Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

یومِ یکشنبہ کے فضائل و معمولات

یومِ یکشنبہ میں فضائل و معمولات
عنوان: یومِ یکشنبہ کے فضائل و معمولات
تحریر: مفتی محمد صابر القادری فیضی
پیش کش: محمد سجاد علی قادری ادریسی

یومِ یکشنبہ یعنی اتوار دنیا کے ایام کا پہلا دن ہے، حدیثِ پاک کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے اتوار کے متعلق صحابہِ کرام نے پوچھا تو آپ نے فرمایا:

يوم غرس وعمارته، قالوا: كيف ذلك يا رسول الله؟ قال: إن فيه ابتداء الله تعالى الدنيا وعمارتها

دن ہونے اور عمارت بنانے کا ہے۔ صحابہِ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا یہ کس طرح یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم؟ آپ نے فرمایا کہ اتوار کو اللہ تعالیٰ نے دنیا اور اس کی عمارت کی ابتدا فرمائی۔ [غنیۃ الطالبین، ج: 2، ص: ...]

یہی وجہ ہے کہ اتوار کے دن باغ لگانا، کھیت بونا اور مکان کی تعمیر کرنا وغیرہ باعثِ برکت و فضیلت ہے۔ اتوار نصرانیوں کے عید کا دن بھی ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو جمعہ کے دن عید منانے کا حکم فرمایا تو انہوں نے عرض کیا کہ ہم نہیں چاہتے کہ ہماری عید کے بعد یہودیوں کی عید ہو اس لیے کہ یہودیوں کی عید اتوار کے روز ہوتی ہے چنانچہ انہوں نے اتوار کے دن کو عید کا دن بنایا اس لیے کہ ان کے خیال کے مطابق یہ کاموں کی ابتدا کے لیے بہتر اور عمدہ دن ہے۔ [عجائب المخلوقات، ص: 43]

اتوار کے روز ناخن تراشنا اور کپڑا کاٹنے کی ممانعت

حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص اتوار کے دن اپنے ناخن تراشے گا تو خوش حالی اس سے دور ہو جائے گی، فقر و افلاس میں مبتلا ہوگا۔ [علم الیقین، ص: 47]

حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ کپڑا قطع کرنے میں بھی احتیاط لازم ہے اس لیے کہ جو شخص یکشنبہ یعنی اتوار کے دن کپڑا قطع کرے گا تو اس کپڑے کے استعمال تک ہمیشہ بیمار رہے گا اور اتوار کے دن قطع کیا ہوا کپڑا اس کے لیے مبارک نہ ہوگا۔ [ایضاً]

یومِ اتوار کے اہم واقعات

خلاقِ کائنات نے یومِ اتوار کو دوزخ کی تخلیق فرمائی اور اس کے سات دروازے بنائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے: لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ [الحجر: 44] اس کے سات دروازے ہیں ہر دروازے کے لیے ان میں سے ایک حصہ بٹا ہوا ہے۔

دوزخ کے سات طبقے ہیں:

  1. ایک جہنم ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجْمَعِيْنَ [الحجر: 43] اور بیشک جہنم ان سب کا وعدہ ہے۔
  2. دوسرے طبقہ کا نام سعیر ہے خداوندِ قدوس فرماتا ہے: وَيَصْلَى سَعِيْرًا [الانشقاق: 12]
  3. اور تیسرے طبقہ کا نام سقر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مَا سَلَكَكُمْ فِيْ سَقَرَ [المدثر: 42]
  4. اور چوتھے طبقہ کا نام جحیم ہے ارشادِ ربانی ہے: وَبُرِّزَتِ الْجَحِيْمُ لِلْغَاوِيْنَ [الشعراء: 91]
  5. اور دوزخ کے پانچویں طبقہ کا نام حطمہ ہے قرآنِ عظیم میں ہے: وَمَا اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُ [الہمزۃ: 5]
  6. اور دوزخ کے چھٹے طبقہ کو لظیٰ کہتے ہیں جیسا کہ ربِ قدیر کا ارشاد ہے: كَلَّا اِنَّهَا لَظٰى [المعارج: 15]
  7. اور دوزخ کے ساتویں طبقہ کا نام ہاویہ ہے اللہ رب العزت کا فرمان ہے: فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌ [القارعۃ: 9]

