Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام احمد رضا اور عالمِ اسلام کے بنیادی مسائل

امام احمد رضا اور عالمِ اسلام کے مسائل
عنوان: امام احمد رضا اور عالمِ اسلام کے مسائل
تحریر: بنیادی محمد صابر رضا رہبر
پیش کش: شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

قومی و بین الاقوامی سطح پر آج مسلمان جن نامساعد حالات سے نبرد آزما ہیں اس سے ہر حساس شخص واقف ہے۔ ہر گام پر مسلمانوں کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ سیاسی، تعلیمی، سماجی، صحافتی اور تجارتی سمیت دیگر میدانوں میں مسلمانوں کی خستہ حالی جگ ظاہر ہے۔ مختلف سطح پر کرائے گئے سروے کے ذریعے بھی یہ بات سامنے آ گئی ہے کہ قومِ مسلم شعبہائے زندگی کے ہر گوشے میں دیگر اقوام سے بہت پیچھے ہے۔ حالانکہ اس قوم کو یہ حالت اسے وراثت میں نہیں ملی ہے بلکہ اس کا ایک تابناک و درخشندہ ماضی آج بھی تاریخ کے سینے میں اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا ہے۔ دین و دنیا کی سرفرازی، صنعت و حرفت کی سربلندی اور سائنس و تحقیق میں کامیابی مسلمانوں کا مقدر تھا۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ آج یہ قوم پستی کے قعرِ مذلت میں جا گری ہے؟ اس چبھتے ہوئے سوال کا جواب مختصراً ایک سطر میں یوں دیا جا سکتا ہے کہ اس نے خدائی فرامین سے روگردانی کر لی اور اسلام کے ابدی دستورِ حیات سے ہٹ کر اپنی فلاح و نجات کی تدبیر کرنے لگی۔ یعنی رزاق کو بھول کر تلاشِ رزق میں سرپٹ بھاگنے لگی جس کے سبب پستی و خستہ حالی نے اسے اپنا شکار بنا لیا اور یہ ہونا تھا کیونکہ قرآنِ مقدس کا فرمان ہے: وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ [آل عمران: 139] یعنی تم ہی سربلند رہو گے اگر تم مومن ہو۔

عروج و زوال کی جانب آنے والی اس قوم کی خستہ حالی کو دور کرنے اور عظمتِ رفتہ کی بازیابی کے لیے مفکرین و دانشوران نے مختلف نظریات و نکات پیش کیے لیکن اس کے لیے جو فارمولہ مجددِ دین و ملت امام احمد رضا قادری محدث بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ نے 1912ء میں پیش فرمایا تھا وہ آج بھی نہ صرف ایک نسخہِ کیمیا ہے بلکہ مسلمانوں کے بنیادی مسائل میں کامیابی کا ایک زبردست لائحہِ عمل ہے۔ ہم تفصیل میں نہ جا کر اختصار کے ساتھ مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے پیش کیے گئے امامِ اہلِ سنت کے اس چار نکاتی فارمولے کو پیش کریں گے۔ جن سے یہ سمجھنا آسان ہو جائے گا کہ امام احمد رضا قادری بریلوی علیہ الرحمہ محض ایک مولوی اور مفتی ہی نہیں بلکہ اپنے وقت کے دردمند مفکر، دور اندیش مدبر اور مستقبل شناس فلاسفر بھی تھے اور جن کے چار نکاتی فارمولے پر عمل آج بھی مسلم قوم کو معاشی، تجارتی بدحالیوں سے نجات دلا سکتا ہے۔

1912ء میں جب پہلی جنگِ عظیم کی ابتدائی آگ پوری دنیا کو اپنی چپیٹ میں لینے کے لیے بے چین تھی ایسے حالات میں امام احمد رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسلمانوں کو پستی سے نکالنے کے لیے بنیادی مسلم مسائل پر مشتمل ایک فارمولہ ”تدبیرِ فلاح و نجات و اصلاح“ کے نام سے پیش کیا۔ جسے پہلی بار مجلسِ اہلِ سنت زکریا اسٹریٹ کلکتہ نے حضرت الحاج لعل محمد مدارسی کے اہتمام کے ساتھ شائع کیا۔ اس میں آپ نے مسلمانوں کے عائلی و ملی اور سماجی مسائل سمیت دیگر اہم مسائل کے اسباب و حل پر خامہ فرسائی فرمائی ہے۔ ہم یہاں اس کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ فارمولہ چار نکات پر مشتمل ہے:

پہلا: باستثنائے ان معدود باتوں کے جن میں حکومت کی دست اندازی ہو، اپنے تمام معاملات (مسلمان) اپنے ہاتھ میں لیتے، اپنے سب مقدمات اپنے آپ فیصل کرتے یہ کروڑوں روپے جو اسٹامپ اور وکالت میں گھسے جاتے ہیں، گھر کے گھر تباہ ہو گئے اور ہوئے جاتے ہیں، محفوظ رہتے۔
آپ ذرا اس پر تجزیاتی نگاہ ڈالیے اور سوچیے کہ آج ہماری قوم مقدمات کے دلدل میں پھنس کر کس طرح اجڑتی جا رہی ہے اور لاکھوں کروڑوں روپے پانی کی طرح بہا رہی ہے۔ ہمارے اور آپ کے سامنے اس نوعیت کی متعدد مثالیں موجود ہیں کہ کس طرح سے مقدمہ بازی میں الجھ کر ہنستا بولتا خاندان تباہ و برباد ہو کر رہ گیا ہے۔ اگر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے اس مشورے پر مسلمان عمل کر لے اور اپنے مسائل کو آپس میں حل کرے تو ایک جانب کروڑوں روپے کی بچت ہوگی جس سے ان کی معاشی حالت مستحکم ہوگی بلکہ مسلم سماج آپسی اتحاد اور امن و آشتی کا گہوارہ بھی بن جائے گا۔ پھر نہ عدالت کو مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کا موقع ملے گا اور نہ آزادیِ اظہارِ رائے کے نام پر اسلام اور مسلمانوں پر کسی کو طنز و تنقید کا حربہ ہاتھ آئے گا۔

دوسرا: اپنی قوم کے سوا کسی سے کچھ نہ خریدتے کہ گھر کا نفع گھر ہی میں رہتا۔ اپنی حرفت و تجارت کو ترقی دیتے کہ کسی چیز میں کسی دوسری قوم کے محتاج نہیں رہتے۔ یہ نہ ہوتا کہ یورپ و امریکہ والے چھٹانک بھر تانبہ کچھ صناعی کی گھڑت کر کے گھڑی وغیرہ نام رکھ کر آپ کو دے جائیں اور اس کے بدلے پاؤ بھر چاندی آپ سے لے جائیں۔ اس میں اعلیٰ حضرت نے مسلمانوں کی معاشی حالت کو مستحکم کرنے کے لیے ایک انوکھا نسخہ بیان فرمایا ہے اور یہ بات مسلم ہے کہ جب تک آپ کی معاشی حالت اچھی نہیں ہوگی اس وقت تک آپ کسی میدان میں قابلِ ذکر کارنامہ انجام نہیں دے سکتے۔ آج ہمارے درمیان کئی ایسی قومیں موجود ہیں جو اس فارمولے پر عمل کر رہی ہیں اور تجارتی و معاشی سطح پر اپنی کامیابی کے پھرےرے لہرا رہی ہیں۔ اگر مسلمان بھی اس پر عمل کرنے لگیں تو کوئی سبب نہیں کہ مسلمانوں کی ترقی کا قبلہ بدل جائے اور مسلم سماج میں معاشی انقلاب برپا ہو جائے۔

