| عنوان: | حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ: حیات مبارکہ کی چند جھلکیاں (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | غلام مصطفی قادری |
| پیش کش: | آفرین فاطمہ رضویہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
نام و نسب اور ولادت
آپ کا اسم گرامی عمر، کنیت ابو حفص، لقب فاروق ہے۔ والد کا نام خطاب تھا، آپ مکہ کے معزز ترین خاندان سے تعلق رکھتے تھے، سلسلۂ نسب یہ ہے: عمر بن خطاب ابن نفیل بن عبد العزی بن رباح بن عبد اللہ ابن قرط ابن رباح بن عبد اللہ ابن قرط ابن رباح ابن عدی ابن کعب بن لوئی بن فہر بن مالک۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا سلسلۂ نسب آٹھویں پشت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسبی سلسلۃ الذہب سے مل جاتا ہے۔ والدہ حنتمہ بنت ہاشم بن مغیرہ بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم تھیں۔ آپ کی ولادت (پیدائش) عام فیل کے تیرہ سال بعد مکہ میں ہوئی۔ [خلفائے راشدین، ص: ١٤٥]
لقب فاروق کی وجہ تسمیہ
حضرت عمر بن خطاب کا یہ لقب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عطا فرمودہ ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے پوچھا: آپ کا لقب فاروق کیسے پڑا؟ آپ نے اپنے اسلام لانے کا واقعہ تفصیلاً بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اسلام لانے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں! ہم یقیناً حق پر ہیں، میں نے عرض کیا: پھر اب علانیہ عبادت ہوگی چھپ کر نہیں۔ مسلمان دو لائنوں میں مسجد حرام میں داخل ہوئے، ایک لائن میں حضرت حمزہ اور دوسری لائن میں مَیں۔ جب قریش نے حمزہ کو اور مجھے اس حال میں دیکھا تو انہیں سخت صدمہ ہوا، اس دن چونکہ حق و باطل کے درمیان فرق ظاہر ہو گیا، لہٰذا مجھے رسول خدا نے فاروق کا لقب عطا فرمایا۔ [تاریخ الخلفاء، ص: ١٤٣]
حضرت ذکوان تابعی بیان کرتے ہیں: میں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے یہی بات پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ: یہ لقب انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمایا تھا۔ [ایضاً، ص: ١٤٣]
قبولِ اسلام
حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اسلام لانے کا واقعہ تاریخ اسلام کا ایک عظیم ترین یادگاری واقعہ ہے۔ رسولِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے لیے ایک روز دعا فرمائی تھی:
”اللهم أعز الإسلام بأحب الرجلين إليك بعمر بن الخطاب أو بعمرو بن هشام“
”اے اللہ! ان دو آدمیوں عمر بن خطاب یا عمرو بن ہشام (ابوجہل) میں سے جو تجھے زیادہ پسند ہے، اس سے دین کو عزت عطا فرما۔“
اور جو روایت حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں:
”اللهم أيد الإسلام بعمر“
”اے اللہ! عمر کو مشرف بہ اسلام کر کے اسلام کی مدد فرما۔“
اس روایت میں صرف حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لیے دعا فرمائی گئی ہے۔ چونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ قبل از اسلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت دشمن تھے۔ اسلام اور پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی مقبولیت انہیں بھاتی نہیں تھی اور اُس مقبولیت کا خاتمہ کرنے کے لیے وہ دن رات سوچ بچار کرتے رہتے تھے۔ طویل غور و فکر کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ فتنہ پر قابو پانے کی ایک ہی صورت ہے کہ اس شخص کی زندگی کے چراغ کو گل کر دیا جائے، جس نے یہ سارا فتنہ برپا کر رکھا ہے۔
