| عنوان: | ماہِ ذوالحجہ کے فضائل و معمولات |
|---|---|
| تحریر: | مفتی محمد سعید القادری نقشبندی |
| پیش کش: | بنت جمال الدین اشرفی |
ذوالحجہ اسلامی سال کا بارہواں مہینہ ہے، ذوالحجہ چار برکت اور حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے، اس مبارک مہینے میں کثرتِ نوافل، روزے، تلاوتِ قرآنِ عظیم، تسبیح و تہلیل، تکبیریں اور صدقات و خیرات و اعمال کا بہت بڑا ثواب ہے، بالخصوص ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں کی اتنی فضیلت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس عشرے کی دس راتوں کی قسم یاد فرمائی ہے۔
خداوندِ قدوس قرآنِ مقدس میں ارشاد فرماتا ہے:
وَالْفَجْرِ ۙ وَلَيَالٍ عَشْرٍ ۙ وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ ۙ وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ
ترجمہ: اس صبح کی قسم اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی اور رات کی جب چل دے۔ [الفجر: ۱ تا ۴، کنز الایمان]
والفجر سے مراد یومِ عرفہ کی صبح ہے جس سے سال شروع ہوتا ہے یا یہ ذوالحجہ کی صبح جس سے دس راتیں ملتی ہوئی ہیں یا عید الاضحیٰ کی صبح، بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس سے مراد ہر دن کی صبح ہے کیوں کہ وہ صبح رات کے گزرنے اور روشنی کے ظاہر ہونے اور تمام جانداروں کے طلبِ رزق کے لیے منتشر ہونے کا وقت ہے اور مردوں کے قیام سے اٹھنے کے وقت کے ساتھ مشابہت اور مناسبت رکھتا ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ ”وَلَيَالٍ عَشْرٍ“ سے مراد ذوالحجہ کی پہلی دس راتیں ہیں کیوں کہ یہ زمانہ اعمالِ حج میں مشغول ہونے کا زمانہ ہے، حدیث شریف میں اس عشرے کی بہت فضیلتیں وارد ہوئی ہیں، یہاں مروی ہے کہ رمضان کے آخری عشرے کی راتیں اور اس عشرے کے پہلے دس دن کی راتیں مراد ہیں، ”وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ“ سے مراد ہر چیز کے یا ان راتوں کے یا ان دنوں کے اور بھی کہا گیا ہے کہ شفع سے مراد مخلوق اور طاق سے مراد اللہ تعالیٰ ہے۔
”وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ“ سے مراد رات گزرے یا چاند رات جسے عام رات اس سے پہلے دس خاص راتوں کی قسم ذکر فرمائی گئی، بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اس سے خاص شبِ مزدلفہ مراد ہے جس میں بندگانِ خدا اطاعتِ الٰہی کے لیے جمع ہوتے ہیں، ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے شبِ قدر مراد ہے جس میں رحمتوں کا نزول ہوتا ہے اور جو کثرتِ ثواب کے لیے مخصوص ہے۔ [تفسیر خزائن العرفان]
مذکورہ بالا قسم سے معلوم ہوا کہ عشرۂ ذوالحجہ کی بہت بڑی فضیلت ہے اسی طرح ان کی فضیلت کتبِ احادیث میں کثرت سے وارد ہے، حضرت امِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس وقت عشرۂ ذوالحجہ داخل ہو جائے اور تم میں سے بعض آدمی قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو چاہیے کہ بال اور جسم سے کسی چیز کو مس نہ کرے، ایک دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ بال نہ کتروائے اور نہ ناخن ترشوائے اور ایک روایت میں ہے کہ جو شخص ذوالحجہ کا چاند دیکھ لے اور قربانی کا ارادہ ہو تو نہ بال کٹوائے اور نہ ناخن ترشوائے۔ [مشکاة، ص: ۱۲۸]
حدیثِ پاک میں ہے:
عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه وسلم أنه قال: ”ما من أيام أحب إلى الله تعالى أن يتعبد له فيهن من أيام عشر ذي الحجة وإن صيام يوم فيها يعدل صيام سنة وقيام ليلة فيهن كقيام سنة“
یعنی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی دن زیادہ پسندیدہ نہیں جس میں عبادت کی جائے، ذوالحجہ کے ان دس دنوں سے (کیوں کہ) ان دنوں میں ایک دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر ہے اور ان کی ایک رات کا قیام ایک سال کے قیام کے برابر ہے۔ [مشکاة، ص: ۱۲۸]
