Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

الٰہی نکلے یہ نجدی بلا مدینے سے!

الٰہی نکلے یہ نجدی بلا مدینے سے!
عنوان: الٰہی نکلے یہ نجدی بلا مدینے سے!
تحریر: محمد شکیل بریلوی
پیش کش: کنیز فاطمہ حنفی
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

اسلام دینِ فطرت ہے جو اپنے ماننے والوں کو ہمیشہ اعمالِ صالحہ کرنے کی ترغیب و تاکید کرتا ہے اور اعمالِ سیئہ سے دور و نفور رہنے کی ترغیب و تلقین کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خالقِ کائنات نے حضرتِ انسان کی تخلیق فرمائی:

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ [الذاريات: 56]

کہہ کر عبادت جیسے خالص عملِ صالح کے لیے فرمائی، چاہے اس بنی نوعِ انسان کا تعلق کرۂ ارض کے کسی بھی خطے سے ہو، احکامِ اسلام سب پر یکساں جاری ہوتے ہیں اور ترغیب و ترہیب کے نصوص سب کے حق میں یکساں ہیں، اسی لیے جہاں احکامِ اسلام پر بالکلیہ عمل دشوار ہو وہاں سے نقل مکانی کرنا واجب ہے، وہیں رہ کر اپنے لیے حالات کی نامساعدی کا سہارا لے کر گنجائش کی تمنا شرعی تقاضے کے خلاف ہے، البتہ کرۂ ارض کے بعض مخصوص خطوں کو اللہ رب العزت نے شرف بخشا ہے اور دیگر خطوں سے ان کو قدر و منزلت میں ممتاز قرار دیا۔ تمام روئے زمین سے خطۂ حجازِ مقدس کو اشرف و اعلیٰ بنایا اور وہاں پر کیے جانے والے اعمالِ صالحہ میں زیادتیِ ثواب کا انعامِ عظیم رکھا۔ اسی حجازِ مقدس کے بعض مقامات کو اللہ رب العزت نے اپنی نشانیاں قرار دیا اور بہت سے ایسے امور جو دوسرے مقامات پر مباح ہیں ان کو ان مقامات پر ممنوع قرار دیا جن میں صفا و مروہ، منیٰ و مزدلفہ، عرفات و جمارِ ثلاثہ قابلِ ذکر ہیں، ان کی تعظیم کو تقویٰ و پرہیزگاری قرار دیا اور ازدیادِ ثواب کا باعث بنایا۔ اور حکمِ تعظیم کا عالم یہ کہ عبادت کی غرض سے بھی ان مقامات کے قاصد کو حدود میں داخل ہونے کے لیے ایک مخصوص حالت اور کیفیت میں ہونا ضروری ہے جس کو احرام کہا جاتا ہے، نیز یہ بھی اس مقام کے تقدس کا ہی حصہ ہے کہ اگر کوئی شخص جنایت کر کے اس میں داخل ہو جائے تو وہ جب تک اس مقام پر ہے محفوظ الدم ہو جاتا ہے اور ان شعائرِ اسلام کی تعظیم کا حکم نہ فقط باشندگان کے لیے ہے اور نہ صرف قاصدان کے لیے بلکہ باشندگان و قاصدان سب کے لیے یکساں ہے اور تقاضۂ فطرت بھی یہی ہے کہ جب زیادتیِ ثواب کی بشارت سب کے لیے ہے تو حکمِ تعظیم بھی سبھی کے لیے ہو گا، باشندگان کے لیے اس میں کوئی خصوصی رعایت ہو ایسا نہیں ہے۔