آخر کار طویل سوچ بچار کے بعد اس ازحد خطرناک مہم کو سر انجام دینے کے لیے وہ نوجوان (عمر) اٹھا، اپنی شمشیر براں اپنے گلے میں حمائل کی اور اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کا عزم بالجزم کر کے وہ اپنے گھر سے نکلا۔ گرمی کا موسم تھا، دوپہر کا وقت تھا، دھوپ بڑی سخت تھی، گرم لو جسم کو جھلسا رہی تھی، لیکن عمر ان تمام چیزوں سے بے نیاز اپنی دھن میں گم آگے بڑھ رہا تھا۔ راستہ میں ایک قریشی نوجوان نعیم بن عبد اللہ النحام سے مڈبھیڑ ہو گئی۔ نعیم مسلمان ہو چکے تھے، لیکن اپنے اسلام کو ظاہر نہیں کیا تھا۔ عمر کے تیور دیکھ کر ان سے صبر نہ ہو سکا اور پوچھ لیا:
عمر! کدھر کا قصد ہے؟ حضرت عمر نے بڑی رعونت سے جواب دیا: اس شخص کا سر قلم کرنے کے لیے جا رہا ہوں، جس نے میرے شہر کا سکون چھین لیا ہے اور گھر گھر نفرت کے انگارے دہک رہے ہیں۔ نعیم نے کہا: ادھر بعد میں جانا پہلے اپنے گھر کی خبر لو، تیری بہن فاطمہ اور تیرے بہنوئی سعید بن زید اس نبی کا کلمہ پڑھ چکے ہیں۔
یہ خبر سن کر حضرت عمر کے اوسان خطا ہو گئے، آگے بڑھنے کے بجائے اپنے بہنوئی کے گھر کا رخ کیا۔ وہاں پہنچ کر کواڑ کے ساتھ کان لگا کر سننے کی کوشش کی، تو کسی کلام کے پڑھے جانے کی آواز سنائی دی۔ اندر سے آواز آئی: کون؟ کڑک کے جواب دیا: خطاب کا بیٹا، عمر، دروازہ کھولو۔ جب اہل خانہ نے حضرت عمر کی آواز سنی تو سہم گئے، ان اوراق کو احتیاط سے سنبھال کر رکھ دیا جن پر قرآن کریم کی آیات لکھی ہوئی تھیں۔ ہمشیرہ نے جا کر دروازہ کھولا۔ اپنی بہن کو دیکھتے ہی حضرت عمر بہت غضبناک ہو کر گرجے: اپنی جان کی دشمن! مجھے پتہ چل گیا ہے کہ تم مرتد ہو گئی ہو، اپنا آبائی مذہب چھوڑ دیا ہے اور نیا مذہب قبول کر لیا ہے۔ ہاتھ میں سوٹی تھی، اس سے بہن کو پیٹنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ ان کے سر سے خون جاری ہو گیا۔ پھر اپنے بہنوئی سعید بن زید کو مار مار کر لہو لہان کر دیا۔
جب حضرت عمر کی دست درازی حد سے تجاوز کر گئی تو بہن نے زخمی شیرنی کی طرح گرج کر کہا: ”اے بھائی! جتنا تیرا جی چاہے مار، میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے لیکن کان کھول کر سن لے میں اپنا دین کسی قیمت پر چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔“ سارا جسم خون سے لت پت ہے سر کے زخموں سے خون بہہ رہا ہے اس حالت میں یہ جرات مندانہ جواب سن کر حضرت عمر کا دل پسیج گیا، کہنے لگے: ”بہن مجھے وہ صحیفہ دکھاؤ جو تم پڑھ رہی تھیں۔“ بہن نے بے دھڑک جواب دیا کہ تم مشرک ہو، نجس اور ناپاک ہو تم اس صحیفہ کو ہاتھ نہیں لگا سکتے، اگر تمہیں شوق ہے تو غسل کر کے پہلے اپنے آپ کو پاک کرو تب میں تمہیں وہ صحیفہ پڑھنے کے لیے دے سکتی ہوں۔ حضرت عمر اٹھے، غسل کیا، بہن فاطمہ نے وہ صحیفہ بھائی کو دیا اور کھولا تو سامنے سورہ طہٰ تھی، پڑھنا شروع کیا۔ ابھی چند آیتیں ہی تلاوت کی تھیں کہ اس کی تاثیر سے سنگ خارا سے بھی سخت تر دل پانی پانی ہو گیا، آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔ بے چین ہو کر پوچھا: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ میں ان کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی بگڑی سنوارنا چاہتا ہوں۔
