| عنوان: | مصطفی جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اور صبر و استقامت (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی ڈاکٹر ساحل شہسرامی (علیگ) |
| پیش کش: | ناظم اسماعیلی |
نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم صبر و رضا اور ثبات و استقلال کا ایک عظیم پیکر تھے، ابتدائے حیات سے لے کر وقتِ وصال تک آزمائشوں کا ایک طویل سلسلہ ہے جو اس پیکرِ رحمت کا طواف کرتی رہیں اور صبر و استقلال کے ہنر سیکھتی رہیں، یہ آزمائشیں ذاتی قسم کی بھی تھیں اور ملی سطح کی بھی، لیکن یہ سراپا بہار ان تمام آزمائشوں سے سرخرو ہو کر نکلا اور ایسا کامیاب، منظم، صالح، پائیدار اور تاب دار انقلاب برپا کر گیا جس کی برکتوں سے آفاق و انفس قیامت تک سرفراز ہوتے رہیں گے۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مقدس وجود سے جب یہ کائنات سرفراز ہوئی تو اس وقت آپ کے والدِ ماجد حضرت عبد اللہ بن عبد المطلب اس فانی دنیا کو الوداع کہہ چکے تھے، حضرت عبد اللہ کی وفات پر معصوم فرشتوں نے حسرت و اندوہ کے جذبات سے لبریز ہو کر بارگاہِ خداوندی میں عرض کی: مولیٰ! تیرا محبوب یتیم ہو گیا، حق تعالیٰ نے فرمایا: کیا ہوا؟ میں اس کا حامی و ناصر ہوں۔ [مدارج النبوۃ، ج: 2، ص: 14]
چھ برس کی عمر میں والدہ ماجدہ حضرت آمنہ بنت وہب کا سایہِ شفقت سر سے اٹھ گیا، عمرِ شریف آٹھ سال کی ہوئی تو دادا جان حضرت عبد المطلب نے اس دنیا سے رخ موڑ لیا لیکن ربانی رحمت ہمہ دم آپ کی کارساز اور دم ساز رہی۔ یہ ایسی معاشرتی تشنگیاں تھیں جن کا ہر باشعور احساس رکھتا ہے، لیکن آقائے دو جہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کبھی اضطراب اور خلش محسوس نہیں کی اور نہ دوسرے اس کا اندازہ کر سکے۔ منصبِ نبوت سے سرفرازی کا ذمہ دارانہ احساس ہر قدم پر دامن گیر رہا، اس لیے آپ ہر قدم پر زمانے کے سرد و گرم کا مضبوطی سے مقابلہ کرتے رہے اور اپنے رب کی کبریائی بیان فرماتے رہے، جب دنیا میں تشریف لائے تو رب کے حضور سجدہ ریز تھے اور جب زبانِ گویا ہوئی تو سب سے پہلا جملہ زبانِ مبارک سے یہ ادا ہوا: اَللهُ اَكْبَرُ اَللهُ اَكْبَرُ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَّأَصِيْلًا.
