| عنوان: | طلبائے مدارس اور فاصلاتی تعلیمات (قسط اول) |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | نازیہ فاطمہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
چیتے کا جگر چاہیے شاہین کا تجسس
دنیا نہیں مردانِ جفاکش کے لیے تنگ
مدارسِ اسلامیہ کے طلباء نظامِ فاصلاتی تعلیم (Distance Education System) کے ذریعہ میٹریکولیشن، انٹرمیڈیٹ، گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کے کورسز اور ڈگریاں حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح مختلف حکومتی اداروں اور یونیورسٹیز سے مختلف قسم کے سرٹیفکیٹ پروگرام اور ڈپلوما بھی کر سکتے ہیں۔ یعنی دسویں کلاس سے ماسٹر تک کی ڈگریوں اور کورسز کے حصول کے لیے انہیں کہیں مستقل طور پر کلاس میں حاضری کی ضرورت نہیں، بلکہ صرف امتحانات میں شرکت لازم ہے، اور انہیں متعلقہ مضامین کی تیاری کرنی ہے۔ ملکِ ہند میں بہت سی یونیورسٹیوں میں فاصلاتی تعلیم کا نظم ہے۔
مدارسِ اسلامیہ کے طلباء اور نو فارغین فاصلاتی تعلیم سے منسلک ہونے کی کوشش کریں، تاکہ ان کا مستقبل بھی روشن ہو، نیز وہ مختلف شعبہائے حیات میں قوم کی بھی صالح رہنمائی کر سکیں اور ان کی ذات ملک و ملت کے لیے ایک مینارہِ نور اور روشن چراغ کے مماثل ہو جائے۔ قومِ مسلم، علمائے اسلام کو اپنا رہبر و رہنما تسلیم کرتی ہے اور ہمارا حال یہ ہے کہ نہ ہمارے پاس اتنی قوت موجود ہے کہ ہم اسلام اور قوم و ملت پر ڈالی جانے والی مصیبتوں کا دفاع کر سکیں، نہ آج تک ہم نے ایسی قوت حاصل کرنے کی کوشش کی۔
خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
ہندوستانی مسلمانوں کو مختلف اطراف و جوانب سے نوع بہ نوع مشکلات کا سامنا ہے۔ ہندوستان میں مسلم آبادی کے تناسب سے حکومتِ ہند کے تمام شعبہ جات محکمہ جات میں مسلمانوں کی ایک مختص تعداد کی شمولیت ضروری ہے تا کہ اسلام مخالف یا مسلم مخالف اٹھنے والے فتنوں کا حل وہیں پر ہو جائے، جہاں سے غلط فہمیوں کا بیج بویا جا رہا ہو۔ یہ سب اسی وقت آسان ہوگا کہ جب ان محکمہ جات میں مسلمان موجود ہوں اور وہ دینی و مذہبی اصول و قوانین سے واقف و آشنا ہوں۔ کوشش کی جائے کہ جس طرح پسماندہ طبقات کے لیے ریزرویشن یعنی مختص کوٹہ (Quota) ہے، اسی طرح قومِ مسلم کے لیے بھی ہر شعبہ میں مختص حصہ محفوظ کیا جائے۔
حالاتِ حاضرہ سے کون بے خبر ہے؟ دورِ حاضر میں عالمی پیمانے پر بھی آئے دن اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، اسی طرح ملکی حدود میں بھی کسی نہ کسی طرح اسلام اور مسلمانوں کا کلیجہ چھلنی کرنے کے لیے مختلف حربے بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ ہندوستان کی آزادی کو قریب ستر سال ہو گئے اور آج تک تمام سیاسی پارٹیاں قومِ مسلم کو صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرتی رہی ہیں، پھر حکومت قائم ہو جانے کے بعد یہ سیاسی پارٹیاں اپنے تمام وعدے فراموش کر بیٹھتی ہیں۔ قومِ مسلم آج تک سیاسی پارٹیوں کا کھلونا بنی ہوئی ہے، الیکشن کے وقت مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے ہر پارٹی کوئی مسلم چہرہ لے کر مسلمانوں کے درمیان اترتی ہے، اور ان خود غرض اور مفاد پرستوں کا چہرہ دیکھ کر قومِ مسلم اس پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دیتی ہے۔ یہ چہرے درحقیقت قوم کے سوداگروں کے چہرے ہوتے ہیں۔
