| عنوان: | مسلکِ اعلیٰ حضرت کی تبلیغ میں صدر الشریعہ کا کردار |
|---|---|
| تحریر: | مفتی فیضان المصطفیٰ قادری |
| پیش کش: | ناظم اسماعیلی |
مسلکِ اعلیٰ حضرت کی تبلیغ و اشاعت میں حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کا بڑا اہم کردار رہا ہے۔ خانوادہِ رضویہ کے بزرگوں کو بھی اعتراف رہا ہے کہ حضور صدر الشریعہ بڑے ذی اثر آدمی تھے، وہ چاہتے تو اپنا مدرسہ بنا لیتے، اپنا سلسلہِ بیعت شروع کر لیتے، مگر انہوں نے تمام امور میں اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز کو ہی اپنا مرکزِ عقیدت بنایا، اور اپنی تبلیغ و اشاعت کا محور امام احمد رضا قدس سرہ العزیز کی تعلیمات کو بنایا۔ وہ ہندوستان کے اپنے دور کے سب سے بڑے مدرس تھے، علومِ عقلیہ و نقلیہ میں یکتائے روزگار تھے، جن کے ونقاد طلبہ کو کہیں آسودگی نہیں ہوتی تھی وہ بارگاہِ صدر الشریعہ میں پہنچ کر بھرپور سیراب ہوتے تھے، ان کے تلامذہ ان کے عز و شرف کا بہت بڑا ذریعہ تھے، مگر انہوں نے اپنے تمام تعلقات تعلیماتِ رضا کی ترویج و اشاعت کے لیے استعمال کیے۔
حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ جب دوسری بار حج کے لیے حرمین طیبین کو حاضر ہوئے، عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز کی تصنیفِ لطیف ”شمائم العنبر“ پر علمائے عرب سے تقریظات لینی شروع کیں، اور اعلیٰ حضرت کو وہیں سے مکتوب لکھا جس کا ایک جملہ یہ تھا: میں نے اس کام کو طواف وغیرہ مستحبات پر بھی مقدم رکھا۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلکِ اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز کی تائید و حمایت حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کے نزدیک وہ امرِ اہم ہے کہ اس کو مستحبات پر بھی فوقیت اور ترجیح دی جائے۔ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ چاہتے تو حرمین طیبین میں صحاحِ ستہ کا درس دینا شروع کر دیتے، جس سے آپ کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا۔ فقہ و حدیث کی اجازت دینی شروع کرتے تو علمائے حرمین میں ایک بڑی تعداد آپ کے مجازین کی ہوتی، آپ کا سلسلہِ درس و تلمذ عالمِ عرب تک وسیع ہو جاتا، مگر آپ نے اعلیٰ حضرت کی تعلیمات کو ان سب امور پر ترجیح دی، یہ آپ کی وہی مخلصانہ کوششیں تھیں کہ آپ کا اپنا حلقہ مسلکِ اعلیٰ حضرت پر کاربند رہا۔
بریلی شریف قیام کے دوران آپ منظرِ اسلام میں تدریسی فرائض انجام دیتے، پورا دن اسی میں صرف ہوتا، دوپہر بعد پھر شام میں گئی رات تک اعلیٰ حضرت قدس سرہ کی تصنیفات کی ترتیب و طبع و اشاعت پر لگاتے، کتابت کی پروف ریڈنگ خود ہی کرتے، فتاویٰ رضویہ شریف کی جلد اول آپ ہی کی نگرانی میں طبع ہوئی، یہی وجہ ہے کہ اس میں کتابت کی غلطی نظر نہیں آتی، خصوصاً اعلیٰ حضرت کے ترجمہِ قرآن کنز الایمان کے لیے حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کی خدمات آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نے ترجمہ کی گزارش کی، ادھر سے