Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

دینی تعلیم فرض عین یا فرض کفایہ؟ (قسط:اول)

دینی تعلیم فرض عین یا فرض کفایہ؟ (قسط:اول)
عنوان: دینی تعلیم فرض عین یا فرض کفایہ؟ (قسط:اول)
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: دلکش قادریہ رضویہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

علمِ دین کا وہ حصہ ہے۔ ایک حصہ ایسا ہے جس کو حاصل کرنا مرد و عورت سب کے لیے فرض ہے، اور علمِ دین کا دوسرا حصہ وہ ہے جس کی تحصیل فرضِ کفایہ ہے۔ اگر چند لوگوں نے اسے حاصل کر لیا تو دیگر افراد بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ ملکِ ہند کے قاضی مدارس میں حفظِ قرآنِ مجید اور عالم و فاضل کی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہ تعلیم فرضِ کفایہ ہے۔ اس کا بیان منقوشہ آیتِ کریمہ میں ہے: وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ ترجمہ: ”اور مسلمانوں سے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سب کے سب نکلیں تو کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں“۔ [التوبۃ: 112] [کنز الایمان]

دین کے ضروری مسائل کا علم حاصل کرنا تمام مومن مرد و عورت پر فرض ہے۔ اگر حاصل نہ کیا تو بندہ گنہگار ہوگا، نیز بہت سے فرائض و واجبات اور دیگر عبادات و حکام کی ادائیگی میں بھی مشکل درپیش ہوگا۔ اس کا بیان مرقومہ ذیل حدیثِ مصطفوی میں ہے: ”عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ وَمُسْلِمَةٍ“ ترجمہ: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: علمِ دین کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے“۔ [سنن ابن ماجه، باب فضل العلماء والحث على طلب العلم؛ شعب الإيمان للبيهقي، ج: 2، ص: 253]

فرضِ کفایہ کی تعلیم کے لیے عظیم الشان مدارس تعمیر ہو چکے ہیں، لیکن فرضِ عین کی طرف کما حقہ توجہ نہ دی جا سکی، حالانکہ فرضِ کفایہ سے زیادہ فرضِ عین کی طرف توجہ دی جانی چاہیے؟ مسجدوں سے ملحق مدارس کا قیام اسی مقصد سے ہوا تھا۔ شمالی ہند میں اس درسگاہ کا نام ”مکتب“ ہے اور کیرلا میں اس کو پلی درس اور کرناٹک و گوا کے علم‌ میں انجمن کہا جاتا ہے۔ مکتب کی تعلیم سے ضروری مباحث، تعلیمی مسائل: قسط ہشتم و قسط نہم (شمارہ اپریل 2017ء و شمارہ اگست 2017ء) میں مرقوم ہیں۔ اس مضمون میں شرعی اعتبار سے علمِ دین فرضِ عین و فرضِ کفایہ کی قدرے تفصیل تحریر کی جاتی ہے۔ اس امید کے ساتھ کہ اربابِ اقتدار علما و مشائخ اس بارے میں کچھ غور و فکر کریں: لَعَلَّ اللّٰهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ أَمْرًا۔

علمِ دین کا وہ حصہ جس کو حاصل کرنا فرضِ عین ہے

امامِ اہلِ سنت علیہ الرحمہ نے تحریر فرمایا: ”حدیث ”طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ وَمُسْلِمَةٍ“ کہ بوجہ کثرتِ طرق و تعددِ مخارج حدیثِ حسن ہے۔ اس کا صریح مفاد ہر مسلمان مرد و عورت پر طلبِ علم کی فرضیت، تو یہ صادق نہ آئے گا، مگر اس علم پر جس کا تعلم فرضِ عین ہو، اور فرضِ عین نہیں، مگر ان علوم کا سیکھنا جن کی طرف انسان بالفعل اپنے دین میں محتاج ہو۔ ان کا اعم و اشمل و اعلیٰ و اکمل و اہم و اجل علم اصولِ عقائد ہے، جن کے اعتقاد سے آدمی مسلمان سنی المذہب ہوتا ہے، اور انکار و مخالفت سے کافر یا بدعتی: العیاذ باللہ تعالیٰ۔ سب میں پہلا فرض آدمی پر اسی کا تعلم ہے، اور اس کی طرف احتیاج میں سب یکساں، پھر علم مسائلِ نماز یعنی اس کے فرائض و شرائط و مفسدات جن کے جاننے سے نماز صحیح طور پر ادا کر سکے، پھر جب رمضان آئے تو مسائلِ صوم، مالکِ نصابِ نامی ہو تو مسائلِ زکوٰۃ، صاحبِ استطاعت ہو تو مسائلِ حج، نکاح کرنا چاہے تو اس کے متعلق ضروری مسائل، تاجر ہو تو مسائلِ بیع و شراء، مزارع پر مسائلِ زراعت، موجر و مستاجر پر مسائلِ اجارہ، وعلیٰ ہٰذا القیاس۔ ہر شخص پر اس کے موجودہ حالات کے مسائل سیکھنا فرضِ عین ہے، اور انھیں میں سے ہے مسائلِ حلال و حرام کہ ہر فردِ بشر جن کا محتاج ہے، اور مسائل علمِ قلب یعنی فرائضِ قلبیہ مثل تواضع و اخلاص و توکل وغیرہا اور ان کے طرقِ تحصیل، محرماتِ باطنیہ تکبر و ریا و عجب و حسد وغیرہا اور ان کے معالجات کہ ان کا تعلم بھی ہر مسلمان پر اہم فرائض سے ہے۔ جس طرح بے نماز، فاسق و فاجر مرتکبِ کبائر ہے، یوں ہی بعینہٖ ریا سے نماز پڑھنے والا انھیں مصیبتوں میں گرفتار ہے۔ نسئل اللہ العفو والعافیۃ: تو صرف یہی علوم حدیث میں مراد ہیں وبس“۔ [فتاویٰ رضویہ، حصہ 1، ج: 9، ص: 16، رضا اکیڈمی ممبئی]