اب شاہی حکومت تو موجود نہیں، پس لامحالہ ریاستی اسمبلی اور ملکی پارلیامنٹ تک قومِ مسلم اور خصوصاً علمائے کرام کو رسائی حاصل کرنی چاہیے۔ دیگر اسبابِ کمال کی بنیاد پر بھی اسمبلی اور پارلیامنٹ میں مسلمانوں کی نمائندگی ضروری ہے مثلاً حالیہ دنوں میں مرکزی حکومت مسلم پرسنل لا (Muslim Personal Law) میں تبدیلی کی تجویز پیش کر رہی ہے۔ اگر مسلم ممبرانِ پارلیامنٹ کی قابلِ قدر تعداد ہوتی تو ایسی تجویز پارلیامنٹ سے باہر نہ آ سکتی تھی، بلکہ پارلیامنٹ کے اندر ہی دم توڑ دیتی۔
مذہبِ اسلام کو دہشت گردی کا مذہب بتانا، مسلمانوں کو قدامت پسند کہنا، حضرت پیغمبرِ اسلام صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر مختلف قسم کے اعتراضات کرنا، قرآنِ مجید کی 24 آیاتِ مبارکہ کو دہشت گردی کی تعلیم دینے والی آیات قرار دینا، مدارس کو دہشت گردی کا اڈہ بتانا، مسلم نوجوانوں پر جھوٹے الزامات عائد کر کے جیلوں میں ڈالنا، گھر واپسی کے نام پر مسلمانوں کو مرتد بنانا، لو جہاد کے نام پر مسلمانوں کو دہشت میں مبتلا کرنا، وندے ماترم نہ پڑھنے پر غداریِ وطن کا الزام، توہینِ عدالت وغیرہا الزامات۔ خلاصہِ کلام یہ کہ مسلمان ہونا ہندوستانی جرم قرار پایا۔ ان مشکلات کا حل اور ان الزام تراشیوں پر کنٹرول اسی وقت آسان ہوگا کہ جب آپ وہاں مسند نشیں ہوں، جہاں سے یہ راگ الاپے جا رہے ہیں۔
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندی مسلمانو!
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
حکومتِ ہند کے تین بڑے حصے ہیں: (1) مقننہ (2) منتظمہ (3) عدلیہ۔ مجلسِ مقننہ (Legislative) یعنی اسمبلی و پارلیامنٹ کے ساتھ حکومت کی مجلسِ منتظمہ (Executive) اور عدلیہ (Judiciary) میں بھی معتد بہ مقدار میں مسلمانوں کی شمولیت ہونی چاہیے۔ فوج کے تینوں حصوں بریہ (Army)، بحریہ (Navy)، فضائیہ (Air Force) میں بھی مسلمانوں کو حصہ لینے کی کوشش کرنی چاہیے۔ علمائے کرام حکومت کے تینوں شعبہ جات یعنی مقننہ، منتظمہ اور عدلیہ میں منتظم ہو سکتے ہیں اور ان شعبہ جات میں موجود مسلمانوں کی اصلاحِ اعمال اور ان کے ایمان و عقائد کا تحفظ کر سکتے ہیں۔
اسمبلی (Assembly) یا پارلیامنٹ (Parliament) کے الیکشن (Election) میں بحیثیت امیدوار (Candidate) بھی قسمت آزمائی کی جا سکتی ہے۔ تقدیر پر ایمان لانے کے ساتھ تدبیر اختیار کرنے کا حکم بھی شریعتِ اسلامیہ میں موجود ہے۔ ہاں، تدبیر ہی کو کامیابیوں کا ضامن اعتقاد کر لینا ضرور قابلِ اعتراض ہے۔
ہم اگر بھٹکے تو سارا کارواں کھو جائے گا
ہم کو بننا ہے نشانِ راہِ منزل دوستو!
