Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والدِ گرامی ”جنگی دوست“ کیوں؟

حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والدِ گرامی ”جنگی دوست“ کیوں؟
عنوان: حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والدِ گرامی ”جنگی دوست“ کیوں؟
تحریر: مولانا محمد ہاشم اعظمی مصباحی
پیش کش: فردوس فاطمہ قادریہ بنت غلام مرتضیٰ شیخ

روحانی زندگی کے فضائل و کمالات اولیائے کرام کے نفوس میں اپنی شان کے ساتھ موجود ہوتے ہیں، اس لیے اولیائے کرام کے حالات و واقعات کا مطالعہ شخصیت سازی میں تیر بہ ہدف نسخہِ کیمیا ہوتا ہے، اولیائے کرام صاحبِ فضل و کمال ہونے کے ساتھ کشورِ علم و عمل بھی ہوتے ہیں، خوفِ خدا، اللہ کی رضا، اندیشہِ آخرت، تقویٰ و طہارت ان کی حیاتِ فانی کا وظیفہ اور حیاتِ سرمدی کا نسخہ ہوتا ہے، انہی اوصافِ حمیدہ کی بدولت مخلوقِ خدا ان کی طرف کھنچی چلی آتی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے ان نیک بندوں میں بلا کی جاذبیت، غضب کی دلکشی اور مقناطیسی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔

یہی وہ پاک نفوس ہیں جنہیں اللہ کی راہ میں فنا ہو کر بھی بقا ملتی ہے، انہی ذواتِ قدسیہ کے سرخیلِ اعظم کا نام سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے، آپ علوم و فنون کے ہر شعبے میں کامل و اکمل تھے، اللہ تعالیٰ نے پوری کائناتِ ولایت میں آپ کو وہ درجہِ کمال عطا فرمایا تھا جو اور کسی ولی کو نہیں عطا ہوا، آپ رضی اللہ عنہ کا خاندان صالحین کا خاندان تھا، آپ کے دادا جان، نانا جان، والدِ ماجد، والدہ محترمہ، پھوپھی جان، بھائی اور تمام صاحبزادگان سب کے سب متقی و پرہیزگار تھے، اسی وجہ سے لوگ آپ کے خاندان کو اشراف کا گھرانہ کہتے تھے، غوثِ پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والدِ محترم کا اسمِ گرامی سید موسیٰ، کنیت ابو صالح اور لقب ”جنگی دوست“ تھا، آپ جیلان شریف کے اکابر مشائخِ کرام میں سے تھے۔

”جنگی دوست“ کی وجہِ تسمیہ

آپ کا لقب ”جنگی دوست“ اس لیے ہوا کہ آپ خالصۃً اللہ کی رضا کے لیے نفس کشی اور ریاضت و مجاہدہ میں یکتائے روزگار تھے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے پیکر تھے، اس معاملہ میں اپنی جان تک کی بھی پروا نہ کرتے تھے، چنانچہ ایک دن آپ جامع مسجد کو جا رہے تھے کہ خلیفہِ وقت کے چند ملازم شراب کے مٹکے نہایت ہی احتیاط سے سروں پر اٹھائے جا رہے تھے، آپ نے جب ان کی طرف دیکھا تو جلال آ گیا اور ان مٹکوں کو توڑ دیا، آپ کے رعب و دبدبہ اور عظمت و بزرگی کے سامنے کسی ملازم کو دم مارنے کی جرأت نہ ہو سکی، ملازمین نے خلیفہِ وقت سے شکایت کی اور آپ کے خلاف خلیفہ کو خوب اکسایا، خلیفہ نے حکم دیا: سید موسیٰ کو فوراً میرے دربار میں پیش کرو، چنانچہ آپ کو دربار میں پیش کیا گیا، خلیفہ غیظ و غضب کے عالم میں للکار کر کہتا ہے: آپ کو میرے ملازمین سے الجھنے کی جرأت کیسے ہوئی؟

آپ نے فرمایا: میں محتسب ہوں، اس لیے میں نے اپنا فرضِ منصبی ادا کیا، خلیفہ نے کہا: آپ کس کے حکم سے محتسب مقرر کیے گئے ہیں؟ آپ نے رعب دار لہجہ میں جواب دیا: جس کے حکم سے تم حکومت کر رہے ہو، آپ کے اس جرأت مندانہ ارشاد سے خلیفہ پر ایسی ہیبت و رقت طاری ہوئی کہ گھٹنوں پر سر رکھ کر بیٹھ گیا اور تھوڑی دیر کے بعد عرض کیا: حضور والا! امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے علاوہ مٹکوں کو توڑنے میں کیا حکمت تھی، آپ نے ارشاد فرمایا: تمہارے حال پر شفقت کرنا نیز تجھ کو دنیا اور آخرت کی رسوائی اور ذلت سے بچانا، خلیفہ پر آپ کی اس حکمت بھری گفتگو کا بہت گہرا اثر ہوا، متاثر ہو کر آپ کی خدمتِ اقدس میں عرض گزار ہوا: عالیجاہ! آپ میری طرف سے بھی محتسب کے عہدہ پر مامور ہیں، آپ نے اپنے متوکلانہ انداز میں فرمایا، جب میں حق تعالیٰ کی طرف سے مامور ہوں تو پھر مجھے خلق کی طرف سے مامور ہونے کی کیا حاجت ہے، اسی دن سے آپ ”جنگی دوست“ کے لقب سے مشہور ہو گئے۔ [سیرتِ غوث الثقلین، ص: 52]

[ماہنامہ سنی دنیا، بریلی شریف، فروری مارچ 2022ء، ص: 44]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!