Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

امام احمد رضا اور ان کے اصلاحی نقوش (قسط اول)

امام احمد رضا اور ان کے اصلاحی نقوش (قسط اول)
عنوان: امام احمد رضا اور ان کے اصلاحی نقوش (قسط اول)
تحریر: مفتی عبد الرحیم نشتر فاروقی
پیش کش: غوثیہ واسطی بنت لئیق نوری عفی عنہما

سیدنا اعلیٰ حضرت، رفیع الدرجت، عظیم المرتبت، غریقِ رحمت، مجددِ دین و ملت علیٰ الاطلاق، امام اہلِ سنت فی الآفاق، شیخ الاسلام والمسلمین حجۃ اللہ علی الارضین، امام المفسرین، سید المحققین، علامہ ابن علامہ، ابن علامہ، محقق بن محقق بن محقق، عارف بن عارف بن عارف، حضرت علامہ الحاج الشاہ المفتی عبد المصطفیٰ احمد رضا خان قادری برکاتی بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذاتِ ہمہ آیات آج دنیا میں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔

امام احمد رضا کی انفرادیت کے تعلق سے علامہ سید ریاست علی قادری علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:

”امام احمد رضا کی شخصیت میں بیک وقت کئی سائنس داں گم تھے، ایک طرف ان میں ابن الہیثم جیسی فکری بصارت اور علمی روشنی تھی تو دوسری طرف جابر بن حیان جیسی صلاحیت، الخوارزمی اور یعقوب الکندی جیسی کہنہ مشقی تھی، تو دوسری طرف الطبری، رازی اور بو علی سینا جیسی دانشمندی، فارابی، البیرونی، عمر بن خیام، امام غزالی اور ابنِ رشد جیسی خداداد ذہانت تھی۔ دوسری طرف امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے فیض سے فقیہانہ وسیع النظری اور غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ سے روحانی وابستگی اور لگاؤ کے تحت عالی ظرف امام احمد رضا کا ہر رخ ایک مستقل علم و فن کا منبع تھا، ان کی ذہانت میں کتنے ہی علم و عالم گم تھے۔“ [معارفِ رضا، ج: 6، ص: 124]

صاحبزادہ سید خورشید احمد گیلانی رقم طراز ہیں:

”ایک آدمی اگر کوہِ ہمالیہ کی چوٹی پر کھڑا ہو اور وہ نیچے کی طرف دیکھے تو اسے ہر چیز بہت چھوٹی نظر آئے گی، خواہ وہ چیزیں اپنے طور پر بہت بڑی ہوں۔ اس لیے کہ وہ خود بہت بلندی پر کھڑا ہوتا ہے لیکن وہی شخص اگر اپنے اوپر آسمان کی طرف دیکھے تو وہ خود کو آسمان کی وسعت کے مقابلے میں بہت سکڑا ہوا، اس کی بلندی کے سامنے اپنے آپ کو بہت پست اور اس کے حجم کے تناظر میں اپنی ذات کو رائی کے دانے برابر سمجھے گا۔ کچھ اسی طرح کی صورتِ حال کا سامنا اس شخص کو کرنا پڑتا ہے جو عالمِ اسلام کی عبقری شخصیت اور برصغیر کی انتہائی عظیم المرتبت ہستی اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ کے بارے میں کچھ کہنا اور ان پر کچھ لکھنا چاہتا ہو۔ اس دور کا کوئی بڑے سے بڑا عالم، فاضل، مفتی، محدث، مفسر، متکلم، مصنف اور شاعر علوم و فنون کے کوہِ ہمالیہ پر کیوں نہ کھڑا ہو اور ہر ایک اس کے سامنے بونا اور ٹھگنا کیوں نہ نظر آ رہا ہو مگر جب وہ اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ جیسے علم و فضل اور تحقیق و تصنیف کے آسمان پر نظر ڈالتا ہے تو دوسروں کا کیا مذکور، وہ خود اپنے آپ کو کوتاہ قامت اور پست شخصیت نظر آنے لگتا ہے۔ ان پر بات کرتے ہوئے بڑے سے بڑے خطیب کی زبان لڑکھڑانے لگتی ہے اور بڑے سے بڑے ادیب کی نوکِ قلم سے الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگتے ہیں۔ نہ زبان کی باگ ہاتھ میں رہتی ہے نہ قلم کی رکاب پاؤں میں۔ ایک رکھا کھینچا بھلا کہاں تک ہمہ جہت شخصیت کو اپنے فکر و خیال کے دائرے میں قابو رکھ سکتا ہے۔ فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ کی شخصیت ایک ہشت پہلو ہیرے جیسی ہے۔ جس طرح اسے سورج کی روشنی کے رخ پر رکھا جائے تو ہر کونے سے ایک نیا رنگ نظر پڑتا ہے، اعلیٰ حضرت کو آفتابِ علم کی روشنی میں دیکھا جائے تو ان کی شخصیت کے کئی رنگ اپنے اندر دل و نگاہ کی جاذبیت کا سامان لیے ہوئے ہیں۔ ان کے بارے میں سن کر یا پڑھ کر زبان پر بے اختیار آ جاتا ہے۔“