یہی وجہ ہے کہ سیدنا حضرت سعید ابن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ دس راتوں میں چراغ نہ بجھاؤ اور خدام کو ان راتوں میں جاگنے کا حکم دیا کرتے تھے۔ [غنیۃ الطالبین]
قربانی کی فضیلت
قربانی اسلام کا ایک شعائرِ عظیم ہے جس کو زبردست اہمیت و فضیلت حاصل ہے، آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قربانی کا حکم دیا گیا، ارشادِ ربانی ہے: ”فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ“ یعنی آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے۔ دیگر احادیثِ کریمہ میں بھی قربانی کرنے کی بڑی تاکید کی گئی ہے، ترک پر وعید اور اس کے کرنے پر ثواب کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم پر اپنے عزیز بیٹے کی قربانی کے لیے اس کے حلق پر چھری رکھ دی اور تکبیر کہہ کر قربانی کرنے میں مشغول ہو گئے، لیکن اللہ کی شان کہ بیٹے کے قربان کرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل کے گلے پر ایک تانبے کا پتر رکھ دیا تھا، جس کی وجہ سے چھری کی دھار کا کوئی اثر نہ ہوا، چھری کو پھر تیز کیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے گلے پر پھیرنے لگے، مگر اب بھی وہی حال، آخر کار حضرت ابراہیم علیہ السلام نے غصے میں چھری کو پتھر پر پھینک دیا، خدا کے حکم سے پتھر میں چھری پیوست ہو گئی، چھری نے کہا: اے خلیل اللہ! مجھے اسماعیل کو ذبح کرنے کا حکم نہیں، چھری کو پھر خوب تیز کیا اور پوری طاقت سے تکبیر کہہ کر پھر گردن پر پھیرنے لگے، مگر فرقت سے آنکھیں نہ ڈبڈبائیں، فرشتے منظر دیکھ کر انگشت بدنداں تھے، خوفِ شیطان بھی کھڑا ہوا دونوں باپ بیٹے کے صبر و تسلیم کو تعجب سے دیکھ رہا تھا، اتنے میں حضرت جبریل علیہ السلام آئے اور ساتھ ایک بہشت کا مینڈھا لائے، اس وقت یہ آواز آئی کہ اے ابراہیم! تم نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا، مینڈھا تمہارے بیٹے کا فدیہ ہے، ”وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ“۔ یعنی ہم نے اسماعیل کے فدیہ میں ایک ذبحِ عظیم عطا کیا، اسی کے ساتھ اللہ اکبر اللہ اکبر کی آواز بلند ہوئی، حضرت ابراہیم علیہ السلام اس غیب کی آواز کو سن کر کہا لا الہ الا اللہ واللہ اکبر، حضرت اسماعیل علیہ السلام پکار اٹھے اللہ اکبر وللہ الحمد، ان الفاظ کو زبان پر لانا قیامت تک کے لیے سنت ہو گیا اور تمام اعمال سے افضل تر اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہی باعظمت الفاظ ہیں، کسی نے کیا ہی خوب کہا ہے:
یہ آساں ہے کہ انساں چھوڑ دے سب مال و زر اپنا
یہ آساں ہے کہ انساں چھوڑ دے تختِ سلیمانی
یہ آساں ہے کہ انساں رُخ اٹھائے سختیاں سہ لے
یہ آساں ہے کہ اپنی جان بھی دیدے آسانی
یہ سب آساں سے آساں تر ہے جانِ من لیکن
بہت مشکل ہے اپنے ہاتھ سے بیٹے کی قربانی
کیا بیٹے کو قرباں راہِ حق میں اپنے ہاتھوں سے
نہیں دنیا میں کوئی بھی خلیل اللہ کا ثانی
اے مسلمانو! غور و فکر کا مقام ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ نے اپنے لختِ جگر کی قربانی کا حکم دیا تو وہ اپنے نورِ نظر اپنے جگر پارے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے پر آمادہ ہو گئے، اب ذرا اپنی حالت دیکھو کہ کسی جانور کی قربانی بھی تم سے پیش نہیں آتی ہے، سوچو تو سہی کہ اگر تم پر اللہ تعالیٰ اولاد کی قربانی واجب کر دیتا تو کیا کرتے؟ وہ لوگ خوش نصیب ہیں جو عید الاضحیٰ میں نہایت شوق و محبت سے قربانیاں کرتے ہیں اور وہ لوگ بدبخت ہیں جو اس نیک کام میں بخل روا رکھتے ہیں۔ [طبرانی، ج: ۳، ص: ۴۲]
مسائلِ قربانی
- قربانی ہر مسلمان، مکلف، آزاد، مقیم، صاحبِ نصاب پر واجب ہے اگر ترک کرے گا سخت گناہ گار ہوگا۔
- قربانی کے وقت میں قربانی ہی ضروری ہے کوئی دوسری چیز اس کے قائم مقام نہیں ہو سکتی، مثلاً قربانی کرنے کے بجائے جانور یا اس کی قیمت صدقہ کر دینا کافی نہیں۔