شعور کے آغاز سے لے کر اعلانِ نبوت سے پہلے تک آپ کی مبارک زندگی کے ایام سکون اور سادگی کے ساتھ گزرے، اس دوران تجارتی سفر ہوئے، حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہمراہ ازدواجی رفاقتیں رہیں، مختلف تنازعات کے فیصل بنے اور ایک زمانہ آپ کی امانت، دیانت، صداقت، عفت اور حکمت کا قائل ہو گیا۔ اسی لیے جب کوہِ فاران پر چڑھ کر قریش سے یہ فرمایا کہ اے اہلِ قریش! اگر میں تم سے یہ کہوں کہ اس پہاڑ کی دوسری جانب ایک بڑا لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنے آ رہا ہے تو کیا تم تسلیم کر لو گے؟ قریش نے بے ساختہ کہا تھا: ”کیوں نہیں؟ أَنْتَ الصَّادِقُ الْأَمِيْنُ. آپ کو ہم نے ہمیشہ راست باز اور امانت دار پایا ہے۔“
اعلانِ نبوت کے بعد حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر مصائب و آلام کی یلغار شروع ہو گئی۔ آزمائشوں کا ایک سلسلہ تھا جو ختم ہونے کا نام نہ لیتا تھا۔ ہر قدم احتیاط کا طالب اور ہر لمحہ نت نئے فتنوں کا اعلامیہ، لیکن رسولِ محتشم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ثبات و استقلال نے ہر ظلم کو شکست اور ہر فتنے کو لگام دے دی، آپ ایک مضبوط پہاڑ کی مانند ظلم و ستم کے طوفانوں کے سامنے ڈٹے رہے اور اپنے مشن کی تکمیل میں ہمہ تن مصروف۔
اعلانِ نبوت سے لے کر ہجرت تک تقریباً تیرہ سال کا عرصہ ایسا صبر آزما گزرا ہے جس میں سراپا حوصلہ افراد کی بھی ہمتیں چھوٹ جاتیں، علانیہ تبلیغ کے وقت مشرکینِ عرب کا ظالمانہ برتاؤ، شعبِ ابی طالب کی جاں گسل تنہائیاں، سالِ غم کے صدمے، اہلِ طائف کی خوں آشام شرارتیں اور اخیر میں ہجرت کا جگر سوز مرحلہ، بس یہ حوصلہِ نبوت ہی تھا جو یہ سارے مصائب و آلام، ایذا رسانیاں اور شرارتیں تائیدِ ایزدی کے سہارے جھیل گیا، ورنہ یہ کسی انسان کے بس کی بات نہ تھی، آئیے ایک نگاہ ہم بھی دیکھتے چلیں کہ سراپا ظلم افراد کی ظالمانہ صورت کیا تھی اور نبی معصوم کی صابرانہ قوت کیسی؟
نبی رحمت کے قدومِ میمنت لزوم نے غارِ حرا کو روشنی عطا کی جہاں نورِ الٰہی کی پہلی کرن اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ کی صورت میں نازل ہوئی، پھر کچھ دنوں کے بعد اس بالا پوش رسول پر سورہِ مدثر کی آیاتِ کریمہ نازل ہوئیں جن میں آپ کو اسلام کی تبلیغ پر مامور فرمایا گیا۔ منصبِ نبوت کے تاجدار نے تین سال تک راز داری کے ساتھ اسلام کی تبلیغ و اشاعت کا فریضہ انجام دیا، جس کے زیر اثر سینکڑوں افراد پرچمِ اسلام تلے آ گئے اور رسولِ محتشم کے دامانِ کرم سے وابستہ ہو گئے، سیدنا صدیقِ اکبر، مولائے کائنات علی مرتضیٰ، ام المؤمنین خدیجۃ الکبریٰ اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سابقینِ اولین کے سرخیل ہیں، پھر وَأَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْأَقْرَبِيْنَ [سورۃ الشعراء: 214] کے فرمان سے آپ کو اپنے قرابت داروں اور پاس پڑوس والوں کو دعوتِ اسلام دینے کی اجازت مرحمت ہوئی۔ صفا پہاڑ کی بلندیوں سے آپ نے اپنے گرد و پیش رہنے والے افراد تک اسلام کا پیغام پہنچایا تو بدلے میں سب و شتم اور شرارتیں ملیں، لیکن چوتھے سالِ نبوت میں فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ [سورۃ الحجر: 94] کا علانیہ سنتے ہی آپ نے بالکل کھلے بندوں توحید و رسالت کی دعوت دینی شروع کر دی اور کفر و شرک کی مذمت کا آغاز فرما دیا۔ اس سلسلے میں بڑی سے بڑی مزاحمت کو بھی آپ خاطر میں نہ لائے۔ علانیہ تبلیغ کے اس مرحلے میں قدم رکھتے ہی سارا عرب آپ کا زبردست مخالف ہو گیا، اس کے بعد شرارتوں اور سازشوں کی وہ گرم بازاری ہوئی کہ الامان والحفیظ۔
خاندانِ بنو ہاشم کا فردِ فرید ہونے کے سبب مشرکینِ عرب کو جان سے کھیلنے کی ہمت تو نہ ہوئی لیکن اس کے سوا وہ ایذا رسانی کی جو کوششیں کر سکتے تھے، سب کر گزرے، کوئی ساحر کہتا، کوئی شاعر اور کوئی مجنوں۔ لفنگوں اور شریر بچوں کا گروہ غولِ بیابانی کی طرح آپ کے درپے کر دیا جاتا جو حضور پر پھبتیاں کستا، جسمِ اقدس پر پتھر برساتا اور راہِ مبارک میں کانٹے بچھاتا، جسمِ اطہر پر غلاظتیں ڈالتا اور کبھی آپ کے وجودِ مسعود کو دھکا دے کر گرانے کی کوشش کرتا، حرمِ کعبہ کے مقدس صحن میں دورانِ نماز بدبخت عقبہ بن معیط نے گلوئے اقدس میں چادر سے پھندا ڈال کر ایسا بل دیا کہ حضور کی چشمانِ مبارک ابل پڑیں اور دم گھٹنے لگا، یارِ وفادار سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ منظر دیکھا تو جست لگا کر عقبہ پر ٹوٹ پڑے، ایک مرتبہ پھر اسی بدبخت نے ابوجہل کے ورغلانے پر اونٹ کی بھاری اوجھڑی حضور کے شانے پر لا کر رکھ دی، حضور حرمِ کعبہ میں سجدے کی حالت میں تھے اور اوجھڑی کے بار سے اٹھ نہیں سکتے تھے، خاتونِ جنت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا دوڑتی ہوئی آئیں اور اپنے مقدس ہاتھوں سے اوجھڑی کو پشتِ اقدس سے ہٹایا، اس خبیثانہ شرارت سے حضور اس درجہ کبیدہ خاطر ہوئے کہ جانِ رحمت کے دستِ مبارک جو ہمیشہ دعا کے لیے اٹھتے تھے، ان بدنصیبوں کی دعائے ہلاکت کے لیے دراز ہو گئے ”اللہم علیک بقریش“ اے اللہ! قریش کے ان افراد کو اپنی گرفت میں لے لے، پھر ابوجہل، عتبہ، شیبہ، ولید، امیہ، عمارہ کا نام لے کر ان کے لیے خصوصی دعائے ہلاکت فرمائی، یہ سبھی کفار ذلت کے ساتھ غزوہ بدر میں مارے گئے، نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جب قرآنِ حکیم کی تلاوت فرماتے، لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے تو کفارِ عرب گالیاں دیتے، تالیاں پیٹتے، سیٹیاں بجاتے، شور مچاتے تاکہ قرآنِ حکیم کے شیریں کلمات کہیں دل نشیں نہ ہو جائیں، ابوجہل اور ابولہب چلا چلا کر کہتے: عرب والو! میرا بھتیجا دیوانہ ہو گیا ہے، اس کی باتوں پر دھیان مت دو، لیکن ان تمام حوصلہ شکن شرارتوں کے باوجود حضور اپنے فرائضِ تبلیغ کی ادائیگی میں مصروف رہتے۔