دوزخ کے سات طبقات کی وضاحت

طبقہِ اولیٰ: طبقہِ اولیٰ میں فرشتہ ندا کرتا ہے: وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِيْنَ [المرسلات: 15]

طبقہِ ثانیہ: دوسرے طبقہ میں فرشتہ کی یہ ندا ہوتی ہے: فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّيْنَ الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ [الماعون: 4، 5] یعنی خرابی ہے ان نمازیوں کے لیے جو اپنی نمازوں میں سستی کرتے ہیں۔

طبقہِ ثالثہ: تیسرے طبقہ میں فرشتے کی یہ آواز ہوتی ہے: وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لُمَزَةٍ الَّذِيْ جَمَعَ مَالًا وَعَدَّدَهُ يَحْسَبُ اَنَّ مَالَهُ اَخْلَدَهُ كَلَّا لَيُنْبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِ [الہمزۃ: 1 تا 4] خرابی ہے اس کے لیے جو لوگوں کے منہ پر عیب کرے، پیٹھ پیچھے بدی کرے جس نے مال جوڑا اور گن گن کر رکھا، کیا یہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اسے دنیا میں ہمیشہ رکھے گا؟ ہرگز نہیں، ضرور وہ روندنے والی میں پھینکا جائے گا۔

طبقہِ رابعہ: چوتھے طبقہ میں فرشتہ یوں پکارتا ہے: فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَسَبَتْ أَيْدِيْهِمْ [البقرۃ: 79] یعنی خرابی ہے ان کے لیے ان کی ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے۔

طبقہِ خامسہ: پانچویں طبقہ میں فرشتہ کی یہ صدا آتی ہے: وَوَيْلٌ لِلْمُشْرِكِيْنَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْتُوْنَ الزَّكَاةَ [فصلت: 6، 7] یعنی خرابی ان مشرکوں کے لیے جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے۔

طبقہِ سادسہ: چھٹے طبقہ میں فرشتہ اس طرح ندا کرتا ہے: فَوَيْلٌ لِلْقَاسِيَةِ قُلُوْبُهُمْ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ [الزمر: 22] یعنی خرابی ہے ان لوگوں کے لیے جن کے دل اللہ کے ذکر سے سخت ہیں۔

طبقہِ سابعہ: ساتویں طبقہ میں فرشتہ یوں ندا کرتا ہے: وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِيْنَ الَّذِيْنَ إِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُوْنَ وَإِذَا كَالُوْهُمْ أَوْ وَزَنُوْهُمْ يُخْسِرُوْنَ [المطففین: 1 تا 3] کم تولنے والوں کی خرابی ہے وہ کہ جب اوروں سے ناپ لیں پورا لیں اور جب انہیں ناپ تول کر دیں تو کم کر دیں۔

یاد رہے کہ ساتویں طبقہ کے لوگ یہ پکارتے رہتے ہیں: وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ قَالَ إِنَّكُمْ مَّاكِثُوْنَ [الزخرف: 77] اور وہ پکاریں گے اے مالک! تیرا رب ہمیں تمام کر چکے وہ فرمائے گا کہ تمہیں تو ٹھہرنا ہے۔

چھٹے طبقہ کے رہنے والے یہ پکاریں گے: ادْعُوْا رَبَّكُمْ يُخَفِّفْ عَنَّا يَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ [المؤمن: 49] یعنی اپنے رب کو پکارو وہ ہم سے ایک دن عذاب میں تخفیف فرما دے۔

پانچویں طبقہ کے لوگ اس طرح ندا کرتے ہیں: رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا [السجدۃ: 12]

