| عنوان: | شریعت و طریقت کا اختر تابندہ |
|---|---|
| تحریر: | مولانا کمال احمد علیمی نظامی |
| پیش کش: | بنت محمد صدیق |
بریلی شریف کی سرزمین بڑی زرخیز ہے، اللہ تعالیٰ نے یہاں کی خاک سے علم و حکمت کے بہت سارے لعل و گہر پیدا فرمائے، جنہوں نے اپنے علم و ہنر سے ایک جہان کو فیض یاب کیا، جن شخصیات نے بریلی کو بریلی شریف بنا کر اس کو ایک شناخت عطا کی ان میں امام العلماء، مجاہدِ حریت حضرت علامہ مفتی محمد رضا علی خان علیہ الرحمہ (1282ھ) کا اسمِ گرامی قابلِ ذکر ہے، آپ نے 1246ھ / 1831ء میں شہر بریلی میں علمیت و روحانیت کی جو بزم آراستہ کی اس سے تقریباً 34 سال تک پورا برصغیر ہند و پاک محفوظ و مستفیض ہوا، آپ کے بعد آپ کے فرزندِ ارجمند امام المتکلمین، جامعِ علومِ عقلیہ و نقلیہ حضرت علامہ نقی علی خان علیہ الرحمہ (م 1297ھ) آپ کے مسندِ علم و فضل پر متمکن ہوئے، والدِ ماجد کے سچے جانشین ثابت ہوئے اور 1282ھ سے 1297ھ تک مکمل پندرہ سال تک مسلمانانِ ہند کی علمی تشنگی بجھاتے رہے، آپ کے بعد سرزمینِ بریلی شریف کے علمی افق پر وہ مہرِ درخشندہ نمودار ہوا جس کی علمی تابانی سے پوری دنیا منور ہو گئی، جس کی تجدیدی خدمات کو دیکھ کر اس وقت کے مبلغِ اعظم خلیفہِ اعلیٰ حضرت، حضرت علامہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی مہاجر مدنی علیہ الرحمہ نے کہا تھا:
تمہاری شان میں جو کچھ کہوں اس سے سوا تم ہو
قسیمِ جامِ عرفاں اے شہِ احمد رضا تم ہو
امامِ اہلِ سنت کے شہزادے حضور حجۃ الاسلام، علامہ حامد رضا خان بریلوی (م مئی 1943ء) اور مفتیِ اعظم ہند حضرت علامہ مفتی محمد مصطفیٰ رضا خان (نومبر 1981ء) علیہم الرحمہ نے امام احمد رضا کی بزمِ علم و حکمت کو آباد رکھا، حضور حجۃ الاسلام کے صاحبزادے مفسرِ اعظم ہند حضرت علامہ محمد ابراہیم رضا خان (م 1385ھ)۔
26 محرم الحرام 1362ھ میں آقائے نعمت، سرورِ کشورِ فقاہت، تاج الشریعہ حضرت علامہ محمد اختر رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کی ولادت ہوئی، ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی، پھر والدِ ماجد کے حکم پر دنیا کی سب سے بڑی دانش گاہ جامعہ ازہر مصر تشریف لے گئے، وہاں تین سال تک امتیازی پوزیشن کے ساتھ اعلیٰ تعلیم حاصل کی، واپسی کے بعد سرکار مفتیِ اعظم ہند اور بحر العلوم حضرت مفتی اجمل حسین مونگیری علیہما الرحمہ سے فتویٰ نویسی میں درک حاصل کیا، حضور مفتیِ اعظم ہند کی خصوصی نگاہِ عنایت نے آپ کو آسمانِ فضل و کمال کا اخترِ کامل بنا دیا۔
میدانِ عمل میں قدم رکھا تو تقریباً چالیس سال تک درس و تدریس، دعوت و تبلیغ اور فتویٰ نویسی کا فریضہ انجام دیتے رہے، شریعت و طریقت میں حضور مفتیِ اعظم ہند کے سچے جانشین ثابت ہوئے، ہزاروں فتاویٰ، درجنوں علمی و تحقیقی مقالات، 36 سے زائد علوم و فنون میں تبحرِ کامل، 61 سے زائد کتب و رسائل کی تصنیف، تالیف اور ترجمہ و تحشیہ، ملک و بیرونِ ملک دعوتی رحلات، شرعی کونسل آف انڈیا کے سیمیناروں کی سرپرستی، نثر و نظم میں یکساں مہارت، اردو، عربی، انگریزی، ہندی جیسی متعدد زبانوں پر عبورِ کامل، لاکھوں کی تعداد میں آپ کے مریدین یہ سب ایسے امور ہیں جو آپ کو معاصرین میں امتیازی شان عطا کرتے ہیں۔