مذکورہ بالا وضاحت کے مطابق درج ذیل دینی علوم سیکھنا سب پر فرضِ عین ہے

  1. عقائدِ اسلام و عقائدِ اہلِ سنت والجماعت کا ضروری علم
  2. نماز کے مسائل
  3. رمضان کے روزے کے مسائل
  4. اگر صاحبِ نصابِ نامی ہو تو زکوٰۃ کے مسائل
  5. اگر صاحبِ استطاعت ہو یعنی اس پر حج فرض ہو چکا ہو تو حج کے مسائل
  6. ہر پیشہ والے کو اپنے پیشہ سے متعلق احکام کا علم
  7. جو امور انجام دینا چاہتا ہو اس کے متعلق احکام کا علم
  8. مسائلِ حلال و حرام
  9. مسائل علمِ قلب

خلیفہِ اعلیٰ حضرت، صدر الشریعہ حضرت علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ (1878ء - 1948ء) نے تحریر فرمایا:

مسئلہ: ایک آیت کا حفظ کرنا ہر مسلمان مکلف پر فرضِ عین ہے اور پورے قرآنِ مجید کا حفظ کرنا فرضِ کفایہ، اور سورہ فاتحہ اور ایک دوسری چھوٹی سورت یا اس کے مثل تین چھوٹی آیتیں یا ایک بڑی آیت کا حفظ کرنا واجبِ عین ہے۔ [در مختار] [بہارِ شریعت، حصہ 3، ص: 546، مکتبۃ المدینہ کراچی]

مسئلہ: بقدرِ ضرورت مسائلِ فقہ کا جاننا فرضِ عین ہے، اور حاجت سے زائد سیکھنا حفظِ جمیع قرآن سے افضل ہے۔ [رد المحتار] [بہارِ شریعت، حصہ 3، ص: 546، مکتبۃ المدینہ کراچی]

