| عنوان: | ملفوظاتِ تاج الشریعہ علیہ الرحمہ (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی عبد الرحیم نشتر فاروقی |
| پیش کش: | بنت اسلم برکاتی |
عرض 7: میں نے ایک کتاب میں پڑھا تھا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح ابو لہب کے بیٹے سے کیا تھا۔ کیا یہ درست ہے؟
ارشاد: سردست مجھے اس سلسلے میں یاد نہیں ہے۔ اتنا ضرور ہے کہ ابو لہب کے کسی بیٹے سے سرکارِ کریم علیہ الصلاۃ والسلام کی کسی صاحبزادی کا نکاح ہوا اور ابو لہب کی شرارت سے یا شامتِ اعمال سے وہ آمادہِ گستاخی ہوا اور سرکارِ کریم علیہ الصلاۃ والسلام نے یہ فرمایا:
اَللّٰهُمَّ سَلِّطْ عَلَيْهِ كَلْبًا مِّنْ كِلَابِكَ.
اے اللہ! اس پر اپنے کتوں سے ایک کتا مسلط فرما۔ [شرح السنۃ للبغوی، 7/ 268 - السنن الکبریٰ للبیہقی، 5/ 346] اور ملکِ شام کو حسبِ عادتِ قریش کا جو قافلہ جاتا تھا اس میں وہ موجود تھا۔ کسی جنگل سے جب گزر ہو رہا تھا تو شیر ظاہر ہوا اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی دعا کا یہ اثر ہوا کہ شیر نے گویا کہ وہ مامور تھا اس کو پھاڑ کھایا۔
عرض 8: ایک ہندو مسلمان ہونا چاہتا ہے اور مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے اس کے لیے ضروری اقدامات کیا ہیں کہ وہ اسلام میں داخل ہو؟ اور کیا مجھے اس سے شادی کرنی چاہیے کیوں کہ وہ مجھ سے شادی کے لیے اسلام قبول کرنا چاہتا ہے نہ کہ دینِ اسلام کی طرف رجحان کے باعث؟ (انگریزی سوال)
ارشاد: اسے مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اقرار کرے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری رسول ہیں اور آپ اسے اسلام کے بنیادی احکام سے متعارف کرائیں اور اسے ہر قسم کے شرک و کفر سے دور رہنے کی تنبیہ کریں۔ جہاں تک شادی کرنے کا سوال ہے تو یہ آپ پر منحصر ہے کہ اگر آپ اس سے مطمئن ہیں تو آپ شادی کر سکتی ہیں۔
عرض 9: مشت زنی روزے کی حالت میں روزہ یاد ہونے پر کی تو کیا روزہ ٹوٹ گیا؟ اگر ٹوٹ گیا تو قضا ہے یا کفارہ؟
ارشاد: روزہ ٹوٹ گیا جبکہ روزہ دار ہونا یاد تھا اور مشت زنی کی عادت حرام ہے۔ اس سے توبہ لازم ہے اور اس صورت میں قضا ہے کفارہ نہیں۔ جہاں تک مجھے یاد ہے اور مزید اس سلسلے میں کسی سے پوچھیں یا کتاب دیکھ کر مسئلہ معلوم کریں۔ (اور مشت زنی یعنی استمناء بالکف اس کے بارے میں یہی حکم ہے کہ قضا لازم ہے اور کفارہ نہیں)۔
عرض 10: اگر کوئی شخص پیشاب کرنے کے ایک سے دو گھنٹے بعد تک قطروں کے مرض میں مبتلا ہو کیا اسے ہر فرض نماز میں کپڑے بدلنے چاہئیں یا وہ پانچ فرض نمازیں انہی کپڑوں میں نئے وضو کے ساتھ پڑھ سکتا ہے؟ (انگریزی سوال)
ارشاد: مجھے یاد ہے کہ میں نے پچھلے سیشن میں اس کا جواب دیا تھا اس صورت میں اسے ہر وقت کپڑے تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ صرف مخصوص حصے کو دھو سکتا ہے اور وہ ہر نماز کے لیے وضو کرے جب نماز کا وقت داخل ہو۔
عرض 11: ہمارے یہاں ایک عالم صاحب نے یہ فرمایا کہ محلے داری اور پڑوس کی بنا پر بدمذہب کے جنازے اور سوئم میں ضرور شریک ہونا چاہیے اور سوئم میں جب قرآن مجید پڑھے تو ایصالِ ثواب کی نیت سے نہ پڑھے بلکہ اس نیت سے پڑھے کہ کلامِ پاک پڑھتا ہوں۔ رہنمائی فرمائیں!