- قربانی کا وقت شہری کے لیے بعدِ نمازِ عید و خطبہ ہے اور دیہاتی کے لیے دسویں ذوالحجہ کی صبحِ صادق ہے اور سب کے لیے آخری وقت بارہویں کے غروبِ آفتاب تک ہے۔
- بھینس اور اونٹ وغیرہ بڑے جانوروں میں سات لوگوں تک کی شرکت جائز ہے، بکرا، بکری، بھیڑ، دنبہ ایک ہی آدمی کی طرف سے ہوگا۔
- قربانی کے جانور میں جتنے شریک ہوں سب کی نیت قربانی یا ثواب ہی کی ہو محض گوشت کھانے یا تجارت کرنے کی نہ ہو ورنہ کسی کی قربانی نہ ہوگی۔
- بکرا، بکری، دنبہ، بھیڑ ایک سال کا ہو اس سے کم کا جائز نہیں ہاں دنبہ چھ ماہ کا ہو مگر فربہ ہو کہ دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو تو جائز ہے۔
- بھینس، بھینسا، گائے، بیل دو برس سے کم کے جائز نہیں اور اونٹ پانچ برس سے کم کا جائز نہیں۔
- قربانی کرنے والے کے لیے چاند دیکھ کر قربانی کرنے تک سر، مونچھ، بغل، زیرِ ناف کے بال اور ناخن نہ کٹوانا مستحب ہے۔
تکبیرِ تشریق: نویں ذوالحجہ کی فجر سے تیرہویں کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد ایک بار بلند آواز سے کہنا واجب ہے اور تین مرتبہ افضل ہے، تکبیر یہ ہے: اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد۔ [بہارِ شریعت]
عرفہ کا روزہ: ان دنوں میں عرفہ کا دن بڑا معظم و محترم دن ہے، اس لیے کہ عرفہ کا روزہ ایک سال گزشتہ اور ایک سال آئندہ کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے مگر غیرِ حاجی کے حق میں ہے اور حاجی عرفہ کے دن روزہ نہ رکھے تاکہ مناسکِ حج کے ادا کرنے میں سستی نہ ہو۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: ۴، ص: ۶۴۷]
حکایت: ایک بزرگ نے خواب میں دیکھا کہ قیامت قائم ہو گئی، فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے ایک دوست کے آگے دس نور دیکھے اور اپنے آگے صرف دو نور نظر آئے اس لیے مجھے تعجب ہوا اتنے میں مجھے بتایا گیا کہ تیرے دوست نے دس سال عرفہ کا روزہ رکھا تھا، اس لیے اس کے آگے دس نور ہیں اور تو نے صرف دو سال عرفہ کا روزہ رکھا تھا، اس لیے تیرے آگے صرف دو نور ہیں۔ [دُرۃ الناصحین، ص: ۴۳۳]
معمولاتِ عشرۂ ذوالحجہ
حدیثِ شریف میں ہے کہ جو شخص پہلی رات ذوالحجہ میں چار رکعت نفل اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد قل ہو اللہ احد تین تین مرتبہ پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کو بے شمار ثواب عطا فرماتا ہے۔
سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ذوالحجہ کی ہر رات وتر کے بعد دو رکعت نفل پڑھے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ کوثر اور سورۂ اخلاص تین تین مرتبہ پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کو مقامِ اعلیٰ علیین میں داخل فرمائے گا اور اس کے ہر بال کے بدلے میں ہزار نیکیاں لکھے گا اور اس کو ہزار درجات عطا فرمائے گا اور ثواب ملے گا۔
ایک مرتبہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں عرض کیا یا رسول اللہ! اگر کوئی فقیر ہو اور قربانی کی طاقت نہ رکھتا ہو تو کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ نمازِ عید کے بعد دو رکعت نمازِ نفل پڑھے، ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ کوثر تین مرتبہ پڑھے تو اللہ جل شانہ اس کو مکمل قربانی کا ثواب عطا فرمائے۔ [ادامۃ الطالب]
مذکورہ بالا احادیثِ کریمہ سے یہ معلوم ہوا کہ ماہِ ذوالحجہ بہت سی فضیلت و برکت والا مہینہ ہے اس مہینے کو نیک عبادتِ الٰہی میں مصروفِ عمل ہو کر اپنی آخرت سنوارنے کی بھرپور کوشش و سعی کرنی چاہیے، مولا کریم اپنے حبیبِ لبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صدقے میں تمام مسلمانوں کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔
[حوالہ: ماہنامہ سنی دنیا، ستمبر ۲۰۱۷ء، ص: ۲۰-۲۲]