کفارِ مکہ جب حضور کی ایذا رسانی سے تنگ آ گئے اور دیکھ لیا کہ آپ کسی طور سے دینِ اسلام کی تبلیغ و اشاعت سے باز نہیں آتے تو حضور کے جاں نثاروں کو پریشان کرنا شروع کر دیا، وہ مسلمانوں پر ایسے جگر سوز مظالم ڈھاتے جنہیں دیکھ کر دل دہل جاتے اور رونگٹے کھڑے ہو جاتے، مقصد یہ تھا کہ ان خوف ناک مظالم کو دیکھ کر ہی دوسرے، مذہبِ اسلام سے قریب آنے کی نہ سوچیں، لیکن ان اذیتوں کا فداکارانِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر ذرہ برابر اثر نہ ہوتا اور وہ صبر و استقلال کی چٹان بن کر ان مظالم کے سامنے سینہ سپر رہتے، حضرت خباب بن ارت، حضرت بلال حبشی، حضرت یاسر، حضرت عمار بن یاسر، حضرت صہیب رومی، حضرت ابوفکیہ، حضرت عامر بن فہیرہ ان حضراتِ صحابہ کے قافلہ سالار ہیں جنہیں اسلام قبول کرنے کی پاداش میں بازاروں میں گھمایا جاتا، زدو کوب کیا جاتا، گرم ریت پر لٹا کر وزنی پتھر یا بھاری بھرکم آدمی کا قدم سینے پر مسلط کر دیا جاتا، انگاروں پر لٹایا جاتا، رسی کا پھندا ڈال کر گھسیٹا جاتا، کوڑے مارے جاتے لیکن یہ عاشقانِ جمالِ محمدی کسی ظلم کی پرواہ نہ کرتے اور خدائے واحد کی تسبیح اور محمد عربی کی رسالت کے گن گاتے رہتے، کنیزوں میں حضرت لبینہ، حضرت زنیرہ، حضرت نہدیہ، حضرت ام عبیس کے خصوصی تذکرے ملتے ہیں جو ان مظلومانہ مراحل سے مسکراتے ہوئے گزریں، رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔
سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ ایثار قیامت تک یاد رکھا جائے گا کہ آپ نے ان مظلومین میں سے بیشتر کو بڑی بڑی رقمیں دے کر ان کے ظالم آقاؤں سے خریدا پھر آزاد کر دیا، حضرت صدیقِ اکبر، حضرت ابوذر غفاری، حضرت عثمان غنی، حضرت زبیر بن العوام، حضرت سعید بن زید جیسے معززین اور صاحبانِ جاہ و ثروتِ عرب بھی ان ظالموں کی چیرہ دستیوں سے محفوظ نہ رہ سکے اور انہیں بھی اپنوں کے ہاتھوں زدوکوب کی سختیاں جھیلنی پڑیں، ان مظالم سے جانِ رحمت، سراپا شفقت، پیارے مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قلبِ نازک پر کیا کیفیات گزرتی ہوں گی؟ جو ذاتی دشمن کی تکلیف پر بھی مضطرب ہو جایا کرتے تھے، اس کا اندازہ ہر با شعور کر سکتا ہے، خوب کہا کہنے والے نے:
اس رحمتِ کل کی شفقت کا کیا کوئی کرے گا اندازہ
دشمن کی پریشانی پر بھی دل جس کا پریشان ہو جائے
اپنے جاں نثاروں کی ان ناقابلِ برداشت تکالیف کو دیکھتے ہوئے حضور نے حبشہ پھر مدینہ طیبہ کی جانب ہجرت کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی، جب ظلم و ستم کے یہ حربے کام نہ آئے تو کفارِ قریش، حضور کے محترم چچا حضرت ابوطالب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ آپ یا تو اپنے بھتیجے کی حمایت سے دست کش ہو جائیں یا اسے ہمارے حوالے کر دیں، ورنہ جنگ کے لیے تیار ہو جائیں، اتنے زبردست سماجی دباؤ سے مجبور ہو کر حضرت ابوطالب، حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، آپ کی فہمائش کی اور اپنا ناتوانی بھر عذر پیش کیا، حضور نے آخری سائبانِ شفقت جدا ہوتے دیکھ کر بھی برملا ارشاد فرمایا: ”چچا جان! خدا کی قسم! اگر قریش میرے ایک ہاتھ میں سورج اور دوسرے ہاتھ میں چاند لا کر رکھ دیں، پھر بھی میں دینِ خدا کی تبلیغ و اشاعت سے باز نہ آؤں گا یا تو خدا اس کام کو پورا فرما دے یا پھر میں خود دینِ اسلام پر نثار ہو جاؤں گا۔“