علمِ دین کا وہ حصہ جس کو حاصل کرنا فرضِ کفایہ ہے

  1. ”حفظِ قرآن فرضِ کفایہ ہے، اور سنتِ صحابہ و تابعین و علمائے دینِ متین رضی اللہ عنہم اجمعین، اور من جملہ افاضلِ مستحبات، عمدہ قربات، منافع و فضائل اس کے حصر و شمار سے باہر“۔ [فتاویٰ رضویہ، حصہ 1، ج: 9، ص: 104، رضا اکیڈمی ممبئی]
  2. ”علمِ دین سیکھنا اس قدر کہ مذہبِ حق سے آگاہ ہو، وضو، غسل، نماز، روزے وغیرہا ضروریاتِ احکام سے مطلع ہو، تاجر تجارت، مزارع زراعت، اجیر اجارے، غرض ہر شخص جس حالت میں ہے، اس کے متعلق احکامِ شریعت سے واقف ہو، فرضِ عین ہے۔ جب تک یہ حاصل کرے، جغرافیہ، تاریخ وغیرہ میں وقت ضائع کرنا جائز نہیں۔ حدیث میں ہے: ”طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ وَمُسْلِمَةٍ“ جو فرض چھوڑ کر نفل میں مشغول ہو، حدیثوں میں اس کی سخت برائی آئی، اور اس کا وہ نیک کام مردود قرار پایا، كَمَا بَيَّنَّاهُ فِي الزَّكَاةِ مِنْ فَتَاوِينَا۔ نہ کہ فرض چھوڑ کر فضولیات میں وقت گنوانا، غرض یہ علومِ ضروریہ تو ضرور مقدم ہیں، اور ان سے غافل ہو کر ریاضی، ہندسہ، طبعیات، فلسفہ یا دیگر خرافات و وسوسے پڑھنے پڑھانے میں مشغولی بلاشبہ متعلم و معلم دونوں کے لیے حرام ہے۔ اور ان ضروریات سے فراغ کے بعد پورا علمِ دین فقہ، حدیث، تفسیر، عربی زبان اس کی صرف، نحو، معانی، بیان، لغت، ادب، وغیرہا آلات علومِ دینیہ بطورِ آلات سیکھنا سکھانا فرضِ کفایہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ یہی علوم، علومِ دین ہیں، اور انھیں کے پڑھنے پڑھانے میں ثواب اور ان کے سوا کوئی فن یا زبان کچھ کارِ ثواب نہیں۔ ہاں، جو شخص ضروریاتِ دینِ مذکورہ سے فراغ پا کر اقلیدس، حساب، مساحت، جغرافیہ وغیرہا، وہ فنون پڑھے جن میں کوئی امر مخالفِ شرعی نہیں تو ایک مباح کام ہوگا، جبکہ اس کے سبب کسی واجبِ شرعی میں خلل واقع نہ ہو“۔ [فتاویٰ رضویہ، حصہ 1، ج: 9، ص: 108، رضا اکیڈمی ممبئی]

ہمارے مطالبات کیا ہیں؟

علمِ دین جو فرضِ عین ہے، اس کے لیے مستقل کتابیں اردو زبان میں تصنیف کر دی گئی ہیں۔ ان کتابوں میں سب سے اہم بہارِ شریعت ہے۔ یہ کتاب بیس حصوں پر مشتمل ہے۔ اس سے پہلے قانونِ شریعت پڑھائی جائے۔ ان دونوں کتابوں میں ان تمام عقائد و مسائل کا بیان ہے، جن کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح ناظرہ قرآنِ مجید پڑھتے وقت تجوید کے ضروری قواعد بھی پڑھائے جائیں، تاکہ نماز کی ادائیگی صحیح طور پر ہو سکے۔ جو علمِ دین فرض قرار دیا گیا ہے، وہ بہت زیادہ نہیں ہے۔ طلبہ اسکول کے وقت اسکول بھی جائیں اور اسکول جانے سے قبل یا اسکول سے چھٹی کے بعد شام کو دین کی تعلیم کے لیے وقت خاص کر لیں۔ پورے ہندوستان بھر میں قریباً یہی رواج ہے، اور یہ بہت اچھا طریقہ ہے۔ اسکول کی تعلیم بھی جاری رہے، اور ساتھ ہی دینی تعلیم بھی ہوتی رہے۔

تعلیمی مسائل: قسط نہم (شمارہ اگست 2017ء) میں ہم نے مذکورہ بالا طریقِ کار کو تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ ہمارا مطالبہ صرف یہ ہے کہ ضروری دینی تعلیم یعنی مکتب کی تعلیم کی طرف توجہ بہت کم ہے، نیز کون سے مضامین کی تعلیم ہونی لازم ہے، ان امور کی نشان دہی نہیں کی جاتی ہے: مثلاً ہندوستان بھر کے مکتب میں ناظرہ قرآن کی تعلیم دے دی جاتی ہے، ضروری مقدار میں قرآنِ مجید کی سورتیں اور آیتیں بھی حفظ کرا دی جاتی ہیں، لیکن تجوید کا خیال بہت کم کیا جاتا ہے۔

تجوید کے لازمی قواعد کے علم نہ ہونے کے سبب بچوں کو حروف کے مخارج اور حروف کے صفات کا علم نہیں ہو پاتا، اسی طرح بچے قانونِ شریعت اور دیگر دینی کتابیں اس وقت پڑھتے ہیں، جبکہ وہ کم عمر ہوتے ہیں۔ کم عمری کے سبب مسائل کو صحیح سے سمجھ بھی نہیں پاتے، اور جب انھیں ان مسائل کی ضرورت درپیش ہوتی ہے تب وہ ان کتابوں کو کھول کر بھی نہیں دیکھتے۔ علمائے کرام یا مقررین و خطبا عوام مسلمین کو جمعہ یا جلسہ میں تمام مسائل بیان نہیں کر سکتے۔ اور اگر بیان بھی کریں تو کوئی زبانی یاد نہیں رکھ سکتا۔ پھر یہ بھی معلوم نہیں کہ سامعین کو ابھی کون سے مسائل کی ضرورت ہے۔ ملک بھر میں امتِ مسلمہ کو بہارِ شریعت اور قانونِ شریعت کی طرف متوجہ کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ ضرورت مند اپنی ضروریات کے مسائل ازخود ان کتابوں سے معلوم کر سکے۔ اس طرح کی ماحول سازی سے عامۃ المسلمین کا ذہن علمِ دین کی طرف مائل ہو جائے گا۔

