Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

علمِ غیب (قسط: دوم)

علمِ غیب (قسط: اول)
عنوان: علمِ غیب (قسط: اول)
تحریر: پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد
پیش کش: ام عروج فاطمہ بنت اکرام رضوی
منجانب: جامعہ مصباح تاج الشریعہ، ردولی شریف، بہار

ان حضراتِ قدسیہ نے کبھی کبھی اس علم کا اظہار بھی فرمایا جیسا کہ قرآنِ کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے پیروکاروں سے یہ ارشاد فرما رہے ہیں:

  1. اور میں تم کو بتلا دیتا ہوں جو کچھ اپنے گھروں میں کھاتے ہو اور جو رکھ آتے ہو۔

یعنی جس جس نے جو کچھ اپنے گھر میں کھایا اور جو کچھ گھر میں رکھا سب آپ کی نظر میں تھا۔ حضرت یوسف علیہ السلام قید خانے میں قیدیوں کو خواب کی تعبیر بتانے سے پہلے فرما رہے ہیں:

  1. جو کھانا تمہارے پاس آتا ہے جو کہ تم کو کھانے کے لیے ملتا ہے میں اس کے آنے سے پہلے اس کی حقیقت تم کو بتلا دیتا ہوں۔ یہ بتلا دینا اس علم کی بدولت ہے جو مجھ کو میرے رب نے تعلیم فرمایا ہے۔

ان آیات سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ رسولوں کو علمِ غیب عطا فرمایا ہے، اس عطائے خاص سے انکار، قرآن سے انکار ہے۔ یہ علم کوئی معمولی علم نہیں، بڑے اہتمام اور تیاری کے بعد عطا فرمایا جاتا ہے اور جس کو عطا فرمایا جاتا ہے اس کے آگے اور پیچھے فرشتوں کے پہرے لگا دیے جاتے ہیں۔ ارشاد فرماتا ہے:

”سو وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔ ہاں، مگر اپنے کسی برگزیدہ پیغمبر کو تو اس (پیغمبر) کے آگے پیچھے محافظ (فرشتے) بھیج دیتا ہے۔“

بے شک جس کو یہ علم عطا کیا گیا اُس کو بہت کچھ عطا کیا گیا۔ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کو یکساں ”علمِ غیب“ حاصل نہیں بلکہ جس طرح انبیاء و رسل میں درجات ہیں اس طرح ”علمِ غیب“ بھی درجہ بدرجہ عطا کیا گیا ہے۔ قرآنِ حکیم سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات ہوئی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے وہ ”علمِ غیب“ سیکھنے کی درخواست کی جو اللہ نے اُن کو عطا فرمایا تھا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے درخواست منظور کی مگر یہ ہدایت فرمائی کہ ”دیکھتے جانا، بولنا نہیں، جب تک میں نہ بولوں“ حضرت خضر علیہ السلام جو کچھ کرتے گئے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نہ سمجھ سکے۔ آخر رہا نہ گیا، پوچھ لیا، حضرت خضر علیہ السلام نے راز سے پردہ اُٹھا دیا مگر پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ساتھ نہ رکھا۔ یہ پوری تفصیل قرآنِ حکیم میں موجود ہے۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ تمام انبیاء کو یکساں ”علمِ غیب“ نہیں دیا گیا۔

”علمِ غیب“ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی عطا فرمایا گیا۔ یہ ”علمِ غیب“ ہی آپ کا بڑا معجزہ تھا، مختلف انبیاء کو مختلف معجزات دیئے گئے مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معجزہ عطا فرمایا کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کو جو علمِ غیب دیا گیا وہ سب آپ کو دیا گیا اور اس کے سوا جو کچھ دیا وہ سوائے اللہ کے کسی کو نہیں معلوم۔ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء علیہم السلام کی صفاتِ حسنہ کے جامع تھے اور ان کے علوم و معارف کے بھی جامع تھے۔

حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کچھ دیا گیا اس کے متعلق ارشاد ہے:

وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ ۚ وَكَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ عَظِيْمًا.