حضور کا جذبات سے بھرا جواب سن کر ابوطالب نے پُر جوش محبت کے ساتھ کہا: عزیزم! میں بہر طور تمہارے ساتھ ہوں، میرے ہوتے کوئی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ [سیرتِ ابنِ ہشام، ج: 1، ص: 266]
کفارِ مکہ نے جب یہاں بھی منہ کی کھائی اور آئے دن جاں نثارانِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں اضافہ ہوتا رہا تو زچ ہو کر عرب کے سارے قبائل نے پورے قبیلہِ بنو ہاشم کے سوشل بائیکاٹ کا پلان بنایا اور نبوت کے ساتویں سال یہ معاہدہ لکھ کر دیوارِ کعبہ پر آویزاں کر دیا گیا: (1) بنو ہاشم میں کوئی رشتہ نہ کرے۔ (2) ان سے خرید و فروخت نہ ہو۔ (3) ان سے میل جول، سلام کلام بند کر دیں۔ (4) ان کے پاس خور و نوش کا سامان نہ جانے دیا جائے۔
ابوطالب مجبور ہو کر اپنے پورے خاندان کے ساتھ اس گھاٹی میں پناہ گزیں ہو گئے جو بعد میں شعبِ ابی طالب کے نام سے شہرت پا گئی، ابولہب کے سوا سب اہلِ خاندان نے ساتھ دیا، چاہے مسلم ہوں یا غیر۔ تین سال تک یہ سماجی مقاطعہ جاری رہا، یہ زمانہ ایسا سخت صبر آزما تھا کہ اللہ کی پناہ! بنو ہاشم درخت کے پتے اور سوکھے چمڑے پکا کر کھانے پر مجبور ہوئے۔ بچے بھوک سے تڑپتے لیکن ظالموں کا دل نہ پسیجتا۔ حج کے زمانے میں بھی کوئی رعایت نہ ہوئی۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے خاندان کے ہمراہ پوری پامردی کے ساتھ ان ہوش ربا مصائب کا سامنا کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے غیب سے نجات کا سامان فرما دیا۔ کیڑوں نے اس معاہدہ نامے کو چاٹ لیا اور ان مظالم اور افرادِ بنو ہاشم کی زار زار حالت کو دیکھ کر قریش کے کچھ افراد کا دل بھر آیا جن میں ہشام عامری، زہیر، مطعم، ابو البختری، زمعہ کے نام ممتاز ہیں۔ انہوں نے قریش کو غیرت دلائی، ابوجہل آڑے آیا لیکن قریش مجموعی طور پر اس ظالمانہ بائیکاٹ کے خاتمے کے لیے آمادہ ہو گئے۔ ادھر ابوطالب نے حضور کی یہ غیبی اطلاع قریش کے گوش گزار کر دی کہ اس معاہدہ نامے کو کیڑوں نے چاٹ لیا ہے، صرف وہ جگہ باقی ہے جہاں اسمِ الٰہی تحریر ہے۔ قریش نے جا کر دیکھا تو اطلاعِ رسالت ہو بہو سچ نکلی۔ فوراً اسے چاک کیا اور بنو ہاشم کے سارے افراد کو اس ستم ناک گھاٹی سے نکال لائے۔
نبوت کے دسویں سال اس قیامت خیز آزمائش سے نجات ملی ہی تھی کہ دوسری قیامتیں ٹوٹ پڑیں۔ سال کے اخیر میں ابوطالب کی وفات ہو گئی اور شفقت و حمایت کا جو ظاہری سائبان تھا، وہ بھی جاتا رہا، رفیقہِ حیات ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی داغِ مفارقت دے گئیں، یہ دو ایسی ہستیاں تھیں جنہوں نے ہر قدم پر حضور کی حمایت کی اور ہر موڑ پر ساتھ دیا، اس سلسلے میں مخالفت اور اذیت کے بڑے سے بڑے طوفان کو خاطر میں نہ لائے، ان کی رحلت نے قلبِ اقدس پر کیسا اثر ڈالا، اس کا اندازہ اسی بات سے کیجیے کہ اس پیکرِ تسلیم و رضا اور سراپا صبر و استقلال نے اس سال کا نام ”عام الحزن“ یعنی غموں کا سال رکھ دیا۔
