| عنوان: | الٰہی بھیج یہاں پھر کوئی سلطان ایوبی (قسط: سوم و آخری) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی عبد الرحیم نشتر فاروقی |
| پیش کش: | محمد بلال رضا عطاری مدنی، احمدآباد، گجرات |
1967ء میں ہونے والی جنگ میں اسرائیل نے مشرقی بیت المقدس اور غربِ اردن کے ساتھ ساتھ شام میں گولان کی پہاڑیوں، غزہ اور مصری جزیرہ نما سینائی پر بھی قبضہ کر لیا اور فلسطینی، غزہ اور غربِ اردن کے ساتھ ساتھ پڑوسی ممالک اردن، شام اور لبنان میں پناہ گزیں ہونے پر مجبور ہو گئے۔ مختلف ممالک میں پناہ گزیں فلسطینی آج بھی اپنے وطنِ عزیز واپسی کی راہ دیکھ رہے ہیں لیکن اسرائیل اس راہ میں روڑا بنا ہوا ہے۔
انگریزوں اور اقوامِ متحدہ کے اختلاط سے پیدا ہونے والے اسرائیل نے 1948ء میں اقوامِ متحدہ ہی کی قراردادوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے فلسطین کے مزید کئی بڑے علاقوں پر قبضہ کر لیا اور اقوامِ متحدہ تماشائی بنا دیکھتا رہا۔ ارضِ فلسطین پر ناجائز قبضے کا یہ سلسلہ یہودیوں نے مسلسل جاری رکھا، یہاں تک کہ جس فلسطین کی پوری زمین پر کبھی مسلمانوں کا قبضہ تھا، آج اس کا صرف 12 فیصد حصہ ہی ان کے پاس رہ گیا ہے، جبکہ باقی زمین پر اسرائیل نے ناجائز قبضہ جما رکھا ہے اور پورے بیت المقدس کو اپنا دار الحکومت قرار دیتا ہے، جبکہ اہلِ فلسطین مشرقی بیت المقدس کو فلسطینی ریاست کا دار الحکومت قرار دیتے ہیں۔
اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ آج مسلمان فلسطین کی بچی کچی زمین بچانے کے لیے لڑ رہے ہیں، مر رہے ہیں، کٹ رہے ہیں اور اسرائیل ان کی ایک ایک انچ زمین غصب کرنے پر تلا ہوا ہے، جس کے لیے وہ سارے عالمی قانون اور انسانی حقوق بالائے طاق رکھ کر فلسطینیوں کو نیست و نابود کر دینا چاہتا ہے۔ عام مسلمانوں اور چھوٹے بچوں کی بے گور و کفن لاشیں اسرائیلی ظلم و بربریت سے لکھی درد و کرب کی داستان بیان کر رہی ہیں، مگر افسوس! مسلم دنیا کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی، وہ اب بھی خوابِ خرگوش اور محفلِ عیش و طرب میں مست ہیں۔ الٰہی بھیج یہاں پھر کوئی سلطان ایوبی! جو قومِ مسلم پہ تنی جمود و تعطل کی چادر کو چاک کر کے اس کی رگوں میں شجاعت و بہادری کی روح پھونک دے، جو قومِ مسلم کی عظمتِ رفتہ کی بازیابی کر سکے، جو اس کی غیرت و حمیتِ اسلامی کو زندہ کر سکے۔ [ماہنامہ سنی دنیا، بریلی شریف، نومبر 2023ء، ص: 6]