اور چوتھے طبقہ کے رہنے والے لوگ یہ آواز لگاتے ہیں: رَبَّنَا أَخِّرْنَا إِلَى أَجَلٍ قَرِيْبٍ نُجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ [ابراہیم: 44] اے ہمارے رب تھوڑی دیر ہمیں مہلت دے کہ ہم تیرا بلانا مانیں اور رسولوں کی غلامی کریں۔

تیسرے طبقہ کے لوگ یہ آواز نکالتے ہیں: رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُوْنَ [المؤمنون: 107] اے ہمارے رب ہم کو دوزخ سے نکال دے پھر اگر ہم ویسے ہی کریں تو ہم ظالم ہیں۔

دوسرے طبقہ کے لوگ یہ پکاریں گے: رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَالِّيْنَ [المؤمنون: 106] اے ہمارے رب ہم پر ہماری بدبختی غالب آئی اور ہم گمراہ لوگ تھے۔

اور جو لوگ پہلے طبقہ میں ہیں وہ یہ ندا کریں گے ”یا حنان، یا منان“ [کتاب السبعیات للشیخ الامام ابو نصر محمد عبد الرحمن ہمدانی]

رب العالمین نے اپنے مقدس اور پاکیزہ کلامِ پاک میں فرمایا: لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ [التین: 4] بیشک ہم نے آدمی کو اچھی صورت پر بنایا۔

سبحان اللہ ثم سبحان اللہ! خلاقِ کائنات نے بنی آدم کو اچھی شکل و صورت عطا فرما کر اس میں سات بڑے اعضا پیدا فرمائے اور 70 جوڑ، 128 ہڈیاں اور 360 رگیں اور 124000 بالوں کے منبت یعنی بالوں کے اگنے کی جگہ اور دو ہاتھ اور دو پاؤں، دو آنکھیں، دو کان اور باقی اعضا پیدا فرمائے اور ان سب کی زندگی صرف ایک روح سے باقی ہے۔

اسی طرح عرش و کرسی، لوح و قلم، آسمان و زمین، انہار و ابحار، انبیاء و ملائکہ، جن و انس اور عرش سے فرش تک، فلک سے سمک تک اور بلندی سے تحت الثریٰ تک اجناس و انواع مختلف صورتوں میں موجود ہیں حالانکہ ان کا خالق فقط واحد قہار و جبار عزیز ہے جل جلالہ۔

یومِ احد کی وجہِ تسمیہ

احد، اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے خلاقِ عالم خود اپنے کلام میں ارشاد فرماتا ہے: قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ اَللّٰهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ [الاخلاص: 1 تا 4] اے محبوب آپ فرما دیجیے وہ اللہ ایک ہے اللہ بے نیاز ہے نہ اس کی کوئی اولاد ہے نہ وہ کسی سے پیدا ہوا نہ اس کا کوئی ہمسر ہے۔

یاد رہے کہ قرآنِ پاک میں لفظِ احد سات معنوں میں استعمال ہوا ہے:

  1. کلمہِ احد سے مراد ذاتِ خداوندی ہوتی ہے جیسا کہ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ اور أَيَحْسَبُ أَنْ لَّمْ يَرَهُ أَحَدٌ اور أَنْ لَّنْ يَّقْدِرَ عَلَيْهِ أَحَدٌ ان مقامات میں احد سے مراد صرف باری تعالیٰ کی ذاتِ پاک ہے۔
  2. کلمہِ احد کا اطلاق مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر بھی ہوتا ہے جیسا کہ قرآن کی ان دو آیتوں میں احد سے مراد ذاتِ مصطفوی ہی ہے۔ (1) إِذْ تُصْعِدُوْنَ وَلَا تَلْوُوْنَ عَلَى أَحَدٍ وَالرَّسُوْلُ يَدْعُوْكُمْ فِي أُخْرَاكُمْ فَأَثَابَكُمْ غَمًّا بِغَمٍّ لِّكَيْلَا تَحْزَنُوْا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَا أَصَابَكُمْ وَاللّٰهُ خَبِيْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ [آل عمران: 153] جب تم منہ اٹھائے چلے جاتے تھے اور پیٹھ پھیر کر کسی کو نہ دیکھتے اور دوسری جماعت میں ہمارے رسول تمہیں پکار رہے تھے تو تمہیں غم کا بدلہ غم دیا اور معافی اس لیے سنائی کہ جو ہاتھ سے گیا اور جو افتاد پڑی اس کا رنج نہ کرو اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔ (2) وَلَا نُطِيْعُ فِيْكُمْ أَحَدًا أَبَدًا [الحشر: 11] اور ہم ہرگز تمہارے بارے میں کسی کی یعنی حضور پرنور کی اتباع نہ کر پائیں گے۔
  3. اور احد کا اطلاق حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر بھی آیا ہے، قرآنِ کریم میں ارشادِ ربانی ہے: وَمَا لِأَحَدٍ عِنْدَهُ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزَى إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلَى وَلَسَوْفَ يَرْضَى [اللیل: 19 تا 21] اور کسی کا یعنی حضرت بلال کا اس پر یعنی حضرت ابو بکر صدیق پر کچھ احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے صرف اپنے رب کی رضا چاہتا ہے جو سب سے بلند ہے اور بیشک قریب ہے کہ وہ راضی ہوگا۔
  4. اور کلمہِ احد سے کبھی یملیخا جو اصحابِ کہف میں سے تھا مراد ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَابْعَثُوْا أَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهِ إِلَى الْمَدِيْنَةِ فَلْيَنْظُرْ أَيُّهَا أَزْكَى طَعَامًا فَلْيَأْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ [الکہف: 19] اور اپنے میں ایک کو یعنی یملیخا کو یہ چاندی لے کر شہر میں بھیجو پھر وہ غور کرے کہ وہاں کون سا کھانا زیادہ ستھرا ہے کہ تمہارے لیے اس میں سے کھانے کو لائے۔
  5. اور کبھی کلمہِ احد کا اطلاق دقیانوس پر بھی ہوتا ہے، جیسا کہ ارشادِ خداوندی ہے: وَلْيَتَلَطَّفْ وَلَا يُشْعِرَنَّ بِكُمْ أَحَدًا [الکہف: 19] چاہیے کہ نرمی کر لے اور ہرگز کسی کو یعنی دقیانوس کو تمہاری اطلاع نہ دے۔
  6. اور کلمہِ احد کا اطلاق حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر بھی آیا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا [الاحزاب: 40] محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں یعنی زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے باپ نہیں ہیں، ہاں اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔
  7. اور کبھی کلمہِ احد کا اطلاق مخلوقات کے کسی ایک فرد پر بلا تعین آتا ہے، اللہ رب العزت جل شانہ حکم دیتا ہے: وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا [الکہف: 110] اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے۔

توضیح

مذکورہ بالا عبارتوں سے ثابت ہوا کہ ”احد“ اللہ تعالیٰ کا ایک نام ہے تو یوم الاحد یعنی اتوار کے دن کی وجہِ تسمیہ یہ ہے کہ جب نصاریٰ نے کہا ”ہذا یومنا“ یعنی احد اتوار کا دن ہمارا دن ہے تو خداوندِ کریم جل جلالہ نے ان نصاریٰ کی تردید کرتے ہوئے فرمایا ”یوم الاحد“ یعنی یہ تو اللہ کا دن ہے۔ [کتاب السبعیات فی مواعظ البریات، ص: 42]

یومِ اتوار کا روزہ

حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صُوْمُوْا يَوْمَ السَّبْتِ وَالْأَحَدِ وَخَالِفُوا الْيَهُوْدَ وَالنَّصَارٰى ہفتہ اور اتوار کو روزہ رکھو اور یہودیوں اور نصرانیوں کی مخالفت کرو۔ [غنیۃ الطالبین، ص: 7]