محسنِ انسانیت حضور ﷺ نے بھی اپنی مبارک حیاتِ ظاہری میں ان مقاماتِ مقدسہ کی تعظیم کی، اپنے اعمال و اقوال کے ذریعہ تعلیم دی چنانچہ سرکارِ دو عالم ﷺ نے ان مقاماتِ مقدسہ کی تعظیم میں فرمایا کہ لوگ اس وقت تک عافیت سے رہیں گے جب تک حرم کے شایانِ شان اس کی تعظیم کرتے رہیں گے اور جب اس کی حرمت کو پامال کریں گے تو پھر ہلاک ہو جائیں گے۔ [سنن ابن ماجہ] نیز فرمایا: ”جو شخص مدینہ منورہ کے باشندگان کو ایذا دے گا اللہ عزوجل اسے ایذا دے گا اور اس پر اللہ عزوجل اور اس کے فرشتے اور تمام آدمیوں کی لعنت اور اس کا نہ فرض قبول کیا جائے نہ نفل“۔ [مجمع الزوائد] اور آپ کے جاں نثاروں نے اس پر عمل کر کے رہتی دنیا تک اس کی تعظیم کا درس دیا اور اسلافِ کرام نے ان کی عظمت و شان کے جو چرچے اپنے ذکرِ جمیل میں چھوڑے وہ بھی کسی ذی شعور پر مخفی نہیں۔ اہلِ دل اور اہلِ تقویٰ کی جب ان مقاماتِ مقدسہ میں حاضری ہوتی ہے تو بھیگی پلکوں، جھکی نظروں کے ساتھ اللہ رب العزت کے قہر و جلال سے لرزتے کانپتے اور بہر حال ان کے تقدس کو بجا لاتے، قدم قدم پر اس بات کا خیال رکھتے کہ خود تکلیف برداشت کی جائے مگر کسی کو تکلیف نہ دی جائے اس لیے کہ ایذا رسانی میں ان مقامات کے تقدس کی پامالی تو ہے ہی ساتھ ہی اپنی ہلاکت کا سبب بھی ہے۔ اعلیٰ حضرت عظیم البرکت اسی مقامِ مقدس کا تقدس بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