آپ چودہویں صدی ہجری کے یگانہ روزگار اور علم و فضل کے وہ پیکر ہیں جس نے ملتِ اسلامیہ کے دورِ انحطاط و انتشار میں تقریباً 55 علوم و فنون پر مشتمل ہزار سے زائد رشد و ہدایت کے لعل و گوہر اور سیف و سنان کے ساتھ رزم گاہِ حق و باطل میں مشرکین و کفار، مرتدینِ اشرار، گمراہانِ فجار سے برسرِ پیکار رہے اور اپنے جہاد بالقلم کے ذریعہ باطل قوتوں کی دھجیاں بکھیر کر ملتِ اسلامیہ کی شیرازہ بندی کا فریضہ انجام دیا۔ آپ کے زرنگار قرطاس و قلم، تحقیقاتِ نادرہ کی بوقلمونیوں اور تصنیفات و تالیفات کی مقناطیسی فصاحت و بلاغت میں اربابِ فکر و نظر کا ایک عالم گم نظر آتا ہے، آپ علم و قلم کے ذہنی اور فکر و نظر کے شہنشاہ تھے، آپ کا قلم جس موضوع پر بھی اٹھا رشد و ہدایت کا ایک دفتر وجود میں آیا۔

ملکِ سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم
جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دیے ہیں

آپ کے تجدیدی اور اصلاحی عمل کا مرکزی نقطہِ نظر اور بنیادی نصب العین عظمتِ دین اور تحفظِ ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم تھا۔ بلاشبہ آپ ایک جید عالم، تبحر حکیم، عبقری فقیہ، صاحبِ نظر مفکر، بلند پایہ مترجم، عظیم الشان محدث، بحر البیان خطیب، ماہرِ فن ادیب اور روشن ضمیر طبیب تھے، ان تمام تر درجاتِ رفیعہ سے بالاتر ایک اور آپ کی حیثیت اور ایک اور منصبِ عظیم پر فائز تھے، وہ منصب تھا ”عاشقِ صادق“ رسولِ صادق صلی اللہ علیہ وسلم کا! قسامِ ازل نے آپ کو سرچشمہِ فیوض و برکات اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قدر سرشار کر دیا تھا کہ آپ کی رگ و پے سے بھی عشق و محبت کی خوشبو آتی تھی، عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سرمست مئے الفت کا خمار آپ کی نعتوں کے ہر ہر شعر میں جلوہ گر اور موجزن ہے۔

جان ہے عشقِ مصطفیٰ روز فزوں کرے خدا
جس کو ہو درد کا مزا نازِ دوا اٹھائے کیوں

عقائد و افکار میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری برکاتی بریلوی قدس سرہ العزیز متقدمین، صالحین اور اولیائے کاملین کے پیروکار تھے، انہوں نے مذہب و ملت کے صحیح افکار و نظریات کو اپنے تجدیدی عمل سے نتھار کر مسلمانوں کے سامنے پیش فرمایا اور تجدید و احیاء کے اہم فرائض سرانجام دیے، یہی وجہ ہے کہ علمائے عرب و عجم نے بیک زبان آپ کو ”مجددِ مائۃِ حاضرہ“ کہہ کر پکارا، چنانچہ حافظِ کتب الحرم حضرت علامہ شیخ سید اسماعیل خلیل مکی فرماتے ہیں:

لَوْ قِيْلَ فِيْ حَقِّهٖ إِنَّهٗ مُجَدِّدُ هٰذَا الْقَرْنِ لَكَانَ حَقًّا وَّصِدْقًا.