ارشاد: یہ حکم سخت خلافِ شرع ہے اور یہ حکم صلح کلیت کی دعوت دینا ہے اور بدمذہبوں کی بدمذہبی کو ہلکا سمجھنا، بلکہ یہ بدمذہب نوازی ہے اور مداہنت فی الدین ہے اور دین میں مداہنت حرام، بدکام اور کفر انجام ہے۔ اس حکم پر ہرگز عمل نہ کرے اور بدمذہب کی بدمذہبی اگر حدِ کفر تک پہنچی ہے، تو اس کی نمازِ جنازہ پڑھنا ناجائز و حرام بلکہ فقہائے کرام کے حکم کے بموجب کفر ہے:
اَلدُّعَاءُ بِالْمَغْفِرَةِ لِلْكَافِرِ كُفْرٌ لِّطَلَبِهٖ تَكْذِيْبَ اللهِ تَعَالٰى فِيْمَا أَخْبَرَ بِهٖ كَذَا قَالَ الْقَرَافِيُّ. [الدر المختار، 10/ 522]
قرافی کے حوالے سے در مختار میں یہ ہے کہ کافر کے لیے مغفرت کی دعا کرنا کفر ہے۔ اس لیے کہ یہ اس بات کا متقاضی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جو خبر دی کہ کافروں کی مغفرت نہیں ہوگی یہ دعائے مغفرت اُس کی تکذیب کی متقاضی ہے اور تکذیب کا تقاضا کرتی ہے لہٰذا یہ کفر ہے۔
عرض 12: کیا معتکف اپنے ساتھ الکحل/ اسپرٹ سے بنائی گئی ہومیوپیتھک دوا مسجد میں لا کر عبادت کی جگہ پر رکھ سکتے ہیں؟
ارشاد: ہومیوپیتھک کی بعض دوائیں پاک و صاف ہوتی ہیں اور ان میں الکحل نہیں ہوتا اور بعض دواؤں میں الکحل کی آمیزش ہوتی ہے۔ خصوصاً لکوڈ اور ٹیبلیٹ میں بھی الکحل کی آمیزش ایسی ہوتی ہے کہ میں نے خود یہ دیکھا کہ ہومیوپیتھک کی وہ گولیاں اگر کسی بیگ وغیرہ میں بند بھی ہوں، تو ان سے بالکل شراب کی بو آتی ہے۔ اگر وہ گولیاں ایسی ہیں تو نجس ہیں اور کسی نجس چیز کا مسجد میں داخل کرنا حرام و ناجائز ہے۔ اس کی اجازت نہیں اور اگر ان گولیوں میں یا اس لکوڈ میں اس دوا میں الکحل کی آمیزش نہیں ہے تو جائز ہے۔
عرض 13: اتنا باریک کپڑا کہ جسم جھلکے مرد اور عورت دونوں کے لیے ایسے کپڑے کا کیا حکم ہے؟ اور اس کپڑے میں نماز کا کیا حکم ہے مرد اور عورت دونوں کے لیے؟
ارشاد: مرد کے لیے ایسا کپڑا پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ اس کے اعضائے عورت کی نمائش نہ ہو، ران وغیرہ کی نمائش نہ ہو، اور ہاتھ وغیرہ میں اوپر کے حصے میں وہ کپڑا پہنے تو اس کے لیے حرج نہیں ہے اور عورت سر تا پا عورت ہے لہٰذا اگر وہ ایسا کپڑا پہنتی ہے اور اس کے پیٹ، پیٹھ، سینہ اور بازو وغیرہ چمکتے ہیں تو یہ کپڑا اس کے لیے ناجائز و حرام ہے اور یہ قیامت کی نشانی ہے۔ سرکار علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا:
كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ.