حرم کی زمیں اور قدم رکھ کر چلنا
ارے سر کا موقع ہے او جانے والے

مگر افسوس! جہاں ایک طرف اہلِ دل کے یہاں اس کے تقدس کا یہ عالم کہ اونچی آواز نکالنا، نظریں بلند کرنا بے ادبی ہے، وہیں دوسری طرف ناعاقبت اندیش اہلِ فسق و فجور حکومتی تسلط ہوتے ہی اس کے تقدس کی پامالی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے اور اس کی عظمت و جلالت کو فراموش کر کے دیگر خطوں کی طرح اس کو بلا امتیاز ایک خطۂ ارض قرار دینا چاہتے ہیں۔ مغربی ثقافت کا ان کے ذہن و دماغ میں اس قدر شمار ہے کہ ہر حال میں وہ اس کلچر کو حجازِ مقدس کی زمین پر بھی پھیلانا چاہتے ہیں، ان کی شقاوتِ قلبی کے لیے یہی کیا کم تھا کہ وہ حج و عمرہ جیسی عبادات کا قصد کرنے والے حضرات سے حاصل شدہ آمدنی سے دوسرے مقامات پر جا کر عیاشیوں کا سامان مہیا کرتے ہیں اور فحاشیوں کا بازار گرم کرتے ہیں، مقامِ حیرت و استعجاب تو یہ ہے کہ کل تک جو عیاشی و فحاشی دور دراز مقامات پر جا کر ہوتی تھی، شقاوتِ قلبی اور ناعاقبت اندیشی نے اس قدر جری کر دیا کہ اب اس کے اڈے مقاماتِ مقدسہ کی حرمت پامال کر کے یہیں پر قائم ہونے لگے۔ مے خانے کھول کر جہاں جام پر جام چھلکائے جا رہے ہیں وہیں دوسری طرف رقص و سرود کی رنگین محفلیں سجائی جا رہی ہیں اور ان فحاشیوں میں مبتلا دنیا بھر کے نامور افراد کو بلا کر کبھی تھیٹر فیسٹ (Theater fest) تو کبھی میوزک کنسرٹ (Music concert) کا انعقاد کرایا جا رہا ہے، اور محض انعقاد ہی نہیں بلکہ اس کو تاریخی اور یادگار بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے یہاں تک کہ اسلافِ کرام کے منسوبات کو محفوظ رکھنے اور ان کے توسل سے بارگاہِ رب العزت میں استغاثے کے دشمن اور حکمِ شرک لگانے والے، فسق و فجور کے دلدل میں پھنسے افراد کے باقیات کو نقشِ کفِ دست (Fingerprint) کی شکل میں یادگارِ دلنشیں کے طور پر نمائش گاہِ آثارِ قدیمہ میں رکھنے اور ان کی زیارت کرنے کا طاغوتی پلان تیار کر رہے ہیں۔ کل تک جو عمل شرک نظر آ رہا تھا، جس کی پاداش میں صحابۂ کرام و ازواجِ مطہرات و دیگر سلفِ صالحین کی قبور کو منہدم کرنے کی ناپاک مہم چلائی، آج ان کو اس کام کے لیے نہ جانے کہاں سے راہِ جواز مل گئی۔ اور وہ ارضِ مقدس جس کو اللہ رب العزت نے اپنے حبیبِ پاک صاحبِ لولاک کے صدقے تقدس بخشا، اس کی حرمت و عظمت کو تار تار کرنے کی سعیِ پیہم کرنے میں شبانہ روز کوشاں ہیں، ارضِ مقدس کی یہ شان کہ جو باشندگانِ مدینہ طیبہ کو ایذا پہنچائے تو من جانب اللہ اس کو ایذا کی وعیدِ شدید اور اللہ، اس کے فرشتوں کی لعنت اور عبادات کے قبول نہ ہونے کا خوف ہے، ذرا اندازہ لگائیں کہ ایک عام باشندے کو تکلیف دینے میں اس قدر غضبِ الٰہی ہے تو جس کے صدقے میں یثرب مدینہ بنا، جو محبوبِ رب العالمین ہو، اس ذاتِ گرامی کو تکلیف دینا کس قدر ہلاکت کا سبب ہو گا؟ حرام کاریاں روئے زمین کے کسی بھی خطے میں کی جائیں ربانی قہر و غضب کا سبب ہوتی ہیں اور شقاوتِ قلبی جب ان کو ایسے مقامات پر کرنے کا جری بنا دے جن کے عظمت و تقدس کو اللہ رب العزت نے تمام روئے زمین پر امتیازی شان بخشی ہے تو ان کا مرتکب کس قدر جہنم کی آگ سے اپنے آپ کو قریب کرنے میں کوشاں ہے یہ بیان کرنے کی حاجت نہیں ہے۔

یقیناً یہ قیامت کی نشانی ہی ہے کہ فسق و فجور موجبِ فرحت و سرور ہوتا چلا جا رہا ہے اور بزعمِ خویش مقتدایانِ اسلام راہِ حق کی تعلیم میں کوئی نمایاں کام جس کی بنا پر اہلِ ایمان کے ایمان و عقیدے کو بالیدگی اور جلا ملے وہ تو انجام دینے سے قاصر رہے لیکن طاغوتی پلان کو عملی جامہ پہنا کر قہرِ خداوندی میں لوگوں کے گرفتار ہونے کا موقع فراہم کرنے میں ضرور کامیاب ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ ایسے میں چشم کشائی ان لوگوں کو کرنی چاہیے جو یکسر چشم پوشی کر کے محض اس بنا پر کہ یہ ارضِ حجاز کے والی ہیں، مکان کی طرح مکین کو بھی باوجود ہزار معصیت کے مستحقِ عظمت و تقدس مان کر ان کے ہر قول و فعل کو اپنے لیے شریعت کو بالائے طاق رکھ کر حجت سمجھتے ہیں اور ان کے اعلانات کے مطابق اپنی عبادات کا آغاز و انجام کرتے ہیں۔ دور دراز مقامات سے حرمین شریفین کی زیارت کو جاتے ہیں، حجِ بیت اللہ کی سعادت حاصل کرتے ہیں مگر سب کچھ ان کے اعلانات کے مطابق کر کے اپنی عبادات کو خطرے میں ڈالتے ہیں، حالانکہ فرمانِ سرکارِ دو عالم ﷺ ہے: ”لا طاعة في معصية إنما الطاعة في المعروف“، حکمِ شرع کے خلاف کسی کی اطاعت روا نہیں چاہے وہ اپنے والدین یا شیخ ہی کیوں نہ ہوں اور عبادات کو ان کے وقتوں سے پہلے ادا کرنا یا شریعت کے بتائے ہوئے طریقے کے خلاف ادا کرنا بہر حال معصیت ہے۔