تیسرا: بمبئی، کلکتہ، رنگون، مدراس، حیدرآباد وغیرہ کے توانگر مسلمان اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے بینک کھولتے۔ سود شرع نے حرامِ قطعی فرمایا ہے۔ مگر اور سو طریقے نفع لینے کے حلال فرمائے ہیں۔ جن کا بیان کتبِ فقہ میں مفصل ہے اور اس کا ایک نہایت آسان طریقہ ”كفل الفقيه الفاهم“ میں چھپ چکا ہے۔ ان جائز طریقوں پر نفع بھی لیتے کہ انہیں بھی فائدہ پہنچتا اور ان کے بھائیوں کی بھی حاجت بر آتی اور آئے دن جو مسلمانوں کی جائیدادیں بنیوں کی نذر ہوئی چلی جاتی ہیں، ان سے بھی محفوظ رہتے۔ اگر مدیون کی جائیداد ہی لی جاتی مسلمان ہی کے پاس رہتی، یہ تو نہ ہوتا کہ مسلمان ننگے اور بنیے چنگے۔
غیر سودی بینک کا نظریہ جسے اسلامی بینکنگ کہا جاتا ہے دورِ جدید کے ماہرینِ معاشیات آج یہ نظریہ بڑی تیزی کے ساتھ پیش کر رہے ہیں اور اسلامک بینکنگ کے قیام پر پوری دنیا میں غور و خوض کیا جا رہا ہے اس لیے سودی نظامِ بینکنگ اور سرمایہ کاری نے پوری دنیا کو معاشی دیوالیہ پن کا شکار بنا رکھا ہے پوری دنیا میں یہ بات تیزی کے ساتھ مقبول ہو رہی ہے کہ لوگوں کو معاشی دیوالیہ پن سے بچانے کے لیے اسلامک بینکنگ ہی وہ نظام ہے جس کے سائے میں لوگ معاشی استحکام کو پا سکتے ہیں، آنے والا وقت اسلامک بینکنگ کے لیے کس قدر سازگار ہے وہ آج مفکرین کی تحریروں سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن امام احمد رضا فاضلِ بریلوی کی بصیرت و بصارت اور مستقبل شناسی کی داد دیجیے کہ آپ نے آج سے ٹھیک سو سال قبل یعنی 1912ء میں اسلامک بینکنگ کا نہ صرف یہ نظریہ پیش فرمایا تھا بلکہ اس کا لائحہِ عمل بھی قومِ مسلم کو عطا فرمایا تھا اور اس کی اہمیت و افادیت کے مختلف پہلوؤں کو بھی اجاگر کر دیا تھا اے کاش اسی وقت ان کے اس نظریے پر ملک کے اہلِ دول عمل کر لیے ہوتے تو مسلمانوں کی اقتصادی پوزیشن آج کچھ مختلف ہوتی اور تجارت و صنعت کے میدان میں ان کا طوطی بول رہا ہوتا۔

چوتھا: سب سے زیادہ اہم، سب کی جان، سب کی اصلِ اعظم وہ دینِ متین تھا جس کی رسی مضبوط تھامنے نے اگلوں کو ان مدارجِ عالیہ پر پہنچایا، چار دانگِ عالم میں ان کی ہیبت کا سکہ بٹھایا، نانِ شبینہ کے محتاجوں کو مالک بنایا اور اسی کے چھوڑنے نے پچھلوں کو یوں چاہِ ذلت میں گرایا، فإنا لله وإنا إليه راجعون ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم۔ دینِ متین علمِ دین کے دامن سے وابستہ ہے۔ علمِ دین سیکھنا پھر اس پر عمل کرنا اپنی دونوں جہاں کی زندگی جانتے، وہ انہیں بتا دیتا۔ اندھو! جسے ترقی سمجھ رہے ہو سخت تنزلی ہے، جسے عزت جانتے ہو، اشد ذلت ہے۔
آج مسلمان دینی تعلیم سے کس قدر دور ہے اسے بتانے کی قطعی ضرورت نہیں بس اتنا بتا دینا کافی ہے کہ مسلمانوں کی اکثریتی آبادی ایمان و اسلام کے بنیادی مسائل سے بھی واقف نہیں ہے۔ اور یہی مسلمانوں کی تنزلی کا باعث ہے یعنی:

طریقِ مصطفیٰ کو چھوڑنا ہے وجہِ بربادی
اسی سے قوم دنیا میں ہوئی بے اقتدار اپنی

امامِ اہلِ سنت ان چار نکات کو پیش کرنے کے بعد مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ اگر میرا خیال صحیح ہے تو ہر شہر اور قصبہ میں جلسے کریں اور مسلمانوں کو ان چاروں باتوں پر قائم کریں۔