کفارِ مکہ کی شرارتوں کی وجہ سے اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں رکاوٹ دیکھ کر اس ہادیِ عالم نے طائف کی زرخیز اور شاداب سرزمین کا رخ کیا تاکہ یہاں کے باثروت، خوش عیش اور نسبتاً تہذیب یافتہ طبقے کو اسلام کی شاہراہِ سعادت پر گامزن کر دیں، حضرت زید بن حارثہ بھی ہم رکابِ رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تھے۔ طائف کے رئیسوں میں بنو عمیر کا خاندان بہت معزز تھا اور سارے قبائل کا سردار، یہ تین بھائی تھے: عبدیالیل، مسعود، حبیب۔ حضور نے ان تینوں کو اسلام کی دعوت دی لیکن تینوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور بہت بدتمیزی سے پیش آئے۔ پھر لچوں، لفنگوں کا گروہ حضور کے درپے کر دیا، ان بدبختوں نے حضور پر پتھروں کی بارش کر دی جس سے آپ لہو لہان ہو گئے، موزے اور نعلین مبارک خون سے لت پت تھے، جب آپ زخموں سے چور ہو کر بیٹھ گئے تو یہ وحشی آپ کو نہایت بے دردی کے ساتھ بازو پکڑ کر اٹھاتے۔ جب آپ اٹھ کر چلنے لگتے تو پھر آپ پر پتھروں کی بارش کرنے لگتے۔ گالیاں، تالیاں، پھبتیاں ان پر مستزاد، حضرت زید بن حارثہ اس ستم ناک حالت میں جسمِ اقدس کا پروانہ وار طواف کر رہے تھے۔ کبھی دائیں ہو جاتے، کبھی بائیں، کبھی آگے اور کبھی پیچھے تاکہ پیارے آقا کے جسمِ اقدس پر پھینکا جانے والا ہر پتھر اپنے اوپر روک سکیں، اس کوشش میں وہ بھی خون میں شرابور اور زخموں سے چور چور ہو گئے، بالآخر عتبہ بن ربیعہ کے باغ میں حضور نے پناہ لی۔ یہ حالتِ زار دیکھ کر عتبہ اور شیبہ کو رحم آ گیا اور انگور کا ایک خوشہ حضور کی خدمت میں اپنے نصرانی غلام عداس کے ہاتھوں بھیجا۔ حضور نے بسم اللہ پڑھ کر اسے تناول فرمایا تو اس طرزِ طعام پر عداس نے حیرت کا اظہار کیا، حضور نے دریافت کیا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ اس نے کہا: شہر نینوٰی کا۔ یہ سن کر حضور نے ارشاد فرمایا: ”اوہ! تم میرے بھائی یونس بن متی کے ہم وطن ہو، وہ بھی میری طرح اللہ کے رسول تھے۔“ عداس نے یہ سن کر فوراً قدم بوسی کی سعادت حاصل کی اور مشرف بہ اسلام ہو گئے، اسی سفر میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقامِ نخلہ میں تہجد کی نماز ادا فرما رہے تھے تو قرآن کی تلاوت سن کر نصیبین کے جنوں کی ایک جماعت مشرف بہ اسلام ہوئی، نخلہ میں چند دن قیام کے بعد حرا میں قیام فرمایا اور مطعم بن عدی کے بیٹوں کی مسلح ہم رکابی میں طوافِ کعبہ کیا اور پھر دولت کدے پر تشریف لے آئے۔ [زرقانی، ج: 1، ص: 300-306]
[ماہنامہ سنی دنیا، بریلی شریف، فروری 2018ء، ص: 27-30]