یہ فکر ضبطِ تحریر میں لانے کی وجہ فقط یہ ہے کہ ان والیانِ حجازِ مقدس اور بزورِ بازو خادمانِ کعبہ و منیٰ کی اعتقادی خرابیوں پر علمائے حق نے عرصہ دراز سے مطلع کر کے اپنے فرضِ منصبی کو ادا کیا، مگر ہمارے سادہ لوح مسلمان فقط ان کی نسبتی شرافت کو دیکھ کر، ان کی اعتقادی خرابیوں کے پوشیدہ ہونے کی وجہ سے فقط ان کے رکوع و سجود پر کمالِ اعتماد کا جذبہ لیے اس گمان میں کہ ان کی اقتدا میں حرمِ محترم میں نمازیں ادا کرنا، عیدین کے لیے ان کے اعلان کو کافی سمجھنا اور ان کی اتباع کرنا شریعت کے عین مطابق اور تقرب الی اللہ کا قوی تر وسیلہ ہے، کچھ دیر کے لیے مان لیا جائے گرچہ علمائے کرام کے بیان فرمانے کے بعد درحقیقت لاعلمی عذر نہیں مگر پھر بھی اعتقادی خرابیوں کی پوشیدگی کے سبب مطلع نہ ہونے کی وجہ سے ان کو مقتدا مانا، لیکن اب جبکہ ان کے خلافِ شرع کرتوت ہماری نگاہوں کے سامنے ہیں، ان کی بداعمالیوں کا دن بہ دن ترقی پذیر سلسلہ بھی ہم دیکھ سن رہے ہیں، کیا اب بھی ان کو مقتدا ماننے کی غلط فکر ذہن میں رکھیں گے اور ان کے سبب اپنی عبادات کو تباہ و برباد کریں گے؟ اللہ کے لیے ہوش کے ناخن لیں اور اپنے ایمان و عقیدے جیسے قیمتی سرمائے کو ضائع ہونے سے بچائیں، اگر فلاحِ دارین کے لیے ایمان و عقیدے کی سلامتی ضروری نہ ہوتی، محض مکانی شرافت ہی کافی ہوتی تو ابو جہل و ابو لہب جیسے جہنم کا ایندھن نہ بنتے اس لیے کہ وہ بھی کعبہ و منیٰ، دیر و حرم کے والی تھے مگر اسلام دشمنی نے انہیں جہنم کا ایندھن بنا دیا۔ لہذا ہر صالح فکر کو چاہیے کہ اپنی فکروں کا محاسبہ کرے اور اولوالعزم علمائے ربانیین کے ذریعے بیان کی گئی قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرے اور ہر اس ذات سے دور و نفور رہے جس کے سبب ایمان و عقیدے کا فساد ہو، اس لیے کہ فلاح و کامرانی کی ضمانت ایمان و عقیدے کی حفاظت میں ہی ہے۔

بارگاہِ رب العزت میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جملہ اہلِ سنت و جماعت کے ایمان و عقیدے کی حفاظت فرمائے اور عبادات و اعمالِ صالحہ کو قرآن و سنت کے بتائے ہوئے طریقے (جس کو علمائے ربانیین نے اپنی تعلیمات میں بیان فرمایا) پر کرنے کی توفیقِ رفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہِ حبیبہ النبی الکریم علیہ وعلی آلہ أفضل الصلوٰة وأكرم التسليم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!