کہ کپڑا پہنیں گی لیکن اس کے باوجود وہ عریاں نظر آئیں گی۔ [الصحیح لمسلم، 3/ 1680]
اسی طرح عورتوں کو خصوصاً اور مردوں کو بھی ایسا کپڑا پہننا جس سے بدن کے اعضاء کی نمائش ہو اور ان کا انداز خوب جھلکے ناجائز ہے۔ کپڑے کی مصلحت اور اس کی حکمت سترِ عورت ہے اور آج کل کے فیشن میں عریانیت اور ننگا پن اور فحاشیت اس پر زیادہ زور ہے۔ لہٰذا اس قسم کے کپڑے چست اور جھلکنے والے، تنگ اور چست بنائے جاتے ہیں جس سے بدن کے اعضاء کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس سے بھی احتراز لازم ہے اور عورتوں کی نماز جس صورت میں ان کے اعضاء بازو، پیٹ، سینہ وغیرہ جھلکیں ان کی نماز نہیں ہوگی۔
عرض 14: التشبہ بالکفر ہو عین الکفر سواء کان فی القول والعمل؟
ارشاد: سائل اس سے کیا پوچھنا چاہتا ہے اور وہ سائل عرب ہے یا غیر عرب ہے؟ اور یہاں پر اس عبارت کے لکھنے میں کچھ مس پرنٹ واقع ہوا (التشبہ من کفر) کفر سے مشابہت کا قصد یا کفر سے مشابہتِ صوری جو چیز کہ شعارِ کفر ہے یا جو چیز ان کافروں کا شعار ہو یا ان کا مذہبی ہے کفر سے بات یہاں پر شعارِ مذہبی ہے اس سے تشبہ قصداً ہو تو ہر مطلقاً وہ قومی شعار میں ہو یا مذہبی شعار میں یہ قصدِ مشابہت مطلقاً کفر ہے اور اگر مشابہتِ صوری ہو اور مذہبی شعار میں ہو وہ قول ہو یا عمل تو یہ بھی کفر ہے اور اگر قومی شعار ہے اور مشابہت قصداً نہیں بلکہ صورتاً واقع ہو گئی تو یہ حرام و ناجائز ہے۔
عرض 15: اگست کے سیشن میں فرمایا کہ اقامت میں حَیَّ عَلَى الصَّلَاة اور حَیَّ عَلَى الْفَلَاح کے وقت چہرے کو دائیں اور بائیں نہ گھمائیں، بہارِ شریعت میں گھمانے کا حکم دیا ہے اور آگے لکھا ہے کہ اذان کی سنتوں سے اقامت کی سنتیں زیادہ مؤکد ہیں، رہنمائی فرمائیں!