موجودہ ماحول یہ ہے کہ ضرورت پڑنے پر عوامِ مسلمین ائمہِ کرام و علمائے دین کے ارد گرد طواف کرتے ہیں۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ انھیں ضرورت کے مسائل معلوم نہیں، اور نہ ہی اتنی قوت ہے کہ ضروریاتِ زندگی کے مسائل بہارِ شریعت یا قانونِ شریعت میں دیکھ سکیں۔ ہاں، یہ ضرور ہونا چاہیے کہ مشکل مسائل کے لیے علمائے کرام کی طرف رجوع کریں۔ ہر مسئلہ کے لیے علمائے کرام کی جانب رجوع کو اگر شریعتِ اسلامیہ پسند فرماتی تو تمام مسلمانوں پر علمِ دین کا حاصل کرنا فرض قرار نہ دیا جاتا۔ اب جبکہ ضروری مسائل کا علم فرض قرار دیا گیا اس کا واضح مفہوم یہی ہے کہ روزمرہ اور ضروریاتِ زندگی کے عام فہم مسائل کے لیے علمائے کرام کے پاس گھومنا مطلوبِ شرع نہیں، بلکہ تمام مسلمانوں کو ان امور کا حاصل کرنا ضروری ہے۔ ہر جگہ اور ہر وقت علمائے دین دستیاب بھی نہیں ہو سکتے。

علمِ دین: فرضِ عین کی جانب قلتِ توجہ کے اسباب

اسماعیل دہلوی (1193ھ - 1246ھ / 1779ء - 1831ء) نے سال 1240ھ مطابق 1824ء میں ”تقویۃ الایمان“ لکھ کر مسلمانانِ ہند کو کرب و اضطراب میں مبتلا کر دیا۔ بہت مشقت و جانفشانی کر کے علمائے اہلِ سنت والجماعت نے اس طوفانی بلا یعنی وہابیت کا دفاع کیا، اسی سال 19 ربیع الثانی 1240ھ کو جامع مسجد دہلی میں علمائے اہلِ سنت والجماعت کا اسماعیل دہلوی اور عبدالحی بڈھانوی (م 1243ھ / 1827ء) سے مناظرہ ہوا، دونوں شکست کھا کر بھاگے۔ وہابیت قریباً دم توڑ چکی تھی لیکن پھر 43 سال بعد 15 محرم 1283ھ مطابق 30 مئی 1866ء کو ہندوستان کے وہابیوں نے قصبہ دیوبند میں ”دارالعلوم“ قائم کیا، تعلیم کے نام پر سنی گھرانے کے بچوں کو وہاں لے جاتے، اس کے تمام اخراجات بھی دارالعلوم سے پورے کیے جاتے، بلکہ غریب ماں باپ کی کفالت بھی دارالعلوم سے کی جاتی۔ بچہ جب فارغ التحصیل ہو کر آتا تو گاؤں علاقہ میں وہابیت اور دیوبندیت کی تبلیغ کرتا۔ رفتہ رفتہ لوگ وہابیت کی جانب مائل ہو جاتے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر علمائے اہلِ سنت والجماعت کی ساری توجہ عالمیت و فضیلت کی تعلیم کی جانب مبذول ہو گئی۔ مکتب کی تعلیم میں اصلاح کا انھیں موقع نہ مل سکا۔

جس وقت دیوبند مدرسہ قائم ہو رہا تھا، اس وقت قافلہ سالار، مجددِ دین و ملت شاہ احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ (1272ھ - 1340ھ / 1856ء - 1921ء) کی عمر صرف دس سال، تین ماہ اور پانچ دن تھی۔ آج ہمارے پاس علمائے دین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، اس لیے مختلف مقاصد کے لیے مختلف کمیٹیاں اور تنظیمیں ہونی چاہئیں۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ عظیم خدمت کس کو سپرد کی جاتی ہے؟ دین و مذہب ان کا، اختیارِ خداداد ان کے پاس (صلی اللہ علیہ وسلم)، یہ تو مرضیِ مبارک کہ کس کا انتخاب ہوتا ہے؟ تدبیر کی کامیابی کا راز تقدیر کے مبہم خاکوں میں مضمر ہوتا ہے۔ بعض امورِ خاص وہبی ہوتے ہیں، اور بعض کسبی امور بھی حد درجہ احسان و عطا پر موقوف۔

  • [جاری... ماہنامہ پیغامِ شریعت دہلی، ص: 74]
جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!