اور تمہیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ اب کوئی چیز ایسی نہ رہی جو آپ نہ جانتے ہوں، اس لیے اس نعمت کو اللہ نے ”فضلِ عظیم“ کہا ہے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کچھ پڑھایا، اللہ نے پڑھایا۔ اگر استاد، شاگرد سے یہ بات کہے، ”میں نے تم کو پڑھایا ہے، تم تو کچھ نہ جانتے تھے“ تو یہ حق ہے، گستاخی و بے ادبی نہیں لیکن اگر کوئی شاگرد، اپنے استاد سے یہ کہے، ”تم تو کچھ نہ جانتے تھے، تمہارے استاد نے تم کو پڑھایا ہے“ تو یہ سراسر بے ادبی اور گستاخی ہوگی تاریخِ انسانیت میں ایسا بے ادب شاگرد نظر نہیں آتا اللہ تعالیٰ نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھایا جو کچھ عطا فرمایا، اللہ ہی نے عطا فرمایا تو اگر اس نے قرآنِ کریم میں عطا سے پہلے کی کیفیت کو یوں بیان فرمایا مَا تَدْرِيْ مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيْمَانُ تو یہ اللہ کی شان کے لائق ہے، ہمیں زیب نہیں دیتا کہ بے ادب و گستاخ شاگرد کی طرح آپ کے حضور وہ بات کہیں جو حق جل مجدہ نے آپ سے فرمائی۔ بے شک اللہ نے آپ کو علمِ غیب عطا فرمایا جو شخص اس فضلِ الٰہی کا انکار کرتا ہے یا اس کی تخفیف کرتا ہے وہ اللہ کے فضل کا انکار کرتا ہے اور اللہ کے فضل کی تخفیف کرتا ہے جو ایسا کرتا ہے اس کو کون مسلمان کہہ سکتا ہے۔ موحد کی شان تو یہ ہے کہ وہ اللہ کے ہر ہر حکم کا احترام کرتا ہے، اس پر خود عمل کرتا ہے اور دوسروں کو عمل کرواتا ہے۔

حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا دربار، بڑا دربار ہے، اُن کے حضور بلند آواز سے بولنے والے کے اعمال بھی ضائع ہو جاتے ہیں اُن کی محفلِ مبارک سے بلا اجازت اُٹھنے والے کو دردناک عذاب کی وعید سنائی جا رہی ہے آپ ہی کے سینے پر ارشاد ہوتا ہے:

”تم لوگ رسول کے بلانے کو ایسا مت سمجھو جیسا تم میں ایک دوسرے کو بلا لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کو جانتا ہے جو آڑ میں ہو کر تم میں سے کھسک جاتے ہیں، سو جو لوگ اللہ کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں اُن کو اس سے ڈرنا چاہیے کہ ان پر کوئی آفت آن پڑے یا اُن پر کوئی دردناک عذاب نازل ہو جائے۔“

آپ خود اندازہ لگائیں جس محفلِ مبارک کا یہ ادب ہو اس میں رونقِ محفل سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا ادب ہوگا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس محفلِ پاک میں سر جھکائے دم بخود بیٹھے رہتے تھے بات بات پر کہتے: ”یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان!“ ہر سوال کا ایک ہی جواب تھا، ”اللہ اور اس کا رسول سب سے زیادہ جانتے ہیں“۔ بے شک حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے پروردگار نے علمِ غیب عطا فرمایا۔ اس حقیقت کو تین جہتوں سے سمجھا جا سکتا ہے:

  1. آپ کو براہِ راست ”علمِ غیب“ عطا کیا۔
  2. آپ کو قرآن عطا فرمایا گیا جو ”علمِ غیب“ کا خزانہ ہے۔
  3. آپ کو شاہد بنا کر بھیجا گیا اور شاہد وہی ہوتا ہے جو واقعہ کے وقت موجود بھی ہو اور دیکھ بھی رہا ہو یعنی اس کو ہر بات کا عین الیقین اور حق الیقین حاصل ہوتا ہے۔