ارشاد: مجھے اقامت کے سلسلے میں یہ حکم یاد نہیں ہے۔ اگر بہارِ شریعت میں ایسا ہی ہے تو جو بہارِ شریعت میں ہے وہی صحیح ہے۔ بہرحال یہ عبارت صحیح نقل کے قابل ہے اور صحیح نقل کا تقاضا کرتی ہے۔ میں کتاب منگوا کر اس کو دیکھ کر اس سلسلے میں کچھ کہہ سکوں گا۔
عرض 16: سات (7) سالہ بچے کی بیعت اس کی ماں کروا سکتی ہے؟ جبکہ بچے کے والد کو اس بارے میں علم نہ ہو یا اس کی مرضی نہ ہو؟
ارشاد: حضور مفتیِ اعظم ہند علیہ الرحمہ یہ فرماتے تھے کہ نابالغ بچے اپنے باپ کی اجازت سے بیعت ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا باپ کی اجازت لینی چاہیے۔
عرض 17: کیا عورت تنہا فضائی سفر کر سکتی ہے اس طرح کہ اس کا محرم اسے ایئر پورٹ پر چھوڑے اور دوسرے ایئر پورٹ پر دوسرا محرم اس کو لے لے؟ (انگریزی سوال)
ارشاد: یہ درست نہیں ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس کی اجازت بھی نہیں ہے۔
عرض 18: اگر کسی کے بہت زیادہ روزے قضا ہوں تو وہ شوال کے چھ (6) روزوں پر قضا روزوں کی نیت کرے گا یا شوال کے چھ؟
ارشاد: جب تک فرض ذمے میں ہے نفل قبول نہیں ہوتا۔ لہٰذا جس قدر جلدی بنے وہ جو روزے اس کے ذمے قضا ہیں ان کو ادا کر لے اور چھ روزے جو شوال کے دنوں میں رکھے جاتے ہیں ان میں بھی وہ قضا کی نیت کرے۔
عرض 19: امام مہدی رضی اللہ تبارک و تعالیٰ عنہ جس زمانے میں ظاہر ہوں گے اُس زمانے میں مسلمانوں کی فرقہ بندی ہوگی کہ نہیں جیسے حدیث میں نشاندہی کی ہے تہتر (73) فرقے مسلمانوں میں قیامت تک ہوں گے تو کیا امام مہدی رضی اللہ تبارک و تعالیٰ عنہ کے زمانے میں مختلف فرقے ہوں گے کہ امام مہدی رضی اللہ تبارک و تعالیٰ عنہ سے پہلے تہتر (73) فرقے ہو چکے ہوں گے؟
ارشاد: حدیث کے اطلاق سے یہی ظاہر ہے اور حضرت امام مہدی رضی اللہ تبارک و تعالیٰ عنہ اس وقت ظاہر ہوں گے جب بد مذہبی کا اور کفر کا دور دورہ ہوگا۔ اُن کے حالات میں آتا ہے کہ وہ سور کو قتل کریں گے، صلیب کو توڑیں گے اور دنیا کو عدل سے بھر دیں گے۔ اس سے پہلے وہ جور اور ظلم سے بھری ہوگی اور بدمذہبی اور باطل فرقے یہ سب ظالم اور ظلم کے مصداق ہیں۔
عرض 20: موبائل ایس ایم ایس اور ای میل کے ذریعے ایسی بات چلائی جا رہی ہے اور اس کو حدیث شریف بتایا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ جس شخص کی نمازیں قضا ہوئی ہوں اور تعداد معلوم نہ ہو تو وہ رمضان کے آخری جمعے کے دن چار رکعات نفل ایک سلام سے پڑھے ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سات بار آیت الکرسی اور پندرہ بار سورۃ کوثر پڑھے اگر سات سو (700) سال کی نمازیں بھی قضا ہوئی ہوں گی تو اس کے کفارے کے لیے یہ نماز کافی ہے، کیا یہ صحیح حدیث شریف سے ثابت ہے؟
