عقائدِ فاسدہ اور اعمالِ کاسدہ مخالفِ فرقہ ناجیہ اہلِ سنت و جماعت کے ہیں۔ مجیب مصیب نے بحوالہ رسائل اور فتاویٰ باطلہ ان کے نقل کیے اور اکثر اس کے راقم الحروف کی نظر سے بھی گزرے مبتدع ہے اور اس کے حق میں بھی یہی حکم ہے جو مجیب مصیب نے تحریر کیا ہے“۔ [”جامع الشواہد“، ص: ۱۷]
نواب قطب الدین خاں دہلوی نے سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے مناقب و اجتہاد میں ایک رسالہ تالیف کیا۔ اس کے رد میں غیر مقلدوں کے پیشوا مولوی نذیر حسین دہلوی نے ایک رسالہ ”معیار حق“ کے نام سے لکھ کر شائع کیا۔
نواب قطب الدین خاں نے مولانا ارشاد حسین رامپوری علیہ الرحمہ کے پاس دونوں رسالے بھیج کر ”معیار حق“ کا جواب تحریر کرنے کی درخواست کی۔ آپ نے منگل اور جمعرات دو روز اس کام کے لیے مقرر فرمائے اور اس فتنے کا قلع قمع کرنے کے لیے ایک ضخیم رسالہ ”انتصار الحق“ کے نام سے جواباً تصنیف فرمایا جس میں دلائلِ عقلیہ و نقلیہ سے تقلید کا وجوب ثابت کیا۔ یہ کتاب دینِ حق کے لیے قلعہ اور مفسدین کے لیے سیفِ قاطع ہے۔
وصال
مولانا ارشاد حسین رامپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ر جمادی الاخریٰ ۱۳۱۱ھ کو بخار میں مبتلا ہوئے۔ دن بدن اس میں تیزی ہوتی گئی۔ اسی حالتِ مرض میں تمام امانتیں واپس کیں اور باوجود شدتِ تپ کے اوقاتِ نماز میں فرق نہ ہوا۔
پانچوں وقت کی نماز باقاعدہ تیمم کر کے جماعت سے پڑھتے تھے، اوراد و وظائف اور دس پارے قرآن کریم کے تلاوت فرماتے تھے۔ ۱۵ جمادی الاخریٰ ۱۳۱۱ھ پیر کا دن گزار کر شب میں عشاء کے بعد تلخیِ سکرات معلوم ہوئی اور صبحِ کاذب میں جامِ وصال نوش فرمایا۔ وقتِ وصال آپ کی عمر ”تریسٹھ سال“ کی تھی جس میں تیس سال تعلیم و ارشاد میں گزارے۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
آپ کے وصال کی خبر پا کر سارا شہر نمازِ جنازہ کے لیے امنڈ آیا۔ عید گاہ کے میدان میں نمازِ جنازہ ہوئی اور اپنی مسجد کے متصل جانبِ مشرق آپ کی مملوکہ زمین میں آپ کو دفن کیا گیا۔ [”مولانا ارشاد حسین رامپوری“، ص: ۲۶]
اولاد امجاد
آپ کے پانچ بیٹے تھے: مولانا احسان حسین مجددی، جناب عرفان حسین مجددی (صغر سنی میں انتقال کر گئے)، مولانا معوان حسین مجددی، جناب رضوان حسین مجددی (دس سال کی عمر میں انتقال کر گئے)، مولانا ریحان حسین مجددی اور دو بیٹیاں تھیں۔
تلامذہ
حضرت مولانا مفتی ارشاد حسین مجددی علیہ الرحمہ کے تلامذہ کی فہرست بہت طویل ہے جن میں چند مشہور تلامذہ درج ذیل ہیں:
- مولانا احسان حسین مجددی فرزند اکبر حضرت مولانا ارشاد حسین مجددی
- مولانا سید ارشد علی رامپوری
- مولانا اعجاز حسین مجددی رامپوری
- مولانا امداد اللہ خاں عرف بنے خاں نقشبندی مجددی
- مولانا حامد حسن رامپوری مدرس منظر اسلام بریلی شریف استاذ ملک العلماء مولانا ظفر الدین بہاری
- پیر سید جماعت علی محدث علی پوری
- مولانا حکیم حسین رضا خاں قادری برکاتی بریلوی
- مولانا حشمت اللہ خاں رامپوری
- مولانا حفیظ اللہ خاں رامپوری
- مولانا سید دیدار علی قادری رضوی
ان کے علاوہ اور بھی بہت سی معروف شخصیات نے آپ سے شرفِ تلمذ حاصل کیا۔ [”مولانا ارشاد حسین مجددی رامپوری“، ص: ۲۷]
تصانیف
انتصار الحق، ارشاد الصرف، ترجمہ کتاب الخیل فتاویٰ عالمگیری، فتاویٰ ارشادیہ آپ کی تصنیفی خدمات ہیں۔ ان کے علاوہ آپ نے متعدد رسائل و تصانیف پر گراں قدر تقاریظ تحریر فرمائیں جن میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ کے رسائل إقامة القيامة، إيذان الأجر، كفل الفقيه الفاهم، منير العين اور قامع الحديد خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
آج حضور علامہ ارشاد حسین مجددی رامپوری علیہ الرحمہ بظاہر ہمارے سامنے موجود نہیں مگر ان کی حیات کے تابندہ نقوش، ان کے علم و فضل، ان کے اخلاق و محاسن اور ان کی تعلیمات و ہدایات آج بھی منارۂ رشد و ہدایت کا کام سر انجام دے رہی ہیں۔ خدائے غفور و قدیر ان کے مرقدِ انور پر تا حشر رحمت و نور کی بارشیں نازل فرمائے اور ان کا فیض ہم اہلِ سنت و جماعت پر جاری و ساری رکھے۔ آمین بجاہِ سید المرسلین عليه وعلى آله وأصحابه أجمعين۔
فنا کے بعد بھی باقی ہے شانِ رہبری تیری
خدا کی رحمتیں ہوں اے امیرِ کارواں تجھ پر
(ماہنامہ جامعۃ الرضا، ماہِ صفر ۱۴۴۳ھ، ص: ۱۹)