صحابہ جھجکے کہ دروازہ کھولیں یا نہ کھولیں، حضرت حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ تو موجود تھے فرمایا مت ڈرو۔ دروازہ کھول دو، اگر عمر دروازہ کھول کر دربار مصطفوی کے آداب کا لحاظ رکھے گا تو ہم ادب و احترام سے اس کو خوش آمدید کہیں گے، اور اگر اس کی نیت میں ذرا فتور محسوس ہوا تو اس کی تلوار اس سے چھین کر اس کا سر اڑا دیا جائے گا۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دروازہ کھول دو، اللہ تعالٰی نے اگر اس کی بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے تو اس کو ہدایت دے دے گا۔
چنانچہ دروازہ کھولا گیا، دو آدمیوں نے حضرت عمر کو دونوں بازوؤں سے پکڑ لیا۔ یہاں تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، انہوں نے چھوڑ دیا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور عمر کی چادر کو پکڑ کر انہیں زور سے جھٹکا دیا اور فرمایا:
”أسلم يا ابن الخطاب اللهم اهد قلبه اللهم اهد عمر بن الخطاب، اللهم أعز الدين بعمر بن الخطاب، اللهم أخرج ما في صدر عمر من غل واهد له إيمانا“
فرمایا: ”اے عمر! اسلام قبول کر لے، اے اللہ! اس کے دل کو ہدایت کے نور سے روشن کر دے، اے اللہ! عمر بن خطاب کو ہدایت عطا فرما، اے اللہ! عمر بن خطاب کے ذریعہ دین کو عزت بخش، اے اللہ! عمر کے دل میں جو اسلام کی عداوت ہے اس کو نکال دے اور اس کو ایمان سے تبدیل کر دے۔“
حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں، کہ میں نے اس کے بعد عرض کی:
”أشهد أن لا إله إلا الله وأنك رسول الله“
”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالٰی کے سوا اور کوئی عبادت کے لائق نہیں اور آپ اللہ تعالٰی کے سچے رسول ہیں۔“
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ سنا تو فرط مسرت سے نعرہ تکبیر بلند کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نعرے کے بعد تمام مسلمانوں نے اس زور سے نعرہ لگایا کہ سارے مکہ کی گلیاں اور فضائیں اس نعرہ سے گونج اٹھیں۔
حضرت عمر بن خطاب سے قبل انتالیس مرد مسلمان ہو چکے تھے، آپ نے چالیس کا عدد پورا کیا۔ آپ کے قبولِ اسلام سے نہ صرف زمین پر بلکہ آسمانوں میں بھی مسرت و شادمانی کا اظہار ہونے لگا، آپ کا اسلام لانا مسلمانوں کے لیے فخر اور عزت کا باعث بنا اور لوگ کھلم کھلا عبادت اور تبلیغ میں مصروف ہونے لگے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
”لما أسلم عمر قال جبرئيل للنبي صلى الله تعالى عليه وآله وسلم يا محمد لقد استبشر أهل السماء بإسلام عمر“
یعنی جب حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ مسلمان ہوئے تو جبرئیل امین علیہ السّلام بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ عمر کے مسلمان ہونے سے آسمانوں کے سارے رہنے والوں نے بڑی مسرت کا اظہار کیا ہے۔ ((جاری۔۔۔۔)) [ماہنامہ جہان رضا، اکتوبر، نومبر 2018]