ارشاد: معاذ اللہ! یہ کوئی حدیث کا مضمون نہیں ہے اور اس قسم کی حدیث نہ میری نظر سے گزری نہ میں یہ گمان کر سکتا ہوں کہ ایسا مضمون حدیث میں وارد ہوا ہوگا اور یہ فرائضِ الٰہی کو یکسر اٹھانا ہے، ایسی حدیث اگر ہو بھی تو ضرور موضوع ہوگی۔ اس پیغام کو بھیجنا اور اس کو وصول کرنا اور اس پر کان دھرنا اور اس کو آگے بھیجنا یہ سب حرام، بد کام ہے۔
عرض 21: کیا مرد کے لیے جسم کے بال (سینے کے بال) ہٹانا جائز ہے؟ (انگریزی سوال)
ارشاد: اس کا مشورہ نہیں دیا جاتا۔
عرض 22: انگلی میں پتھر پہننا جائز ہے یا نہیں؟ پھر اس نیت سے پہننا کہ کاروبار میں اضافہ ہو صحیح ہے یا نہیں؟ غیر مسلم سے ہاتھ دکھلانا یا تاریخِ پیدائش بتا کر پتھر لینا صحیح ہے یا نہیں؟
ارشاد: یہ تو ایک طرح کی کہانت ہے اور کاہنوں کے اوپر اعتبار کرنا ہے یہ شرعاً منع ہے اور بدشگونی ہمارے دین میں نہیں ہے اور پتھر عقیق وغیرہ کا پہننا جبکہ ایک ہو اور چاندی کی انگوٹھی ساڑھے چار ماشے سے کم کی ایک نگ کی ایک انگوٹھی ہو تو یہ جائز ہے اور حدیث میں عقیق کو پہننے کا حکم آیا ہے اور فرمایا کہ عقیق کی انگوٹھی پہنو اس لیے کہ عقیق برکت والا ہے۔
عرض 23: حضرت! گزشتہ سال رمضان میں میرے پاس دس ہزار روپے (10,000) تھے اس سال رمضان میں کل ساٹھ ہزار (60,000) کی رقم میرے پاس ہے تو مجھے کتنی رقم پر زکوٰۃ ادا کرنا ہوگی؟
ارشاد: جو رقم اخراجات کے بعد حاجتِ اصلیہ سے اور دین سے فاضل ہو اس رقم کی زکوٰۃ ادا کرنا ہوگی۔
عرض 24: اگر امام صاحب تکبیرِ تحریمہ کے بعد قراءت شروع کر دیں تو وہ مقتدی جو ثنا نہیں پڑھ پایا وہ ثنا کب پڑھے؟
ارشاد: اگر اس نے قراءت شروع کر دی تو اب مقتدی پر استماع اور انصات فرض ہے:
وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَأَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ.
ترجمہ: جب قرآن پڑھا جائے تو اس کو سنو اور اس کی تلاوت کے دوران خاموش رہو تاکہ تمہارے اوپر رحمت ہو۔ [سورۃ الاعراف، آیت: 204]
یہ حکم خارجِ صلاۃ اور نماز میں یکساں ہے۔ جب اس نے قراءت شروع کر دی اور یہ سن رہا ہے تو اب اس کو ثنا پڑھنے کا حکم نہیں ہے اس لیے کہ ثنا پڑھنا ایک مسنون کام ہے اور استماع اور انصات فرض ہے۔
عرض 25: سید زادہ قرض میں ڈوبا ہو قرض اتارنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ہے تو کیا قرض اتارنے میں زکوٰۃ کا پیسہ دے سکتے ہیں یا نہیں؟
ارشاد: زکوٰۃ دینا سید کو جائز نہیں اور سید کو زکوٰۃ لینا بھی جائز نہیں اور سید کو زکوٰۃ دینے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔ سید کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور زکوٰۃ کے علاوہ کوئی اور رقم نہیں ہے جس سے سید کی خدمت ہو سکے تو حیلہِ شرعی کے ذریعے سے سید صاحب کی خدمت کر سکتے ہیں اور حیلہِ شرعی معروف ہے کہ کسی فقیر مسلم کو وہ رقم دے دیں اور اس سے کہہ دیں کہ یہ رقم تمہاری ہے اس کا تم جو چاہو کرو۔ تملیک کی نیت سے اس کو یہ رقم دے کر اور اس کو مالک بنا کر پھر اس کو کہیں کہ اگر تم چاہو تو فلاں سید صاحب کی خدمت کر دو، تو اس صورت میں زکوٰۃ بھی ادا ہو جائے گی اور یہ کہنے والا فقیر کو یہ نیک مشورہ دینے والا اس کی نیکی میں برابر کا شریک ہوگا اور سید صاحب کو یہ رقم لینا حلال ہوگا۔