(1) حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے ”علمِ غیب“ کو پہلی جہت سے دیکھا جائے تو یہ آیات آپ کے ”علمِ غیب“ کی تصدیق کرتی ہیں:

  1. یہ باتیں منجملہ غیب کی خبروں کے ہیں کہ ہم بھیجتے ہیں تیری طرف۔
  2. یہ خبریں ہیں غیب کی کہ ہم بھیجتے ہیں تیرے پاس۔
  3. اور یہ غیب کی بات بتانے میں بخیل نہیں ہے۔

(2) حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے ”علمِ غیب“ کو دوسری جہت سے دیکھا جائے تو یہ آیات ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں:

  1. ہم نے آپ پر یہ قرآن اتارا ہے جو کہ تمام باتوں کا بیان کرنے والا ہے۔
  2. (یہ قرآن) کچھ بنائی ہوئی بات نہیں لیکن موافق ہے اس کلام کے جو اس سے پہلے ہے اور بیان ہر چیز کا۔
  3. ہم نے اس کتاب میں کچھ اُٹھا نہ رکھا۔
  4. بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب ہے۔
  5. اور کوئی چیز نہیں جو غائب ہو آسمان اور زمین میں مگر موجود ہے کھلی کتاب میں۔
  6. اور کوئی دانہ زمین کے اندھیروں اور نہ کوئی ہری چیز اور نہ کوئی سوکھی چیز مگر وہ سب کتابِ مبین میں ہے۔

آپ نے ملاحظہ فرمایا، ان آیات میں پہلے کتابِ مبین قرآنِ حکیم کا ذکر فرمایا پھر یہ فرمایا کہ اس روشن کتاب میں کیا کیا کچھ ہے غور فرمائیں، یہ روشن کتاب جس میں زمین و آسمان کی ہر شے کا بیان ہے جس ذاتِ قدسی پر اتری، اُس کے علم و دانش کا کیا عالم ہوگا!

(3) حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے علمِ غیب کو تیسری جہت سے دیکھا جائے تو یہ آیاتِ کریمہ ہم کو ایک نئے جہان میں لے جاتی ہیں جہاں ہم حیرت سے ایک دوسرے کا منہ تکتے ہیں مگر جو کچھ کہا گیا اُس پر دل و جان سے ایمان لاتے ہیں کہ اگر ایمان نہ لائیں تو کہیں کے نہ رہیں، ان آیات پر خوب غور فرمائیں اور علمِ مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی وسعت و پہنائی کا اندازہ لگائیں، اللہ اکبر! ہم کیا اندازہ لگا سکتے ہیں ان کا ربِ کریم ہی جانے کہ اس نے اپنے حبیبِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کس قدر ”علمِ غیب“ عطا فرمایا! اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

  1. ہم نے آپ کو گواہی دینے والا اور بشارت دینے والا اور ڈرانے والا کر کے بھیجا ہے۔
  2. اور آپ کو ان لوگوں پر گواہی دینے کے لیے حاضر لائیں گے۔
  3. بے شک ہم نے تمہارے پاس ایک رسول بھیجا ہے جو تم پر گواہی دے گا۔
  4. اور جس دن ہم ہر ہر امت سے ایک ایک گواہ جو انہی میں سے ہوگا ان کے مقابلے میں قائم کریں گے اور ان لوگوں کے مقابلے میں آپ کو گواہ بنا کر لائیں گے۔

ان آیاتِ کریمہ سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف اپنی اُمت بلکہ دوسرے انبیاء کی امتوں کے اعمال کی بھی گواہی دیں گے اور گواہی وہی دیتا ہے جس کے سامنے کوئی کام یا کوئی بات ہوئی ہو۔ ان آیات سے معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سب کچھ ملاحظہ فرما رہے ہیں، وہ ہمارے احوال و اعمال سے بے خبر نہیں۔

جاری ہے۔۔۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!