اگر مدارسِ اسلامیہ کے فارغین، گریجویشن (Graduation) اور پوسٹ گریجویشن (Post Graduation) کر لیں تو یونین پبلک سروس کمیشن (Union Public Service Commission) کی جانب سے منعقد ہونے والے مقابلہ جاتی امتحان میں شریک ہو سکتے ہیں، اور اعلیٰ حکومتی عہدوں کو حاصل کر سکتے ہیں۔ اس (Civil Services Examination CSE) سی ایس ای امتحان میں شرکت کے لیے گریجویٹ ہونا شرط ہے۔ امتحان تحریری بھی ہوتا ہے، اور زبانی بھی، جس کو انٹرویو (Interview) کہا جاتا ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ایک مستقل مضمون میں تفصیلات رقم کروں گا۔ UPSC کے امتحان میں کامیابی کے بعد مختلف شعبہ جات میں سروس ہو سکتی ہے۔ ان میں سے چند مرقومہِ ذیل ہیں:
- IAS (Indian Administrative Service)
- IPS (Indian Police Service)
- IFS (Indian Foreign Service)
- Indian Audit and Account Service
- Indian Civil Accounts Service
- Indian Corporate Law Service
- Indian Defence Accounts Service
- Indian Information Service
- Indian Ordnance Factories Service
- Indian Post & Telecommunication
فاصلاتی تعلیم کی بعض یونیورسٹیز اور اداروں کا تعارفی خاکہ
ذیل میں رقم کیا جاتا ہے، تا کہ طلبائے مدارس اور نو فارغین اس جانب متوجہ ہوں، اور اپنے مستقبل کا رنگین نقش از خود تیار کرنے کی کوشش کریں:
اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی (IGNOU) (دہلی) میں فاصلاتی تعلیم کا انتہائی اچھا انتظام ہے، بلکہ ”Indira Gandhi National Open University“ ہندوستان میں فاصلاتی تعلیمات کی سب سے عظیم یونیورسٹی (اِگنو) رہی ہے۔ سال 1983ء میں اس کا قیام عمل میں آیا۔ اکثر تعلیمی ڈگریاں انگلش میڈیم میں ہیں، بعض ڈگریاں ہندی، اردو اور دیگر مقامی زبانوں میں بھی ہیں۔ اردو زبان و ادب کی ڈگریاں، اردو میڈیم ہیں۔ بی اے (اردو) میں ایڈمیشن سے قبل انٹرنس ایگزام (Entrance Exam) میں شرکت کرنا ہوگا۔ کامیابی کے بعد امیدوار داخلہ کا مجاز ہوگا۔ دوسری شکل یہ ہے کہ انٹر میڈیٹ یا اس کے مماثل کوئی منظور شدہ سرٹیفکیٹ ہو، جب اس سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر بلا امتحان داخلہ ہوگا۔ ملک بھر میں اگنو کے پچاس علاقائی مراکز ہیں اور اسٹڈی سنٹرز بھی کثیر تعداد میں ہیں۔ تفصیلات کے لیے اگنو کی ویب سائٹ دیکھیں۔
ویب سائٹ: (www.ignou.ac.in)
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (MANUU) (حیدرآباد) سے سرٹیفکیٹ پروگرام، ڈپلوما اور ڈگریاں اردو میڈیم ہیں۔ سال 1998ء میں مانو کا قیام ہوا۔ ہندوستان بھر میں مانو کے نو علاقائی مراکز (Regional Centers) اور چھ ماتحت علاقائی مراکز (Sub-Regional Centers) ہیں۔ ”Maulana Azad National Urdu University“ میں بھی فاصلاتی تعلیمات کا بہت عمدہ نظم ہے۔ مزید معلومات کے لیے مانو کی ویب سائٹ دیکھیں۔ (www.manuu.ac.in)