آپ کی حیاتِ طیبہ کا ہر پہلو لائقِ دید ہے، آپ کی کتابِ حیات کا ورق ورق لائقِ مطالعہ ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو مقبولیت عطا فرمائی وہ آپ کے عہدِ میمون میں کسی کو نصیب نہیں ہوئی، شیخ القرآن حضرت علامہ عبد اللہ خان عزیزی علیہ الرحمہ سابق شیخ الجامعہ و صدر المدرسین دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی فرمایا کرتے تھے کہ حضرت تاج الشریعہ کو اللہ نے ایسی قبولیتِ عامہ بخشی ہے کہ جہاں پہنچ جاتے ہیں وہاں پروانوں کا ہجوم لگ جاتا ہے۔
آپ کے اوصاف و کمالات میں زہد و تقویٰ ایک نمایاں وصف ہے، یقیناً آپ کے تقویٰ کی شان بڑی نرالی تھی، پوری زندگی آپ نے اتباعِ سنت و شریعت میں بسر کی، آپ نے جو فتویٰ دیا اس پر عمل بھی کیا، مثلاً آپ نے تصویر کشی کی حرمت کا فتویٰ دیا تو زندگی بھر بلا ضرورت تصویر کشی سے اجتناب کیا، ایسا نہیں ہوا کہ آپ کا فتویٰ کچھ اور ہو اور عمل کچھ اور، آپ کی زندگی کا یہی وہ پہلو ہے جس نے پوری دنیا کے اہلِ علم کو متاثر کیا، کیا عرب کیا عجم ہر جگہ آپ کے بے مثال تقویٰ کا خطبہ پڑھا گیا۔
حق گوئی و بے باکی میں اپنی مثال آپ تھے، نس بندی کا قضیہ سب کو یاد ہوگا، حکومتِ وقت کے دباؤ میں بہت سارے اصحابِ جبہ و دستار نے اس کی حلت کا فتویٰ دے مارا تھا، مگر سرکار مفتیِ اعظم ہند کے حکم پر حضور تاج الشریعہ نے اس کی حرمت کا فتویٰ دے کر اہلِ سنت و جماعت کا سر فخر سے اونچا کر دیا تھا۔
آپ کی ذات پر عشقِ رسالت کا رنگ اتنا گہرا چڑھا تھا کہ دنیا نے آپ کو امام العاشقین کا لقب دیا، اس حوالے سے بھی آپ فقید المثال نظر آتے ہیں، آپ نے اپنے عمل و کردار سے عشقِ رسول کا ثبوت پیش کیا، زندگی بھر وصالِ محبوب کے لیے تڑپتے رہے، جانِ جاناں کی فرقت میں بلکتے رہے، عشق جب بہت غالب آ جاتا تو نعت خوانی کا سہارا لیتے، خود ہی فرماتے ہیں:
داغِ فرقتِ طیبہ قلبِ مضمحل جاتا
کاش گنبدِ خضریٰ دیکھنے کو مل جاتا
نبی سے ہو جو بیگانہ اسے دل سے جدا کر دیں
پدر مادر برادر جان و دل ان پر فدا کر دیں
گویا آپ کی حیاتِ طیبہ علم، عمل اور عشقِ رسول کا مثلث تھی، جس کے ہر ہر زاویے سے عشق و عرفان کے چشمے ابلتے تھے، اللہ جل شانہٗ نے آپ کو حسنِ باطنی کے ساتھ جمالِ ظاہری سے بھی نوازا تھا، مراد آباد کے ایک جلسے میں میری نگاہوں کے سامنے ایک غیر مسلم نے اسلام قبول کیا، اس سے وجہ پوچھی گئی تو اس نے بتایا کہ جب غلامِ نبی کا چہرہ اتنا خوبصورت ہے تو ان کے نبی کا رخِ ناز کتنا حسین ہوگا، ایسے نورانی چہرے والے کا دین کبھی جھوٹا نہیں ہو سکتا، اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت کے فیضانِ علم و عمل سے مالامال فرمائے اور آپ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔ [سنی دنیا، جولائی 2023ء، ص: 66]
