| عنوان: | عشقِ حقیقی کے اصل تقاضے |
|---|---|
| تحریر: | بنت عبد الرحیم صدیقی |
| پیش کش: | لباب اکیڈمی |
لفظِ عشق ایسا لفظ ہے جو ایامِ طفلی ہی سے کانوں میں گردش کر رہا ہے۔ اور لطف کی بات تو یہ ہے کہ جب یہ لفظ کسی عاشق کے ذہن میں آتا ہے تو تنہا نہیں آتا، بلکہ محبوب کے خیال و خواب کا ذخیرہ ساتھ لاتا ہے۔ کیونکہ عشق کہتے ہی ہیں محبت کے شدت اختیار کر لینے کو۔ اسی لیے عاشق عشق میں اپنے محبوب کا غلام ہو جاتا ہے جہاں اس کا اپنا اختیار نہیں ہوتا۔
مگر اس عشق کے دو پہلو ہیں ایک حقیقی، دوسرا مجازی یعنی دعوے کے طور پر۔ عشقِ حقیقی جسے میسر ہو جائے اسے پھر اس سے لطیف شے دنیا کے کسی کونے میں نظر ہی نہیں آتی۔ اور دعوے والا عشق جو ہوتا ہے وہ صرف ایک قول یا مطالبہ بن کر ہی رہ جاتا ہے، جو کہ لطف اندوز نہیں ہوتا۔ آپ نے بھی عشق کے کئی دعوے داروں کو دیکھا ہوگا جو زبانی طور پر یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ واقعی انہیں بھی عشق جیسی لطیف شے حاصل ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ یہ بات ہم آپ سے فقط یوں ہی نہیں کہہ رہے بلکہ یقیناً ایسا ہی ہے۔ کیونکہ عشق ایسا جذبہ ہے جس کے لفظ ہی سے سختی نرمی کی طرف مائل ہو جاتی ہے، تلخی حلاوت میں تبدیل ہو جاتی ہے، غصہ اطمینان میں بدل جاتا ہے، مشقت راحت کی طرف راغب ہو جاتی ہے اور بے قراری قرار کی طرف منتقل ہو جاتی ہے، وہاں اپنی عقل متبوع نہیں رہتی، بلکہ قلب، ذہن، اور تمام اعضاء حتیٰ کہ روح پر بھی محبوب کا ہی قبضہ رہتا ہے۔
اب آپ کے ذہن میں یہ سوال گردش کر رہا ہوگا کہ عشقِ حقیقی کن لوگوں کو میسر ہوتا ہے؟ کیونکہ عام طور پر اگر ہم سرسری نظر سے دنیا و ما فیہا کی طرف نظر کریں تو ہمیں اکثریت اس عشقِ حقیقی سے کوسوں دور دکھائی دیتی ہے۔ تو آئیے سب سے پہلے جانتے ہیں کہ یہ حقیقی عشق ہے کیا؟ عشقِ حقیقی اصطلاح میں حقیقت سے عشق کرنے کو کہتے ہیں اور حقیقت ابدی ہوتی ہے جو کہ ہمیشہ زندہ یا موجود رہتی ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ عشقِ حقیقی سے مراد اللہ کی محبت ہے؛ کیونکہ وہی ذاتِ وحدہٗ ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ اس کے علاوہ دنیا کی تمام اشیاء یہ حسن، یہ دلکش آوازیں، یہ مرغوب ادائیں، یہ خوبصورت مناظر وغیرہ یہ ساری چیزیں فانی ہیں۔ ان سب کا ایک دن اختتام ہونا ہے۔
اب پھر سوال آتا ہے کہ عشقِ حقیقی حاصل کیسے ہوگا؟ تو اس کا جواب قرآنِ پاک میں مذکور ہے:
قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ [آل عمران: 31]
ترجمہِ کنز الایمان: اے محبوب! تم فرما دو کہ لوگو! اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرماں بردار ہو جاؤ، اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
پتا چلا کہ عشقِ حقیقی یعنی عشقِ الٰہی عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر ناممکن ہے۔ اگر کوئی عشقِ الٰہی کا دعویٰ کرے اور اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا انکار، تو وہ عاشقِ حقیقی ہو ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ یہ قانون خود قادرِ مطلق نے بنایا ہے۔ اس میں کسی انسان کا اپنا زور نہیں ہے۔ اور کیوں نہ اس محبوب سے محبت کی تلقین کی جائے؟ جنہوں نے ساری رات عبادتوں میں صرف کر کے جب دعا کے لیے ہاتھ اٹھایا تو اپنی امت کے لیے دعائیں مانگیں، جنہوں نے خدائی خزانے کی چابی کے مالک ہونے کے بعد بھی اپنا ہر لمحہ امت کی ہی فکر میں گزارا، جنہوں نے انسان کو اس کے خالقِ حقیقی سے آگاہ فرمایا، جنہوں نے بھٹکے ہوؤں کو راہِ حق سے مطلع فرمایا۔ بھلا ان احسانات کو فراموش کر دینا کہاں کا عدل ہے؟ اسی لیے خالقِ حقیقی نے بھی فرمایا کہ تمہاری مجھ سے محبت اسی وقت قبول کی جائے گی جب تم میرے محبوب کو اپنا محبوب بنا لوگے۔ اور کیسا محبوب؟ جس نے پیدا ہونے سے لے کر پلِ صراط تک اپنی امت کو تنہا نہیں چھوڑا۔ اس کے بعد بھی اگر ہم ان کے عشق کا صرف زبانی دعویٰ کر کے خود کو دھوکہ دیں تو یقیناً یہ نہایت ہی مذموم و قبیح حرکت ہے۔
ان وضاحتوں کے بعد ذرا غور کریں کہ حقیقی عاشق کتنے ہیں اور دعوے داروں کی تعداد کتنی ہے۔ اس کو پہچاننے کا سب سے آسان طریقہ شریعت ہے۔ عشقِ حقیقی سے سیراب ہونے والا شخص کبھی بھی احکامِ شریعت کی پامالی نہیں کرے گا؛ کیونکہ شریعت اس کے محبوب کا حکم ہے، جس سے عشق کا وہ دعوے دار ہے۔ اب اگر وہ ان احکام کی بجا آوری میں کوتاہی کر رہا ہے تو ابھی وہ سچا عاشق نہیں ہوا ابھی اس کے عشق میں کمی ہے۔
اب ہم دیکھیں کہ ہم عشقِ حقیقی کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر خالقِ حقیقی کی جانب سے محبوب علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لائے ہوئے احکام کو کہاں تک مانتے ہیں؟ آج جتنے عشقِ رسول کے دعوے دار ہیں اتنی ہی خرافات بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ کیا واقعی ہم عاشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یا صرف زبان ہی سے عاشق بنے پھر رہے ہیں؟
اگر اپنا محاسبہ کرنے کے بعد ہمارا عشق خود اپنی نظر میں مشکوک ہو گیا تو یقیناً ہم اپنے سب سے بڑے دشمن یعنی نفس کے دھوکے کے شکار ہو گئے ہیں۔ جو ہمیں اوپر سے بہلا کر اندر سے بالکل کھوکھلا کر دیتا ہے۔ ہمیں ظاہری چیزیں دکھا کر ان کی حقیقتوں سے ناواقف رکھتا ہے۔ یہ وہی نفس ہے جس نے معلمِ الملائکہ (ابلیس) کو مردودِ بارگاہِ الٰہی بنا دیا۔ اگر آپ بھی اس نفس کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس گئے ہیں تو ہوش کے ناخن لیں۔ ابھی بھی وقت ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ایک دن یہ نفس ہمیں بھی رب کی ناراضگی کے سمندر میں لے ڈوبے۔ اس سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اس نفس کی خواہشات پر خود کو غالب کرنا ہوگا۔ اس کی آرزوئیں پوری کرنے کے بجائے اسے زیر کرنا ہوگا۔ عشقِ حقیقی کے قلزم سے سیراب ہونا ہوگا جس کے لیے پہلے حقیقی عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جام پینا ہوگا۔ اور اس جام سے سیراب ہونے کے لیے رسولِ اکرم، نبیِ محتشم، نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کرنا ہوگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان احسانات کو یاد رکھنا ہوگا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر کیے ہیں۔ آپ پر کثرت سے عقیدت کے ساتھ درود و سلام پڑھنا ہوگا۔ اسی وقت ہم سے عشقِ حقیقی کا تقاضا پورا ہو سکے گا۔ اللہ رب العزت اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں ہمیں عشقِ حقیقی کا جام عطا فرمائے۔ آمین