وقت کی قلت کا شکوہ سامنے آیا، مگر ضرورت کا لحاظ بھی رہا اور قیلولہ کا وقت اس کام کو دے دیا گیا، صدر الشریعہ علیہ الرحمہ صبح سے تدریسی مصروفیات میں لگے رہتے، ان سب مصروفیات سے فارغ ہو کر بارگاہِ رضا میں اپنا کاغذ و قلم لے کر پہنچ جاتے، قرآنی آیات کی تلاوت ہوتی اور زبانِ امام سے ترجمہ ارشاد ہوتا، اور صدر الشریعہ قلم بند کرتے چلے جاتے، جس قدر ترجمہ ہو جاتا، صدر الشریعہ رات میں آ کر کتبِ تفاسیر سے ملاتے، اس طرح وہ ترجمہِ قرآن مکمل ہوا۔ اور دنیا کو بے مثال اردو ترجمہِ قرآن مل گیا۔
مطبع اہلِ سنت بریلی کے پلیٹ فارم سے تصنیفاتِ رضا کی طبع و اشاعت کا جو عظیم کارنامہ صدر الشریعہ نے انجام دیا ہے اس کی بھی ایک سنہری تاریخ ہے، اور جو لوگ تصنیف و تالیف اور طبع و اشاعت سے شغل رکھتے ہیں انہیں اس راہ کی دشواریوں کا اچھی طرح اندازہ ہوگا، ہر دور میں ان کاموں کو موثر انداز میں انجام دینے کے لیے مستقل افراد رکھے جاتے ہیں، ایک فل ٹائم مدرس یہ کام بخوبی انجام نہیں دے سکتا، مگر صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نے قیامِ بریلی شریف کے دوران کام کی مشین بن کر تنِ تنہا اس قدر کام انجام دے دیے جو ماہرین کی ایک انجمن کے لیے مشکل ہے۔
مشرقی یوپی کا خطہ اعظم گڑھ بدعات و خرافات کی رسموں سے بھرا پڑا تھا، حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ پورا سال تدریسی مصروفیات میں اپنے وطن سے دور گزارتے تھے، مگر جب گھر پہنچتے تو عوامی سطح پر تعلیماتِ رضا کو نافذ کرنے کی کوشش کرتے، چنانچہ آپ کے اپنے قصبہ گھوسی میں خرافات کا یہ عالم تھا کہ محرم میں یہاں کی تعزیہ داری پورے خطے کی مشہور ترین تعزیہ داری ہوتی جسے دیکھنے دور دور سے لوگ آتے تھے، اس میں سنی مسلمان بھی خوب اہتمام کرتے، مگر صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کی کوششوں سے اس علاقے میں اہلِ سنت و جماعت کے افراد نے تعزیہ داری سے علاحدگی اختیار کی اور اب اس پورے خطے میں تعزیہ داری روافض کا شعار مانی جاتی ہے۔ شادی بیاہ کی غیر شرعی رسم و رواج پر صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نے روک لگائی۔ یوں ہی جیسے ہر طرف جمعہ کی اذانِ خطبہ مسجد کے اندر ہوتی تھی گھوسی کا بھی یہی حال تھا، مگر صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نے یہاں تعلیماتِ رضا کے مطابق اذانِ خطبہ کو درست مقام پر پہنچایا، اور اب اس خطے میں کہیں بھی اذانِ خطبہ اندرونِ مسجد نہیں ہوتی۔ مسلکِ اعلیٰ حضرت کی زمینِ خدمت کی یہ بہترین مثال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ اپنے عہد میں تعلیماتِ رضا کے سب سے بڑے نقیب مانے جاتے تھے۔