عرض 26: زید نے فرض حج نہیں کیا اور عذر یہ پیش کرتا ہے کہ جب تک پاسپورٹ پر تصویر کی پابندی ہے اس وقت تک اُس پر حج فرض ہی نہیں، بکر کہتا ہے کہ حج فرض کر لیا جائے مگر نفلی حج اور عمرے کے لیے تصویر کی اجازت نہیں، عمرو کا کہنا ہے کہ یہ معذوری کی صورت ہے اس سے حج اور عمرہ فرض ہو یا نفل چھوڑنا ٹھیک نہیں، زید، بکر اور عمرو میں سے کس کا قول شرعِ شریف کے مطابق ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔
ارشاد: حج فرض ہے، ایک نفسِ فرض ہے اور ایک فرضیتِ ادا ہے۔ نفسِ وجوب کے اعتبار سے اس پر حج فرض ہے لیکن ادائیگیِ حج اس پر فرض نہیں ہے۔ اس لیے کہ فرضیتِ حج کی ادائیگی کی بہت شرطیں ہیں۔ اس میں سے ایک شرط امنِ طریق ہے اور امنِ طریق یہ ہے کہ راستے میں کوئی مانع، حج کو جانے سے کوئی چیز مانع نہ ہو۔ یہاں پر جب حکومتوں کے قوانین کے اعتبار سے خلافِ شرع ایک امر پر مجبور کیا جاتا ہے کہ فوٹو کھنچواؤ تبھی حج کو جا سکتے ہو تو یہ امنِ طریق کی صورت نہیں ہے۔ لہٰذا اس صورت میں ادائیگی اس پر فرض نہیں ہے اور اس صورت میں یہ ہے کہ وہ شخص اگر حج کے لیے نہ گیا تو اس پر لازم ہے کہ اپنے انتقال کے وقت یہ وصیت کر دے کہ جب یہ ناجائز اور حرام شرط اُٹھ جائے، پابندی اٹھ جائے میری طرف سے حج کر لینا اور جن صاحب نے یہ تفسیر کی کہ فرض حج کے لیے فوٹو کھنچوانا جائز ہے ان کی یہ تفسیر غلط ہے۔ فوٹو کھنچوانے کی اجازت حج فرض کے لیے یا نفل کے لیے کسی صورت نہیں ہے۔
عرض 27: روزے کی حالت میں آنکھ میں دوا ڈال سکتے ہیں؟ جبکہ اطبا (ڈاکٹرز) سے معلوم کرنے پر پتا چلا کہ آنکھ میں ڈالی جانے والی دوا اکثر تو ڈائریکٹ معدے میں یا ناک اور حلق کے ذریعے سے معدے تک پہنچتی ہے۔ ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟
ارشاد: آنکھ میں دوا ڈالنے پر فقہا نے یہی فرمایا ہے کہ یہ مفسدِ روزہ نہیں ہے۔ لہٰذا اگر روزے کی حالت میں آنکھ میں دوا ڈالی تو روزہ نہ جائے گا اور پیٹ تک یا معدے تک دوا کا پہنچنا یا کسی چیز کا پہنچنا مطلقاً مفسدِ روزہ نہیں ہے۔ یہ اس صورت میں ہے جبکہ جس جگہ سے وہ شے اس کے بدن میں ڈالی گئی، وہاں سے لے کر پیٹ تک منفذ مباشر ہو براہِ راست، ڈائریکٹ وہاں تک پہنچے اور اگر رگوں کے واسطے سے وہ دوا پیٹ میں یا معدے میں یا پورے بدن میں سرایت کرتی ہے، تو وہ اس صورت میں مفسد نہیں ہے۔ اس کی نظیر انجکشن ہے کہ انجکشن میں جو دوا اس کے ذریعے سے انجیکٹ (داخل) کی جاتی ہے وہ رگوں کے ذریعے سے بدن میں، پیٹ میں، دماغ میں یا اس کے اور اعضا میں پہنچتی ہے ڈائریکٹ نہیں پہنچتی۔