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ (NIOS) (دہلی) ”National Institute of Open Schooling“ کے ذریعہ میٹرک اور انٹر میڈیٹ یعنی دسویں، گیارہویں اور بارہویں کلاس کے امتحانات، فاصلاتی نظامِ تعلیم کے تحت منعقد ہوتے ہیں، یعنی کسی اسکول یا کلاس میں حاضری شرط نہیں۔ صرف چار، پانچ مضامین ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ گورنمنٹ سروس کے لیے کم از کم 10+2 کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ این آئی او ایس کے امتحانات میں شریک ہو کر میٹرک اور انٹر میڈیٹ کا سرٹیفکیٹ حاصل کریں، پھر مختلف محکمہ جات کی پالیسی ویکنسی (Vacancy) کا اعلان ہوتا رہتا ہے، اس کے امتحان میں شرکت کریں۔ این آئی او ایس کے ایگزام سنٹرز اور اسٹڈی سنٹرز ہندوستان کی ہر ریاست اور قریباً ہر ضلع میں ہیں۔ بہت سی ریاستی زبانوں کو ذریعہِ تعلیم بنایا گیا ہے۔ تفصیل کے لیے ویب سائٹ دیکھیں۔ (www.nios.ac.in)
قومی کونسل برائے فروغِ زبانِ اردو (NCPUL) (دہلی) ”National Council for Promotion of Urdu Language“ قومی اردو کونسل کی جانب سے اردو داں طبقہ کے لیے متعدد فاصلاتی کورسز اور ڈپلوما کا انتظام ہے۔ عربی زبان کا بھی دوسالہ ڈپلوما ہے۔ اردو کونسل کے پروگراموں سے استفادہ کیا جائے۔ تفصیلی معلومات کے لیے اردو کونسل کی ویب سائٹ دیکھیں۔ (www.urducouncil.nic.in)
ڈاکٹریٹ اور حکومتی وظائف
آج کے عہد میں فاصلاتی تعلیم علمائے کرام اور طلبائے مدارسِ اسلامیہ کے لیے ایک نعمتِ غیر مترقبہ کی طرح ہے۔ وہ فاصلاتی تعلیم کے ذریعہ بہت سے سرٹیفکیٹ پروگرام، ڈپلوما کورسز اور ڈگریاں حاصل کر سکتے ہیں۔ پوسٹ گریجویشن کے بعد وہ ایم فل اور پی ایچ ڈی بھی کر سکتے ہیں۔ ہر سال ملک گیر پیمانے پر یو جی سی (University Grants Commission) کی جانب سے سال میں دو مرتبہ یعنی جون اور دسمبر میں تین پرچوں پر مشتمل نیٹ ایگزام (National Eligibility Test) منعقد ہوتا ہے۔ جو امیدوار اس ایگزام میں کامیاب ہوتا ہے، وہ پی ایچ ڈی کرنے کے واسطے جے آر ایف (Junior Research Fellowship) کا مستحق قرار پاتا ہے۔ پی ایچ ڈی کی پانچ سالہ مدت میں سے ابتدائی دو سالوں تک اسے وظیفہ کے طور پر ہر ماہ سولہ ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔ اور دو سال کے بعد JRF بدل کر (Senior Research Fellowship) SRF ہو جاتا ہے اور ہر ماہ اٹھارہ ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔ مختلف اسکیموں کے تحت یہ وظائف دیے جاتے ہیں۔ ہر اسکیم میں وظیفہ کی مقدار مختلف ہے۔ ذرا آپ سوچیں ایک پی ایچ ڈی کے طالب علم کو حکومت ہر ماہ اتنی خطیر رقم دیتی ہے، جبکہ ائمہِ مساجد اور مدارسِ عربیہ کے مدرسین کو پورے ہندوستان بھر میں شاید ہی کوئی ایسی منیجنگ کمیٹی ہو، جو اتنی تنخواہ دیتی ہو۔ نیٹ ایگزام کے تین پیپروں میں سے ایک پیپر جنرل نالج کے بارے میں ہوتا ہے۔ دوسرا اور تیسرا پیپر پوسٹ گریجویشن کے مضامین سے متعلق ہوتا ہے۔ ان دو پیپروں میں سے ایک پیپر امیدوار کے اختیاری مضمون سے متعلق ہوتا ہے، اور ایک پیپر جنرل سبجیکٹ کے بارے میں ہوتا ہے۔ نیٹ ایگزام کے بارے میں مزید معلومات کے لیے اس کی ویب سائٹ دیکھیں۔ (www.ugc.ac.in)
نوجوانو! وقت کی آواز پہچانو، اٹھو
توفیق باندازہِ ہمت ہے ازل سے
آنکھوں میں ہے وہ قطرہ جو گوہر نہ ہوا تھا