دوسری طرف اعلیٰ حضرت قدس سرہ کو صدر الشریعہ پر کلی اعتماد تھا، اتنا اعتماد کہ اپنا وکیل بالبیعہ آپ کو بنایا، اور اپنی نمازِ جنازہ پڑھانے کی وصیت میں غیر مشروط طور پر آپ کو شامل کیا۔ غور کرنے کا مقام ہے کہ جنازہ کی نماز ہر مسلمان کے لیے اس دنیا کا آخری معاملہ ہے، اس آخری معاملے کو کسی کے حوالے کر دینا کس قدر اعتماد بتاتا ہے۔ چنانچہ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ اس در کے ایسے مخلص اور وفادار ہوئے کہ اعلیٰ حضرت قدس سرہ کی رحلت کے بعد بھی کبھی ایک آن کے لیے آپ کی وفاداری تبدیل نہ ہوئی، بلکہ آپ کی رضویت کا ایک خاص رنگ تھا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے:
اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز کا عرس ابتداءً بارش کے موسم میں پڑا، آپ اس وقت اجمیر شریف میں قیام پذیر تھے، عرسِ رضوی میں شرکت کے لیے بریلی شریف آئے، تو معلوم ہوا کہ ذمہ داروں نے عرس کو بارش کے سبب آگے بڑھا دیا ہے، آپ نے برجستہ فرمایا: ”آپ لوگ عرسِ رضوی جب بھی کرو فقیر تو اصل تاریخ پر ہی عرس کے لیے حاضر ہوا کرے گا۔“ یہ برجستگی والہانہ لگاؤ کی عکاس ہے۔
تعلیماتِ اعلیٰ حضرت کی ترویج و اشاعت کے لیے صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کی بے لوث خدمات ہی کی بنا پر خود اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز نے حضور صدر الشریعہ پر نوازشات کی خوب بارش برسائی، اعلیٰ حضرت قدس سرہ کے چوبیس گھنٹوں میں ایک ایک منٹ آپ کے علمی و تجدیدی کاموں کے لیے متعین تھے، دو چار منٹ نکالنا بھی مشکل تھا، یہاں تک کہ کنز الایمان کے لیے قیلولہ کا وقت نکالا گیا، ایک بار خود اعلیٰ حضرت نے فرمایا کہ فتویٰ نویسی کی مصروفیات اس حد تک پہنچ گئیں کہ فقہاء نے ایسے مفتی کو سننِ مؤکدہ تک چھوڑنے کی رخصت دی ہے، اگرچہ اعلیٰ حضرت نے ایسا نہ کیا۔ ان مصروفیات کے باوجود بہارِ شریعت کے ابتدائی چھ حصے صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نے حضور اعلیٰ حضرت کی بارگاہ میں پیش کیے، اور امام اہلِ سنت نے انہیں حرفاً حرفاً ملاحظہ کیا، بلکہ تین حصوں پر تقریظ بھی عطا فرمائی، جس سے بہارِ شریعت کے مسائل کے اعتماد و استناد کا گراف بہت بلند ہو گیا۔
اس تقریظ میں امام اہلِ سنت نے بہارِ شریعت کے مسائل کو محقق اور منقح قرار دیا ہے۔ فرماتے ہیں: ”الحمد للہ مسائل صحیحہ رجیحہ محققہ منقحہ پر مشتمل پایا، آج کل ایسی کتاب کی ضرورت تھی۔“
خود صدر الشریعہ علیہ الرحمہ چھٹے حصے کے اختتام پر فرماتے ہیں:
”اس کتاب کی تصنیف شبِ بیستم ماہِ فاخر ربیع الآخر 1337ھ کو ختم ہوئی اور تھوڑے دنوں بعد امام اہلِ سنت اعلیٰ حضرت قبلہ قدس سرہ الاقدس کو سنا بھی دی تھی۔۔۔ اعلیٰ حضرت قبلہ قدس سرہ العزیز کا رسالہ انوار البشارۃ پورا اس میں شامل کر دیا، ہے یعنی متفرق طور پر مضامین بلکہ عبارتیں داخلِ رسالہ ہیں، کہ اولاً تبرک مقصود ہے دوم اُن الفاظ میں جو خوبیاں ہیں فقیر سے ناممکن تھیں، لہٰذا عبارت بھی نہ بدلی۔“ [بہارِ شریعت ششم، ص: 184]
اس دور کے عوام و خواص کے لیے یہ سب کچھ درس ہے کہ اعلیٰ حضرت قدس سرہ کی تعلیمات پر قائم رہنا ہم پر فرض ہے، اور ان کی ترویج و اشاعت کے لیے ہمہ دم کوشاں رہنا ہمارے اکابر کا شیوہ اور طریق رہا ہے، اسی پر ہمیں کاربند رہنا چاہیے۔
[ماہنامہ پیغامِ شریعت، جون 2021ء، ص: 5، 6، 7]
