| عنوان: | توسل اور ندا بالغیب (قسط اول) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا حکیم سید شاہ تقی حسن بلخی فردوسی |
| پیش کش: | قافیہ نوری بنت محمد ظہیر رضوی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
چودہواں باب (ص: 157) میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مثالی صورت میرے سامنے سے غائب ہو گئی اور اس کی بجائے آپ کی روح کی حقیقت ان تمام لباسوں سے جو اس نے پہن رکھے تھے۔ یہاں تک کہ تسمے کے بعض اجزا سے بھی منزہ اور مجرد ہو کر میرے سامنے تجلی پذیر ہوئی۔ اس وقت میں نے آپ کی روح کو اسی طرح پایا جس طرح ۔۔۔۔ بعض اولیائے متقدمین کی روح سے ملتی جلتی ایک مجرد صورت ظاہر ہوئی اور اس وقت میں نے اس قدر جذب و شوق اور رفعت و بلندی کا مشاہدہ کیا کہ زبان اس کو بیان نہیں کر سکتی۔
اب اس خصوص میں دو ایک حدیث بھی ملاحظہ فرمائیے:
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ إِذَا وَلِيَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحَسِّنْ كَفَنَهُ فَإِنَّهُمْ يَتَزَاوَرُونَ فِي قُبُورِهِمْ [ترمذي وابن ماجه]
ترجمہ: ترمذی و ابن ماجہ کی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کسی مردہ کو کفن دو تو اچھا کفن دو۔ اس لیے کہ وہ اپنی قبروں میں گھومتے ہیں۔
یہ دوسری حدیث بھی ترمذی کی ہے اور جس کی انہوں نے تحسین بھی کی ہے نیز حاکم اور بیہقی نے بھی حضرت عباس سے روایت کی ہے کہ:
قَالَ ضَرَبَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ خِبَاءً عَلَى قَبْرٍ وَهُوَ لَا يَحْسِبُ أَنَّهُ قَبْرٌ وَإِذَا فِيْهِ إِنْسَانٌ يَقْرَأُ سُوْرَةَ الْمُلْكِ حَتّٰى خَتَمَهَا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ هِيَ الْمُنْجِيَةُ هِيَ الْمَانِعَةُ تُنْجِيْهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
ترجمہ: بعض اصحابِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قبر پر جس کا علم پہلے سے ان لوگوں کو نہ تھا ایک خیمہ نصب کیا جس کے اندر سے بعد کو سورہِ ملک کے پڑھنے کی آواز کسی انسان کی سنی گئی اور پورے سورہ پڑھنے کی آواز تھی، اس واقعہ کی خبر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تو آپ نے فرمایا کہ ہاں یہ سورہ عذابِ قبر سے مانع اور نجات دینے والی ہے۔
تیسرا واقعہ ملاحظہ ہو جو طبرانی نے اور ابوبکر نے معرفتِ صحابہ میں روایت کیا ہے جس کو اہیان کی بیٹی نے ابو عمر تسنملی سے بیان کیا تھا کہ اہیان نے وقتِ موت وصیت کی تھی کہ اس کو کفن میں قمیص نہ دی جائے:
قَالَتْ فَأَلْبَسْنَاهُ قَمِيْصَهُ فَأَصْبَحْنَا وَالْقَمِيْصُ عَلَى الْمِشْجَبِ
(یعنی ہم لوگوں نے غلطی سے کفن میں اس کو قمیص پہنا دی صبح کو ہم لوگوں کو وہی قمیص تپائی پر رکھی ہوئی ملی)
اس روایت کی روشنی میں یہ تو معلوم ہو گیا کہ روح جسم سے الگ ہونے کے بعد بھی ہلاک علم، بصیر وغیرہ سب کچھ ہوتی ہے بلکہ اس کی قوتِ بصارت، قوتِ علم، قوتِ سماعت مختصر یہ کہ اس کی قوتِ فعالیہ و انفعالیہ اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ تیز تر ہو جاتی ہے۔ اس لیے اب اس کی ضرورت تو نہ تھی کہ یہ بھی معلوم کیا جائے کہ روح تک آواز پہنچنے کے لیے کسی واسطہ، کسی ذریعہ کسی ٹیلیفون، لاسلکی، ٹیلی ویژن کی ضرورت باقی رہتی ہے یا نہیں۔ مگر مقامِ حیرت یہ ضرور ہے کہ جب ہمارے بنائے ہوئے آلات اتنے طاقتور موجود ہیں کہ فاصلہِ بعید تک آواز کا پہنچانا اور فاصلہِ بعید سے آواز کا سننا ایک معمولی بات ہے۔ مگر وہ قادرِ قیوم جو ساری طاقتوں کا سرچشمہ ہے اور جہاں سے ساری طاقتیں ملتی ہیں اور دی جاتی ہیں وہ خود اتنا مجبور ہے، بے بس ہے کہ وہ ایسا کوئی آلہ و ذریعہ نہیں پیدا کر سکتا کوئی ایسا ٹیلی ویژن نہیں بنا سکتا کہ جس کے ذریعہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحِ پاک سن سکے یا ہماری حالتوں کو ملاحظہ فرما سکے۔
مگر میں جب اس حدیثِ شریف کو دیکھتا ہوں تو اس کی بھی تصدیق ہو جاتی ہے کہ اللہ نے ایسا آلہ بھی بنا چھوڑا ہے جس کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے متعلق علم ہو جاتا ہے۔ آپ اُسے آلہ ٹیلی فون، ٹیلی ویژن نہ کہیں۔ فرشتے قاصد کہہ لیں بات ایک ہی ہے اور کام ایک ہی ہے۔ وہ حدیث یہ ہے:
حَيَاتِيْ خَيْرٌ لَكُمْ تُحْدِثُونَ وَيُحْدَثُ لَكُمْ وَوَفَاتِيْ خَيْرٌ لَكُمْ تُعْرَضُ عَلَيَّ أَعْمَالُكُمْ فَمَا رَأَيْتُ مِنْ خَيْرٍ حَمِدْتُ اللَّهَ وَمَا رَأَيْتُ مِنْ شَرٍّ اسْتَغْفَرْتُ لَكُمْ
ترجمہ: میری حیات تم لوگوں کے لیے اس لیے اچھی ہے کہ کچھ خود تم ہم سے کہتے ہو کچھ ہم تم لوگوں سے کہتے سنتے ہیں۔ مگر میری وفات بھی تم لوگوں کے لیے اسی طرح اچھی ہے کیونکہ ہمارے سامنے تم لوگوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔ اگر اعمال بہتر ہوئے تو اللہ کا شکر بھیجتا ہوں اور اگر بہتر نہیں پاتا تو تم لوگوں کے لیے مغفرت طلب کرتا ہوں۔
حدیث میں ”تعرض علی اعمالکم“ کا جملہ بڑا ہی بلیغ ہے اور قابلِ توجہ۔ کیا عجب ہے کہ اسی روشنی میں علامہ سیوطی یہ لکھ گئے کہ:
فَحَصَلَ مِنْ مَجْمُوْعِ هٰذِهِ النُّقُوْلِ وَالْأَحَادِيْثِ أَنَّ النَّبِيَّ حَيٌّ بِجَسَدِهِ وَرُوْحِهِ وَأَنَّهُ يَتَصَرَّفُ وَيَسِيْرُ حَيْثُ شَاءَ فِيْ أَقْطَارِ الْأَرْضِ وَالْمَلَكُوْتِ [تنوير الحلك في إمكان رؤية النبي والملك]
ترجمہ: ان نقول و احادیث کے مجموعہ کی روشنی میں یہ بات سمجھی جاتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جسم و روح کی مشارکت کے ساتھ اب بھی بقیدِ حیات ہیں اور آپ (امورات میں) تصرف فرماتے ہیں۔ اور جہاں کہیں جس گوشہِ زمیں و ملکوت میں چاہیں جا سکتے ہیں۔
الحاصل: جمیعۃ علمائے ہند اسلامی جمیعۃ کا نام نہیں ہے بلکہ دیوبندی مکتبِ فکر سے وابستہ لیکن باطل طاقتوں کے زیرِ اثر اور ان کے ماتحت ایک جمیعۃ ہے۔
اللہ پاک مسلمانانِ اہلِ سنت کے ایمان و عقائد کی حفاظت فرمائے۔ آمين بجاه النبي الأمين الكريم عليه الصلاة والتسليم
[الرضا انٹرنیشنل، پٹنہ، جنوری فروری 2017ء، ص: 21]