اتوار کے روز کے نوافل

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرورِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مسلمان اتوار کے دن چار رکعت نماز نفل پڑھے اور اس کی ہر رکعت میں ایک مرتبہ سورۃ فاتحہ یعنی الحمد اور آمن الرسول آخر تک پڑھے تو جس قدر نصرانی مردوں عورتوں کی تعداد ہے ان کی گنتی کے برابر اللہ تعالیٰ نیکیاں عطا فرماتا ہے اور اس کو ایک پیغمبر کا ثواب بھی مرحمت فرماتا ہے اور حج و عمرہ کا ثواب بھی اس کے نام لکھ دیتا ہے اور ہر ایک رکعت کے عوض میں ایک ہزار نماز کا ثواب عطا فرماتا ہے اور ہر ایک حرف کے بدلے میں اس کو بہشت میں ایک نہر بخشتا ہے جو مشک و ازفر سے بھرا ہوا ہوگا۔

مولائے کائنات علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا اتوار کے دن نماز نفل بہت پڑھا کرو اور اللہ تعالیٰ کو وحدہ لا شریک جانو اور اگر کوئی اتوار کے دن نمازِ ظہر کے بعد یعنی جب فرض و سنتیں پڑھے تو چار رکعت نماز نفل پڑھے اور اس کی پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ اور الم السجدہ پڑھے اور دوسری رکعت میں سورۃ فاتحہ اور سورۃ ملک یعنی تبارک الذی پڑھے اور تشہد کے بعد سلام پھیرے اور اس کے بعد اور دو رکعت پڑھے اور اس کی دونوں رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور سورۃ جمعہ پڑھے، سلام کے بعد جو حاجت رکھتا ہو اپنے معبودِ حقیقی سے اس کی درخواست کرے، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس کی وہ حاجت پوری فرما دے گا اور اسے دینِ نصاریٰ سے محفوظ رکھے گا۔ [غنیۃ الطالبین، ص: 140]

اتوار کی رات کے نوافل

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسولِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ہوئے سنا کہ جو کوئی اتوار کی رات بیس رکعات نفل اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں الحمد شریف ایک مرتبہ، سورۃ اخلاص پچاس اور معوذتین ایک ایک دفعہ پڑھے اور بعدِ نماز سو مرتبہ استغفار پڑھے اور سو مرتبہ اپنے لیے اور اپنے والدین کے لیے استغفار کرے اور آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سو بار درود شریف پڑھے اور ”لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ“ پڑھے اور خدائے تعالیٰ کی طاقت و قوت کی طرف متوجہ ہو اور پھر یہ پڑھے: ”اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ اٰدَمَ صَفْوَةُ اللّٰهِ وَفِطْرَتُهُ وَاِبْرَاهِيْمَ خَلِيْلُ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمُوْسٰى كَلِيْمُ اللّٰهِ تَعَالٰى وَعِيْسٰى رُوْحُ اللّٰهِ مَسِيْحُهُ وَمُحَمَّدًا حَبِيْبُ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ“ تو اس شخص کو ان لوگوں کی تعداد کے برابر اجر و ثواب دیا جائے گا جو اللہ تعالیٰ کو بیٹا قرار دیتے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹا ثابت نہیں کرتے۔
نیز اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو ان لوگوں کے ساتھ اٹھائے گا جو امن پانے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ذمے کرم پر ہے کہ اپنے انبیاءِ کرام علیہم السلام کے ساتھ جنت میں داخل فرمائے۔ [احیاء العلوم، جلد اول، ص: 204]

آخر میں ہم دعا گو ہیں کہ مولائے کریم مجھے اور تمام خوش عقیدہ مسلمانوں کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین بجاہِ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔

[ماہنامہ سنی دنیا، فروری 2018ء، ص: 11 تا 14]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!