برق رفتاری کے ساتھ بدلتا ہوا زمانہ اپنے ساتھ نئے تقاضوں کو لے کر آتا ہے۔ قومِ مسلم جب تک زمانے کے تقاضوں کو پورا کرتی رہی، جب تک تاجِ شہنشاہی ان کے ہی سروں پر جگمگاتا رہا۔ زمامِ قیادت ان کے ہی ہاتھوں گردش کرتی رہی۔ کئی صدیوں تک مسلمان ہی علم و فن کی سربراہی کرتے نظر آئے۔ ایک مدت بعد مسلمانوں میں فکری زوال پیدا ہوا۔ لاکھوں وفاداروں کے بیچ چند غدار بھی پیدا ہو گئے۔ جنہوں نے خلافتِ اسلامیہ و سلطنتِ مسلمین کا نام و نشان دنیا سے مٹا دیا۔ خلافتِ عباسیہ (بغداد) ہو یا خلافتِ امویہ (اسپین)، سلطنتِ عثمانیہ (ترکی) ہو یا سلطنتِ مغلیہ (دہلی)، ہر جگہ کسی نہ کسی جعفر و صادق نے جنم لیا اور اسلام کے عروج کو تہ و بالا کر کے رکھ دیا۔ وفاداروں کے عزائم ملیا میٹ ہو گئے اور غداروں کی وجہ سے اسلامی سلطنتیں شکست و ریخت کا شکار ہو گئیں۔
ایک غدار لاکھوں وفاداروں کی وفاداری کو ناکام بنا دیتا ہے، گرچہ غداروں کو بھی کوئی قابلِ قدر فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ درحقیقت غداری فسادِ نیت اور فکری اضمحلال کا ایک بدنما نتیجہ ہوتی ہے۔ غدارانِ قوم و ملک، اقوامِ عالم کی تباہی و بربادی کے مجرم ہوتے ہیں۔ یہ لوگ خود کو بھی نقصان میں ڈال دیتے ہیں، اور اپنے ملک و ملت کو بھی۔ ڈاکٹر اقبال نے کہا:
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ دیں ننگِ خاندان ننگِ وطن
آج بھی اگر قومِ مسلم ملکِ ہند کے موجودہ سیاسی حالات پر غور و فکر کر کے کوئی اچھی پلاننگ کر لے تو ضرور اس کا خوشنما ثمر ہمیں دیکھنے کو ملے گا۔ حکومت و سیاست اور قیادت و سیادت ہماری جانب بڑھتی نظر آئے گی۔ کارنامے انجام دیے جاتے ہیں، نہ کہ کارنامے خود بخود انجام پا جاتے ہیں۔ اپنے آپ کو کارناموں کا اہل بنایا جائے۔ اپنے شخصی مفاد کو بھی مد نظر رکھا جائے، اور قومی مفاد کا بھی تحفظ کیا جائے۔ خود غرضی اور مفاد پرستی سے معاشرہ کو پاک کیا جائے۔ قوم کا رہنما، مثالی رہنما ہو۔
پہلے قوتِ نظر عملِ خام ہوتی ہے
پھر کسی قوم کی شوکت پہ زوال آتا ہے
سیاست سے دوری مفید یا مضر؟
عہدِ حاضر میں اگر مسلمان حکومت و سیاست سے دور ہٹنے کی کوشش کریں گے تو انہیں ہندوستان میں دوسرے درجے کا شہری بن کر زندگی گزارنی پڑے گی، یعنی وہ صرف ہندوستان میں زندگی گزار سکتے ہیں، لیکن نہ تو انہیں اسمبلی و پارلیامنٹ کے الیکشن (Election) میں ووٹ دینے کا حق ہوگا، نہ ہی ان انتخابات میں انہیں امیدوار (Candidate) ہونے کی اجازت ہوگی۔ قومِ مسلم جو ہندوستان میں قریباً ہزار سال تک حاکمانہ شان و شوکت کے ساتھ رہی، اسے محکوم و تابعِ فرمان بنانے کی تمنائیں متعصبین کے دلوں میں کب سے انگڑائیاں لے رہی ہیں۔
نوجوانو! وقت کی پکار کو سنو اور ترقیاتی میدانوں میں خود کو آگے لے جانے کی کوشش کرو تمہارے بارے میں اقوامِ عالم کے عزائم بڑے خطرناک ہیں۔ 15 اگست 1947ء کو ہندوستان آزاد ہوا، جب سے اب تک گزشتہ ستر سالوں میں قریباً پچپن سال کانگریس پارٹی ہی مرکز میں برسرِ اقتدار رہی ہے۔ اس پارٹی کو قومِ مسلم اپنا خیر خواہ اور ہمدرد سمجھتی ہے لیکن مسلمانوں کو کیا ملا طفل تسلی اور خوشنما وعدوں کے علاوہ کچھ نہیں ملا۔
اے گنبدِ خضریٰ کے مکیں وقتِ دعا ہے
امت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے
