| عنوان: | نبی کریم ﷺ کا صدر (سینۂ) مبارک |
|---|---|
| تحریر: | محمد مشرف رضا قادری |
| پیش کش: | جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
(تمہید)
سینہ انسان کے وجود کا وہ آشیانہ ہے جہاں دل اپنی دھڑکنوں کا نظم بیاں کرتا ہے اور سانسیں زندگی کی تسبیح سناتی ہیں۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں محبتوں کا چشمہ اور غم کا جوالہ ایک ساتھ رہائش پذیر ہے۔ انسان کے جسم کا وہ حصہ ہے جو نہ صرف جسمانی بناوٹ میں اعلیٰ اہمیت رکھتا ہے بلکہ انسان کے جذبات، احساسات اور معنوی کیفیات کا بھی نمونہ ہے۔ کبھی یہ حوصلے اور بہادری کی نشانی کہلاتی ہے تو کبھی دنیا بھر کے غموں کو سمیٹنے والا سمندر بن جاتا ہے اور کبھی خوشیوں کی بارش سے لہلہا اٹھتا ہے۔ گویا سینہ انسان کی دنیا کا وہ مخفی کائنات ہے جہاں جذبات کے ہزاروں پھول کھلے ہوئے ہیں۔
اور جب ذکر، حضورِ اکرم نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینے کی آئے تو کیا کہنے، قلم بھی شان سے پھولے نہ سمائے، کاغذ بھی اپنے آپ پر بزرگی تصور کرے اور الفاظ بھی فخر کرے۔ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ وہ مبارک گنجینہ ہے جس میں رب العالمین نے اپنی حکمت و معرفت اور نور کی تجلیات رکھ دیں۔
یہی وہ سینہ ہے جس کے متعلق اللہ تبارک و تعالی فرماتا ہے:
أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ
ترجمہ کنزالایمان: کیا ہم نے تمہارے لیے سینہ کشادہ نہ کیا۔
اسی کے متعلق کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ سے یوں آواز آتی ہے
کشادہ کر دیا اللہ نے سینہ محمد کا
اور کشادگی کا یہ عالم کہ ساری امت کے غم اور رحمت کی وسعت کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔ یہ وہ سینہ ہے جس میں امت کی فکر ہے، غمزدوں کے لیے پناہ گاہ اور ہر محروم کے لیے امید کی روشنی ہے۔ یہ وہی سینہ ہے جس کی طہارت پر فرشتے بھی فخر کرتے ہیں اور ان کی وسعتوں پر آسمان بھی ناز کرتا ہے۔ اسی سینۂ اقدس سے وہ نور پھوٹی جس نے جہالت کے اندھیروں کو مٹا کر عالم کو ہدایت کی روشنی بخشی اور جس کا ذکر کرنا کارِ ثواب ہے۔ اسی ثواب کی امید پر کچھ تحریر کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اللہ تبارک و تعالی میری اس ادنیٰ کاوش کو قبول عطا فرمائے.
سینۂ مبارک کا قرآن میں ذکر
أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ
ترجمۂ کنزالایمان: کیا ہم نے تمہارے لیے سینہ کشادہ نہ کیا۔
اس آیت کی تفسیر میں مفتی نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ اللہ پاک اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو فرماتا ہے ہم نے آپ کی خاطر آپ کے سینہ اقدس کو ہدایت، معرفت، نصیحت، نبوت اور علم و حکمت کے لیے کشادہ اور وسیع کر دیا یہاں تک کہ عالمِ غیب اور عالمِ شہادت اس کی وسعت میں سما گیا اور جسمانی تعلقات روحانی انوار کے لیے مانع نہ ہو سکے اور علومِ لدنیہ، حکمِ الٰہیہ، معارفِ ربانیہ اور حقائقِ رحمانیہ آپ کے سینہ پاک میں جلوہ نما ہوئے؛ بعض مفسرین کے نزدیک اس آیت میں ظاہری طور پر سینہ مبارک کا کھلنا مراد ہے۔
احادیث میں مذکور ہے کہ ظاہری طور پر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے سینہ مبارک کا کھلنا بھی کئی بار ہوا جیسے آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے عمرِ مبارک کی ابتدا میں سینہ اقدس کھلا، نزولِ وحی کی ابتدا کے وقت اور شبِ معراج کے وقت سینہ مبارک کھلا اور اس کی شکل یہ تھی کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے سینہ پاک کو چاک کر کے قلبِ مبارک نکالا اور زریں طشت میں آبِ زمزم سے غسل دیا اور نور و حکمت سے بھر کر اس کو اس کی جگہ پر رکھ دیا۔
تو پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اس آیت سے ہمیں دو باتیں سیکھنے کو ملیں:
- دنیا کی حقارت اور آخرت کے کمال کے علم سے سینے کا کھل جانا یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔
- حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اللہ تبارک و تعالی کے ایسے حبیب ہیں کہ اللہ تبارک و تعالی نے بن مانگے ان کا مقدس سینہ ہدایت اور معرفت کے لیے کھول کر انہیں یہ نعمت عطا کر دی۔ [تفسیر خزائن العرفان، ص: ۱۱۱۰] [تفسیرِ صراط الجنان، ص: ۷۳۹]
جس سینۂ مبارکہ کا ذکر اور اس کی فضیلتیں آپ سن چکے ہیں، اب آئیے اسی سینۂ پاک کو حدیثِ مبارکہ سے ملاحظہ فرمائیں۔
حدیث:
عَنْ هِنْدِ بْنِ أَبِي هَالَةَ رضي الله عنه، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ سَوَاءَ الْبَطْنِ وَالصَّدْرِ، عَرِيضَ الصَّدْرِ. [المعجم الكبير، ج: 22، ص: 108، الرقم: 414]
ترجمہ:
حضرت ہند بن ابی ہالہ تمیمی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا بطنِ اقدس اور سینہ مبارک برابر تھے اور سینہ مبارک چوڑا تھا۔
ایک اور حدیث پاک سنیے اور خوشی سے جھومیے!
عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها قَالَتْ: ... كَانَ عَرِيضَ الصَّدْرِ، مَمْسُوحَه كَأَنَّهُ الْمَرَايَا فِي شِدَّتِهَا وَاسْتِوَائِهَا، لَا يَعْدُو بَعْضُ لَحْمِهِ بَعْضًا، عَلَى بَيَاضِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ. [أخرجه البيهقي في دلائل النبوة، ج: 1، ص: 304]
ترجمہ:
”حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا سینہ اقدس فراخ اور آئینہ کی طرح سخت اور ہموار تھا، کوئی ایک حصہ بھی دوسرے سے بڑھا ہوا نہ تھا اور سفیدی اور آب و تاب میں چودھویں کے چاند کی طرح تھا۔“
حدیث پاک کی مختصر تشریح کرتا چلوں:
- "عَرِيضَ الصَّدْرِ" (کشادہ سینہ): اس سے مراد ہے کہ حضور ﷺ کا سینہ نہایت فراخ، کشادہ اور پُر جلال تھا۔ یہ کشادگی صرف جسمانی نہیں بلکہ روحانی معانی بھی رکھتی ہے، جیسا کہ قرآن میں آیا: أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ [الشرح: 1] یعنی ”کیا ہم نے آپ کا سینہ کشادہ نہیں کیا؟“ اس کشادگی میں علم، حکمت، صبر، تحمل اور وحی الٰہی کے بوجھ کو سہارنے کی صلاحیت شامل ہے۔
- "مَمْسُوْحَه كَأَنَّهُ الْمَرَايَا" (آئینے کی مانند ہموار): یہاں ”ممسوحہ“ کا مطلب ہے بالکل ہموار، صاف اور بے شکن۔ جسمانی اعتبار سے اس سے مراد ہے کہ سینہ مبارک کی سطح نرم و ہموار تھی، جیسے صیقل شدہ آئینہ۔ روحانی لحاظ سے یہ ”آئینے“ کا استعارہ آپ ﷺ کے قلبِ منوّر کی صفائی, نورانیت اور حق کے کامل انعکاس پر دلالت کرتا ہے۔
- "لَا يَعْدُو بَعْضُ لَحْمِهِ بَعْضًا" (کوئی گوشت ایک دوسرے سے ابھرا ہوا نہ تھا): یعنی جسمِ اطہر متناسب تھا، کوئی ابھار یا بے ترتیبی نہ تھی، مکمل توازن اور جمال کا پیکر۔ یہ بھی اس بات کی علامت ہے کہ نبی ﷺ کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ نے حسن و جمال کا اعلیٰ معیار رکھا۔
- "عَلَى بَيَاضِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ" (چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن): یہ تشبیہ حضور ﷺ کی رنگت اور نورانیت کو ظاہر کرتی ہے۔ چودھویں کے چاند کی روشنی صاف، مکمل اور دلکش ہوتی ہے۔ حضور ﷺ کے جسمِ اطہر، خاص طور پر سینہ مبارک میں بھی ویسی ہی چمک اور جمال تھا۔
اعلیٰ حضرت امامِ عشق و محبت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ حدائقِ بخشش میں لکھتے ہیں:
رفعِ ذکرِ جلالت پہ ارفع درود
شرحِ صدرِ صدارت پہ لاکھوں سلام
حضورِ پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے سینۂ مبارکہ سے متعلق قرآنی آیات اور احادیثِ مبارکہ آپ نے ملاحظہ فرمائیں، اب حضورِ پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے شقِ صدر کے متعلق واقعات ذکر کرنا ضروری ہے تاکہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سینۂ مبارک کا مرتبہ سمجھ سکیں۔ شقِ صدر کا مطلب ہوتا ہے سینہ چاک کرنا۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو شقِ صدر کتنی بار ہوا، اس کے بارے میں حضرت علامہ و مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے سورہ الم نشرح کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو چار مرتبہ شقِ صدر ہوا یعنی چار مرتبہ مقدس سینہ مبارک کو چاک کیا گیا اور اس میں نور و حکمت کا خزینہ بھرا گیا۔ [سیرتِ مصطفی، ص: 79]
1۔ شقّ صدر
ایک دن آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم چراگاہ میں تھے کہ ایک دم حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ایک فرزند جن کا نام (ضمرہ) تھا، وہ دوڑتے اور ہانپتے کانپتے ہوئے اپنے گھر آئے اور اپنی امی جان حضرت بی بی حلیمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے کہا: کہ اماں جان! ”بڑا غضب ہو گیا“ محمد عربی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو تین آدمیوں نے جو بہت ہی سفید لباس پہنے ہوئے تھے، چت لٹا کر ان کا شکم پھاڑ ڈالا ہے اور میں اسی حال میں ان کو چھوڑ کر بھاگا ہوا آیا ہوں۔ یہ سن کر حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالی عنہا اور ان کے شوہر دونوں گھبرائے ہوئے دوڑ کر جنگل میں پہنچے، تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بیٹھے ہوئے ہیں مگر خوف و ہراس سے چہرہ زرد اور اداس ہے۔ حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے شوہر نے انتہائی مشفقانہ لہجے میں پیار سے چمکار کر پوچھا: کہ بیٹا! کیا بات ہے؟ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: کہ تین شخص جن کے کپڑے بہت ہی سفید اور صاف ستھرے تھے میرے پاس آئے اور مجھ کو چت لٹا کر میرا شکم چاک کیا، اس میں سے کوئی چیز نکال کر باہر پھینک دی اور پھر کوئی چیز میرے شکم میں ڈال کر شگاف کو سی دیا لیکن مجھے ذرہ برابر بھی کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔
اس کی حکمت یہ تھی کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ان وسوسوں اور خیالات سے محفوظ رہیں جن میں بچے مبتلا ہو کر کھیل کود اور شرارتوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ [مدارج النبوہ، ج: 2, ص: 21]
امام احمد اور امام مسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے: کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پاس حضرت جبرائیل امین آئے، آپ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، انہوں نے آپ کو پکڑا، زمین پر لٹایا، سینۂ اقدس کو شق کیا اور دل باہر نکالا، اسے شق کیا، اس سے لوتھرا باہر نکالا، کہا کہ آپ کے جسمِ اطہر میں سے شیطان کا یہ حصہ تھا، پھر قلبِ انور کو سونے کے طشت میں آبِ زمزم سے دھویا، پھر اسے سی دیا اور اسے اپنی جگہ لوٹا دیا۔ بچے دوڑ کر آپ کی رضائی امی کے پاس گئے، انہوں نے کہا: محمد عربی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو شہید کر دیا گیا ہے، جب وہ آپ کے پاس آئے تو آپ کا رنگ متغیر تھا۔ حضرت انس نے فرمایا: میں سوئی کے اثرات آپ کے سینۂ اقدس پر دیکھ سکتا تھا! [سبل الہدی والرشاد، ج: 2، ص: 597]
حدیث پاک:
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ أَتَاهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَأَخَذَهُ فَصَرَعَهُ، فَشَقَّ عَنْ قَلْبِهِ، فَاسْتَخْرَجَ الْقَلْبَ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً، فَقَالَ: هَذَا حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ، ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ بِمَاءٍ زَمْزَمَ، ثُمَّ لَأَمَهُ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِي مَكَانِهِ. [صحيح مسلم، كتاب الإيمان، حديث رقم: 162]
ترجمہ:
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، حضرت جبرئیل آئے، آپ کو زمین پر لٹایا، آپ کا سینہ چاک کیا، دل نکالا، اس میں سے ایک لوتھڑا نکالا اور فرمایا: ”یہ تیرے اندر شیطان کا حصہ تھا“، پھر دل کو زمزم کے پانی سے دھویا، سونے کے طشت میں رکھا، واپس سینے میں رکھا، اور سینہ بند کر دیا۔
2۔ شقّ صدر
دوسری بار آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی عمرِ مبارک دس سال کی تھی تو شقِ صدر ہوا تاکہ جوانی کی پُرآشوب شہوتوں کے خطرات سے آپ بے خوف ہو جائیں۔ [سیرتِ مصطفی، ص: 80]
امام بیہقی نے حضرت یحییٰ بن جعدہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو فرشتے میرے پاس آئے، وہ سارس کی شکل میں تھے، ان کے پاس ثلج و برد (برف اور اولے) اور ٹھنڈا پانی تھا، ان میں سے ایک نے میرا سینہ شق کیا اور دوسرے نے اپنی چونچ سے اس میں یہ اشیاء انڈیلیں اور قلبِ انور دھو دیا۔ [سبل الہدی والرشاد، ج: 2، ص: 600]
3۔ شقِ صدر
تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غارِ حرا میں شقِ صدر ہوا اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے قلب میں نورِ سکینہ بھر دیا گیا تاکہ آپ وحیِ الٰہی کے عظیم اور گراں بار بوجھ کو برداشت کر سکیں۔ [سیرتِ مصطفی، ص: 80]
4۔ شقّ صدر
چوتھی مرتبہ شبِ معراج میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک سینہ چاک کر کے نور و حکمت کے خزانوں سے معمور کیا گیا تاکہ آپ کے قلبِ مبارک میں اتنی وسعت اور صلاحیت پیدا ہو جائے کہ آپ دیدارِ الٰہی عزوجل کی تجلیوں اور کلامِ ربانی کی ہیبتوں اور عظمتوں کے متحمل ہو سکیں۔ [سیرتِ مصطفی، ص: 80]
امام احمد، امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت مالک بن صعصعہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ihnen شبِ معراج کے بارے میں بتایا، انہوں نے فرمایا: اسی اثناء میں کہ میں حطیم (حجر) میں تھا، میں وہاں لیٹا ہوا تھا، ایک آنے والا میرے پاس آیا، اس نے اپنے ساتھی سے کہا: ان تینوں میں سے درمیانے والے؛ وہ میرے پاس آیا، اس نے یہاں سے یہاں تک سینہ چاک کیا اور میرا دل باہر نکالا، میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا جو ایمان اور حکمت سے بھرا ہوا تھا، اس نے میرے قلبِ انور کو دھویا پھر وہ طشت اس میں انڈیل دیا، پھر اسے سی دیا، پھر میرے پاس ایک جانور لایا گیا جو خچر سے کم اور گدھے سے بڑا تھا۔ [سبل الہدی والرشاد، ج: 2، ص: 599]
شقِّ صدر کی حکمتیں:
اللہ کریم کا فرمانِ عظیم ہے: أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ [الشرح: 1] (ترجمۂ کنزالعرفان: کیا ہم نے تمہاری خاطر تمہارا سینہ کشادہ نہ کر دیا)
حکیمُ الامت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں: سینہ کشادہ کرنے سے مراد یا سینہ چاک کرنا ہے یا سینہ کھولنا یا وسیع فرمانا۔ اگر پہلے معنی (یعنی سینہ چاک کرنا) مراد ہوں تو خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا سینہ مبارک 3 یا 4 بار چاک کر کے قلبِ مبارک دھویا گیا۔ اول: بی بی حلیمہ دائی کے ہاں تاکہ دل میں کھیل کود کی رغبت نہ ہو، پھر شروعِ شباب (یعنی جوانی کے آغاز میں) تاکہ جوانی کی غفلت نہ آنے پائے، پھر عطائے نبوت کے قریب تاکہ دل بارِ نبوت کو برداشت کر سکے، پھر معراج کی رات تاکہ عالمِ ملکوت کے نظارے اور دیدارِ الٰہی کا تحمل ہو سکے، یہ ظاہری شرحِ صدر ہے۔ [نورالعرفان زیرِ آیتِ مذکور، نسیم الریاض، ج: 3، ص: 70 مفہوما]
أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ سے یوں آواز آتی ہے
کشادہ کر دیا اللہ نے سینہ محمد کا [قبالۂ بخشش، ص: 53]
اختتامیہ
پیارے اسلامی بھائیو! حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سینۂ مبارکہ کی فضیلت و شان قرآن، حدیث اور آثارِ سلف میں ایسی واضح ہے کہ عقل و دل دونوں جھک جاتے ہیں۔ یہ وہ مقدس سینہ ہے جو ربِّ کائنات کے نور، حکمت، معرفت اور رحمت کا گنجینہ ہے، جس میں امت کی خیرخواہی اور مخلوق پر شفقت کا سمندر موجزن ہے۔
شقِّ صدر کے واقعات اس بات کے گواہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر قسم کی بشری کمزوری اور شیطانی وسوسے سے پاک فرمایا، انہیں علومِ لدنیہ، معارفِ ربانیہ اور وحی کے بوجھ کو برداشت کرنے کی قوت عطا فرمائی، یہاں تک کہ دیدارِ الٰہی کی تجلیات بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلبِ مبارک پر اتر سکیں۔
ہمارا ایمان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ مبارک آج بھی امت کے لیے رحمت اور سکون کا مرکز ہے۔ ہم سب پر لازم ہے کہ اس ذکرِ پاک سے اپنے دلوں کو جلا بخشیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سنت کو اپنائیں، اور اپنے سینوں کو ایمان، صبر اور محبتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے کشادہ کریں۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جشنِ ولادت آئے تو ہم سب کو چاہیے خوب زور و شور سے منائیں اور ایک عاشقِ رسول ہونے کی دلیل دیں۔
خلیفۂ اعلیٰ حضرت مداح الحبیب مولانا محمد جمیل الرحمٰن رضوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
دوزانو ہو کے ادب سے پڑھو صلوٰۃ و سلام
عزیزو خلق کے مصدر کی آمد آمد ہے
اللہ تعالیٰ ہمیں اس مقدس سینۂ اطہر کی برکتوں سے دنیا و آخرت میں حصہ عطا فرمائے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