حضرات! امام احمد رضا فاضلِ بریلوی نے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے جو فارمولہ پیش کیا ہے وہی ترقی کا واحد راستہ ہے اس لیے اگر مسلمان عظمتِ رفتہ کی بازیابی چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ مذکورہ بالا نکات پر عمل کریں۔ حالات کا رونا اور کسی کے سہارے کے انتظار میں اپنی آنکھوں کو پتھرانا زندہ قوموں کا شیوہ نہیں ہے ضرورت ہے کہ امامِ اہلِ سنت کے پیش کردہ ان چار بنیادی نکات پر غور کیا جائے اور اس پر عمل کے تعلق سے ٹھوس لائحہِ عمل تیار کیا جائے۔ میرے خیال سے اگر ایسا کرنے میں ہم کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ دن دور نہیں کہ ہمارا ستارہِ اقبال بلندیوں کے عروج پر ہوگا۔

اخیر میں امامِ اہلِ سنت نے فتاویٰ رضویہ جلد 12 صفحہ 133 پر فروغِ اہلِ سنت کے لیے دس نکاتی پروگرام پیش کیا ہے اس کا ذکر بھی کیا جانا بے حد ضروری ہے۔ کہ خصوصاً اہلِ سنت و جماعت کی فلاح و بہبودی اور تعمیر و ترقی کے لیے ہر دور میں امامِ اہلِ سنت کا یہ دس نکاتی فارمولہ کامیابی کی شاہِ کلید ہے۔ آپ اہلِ سنت کی تعمیر و ترقی کے لیے اپنا دس نکاتی فارمولہ یوں بیان کرتے ہیں:

  1. عظیم الشان مدارس کھولے جائیں۔ باقاعدہ تنظیمیں ہوں۔
  2. طلبہ کو وظائف ملیں کہ خواہی نخواہی گرویدہ ہوں۔
  3. مدرسین کی بیش قرار تنخواہیں ان کی کارروائیوں پر دی جائیں۔
  4. طبائعِ طلبہ کی جانچ ہو جو جس کام کے زیادہ مناسب دیکھا جائے، معقول وظیفہ دے کر اس میں لگایا جائے۔
  5. ان میں جو تیار ہوتے جائیں تنخواہیں دے کر ملک میں پھیلائے جائیں کہ تحریراً و تقریراً و وعظاً و مناظرۃً اشاعتِ دین و مذہب کریں۔
  6. حمایتِ مذہب و ردِ بدمذہباں میں مفید کتب و رسائل مصنفوں کو نذرانے دے کر تصنیف کرائے جائیں۔
  7. تصنیف شدہ اور نو تصنیف رسائل عمدہ اور خوشخط چھاپ کر ملک میں مفت تقسیم کیے جائیں۔
  8. شہروں شہروں آپ کے سفیر نگراں رہیں جہاں جس قسم کے وعظ یا مناظرہ یا تصنیف کی حاجت ہو آپ کو اطلاع دیں، آپ ہر کوئے اعدا کے لیے اپنی فوجیں، میگزین اور رسالے بھیجتے رہیں۔
  9. جو ہم قابلِ کار موجود اور اپنی معاش میں مشغول ہیں وظائف مقرر کر کے فارغ البال بنائے جائیں اور جس کام میں انہیں مہارت ہو لگائے جائیں۔
  10. آپ کے مذہبی اخبار شائع ہوں اور وقتاً فوقتاً ہر قسم کے حمایتِ مذہب میں مضامین تمام ملک میں بقیمت و بلا قیمت روزانہ یا کم سے کم ہفتہ وار پہنچاتے رہیں۔ حدیث کا ارشاد ہے کہ آخری زمانہ میں دین کا کام بھی درہم و دینار سے چلے گا اور کیوں نہ صادق ہو کہ صادق و مصدوق کا کلام ہے۔

ضرورت ہے کہ ہر شہر اور قصبات کے مخلص اربابِ حل و عقد امامِ اہلِ سنت کے مذکورہ بالا فارمولے کو عملی جامہ پہنائیں اور جن میدانوں میں خصوصیت کے ساتھ کام کرنے کی تلقین کی گئی ہے اخلاص و للہیت کے ساتھ ان میدانوں میں اپنا محاسبہ کریں اور کام کی رفتار کو تیز کریں یقیناً ہم کامیابی سے ہمکنار ہوں گے۔

[الرضا انٹرنیشنل، پٹنہ، جنوری فروری 2017ء، ص: 45]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!