یعنی اگر اعلیٰ حضرت کے بارے میں یہ کہا جائے کہ وہ اس صدی کے مجدد ہیں تو یہ بات صحیح اور سچی ہوگی۔

چودہویں صدی ہجری میں ملتِ اسلامیہ کی اصلاح کے لیے جن علمی گوشوں اور شعبہ ہائے حیات میں قولاً و عملاً کام کی ضرورت تھی وہ تمام تقاضے امام احمد رضا نے پورے کیے، ایک ایک علم پر اور ایک ایک فن پر لکھا، بے شمار مردہ علوم کو کئی صدیوں بعد زندہ کیا، بعض علوم و فنون خود ایجاد فرمائے، اسلامیانِ عالم نے آپ کی تحریرات کے آئینے میں اپنے تابناک ماضی کو جیتا جاگتا محسوس کیا۔

اندرونی و بیرونی فرقہ پرست تحریکوں، دورِ جدید کی گمراہیوں، معاشرے کو زہر آلود کرتی ہوئی برائیوں اور سماج میں جنم لینے والے غلط رسم و رواج کے خلاف آپ نے فقیہانہ مجددانہ شان سے جہاد بالقلم کیا اور ملحدانہ افکار و نظریات اور اسلام دشمن طاقتوں کی دھجیاں بکھیر دیں اور مسلمانوں کو گناہوں کے اس قعرِ عمیق میں گرنے سے بچا لیا۔ آپ نے اپنی مسلسل جدوجہد سے اسلامی قوانین و ضوابط اور شعائرِ مذہب و ملت کی پاسبانی کا گرانقدر فریضہ انجام دیا اور تجدید و اصلاح کے سلسلے میں آپ نے کسی کے منصب و مرتبہ کی قطعی پرواہ کیے بغیر حکمِ شرع نافذ کیا، یہی وجہ ہے کہ آپ کے فتوؤں کی زد میں بڑے بڑے پیرِ مغاں بھی آئے لیکن نہ آپ نے ان کی جاہ و حشمت کی پرواہ کی نہ ہی ان کے زہد و تقویٰ اور علم و فضل کے خول کی فکر کی بلکہ ایک مردِ حق شناس کی طرح ان کا گریبان پکڑا اور حق سے متعارف کرایا جس کی وجہ سے آپ کو متشدد اور بے جا سخت گیر جیسے الزامات بھی سننا پڑے مگر آپ ایک صف شکن مردِ مجاہد کی طرح آگے بڑھ کر دشمنانِ اسلام اور گستاخ و معاند کو کیفرِ کردار تک پہنچاتے رہے۔

ملتِ اسلامیہ کے لیے انیسویں صدی اور بیسویں صدی عیسوی کا نصفِ اول جس قدر پُرآشوب گزرا ہے، شاید ہی کوئی دور گزرا ہو، ایک سے بڑھ کر ایک فتنوں نے اس دور میں جنم لیا، ایسے پرفتن ماحول میں امام احمد رضا نے فتنوں کی بیخ کنی اور فسادِ امت کے ذمہ دار مفسدین کو بے نقاب کیا اور جس فقیہانہ بصیرت اور مدبرانہ فراست سے مذہب و ملت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا، وہ صرف آپ ہی کا حصہ ہے۔ امام احمد رضا نے معاشرے میں پھیلی ہر برائی کے خلاف آواز بلند کی۔

امام احمد رضا خانقاہوں اور اعراس کو سلف صالحین کی اسی روش پر گامزن دیکھنا چاہتے تھے، سجادگان و مشائخ کو اسی طریقہ پر عامل دیکھنا چاہتے تھے، وہ ان خرافات کو جو جماعتِ صوفیہ اور خانقاہوں کی مسحور کن روایت سے یکسر خارج کر دینا چاہتے تھے، اس کے لیے انہوں نے جملہ سلاسلِ طریقت سے صوفی کے لبادے میں چھپے بھیانک اور خونخوار بھیڑیوں کو نکال کر سرِ عام کھڑا کر دیا تاکہ ان کے حقیقی چہرے سے عوام الناس باخبر ہو سکیں اور ان گندم نما جو فروشوں سے اپنے دین و ایمان اور شریعت و طریقت کو بچا سکیں۔

تصوف وہ علم ہے جس کے ذریعہ سے نفس کے تزکیہ، اخلاق کی صفائی اور ظاہر و باطن کی معرفت حاصل ہوتی ہے تاکہ ہمیشہ کی سعادت حاصل ہو، نیز اس سے نفس کی اصلاح، معرفت و رضائے خداوندی کا حصول ہوتا ہے، تصوف ایک مقدس علم ہے جو سالک کو وصول الی اللہ جیسی عظیم نعمت سے نوازتا ہے، اس علم کے بنیادی اصول قرآن و حدیث سے مستنبط ہیں مگر چند مفاد پرستوں نے اس میں غیر اسلامی اور غیر شرعی نظریات کی آمیزش کر دی، بعض علم و عمل سے نابلد اور شریعت سے ناواقف جاہل و مکار لوگ عوام کو اپنے دامِ تزویر میں گرفتار کرنے کے لیے یہ کہتے پھرتے ہیں کہ ہم طریقت والے ہیں ہمیں شریعت کی کیا ضرورت.....

[ماہنامہ سنی دنیا، امام احمد رضا نمبر، نومبر 2018ء، ص: 9-11]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!